TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بارش کے نزول، گرج اور کڑک کو سنتے وقت اور چاند کو دیکھنے کی دعاؤں کا بیان - بارش کے نزول، گرج اور کڑک کو سنتے وقت اور چاند کو دیکھنے کی دعاؤں کا بیان - نیند کے آداب اور اذکار کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 9 of نیند کے آداب اور اذکار کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 9 of 9 · 7 Hadith
۔ (۵۵۶۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا رَأٰی نَاشِئًا مِنْ أُفُقٍ مِنْ آفَاقِ السَّمَائِ تَرَکَ عَمَلَہُ وَإِنْ کَانَ فِی صَلَاتِہِ ثُمَّ یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا فِیہِ۔)) فَإِنْ کَشَفَہُ اللّٰہُ حَمِدَ اللّٰہَ وَإِنْ مَطَرَتْ قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ صَیِّبًا نَافِعًا۔))ٔٔ (مسند أحمد: ۲۶۰۸۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آسمان کے کسی افق میں کوئی نامکمل سا بادل دیکھتے تو اپنے کام کو چھوڑ دیتے، اگرچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز میں ہوتے، پھر یہ دعا پڑھنا شروع کر دیتے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا فِیہِ (اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہے، اس شرّ سے، جو اس بادل میں ہے)۔ اگر اللہ تعالیٰ اس بادل کو زائل کر دیتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے، اور اگر وہ بارش برساتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا کرتے: اے اللہ! نفع بخش بارش برسانا۔
Takhreej
(۵۵۶۲) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابوداود: ۵۰۹۹، وابن ماجہ: ۳۸۸۹(انظر: ۲۵۵۷۰)
Explanation
فوائد:… قوم ہود کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِہِمْ قَالُوْا ھٰذَا عَارِض’‘ مُّمْطِرُنَا بَلْ ھُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِہٖ رِیْح’‘ فِیْھَا عَذَاب’‘ اَلِیْم’‘۔ تُدَمِّرُکُلَّ شَیْئٍ بِاَمْرِ رَبِّھَا فَاَصْبَحُوْالَا یُرٰٓی اِلَّا مَسٰکِنُہُمْ کَذٰلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ۔} … تو جب انھوں نے اسے ایک بادل کی صورت میں اپنی وادیوں کا رخ کیے ہوئے دیکھا تو انھوں نے کہا یہ بادل ہے جو ہم پر بارش برسانے والا ہے۔ بلکہ یہ وہ(عذاب )ہے جو تم نے جلدی مانگا تھا، آندھی ہے، جس میں دردناک عذاب ہے ۔ جو ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے برباد کر دے گی، پس وہ اس طرح ہو گئے کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا کوئی چیز دیکھائی نہ دیتی تھی، اسی طرح ہم مجرم لوگوں کو بدلہ دیتے ہیں۔ (سورۂ احقاف: ۲۴، ۲۵)
5562
Sahih
۔ (۵۵۶۳)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا رَأَی الْمَطْرَ قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہٗ صَیِّبًا ھَنِیْئًا۔)) (مسند أحمد: ۲۵۴۸۶)
۔ (دوسری سند) جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بارش کو دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہٗ صَیِّبًا ھَنِیْئًا (اے اللہ! اس کو خوشگوار بارش بنا دے)۔
Takhreej
(۵۵۶۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
5563
Sahih
۔ (۵۵۶۴)۔ عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا سَمِعَ الرَّعْدَ وَالصَّوَاعِقَ قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِکَ، وَلَا تُہْلِکْنَا بِعَذَابِکَ، وَعَافِنَا قَبْلَ ذٰلِکَ۔)) (مسند أحمد: ۵۷۶۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب گرج اور کڑک کی آواز سنتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِکَ، وَلَا تُہْلِکْنَا بِعَذَابِکَ، وَعَافِنَا قَبْلَ ذٰلِکَ (اے اللہ! ہمیں اپنے غضب کی وجہ سے تباہ نہ کر اور ہمیں اپنے عذاب سے ہلاک نہ کر اور ہمیں اس سے پہلے عافیت دے دے)۔
Takhreej
(۵۵۶۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف حجاج بن ارطاۃ، ولجھالۃ حال ابی مطر، أخرجہ الترمذی: ۳۴۵۰(انظر: ۵۷۶۳)
Explanation
فوائد:… ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {ھُوَالَّذِیْ یُرِیْکُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّیُنْشِیُٔ السَّحَابَ الثِّقَالَ۔ وَیُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِہٖ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ مِنْ خِیْفَتِہٖ وَیُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِھَا مَنْ یَّشَآئُ} … وہی ہے جو تمھیں بجلی دکھاتا ہے، ڈرانے اور امید دلانے کے لیے اور بھاری بادل پیدا کرتا ہے۔ اور (بادل کی) گرج اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کے خوف سے۔ اور وہ کڑکنے والی بجلیاں بھیجتا ہے، پھر انھیں ڈال دیتا ہے جس پر چاہتا ہے۔ (سورۂ رعد: ۱۲، ۱۳)
5564
Zaeef
۔ (۵۵۶۵)۔ عَنْ بِلَال بْنِ یَحْیَی بْنِ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ: أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا رَأَی الْہِلَالَ قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ أَہِلَّہُ عَلَیْنَا بِالْیُمْنِ وَالْإِیمَانِ، وَالسَّلَامَۃِ وَالْإِسْلَامِ، رَبِّی وَرَبُّکَ اللّٰہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۹۷)
۔ بلال بن یحییٰ بن طلحہ بن عبید اللہ اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں، کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب ہلال کو دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ أَہِلَّہُ عَلَیْنَا بِالْیُمْنِ وَالْإِیمَانِ، وَالسَّلَامَۃِ وَالْإِسْلَامِ، رَبِّی وَرَبُّکَ اللّٰہُ (اے اللہ! اس کو ہم پر طلوع کر، سعادت اور ایمان کے ساتھ اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ، (اے چاند) میرا اور تیراربّ اللہ ہے۔
Takhreej
(۵۵۶۵) تخریج: حسن لشواھدہ، أخرجہ الترمذی: ۳۴۵۱(انظر: ۱۳۹۷)
Explanation
فوائد:… دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پورے ماہ کے لیے سعادت، ایمان، سلامتی اور اسلام کے دوام کا سوال کیا ہے، کیونکہ ہر ماہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کی روشنی میں مختلف فیصلے کرنے ہوتے ہیں، کسی کے رزق میں کمی آتی ہے، کسی کے رزق میں اضافہ ہوتا ہے، کسی پر آزمائشیں پڑتی ہیں، کسی کو خوشی کے اسباب ملتے ہیں، کوئی شرّ میں آگے نکل جاتا ہے، کسی کو خیر نصیب ہوتی ہے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پورے ماہ کے لیے امن و سلامتی کا سوال کیا۔
5565
Sahih
۔ (۵۵۶۶)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا رَأَی الْہِلَالَ قَالَ: ((اَللّٰہُ أَکْبَرُ ،اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ، اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ خَیْرَ ہٰذَا الشَّہْرِ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ الْقَدَرِ، وَمِنْ سُوئِ الْحَشْرِ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۱۷۷)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہلال کو دیکھتے تو یہ دعا کرتے: اَللّٰہُ أَکْبَرُ،… وَمِنْ سُوئِ الْحَشْرِ (اللہ سب سے بڑا ہے، ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، اے اللہ! بیشک میں تجھ سے اس مہینے کی خیر کا سوال کرتا ہوں،برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے،میں تجھ سے بری تقدیر اور برے حشر سے پناہ مانگتا ہوں)۔
Takhreej
(۵۵۶۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الراوی عن عبادۃ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۹۸(انظر: ۲۲۷۹۱)
5566
Zaeef
۔ (۵۵۶۷)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((إِذَا سَمِعْتُمْ صِیَاحَ الدِّیَکَۃِ مِنَ اللَّیْلِ فَإِنَّمَا رَأَتْ مَلَکًا سَلُوْا اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہِ، وَإِذَا سَمِعْتُمْ نُہَاقَ الْحِمَارِ فَإِنَّہُ رَأٰی شَیْطَانًا، فَتَعَوَّذُوا بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ۔)) (مسند أحمد: ۸۰۵۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم رات کو مرغ کی آواز سنو تو اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کیا کرو، کیونکہ وہ فرشتے کو دیکھ رہا ہوتا ہے، اور جب تم گدھے کی رینک سنو تو شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کیا کرو، کیونکہ وہ شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔
Takhreej
(۵۵۶۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۳۰۳، ومسلم: ۲۷۲۹(انظر: ۸۰۶۴)
5567
Sahih
۔ (۵۵۶۸)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (قَالَ یَزِیدُ فِی حَدِیثِہِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ): ((إِذَا سَمِعْتُمْ نُبَاحَ الْکِلَابِ، وَنُہَاقَ الْحَمِیرِ مِنَ اللَّیْلِ، فَتَعَوَّذُوا بِاللّٰہِ، فَإِنَّہَا تَرٰی مَا لَا تَرَوْنَ، وَأَقِلُّوا الْخُرُوجَ إِذَا ہَدَأَتِ الرِّجْلُ ،فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یَبُثُّ فِی لَیْلِہِ مِنْ خَلْقِہِ مَا شَائَ، وَأَجِیفُوا الْأَبْوَابَ، وَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہَا، فَإِنَّ الشَّیْطَانَ لَا یَفْتَحُ بَابًا أُجِیفَ وَذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ، وَأَوْکِئُوا الْأَسْقِیَۃَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: القِرَبَ)، وَغَطُّوا الْجِرَارَ، وَأَکْفِئُوا الْآنِیَۃَ۔)) قَالَ یَزِیدُ: ((وَأَوْکِئُوا الْقِرَبَ۔))(مسند أحمد: ۱۴۳۳۴)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم رات کو کتے کی بھونک یا گدھے کی رینک سنو تو اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو، کیونکہ وہ ایسی چیزیں دیکھتے ہیں جو تم نہیں دیکھتے۔ جب لوگ سو جائیں تو باہر نہ نکلا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ رات کے وقت مختلف مخلوقات کو منتشر کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا نام لے کر دروازے بند کیا کرو، کیونکہ شیطان وہ دروازہ نہیں کھولتا، جسے اللہ کا نام لے کر بند کیا گیا ہو، مشکیزوں کی ڈوریاں کس دے کر رکھو،گھڑوں کو ڈھانپ دیا کرو اور برتنوں کو الٹاکر کر دیا کرو۔
Takhreej
(۵۵۶۸) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۵۱۰۳(انظر: ۱۴۲۸۳)
Explanation
فوائد:… کتے کی بھونک اور گدھے کی رینک کو رات کے ساتھ اس لیے خاص کیا گیا کہ رات کو کثرت سے شیطانوں کا انتشار ہوتا ہے، وگرنہ دن کے وقت بھی ان آوازوں کو سنتے وقت تعوّذ پڑھا جائے گا۔
5568
Sahih

Chapters

9