فوائد:… شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں: سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((الدُّعَائُ ھُوَ الْعِبَادَۃُ)) ثُمَّ قَرَأ: {وَقَالَ رَبُّکُمْ ادْعُوْنِی اَسْتَجِبْ لَکُمْ اِِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِی سَیَدْخُلُوْنَ جَہَنَّمَ دَاخِرِیْنَ} (مؤمن: ۶۰)، (صحیحہ: تحت رقم: ۲۶۵۴) یعنی: دعا، عبادت ہی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: اور تمہارے رب کا فرمان ہے کہ مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعاؤں کوقبول کروں گا، یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خود سری کرتے ہیں، وہ ابھی ابھی ذلیل ہو کر جہنم میں پہنچ جائیں گے۔