مسنداحمد

Musnad Ahmad

خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان

اس چیز کا بیان کہ سب سے بہترین کمائی تجارت اور آدمی کا اپنے ہاتھوں سے کام کرنا ہے، نیز اس امر کا بیان کہ بندے کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے

۔ (۵۷۲۹)۔ عَنْ جُمَیْعِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ خَالِہٖقَالَ: سُئِلَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ أَفْضَلِ الْکَسَبِ فَقَالَ: ((بَیْعٌ مَبْرُوْرٌ وَعَمَلُ الرَّجُلِ بِیَدِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۳۰)

۔ جمیع بن عمیر اپنے ماموں (سیدناابوبردہ بن نیار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ سب سے بہتر ذریعہ معاش کون سا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیع مبرور اور آدمی کا اپنے ہاتھ کے ذریعے کمائی کرنا۔

۔ (۵۷۳۰)۔ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ قَالَ: قِیْلَیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَیُّ الْکَسْبِ أَطْیَبُ؟ قَالَ: ((عَمَلُ الرَّجُلِ بِیَدِہِ وَکُلُّ بَیْعٍ مَبْرُوْرٍ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۹۷)

۔ سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! کون سی کمائی سب سے زیادہ پاکیزہ ہے؟ آپ نے فرمایا: آدمی کے ہاتھ کی کمائی اور ہر مبرور تجارت۔

۔ (۵۷۳۱)۔ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیْکَرِبَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ رَأٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَاسِطًا یَدَیْہِیَقُوْلُ: ((مَا أَکَلَ أَحَدٌ مِنْکُمْ طَعَامًا فِی الدُّنْیَا خَیْرًا لَہُ (وَفِیْ لَفْظٍ: أَحَبَّ اِلَی اللّٰہِ) مِنْ أَنْ یَاْکُلَ مِنْ عَمَلِ یَدَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۲۲)

۔ سیدنا مقدام بن معد یکرب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دونوں ہاتھ پھیلائے اور فرمایا: اس دنیا میں سب سے زیادہ بہتراور (ایک روایت کے الفاظ) اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ محبوب وہ کھانا ہے، جو آدمی اپنے ہاتھوں سے کما کر کھاتا ہے۔

۔ (۵۷۳۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((اِنَّ أَطْیَبُ مَا أَکَلَ الرَّجُلُ مِنْ کَسْبِہِ، وَإِنَّ وَلَدَہُ مِنْ کَسْبِہِ))

۔ سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے عمدہ چیز وہ ہے، جو آدمی اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھائے اور اس کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے۔

۔ (۵۷۳۳)۔ وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ أَوْلَادَکُمْ مِنْ أَطْیَبِ کَسْبِکُمْ فَکُلُوْا مِنْ کَسْبِ أَوْلَادِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۶۳۶)

۔ (دوسری سند) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہاری اولاد بھی تمہاری بہترین کمائی میں سے ہے، پس تم اپنی اولاد کی کمائی سے کھایا کرو۔

۔ (۵۷۳۴)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: أَتٰی أَعْرَابِیٌّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: إِنَّ اَبِیْیُرِیْدُ أَنْ یَجْتَاحَ مَالِیْ، قَالَ: ((أَنْتَ وَمَالُکَ لِوَالِدِکَ، إِنَّ أَطْیَبَ مَا أَکَلْتُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ، وَإِنَّ أَمْوَالَ أَوْلَادِکُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ فَکُلُوْہُ ھَنِیْئًا)) (مسند احمد: ۶۶۷۸)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک بدّو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میرا باپ میرے مال کو فنا کرنا چاہتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اور تیرا مال تیرے والد کا ہے، سب سے بہتر چیز وہ ہے جو تم اپنی کمائی سے کھاتے ہو اور تمہاری اولاد تمہاری کمائی میں سے ہے، پاس اس کو خوشگواری کے ساتھ کھاؤ۔