مسنداحمد

Musnad Ahmad

دعاء اور اس سے متعلقہ امور کے ابواب

دعا کرنے کی ترغیب، اس کی فضیلت، اس کے آداب اور اس چیز کا بیان کہ دعا لازمی طور پر فائدہ دے گی

۔ (۵۵۸۲)۔ عَنْ مُعَاذٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَنْ یَنْفَعَ حَذَرٌ مِنْ قَدَرٍ وَلٰکِنَّ الدُّعَائَ یَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ وَمِمَّا لَمْ یَنْزِلْ، فَعَلَیْکُمْ بِالدُّعَائِ عِبَادَ اللّٰہِ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۳۹۴)

۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی چیز کی تیاری، تقدیر سے فائدہ نہیں دیتی، البتہ دعا ان امور میں فائدہ دیتی ہے، جو نازل ہو چکے ہیں اور ان میں بھی جو نازل نہیں ہوئے، لہٰذا اللہ کے بندو! دعا کو لازم پکڑو۔

۔ (۵۵۸۳)۔ عَنْ ثَوْبَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الرَّجُلَ لَیُحْرَمُ الرِّزْقَ بِالذَّنْبِ یُصِیبُہُ، وَلَا یَرُدُّ الْقَدَرَ إِلَّا الدُّعَائُ، وَلَا یَزِیدُ فِی الْعُمُرِ إِلَّا الْبِرُّ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۸۰۲)

۔ سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی گناہ کا ارتکاب کرنے کی وجہ سے رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے، اور کوئی چیز تقدیر کو ردّ نہیں کر سکتی، ما سوائے دعا کے اور صرف نیکی ہی ہے، جو عمر میں اضافہ کرتی ہے۔

۔ (۵۵۸۴)۔ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ أَنَّ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ حَدَّثَہُمْ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا عَلٰی ظَہْرِ الْأَرْضِ مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ یَدْعُو اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ بِدَعْوَۃٍ إِلَّا آتَاہُ اللّٰہُ، أَوْ کَفَّ عَنْہُ مِنَ السُّوْئِ مِثْلَھَا۔)) (مسند أحمد: ۲۳۱۶۷)

۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روئے زمین پر کوئی مسلمان نہیں ہے، جو اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہو، مگر اللہ تعالیٰ اس کو عطا کرتا ہے، یا پھر اس دعا کے بقدر اس سے بری چیز کو ٹال دیتا ہے۔

۔ (۵۵۸۵)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَدْعُو بِدَعْوَۃٍ لَیْسَ فِیہَا إِثْمٌ وَلَا قَطِیعَۃُ رَحِمٍ إِلَّا أَعْطَاہُ اللّٰہُ بِہَا إِحْدٰی ثَلَاثٍ، إِمَّا أَنْ تُعَجَّلَ لَہُ دَعْوَتُہُ، وَإِمَّا أَنْ یَدَّخِرَہَا لَہُ فِی الْآخِرَۃِ، وَإِمَّا أَنْ یَصْرِفَ عَنْہُ مِنَ السُّوئِ مِثْلَہَا۔)) قَالُوْا إِذًا نُکْثِرُ، قَالَ: ((اللّٰہُ أَکْثَرُ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۱۵۰)

۔ سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مسلمان ایسی دعا کرتا ہو، جس میں گناہ او رقطع رحمی والی بات نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو تین میں سے ایک چیز عطا کرتا ہے، یا اس کی دعا جلدی جلدی قبول کر لی جاتی ہے، یا اس کی دعا کو آخرت کے لیے ذخیرہ کر لیا جاتا ہے، یا اس کے بقدر اس آدمی سے بری چیز کو دور کر دیا جاتا ہے۔ صحابہ نے کہا: تو پھر ہم بہت زیادہ دعا کریں گے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ زیادہ عطا کرنے والا ہے۔

۔ (۵۵۸۶)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الدُّعَائَ ہُوَ الْعِبَادَۃُ، ثُمَّ قَرَأَ: {وَقَالَ رَبُّکُمْ ادْعُونِی أَسْتَجِبْ لَکُمْ إِنَّ الَّذِینَ یَسْتَکْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِی سَیَدْخُلُونَ جَہَنَّمَ دَاخِرِینَ} [غافر: ۶۰] (مسند أحمد: ۱۸۵۷۶)

۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک دعا ہی عبادت ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت پڑھی: {وَقَالَ رَبُّکُمْ ادْعُونِی أَسْتَجِبْ لَکُمْ إِنَّ الَّذِینَ یَسْتَکْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِی سَیَدْخُلُونَ جَہَنَّمَ دَاخِرِینَ} … اور تمہارے رب کا فرمان ہے کہ مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعاؤں کوقبول کروں گا، یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خود سری کرتے ہیں، وہ ابھی ابھی ذلیل ہو کر جہنم میں پہنچ جائیں گے۔ (سورۂ غافر: ۶۰) (سورۂ غافر کو سورۂ مومن بھی کہتے ہیں)۔

۔ (۵۵۸۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ شَیْئٌ اَکْرَمَ عَلَی اللّٰہِ مِنَ الدُّعَائِ۔)) (مسند أحمد: ۸۷۳۳)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی چیز نہیں ہے، جو دعا سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ عزت والی ہو۔

۔ (۵۵۸۸)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا) قَال: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ لَمْ یَدْعُ اللّٰہَ غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۹۷۱۷)

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ سے دعا نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو جاتا ہے۔

۔ (۵۵۸۹)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَنْصِبُ وَجَھَہٗ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فِیْ مَسْأَلِۃٍ اِلَّا اَعْطَاہُ اِیَّاھَا اِمَّا اَنْ یُّعَجِّلَھَا لَہٗ، وَاِمَّا اَنْ یَّدَّخِرَھَا لَہٗ۔)) (مسند أحمد: ۹۷۸۴)

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مسلمان کوئی سوال کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے چہرے کو گاڑھ لیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو ہر صورت میں عطا کرتا ہے، یا تو جلدی دے دیتا ہے، یا اس کے لیے ذخیرہ کر لیتا ہے۔

۔ (۵۵۹۰)۔ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِّی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَیَسْتَحْیِیْ اَنْ یَبْسُطَ الْعَبْدُ اِلَیْہِ یَدَیْہِ یَسْأَلُہٗ فِیْھِمَا خَیْرًا فَیَرُدَّھُمَا خَائِبَتَیْنِ۔ (مسند أحمد: ۲۴۱۱۵)

۔ سیدنا سلمان فارسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کہا: جب بندہ اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے کے لیے اس کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ دراز کرتا ہے تو وہ اس سے شرماتا ہے کہ ان کو خالی واپس کر دے۔

۔ (۵۵۹۱)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ، وَاَنَا مَعَہٗ اِذَا دَعَانِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۲۲۴)

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جیسے میرے بندے کا میرے بارے میںگمان ہوتا ہے، میں ویسے ہی اس کے ساتھ پیش آتا ہوں، اور جب وہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔

۔ (۵۵۹۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا تَمَنّٰی اَحَدُکُمْ فَلْیَنْظُرْ مَا الَّذِیْ یَتَمَنّٰی، فَاِنَّہٗ لَا یَدْرِیْ مَا الَّذِیْ یُکْتَبُ لَہٗ مِنْ اُمْنِیَّتِہِ۔)) (مسند أحمد: ۹۰۱۲)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں کوئی آدمی تمنا کرنے لگے تو اس کو اپنی تمنا پر غور کر لینا چاہیے، کیونکہ وہ نہیں جانتا ہے کہ اس کی تمنا میں سے کون سی چیز اس کے لیے لکھ لی جاتی ہے۔

۔ (۵۵۹۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعْجِبُّہُ الْجَوْامِعُ مِنَ الدُّعَا، وَیَدَعُ مَا بَیْنَ ذٰلِکَ۔ (مسند أحمد: ۲۶۰۷۰)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جامع دعائیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پسند تھیں، اس کی علاوہ باقی دعائیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چھوڑ دیتے تھے۔