مسنداحمد

Musnad Ahmad

نیند کے آداب اور اذکار کے ابواب

بارش کے نزول، گرج اور کڑک کو سنتے وقت اور چاند کو دیکھنے کی دعاؤں کا بیان

۔ (۵۵۶۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا رَأٰی نَاشِئًا مِنْ أُفُقٍ مِنْ آفَاقِ السَّمَائِ تَرَکَ عَمَلَہُ وَإِنْ کَانَ فِی صَلَاتِہِ ثُمَّ یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا فِیہِ۔)) فَإِنْ کَشَفَہُ اللّٰہُ حَمِدَ اللّٰہَ وَإِنْ مَطَرَتْ قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ صَیِّبًا نَافِعًا۔))ٔٔ (مسند أحمد: ۲۶۰۸۷)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آسمان کے کسی افق میں کوئی نامکمل سا بادل دیکھتے تو اپنے کام کو چھوڑ دیتے، اگرچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز میں ہوتے، پھر یہ دعا پڑھنا شروع کر دیتے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا فِیہِ (اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہے، اس شرّ سے، جو اس بادل میں ہے)۔ اگر اللہ تعالیٰ اس بادل کو زائل کر دیتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے، اور اگر وہ بارش برساتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا کرتے: اے اللہ! نفع بخش بارش برسانا۔

۔ (۵۵۶۳)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا رَأَی الْمَطْرَ قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہٗ صَیِّبًا ھَنِیْئًا۔)) (مسند أحمد: ۲۵۴۸۶)

۔ (دوسری سند) جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بارش کو دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہٗ صَیِّبًا ھَنِیْئًا (اے اللہ! اس کو خوشگوار بارش بنا دے)۔

۔ (۵۵۶۴)۔ عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا سَمِعَ الرَّعْدَ وَالصَّوَاعِقَ قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِکَ، وَلَا تُہْلِکْنَا بِعَذَابِکَ، وَعَافِنَا قَبْلَ ذٰلِکَ۔)) (مسند أحمد: ۵۷۶۳)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب گرج اور کڑک کی آواز سنتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِکَ، وَلَا تُہْلِکْنَا بِعَذَابِکَ، وَعَافِنَا قَبْلَ ذٰلِکَ (اے اللہ! ہمیں اپنے غضب کی وجہ سے تباہ نہ کر اور ہمیں اپنے عذاب سے ہلاک نہ کر اور ہمیں اس سے پہلے عافیت دے دے)۔

۔ (۵۵۶۵)۔ عَنْ بِلَال بْنِ یَحْیَی بْنِ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ: أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا رَأَی الْہِلَالَ قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ أَہِلَّہُ عَلَیْنَا بِالْیُمْنِ وَالْإِیمَانِ، وَالسَّلَامَۃِ وَالْإِسْلَامِ، رَبِّی وَرَبُّکَ اللّٰہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۹۷)

۔ بلال بن یحییٰ بن طلحہ بن عبید اللہ اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں، کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب ہلال کو دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ أَہِلَّہُ عَلَیْنَا بِالْیُمْنِ وَالْإِیمَانِ، وَالسَّلَامَۃِ وَالْإِسْلَامِ، رَبِّی وَرَبُّکَ اللّٰہُ (اے اللہ! اس کو ہم پر طلوع کر، سعادت اور ایمان کے ساتھ اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ، (اے چاند) میرا اور تیراربّ اللہ ہے۔

۔ (۵۵۶۶)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا رَأَی الْہِلَالَ قَالَ: ((اَللّٰہُ أَکْبَرُ ،اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ، اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ خَیْرَ ہٰذَا الشَّہْرِ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ الْقَدَرِ، وَمِنْ سُوئِ الْحَشْرِ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۱۷۷)

۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہلال کو دیکھتے تو یہ دعا کرتے: اَللّٰہُ أَکْبَرُ،… وَمِنْ سُوئِ الْحَشْرِ (اللہ سب سے بڑا ہے، ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، اے اللہ! بیشک میں تجھ سے اس مہینے کی خیر کا سوال کرتا ہوں،برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے،میں تجھ سے بری تقدیر اور برے حشر سے پناہ مانگتا ہوں)۔

۔ (۵۵۶۷)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((إِذَا سَمِعْتُمْ صِیَاحَ الدِّیَکَۃِ مِنَ اللَّیْلِ فَإِنَّمَا رَأَتْ مَلَکًا سَلُوْا اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہِ، وَإِذَا سَمِعْتُمْ نُہَاقَ الْحِمَارِ فَإِنَّہُ رَأٰی شَیْطَانًا، فَتَعَوَّذُوا بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ۔)) (مسند أحمد: ۸۰۵۰)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم رات کو مرغ کی آواز سنو تو اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کیا کرو، کیونکہ وہ فرشتے کو دیکھ رہا ہوتا ہے، اور جب تم گدھے کی رینک سنو تو شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کیا کرو، کیونکہ وہ شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔

۔ (۵۵۶۸)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (قَالَ یَزِیدُ فِی حَدِیثِہِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ): ((إِذَا سَمِعْتُمْ نُبَاحَ الْکِلَابِ، وَنُہَاقَ الْحَمِیرِ مِنَ اللَّیْلِ، فَتَعَوَّذُوا بِاللّٰہِ، فَإِنَّہَا تَرٰی مَا لَا تَرَوْنَ، وَأَقِلُّوا الْخُرُوجَ إِذَا ہَدَأَتِ الرِّجْلُ ،فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یَبُثُّ فِی لَیْلِہِ مِنْ خَلْقِہِ مَا شَائَ، وَأَجِیفُوا الْأَبْوَابَ، وَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہَا، فَإِنَّ الشَّیْطَانَ لَا یَفْتَحُ بَابًا أُجِیفَ وَذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ، وَأَوْکِئُوا الْأَسْقِیَۃَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: القِرَبَ)، وَغَطُّوا الْجِرَارَ، وَأَکْفِئُوا الْآنِیَۃَ۔)) قَالَ یَزِیدُ: ((وَأَوْکِئُوا الْقِرَبَ۔))(مسند أحمد: ۱۴۳۳۴)

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم رات کو کتے کی بھونک یا گدھے کی رینک سنو تو اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو، کیونکہ وہ ایسی چیزیں دیکھتے ہیں جو تم نہیں دیکھتے۔ جب لوگ سو جائیں تو باہر نہ نکلا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ رات کے وقت مختلف مخلوقات کو منتشر کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا نام لے کر دروازے بند کیا کرو، کیونکہ شیطان وہ دروازہ نہیں کھولتا، جسے اللہ کا نام لے کر بند کیا گیا ہو، مشکیزوں کی ڈوریاں کس دے کر رکھو،گھڑوں کو ڈھانپ دیا کرو اور برتنوں کو الٹاکر کر دیا کرو۔