مسنداحمد

Musnad Ahmad

نیند کے آداب اور اذکار کے ابواب

گھر میں داخل ہونے کی، گھر سے نکلنے کی، بازار میں داخل کی اور مجلس کو ختم کرتے وقت کی دعاؤں کا بیان

۔ (۵۵۵۶)۔ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ أَنَّہُ سَأَلَ جَابِرًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَیْتَہُ فَذَکَرَ اسْمَ اللّٰہِ حِینَ یَدْخُلُ وَحِینَ یَطْعَمُ، قَالَ الشَّیْطَانُ: لَا مَبِیتَ لَکُمْ، وَلَا عَشَائَ ہَاہُنَا، وَإِنْ دَخَلَ فَلَمْ یَذْکُرِ اسْمَ اللّٰہِ عِنْدَ دُخُولِہِ، قَالَ: أَدْرَکْتُمُ الْمَبِیتَ، وَإِنْ لَمْ یَذْکُرِ اسْمَ اللّٰہِ عِنْدَ مَطْعَمِہِ، قَالَ: أَدْرَکْتُمْ الْمَبِیتَ وَالْعَشَائَ۔)) قَالَ: نَعَمْ۔ (مسند أحمد: ۱۴۷۸۸)

۔ ابو زبیر سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب بندہ گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے، تو شیطان کہتا ہے: نہ تم اس گھر میں رات گزار سکتے ہو اور نہ شام کا کھانا ملے گا، لیکن اگر آدمی گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام نہ لے تو وہ شیطان کہتا ہے: تم نے اس گھر میں رات گزارنے کو پا لیا ہے، پھر اگر وہ کھانا کھاتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتا تو شیطان کہتا ہے: تم نے رات گزارنا بھی پا لیا ہے اور شام کا کھانا بھی۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی ہاں، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ حدیث سنی ہے۔

۔ (۵۵۵۷)۔ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَیْتِہِ قَالَ: ((بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ، اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ أَنْ نَزِلَّ أَوْ نَضِلَّ، أَوْ نَظْلِمَ أَوْ نُظْلَمَ، أَوْ نَجْہَلَ أَوْ یُجْہَلَ عَلَیْنَا۔)) (مسند أحمد: ۲۷۱۵۱)

۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب گھر سے نکلتے تو یہ دعا پڑھتے: بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ،…… أَوْ یُجْہَلَ عَلَیْنَا (میں اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں میں نے اللہ پر بھروسہ کیا، اے اللہ!میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ ہم پھسل جائیں، یا گمراہ ہو جائیں، یا ظلم کریں، یا ہم پر ظلم کیا جائے یا ہم جہالت والا کام کروں یا ہم پر جہالت مسلط کر دی جائے)۔

۔ (۵۵۵۸)۔ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہِ یُرِیدُ سَفَرًا أَوْ غَیْرَہُ فَقَالَ حِینَ یَخْرُجُ: بِسْمِ اللّٰہِ آمَنْتُ بِاللّٰہِ اعْتَصَمْتُ بِاللّٰہِ، تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ، إِلَّا رُزِقَ خَیْرَ ذٰلِکَ الْمَخْرَجِ، وَصُرِفَ عَنْہُ شَرُّ ذٰلِکَ الْمَخْرَجِ۔)) (مسند أحمد: ۴۷۱)

۔ سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مسلمان سفر یا کسی اور کام کے ارادے سے گھر سے نکلے اور نکلتے وقت یہ دعا پڑھے: بِسْمِ اللّٰہِ آمَنْتُ بِاللّٰہِ اعْتَصَمْتُ بِاللّٰہِ، تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ (میں اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، میں نے اللہ کی پناہ لی، میں نے اللہ تعالیٰ پر توکّل کیا، برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے)

۔ (۵۵۵۹)۔ عَنْ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَالَ فِی سُوقٍ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ یُحْیِی وَیُمِیتُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، کَتَبَ اللّٰہُ لَہُ بِہَا أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَۃٍ، وَمَحَا عَنْہُ بِہَا اَلْفَ اَلْفِ سَیِّئَۃٍ، وَبَنٰیَ لَہٗ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند أحمد: ۳۲۷)

۔ سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے بازار میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھی: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ یُحْیِی وَیُمِیتُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ (نہیں ہے کوئی معبودِ برحق ، مگر اللہ، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اسی کے لیے ہے، تعریف اسی کے لیے ہے، اسی کے ہاتھ میں خیر ہے، وہ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے )، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھے گا، اس کی دس لاکھ برائیاں معاف کرے گا اور اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دے گا۔

۔ (۵۵۶۰)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کَفَّارَۃُ الْمَجَالِسِ أَنْ یَقُولَ الْعَبْدُ: سُبْحَانَکَ اَللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إِلَیْکَ۔)) (مسند أحمد: ۸۸۰۴)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجالس کا کفارہ ہے کہ بندہ مجلس کے آخر میں یہ دعا پڑھے: سُبْحَانَکَ اَللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إِلَیْکَ۔ (اے اللہ! تو پاک ہے، اور تیسری حمد کے ساتھ، میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں)۔