۔ (۵۵۶۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللہ عنہا : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کَانَ إِذَا رَأٰی نَاشِئًا مِنْ أُفُقٍ مِنْ آفَاقِ السَّمَائِ تَرَکَ عَمَلَہُ وَإِنْ کَانَ فِی صَلَاتِہِ ثُمَّ یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا فِیہِ۔)) فَإِنْ کَشَفَہُ اللّٰہُ حَمِدَ اللّٰہَ وَإِنْ مَطَرَتْ قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ صَیِّبًا نَافِعًا۔))ٔٔ (مسند أحمد: ۲۶۰۸۷)
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آسمان کے کسی افق میں کوئی نامکمل سا بادل دیکھتے تو اپنے کام کو چھوڑ دیتے، اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں ہوتے، پھر یہ دعا پڑھنا شروع کر دیتے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا فِیہِ (اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہے، اس شرّ سے، جو اس بادل میں ہے)۔ اگر اللہ تعالیٰ اس بادل کو زائل کر دیتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے، اور اگر وہ بارش برساتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کرتے: اے اللہ! نفع بخش بارش برسانا۔
Takhreej
(۵۵۶۲) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابوداود: ۵۰۹۹، وابن ماجہ: ۳۸۸۹(انظر: ۲۵۵۷۰)
Explanation
فوائد:… قوم ہود کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِہِمْ قَالُوْا ھٰذَا عَارِض’‘ مُّمْطِرُنَا بَلْ ھُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِہٖ رِیْح’‘ فِیْھَا عَذَاب’‘ اَلِیْم’‘۔ تُدَمِّرُکُلَّ شَیْئٍ بِاَمْرِ رَبِّھَا فَاَصْبَحُوْالَا یُرٰٓی اِلَّا مَسٰکِنُہُمْ کَذٰلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ۔} … تو جب انھوں نے اسے ایک بادل کی صورت میں اپنی وادیوں کا رخ کیے ہوئے دیکھا تو انھوں نے کہا یہ بادل ہے جو ہم پر بارش برسانے والا ہے۔ بلکہ یہ وہ(عذاب )ہے جو تم نے جلدی مانگا تھا، آندھی ہے، جس میں دردناک عذاب ہے ۔ جو ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے برباد کر دے گی، پس وہ اس طرح ہو گئے کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا کوئی چیز دیکھائی نہ دیتی تھی، اسی طرح ہم مجرم لوگوں کو بدلہ دیتے ہیں۔ (سورۂ احقاف: ۲۴، ۲۵)
5562
Sahih