TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان - خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان - Book 90 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 90 of Musnad Ahmad, with 48 chapters and 288 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

288 Hadith · 48 Chapters
ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
۔ (۵۷۲۰)۔ عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاَنْ یَحْمِلَ الرَّجُلُ حَبْلًا فَیَحْتَطِبَ بِہٖثُمَّیَجِیْئَ فَیَضَعَہُ فِی السُّوْقِ فَیَبِیْعَہُ ثُمَّ یَسْتَغْنِیَ بِہٖفَیُنْفِقَہُ عَلٰی نَفْسِہٖخَیْرٌلَہُ مِنْ أَنْ یَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْہُ أَوْ مَنَعُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۰۷)
۔ سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے کندھے پر رسی ڈال کر ایندھن کی لکڑیاں اٹھائے ہوئے بازار میں فروخت کے لیے لا رکھے اور اسی سے دولت کما کر اپنی ذات پرصرف کرے یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرتا پھرے وہ اسے دیںیا نہ دیں۔
Takhreej
(۵۷۲۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۴۷۱، ۲۳۷۳ (انظر: ۱۴۰۷)
Explanation
فوائد:… مسلمان کو حسب ِ استطاعت یہی کوشش کرنی چاہیے کہ لوگوں سے سوال کرنے سے بچے اور اپنی آمدن کا ذریعہ بنانے کی کوشش کرے، یہی غیرت و حمیت اور خیر و بھلائی والی زندگی ہے، جو مسلمان اس معاملے میں دوسرے پر انحصار کر لیتا ہے، اس کا وقار ختم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
5720
Sahih
ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
۔ (۵۷۲۱)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَیُّھَا النَّاسُ! إِنَّ اللّٰہَ طَیِّبٌ لََا یَقْبَلُ اِلَّا طَیِّبًا، وَإِنَّ اللّٰہَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ بِمَا أَمَرَ بِہِ الْمُرْسَلِیْنَ، فَقَالَ: {یَاأَیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوْامِنَ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا إِنِّی بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ} وَقَالَ: {یَاأَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبَاتِ مَارَزَقْنَاکُمْ} ثُمَّ ذَکَرَ الرَّجُلَ یُطِیْلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَثُمَّ یَمُدُّیَدَیْہِ إِلَی السَّمَائِ، یَارَبِّ! یَارَبِّ! وَمَطْعَمُہُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُہُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُہُ حَرَامٌ وَغُذِیَ بِالْحَرَامِ فَأَنّٰییُسْتَجَابُ لِذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۸۳۳۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو: اللہ تعالیٰ خود پاکیزہ ہے اور پاکیزہ چیز کو ہی قبول کرتا ہے، اور بیشک اللہ تعالیٰ نے ایمانداروں کو وہی حکم دیا ہے جو اپنے رسولوں کو دیا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: اے پیغمبرو!پاکیزہ چیزوں سے کھائو اور نیک عمل کرو، جو تم عمل کرتے ہو، بیشک میںاس کو جانتا ہوں۔ (سورۂ مومنون: ۵۱) نیزفرمایا: اے مومنو! تم ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ، جو ہم نے تم کو بطورِ رزق عطا کی ہیں۔ (سورۂ بقرہ: ۱۷۲) پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس شخص کا ذکر کیا، جو لمبا سفر کرتا ہے، اس کے بال پراگندہ اور غبار آلودہیں اور وہ آسمان کی طرف ہاتھ پھیلا کر دعا کرتا ہے: اے میرے ربّ! اے میرے ربّ! جبکہ اس کا کھانا، پینا، پہننا اور غذا حرام ہے، تو پھر اس کی دعا کیسے قبول کی جائے۔
Takhreej
(۵۷۲۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۰۱۵(انظر: ۸۳۴۸)
Explanation
فوائد:…مسئلہ انبیاء و رسل کا ہو یا ان کے امتیوں کا، دونوں کو یہی حکم دیا گیا ہے کہ وہ حلال رزق کا اہتمام کریں، بصورتِ دیگر مسلمان کی عاجزانہ پکار کو بھی ردّ کر دیا جاتاہے ، عصر حاضر کی ایک پریشانییہ بھی ہے کہ لوگ حلال و حرام کے درمیان تمیز نہیں کرتے اور جس کا جس مقام پر جو داؤ لگتا ہے، وہ شکار کر لینے کے لیے تیار رہتا ہے۔
5721
Sahih
ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
۔ (۵۷۲۲)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَکْسِبُ عَبْدٌ مَالًا مِنْ حَرَامٍ فَیُنْفِقَ مِنْہُ فَیُبَارَکَ لَہُ، وَلَا یَتَصَدَّقُ بِہٖفَیُقْبَلَ مِنْہُ، وَلَا یَتْرُکُہُ خَلْفَ ظَہْرِہِ اِلَّا کَانَ زَادَہُ إِلَی النَارِ، إِنَّ اللّٰہَ عزَّ وَجلَّ َلا یَمْحُو السَّیِّیئَ بالسَّیِّیئِ، وَلٰکِنْ یَمْحُو السَّیِّیئَ باِلحَسَنِ، إِنَّ الْخَبِیْثَ َلا یَمْحُو الْخَبِیْثَ۔)) (مسند احمد: ۳۶۷۲)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بندہ جو حرام مال کما کر اس کو خرچ کرتا ہے، وہ اس سے قبول نہیں ہوتا اور ایسے مال سے جو صدقہ کرتا ہے، وہ بھی قبول نہیں ہوتا اور ایسا مال جب اپنے پیچھے چھوڑ کر جاتا ہے تو وہ جہنم کی طرف اس کا زاد راہ ہوتا ہے، وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی برائی کو برائی کے ذریعہ نہیں مٹاتا بلکہ برائی کو اچھائی کے ذریعے ختم کرتا ہے، بیشک ایک خبیث چیز دوسری خبیث چیز کو نہیں مٹا سکتی۔
Takhreej
(۵۷۲۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف الصباح بن محمد البجلی۔ أخرجہ الحاکم: ۲/ ۴۴۷، والبزار: ۳۵۶۲ (انظر: ۳۶۷۲)
Explanation
فوائد:…یہ روایت سنداً تو ضعیف ہے، لیکن اس میں جتنے امور کو بیان کیاگیا ہے، وہ شریعت کے مصدقہ اصولوں میں سے ہیں۔
5722
Zaeef
ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
۔ (۵۷۲۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیَأْتِیَنَّ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یُبَالِی الْمَرْئُ بِمَا أَخَذَ مِنَ الْمَالِ بِحَلَالٍ أَوْ حَرَامٍ۔)) (مسند احمد: ۹۸۳۷)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایسا زمانہ ضرور آئے گا کہ آدمی اس چیز کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا کہ وہ حلال مال حاصل کررہا ہے یا حرام۔
Takhreej
(۵۷۲۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۰۵۹، ۲۰۸۳(انظر: ۹۸۳۸)
Explanation
فوائد:…کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ زمانے کی مسلمانوں کی کثیر تعداد نے آپ aکی اس پیشین گوئی کو پورا کر دیا ہے، سرے سے لوگ حلال و حرام کے سلسلے میں سنجیدگی سے سوچنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں، بظاہر عبادت گزار طبقہ سے متعلقہ افراد میں بھییہ صلاحیت کم ہو گئی ہے، آپ درج ذیل صورتوں پر غور کریں: بینک کی ملازمت، انشورنس کمپنی کی ملازمت، تمباکو اور دوسری نشہ آور چیزوں کا کا روبار، واضح سود اور رشوت والے معاملات، خرید و فروخت کے وقت عیب چھپانا اور جھوٹ بولنا، شیو اور تھریڈنگ اور پلکنگ کی کمائی، شیو کے آلات کا کاروبار، کتوں کی قیمت، خریدی ہوئی چیز کو قبضے میں لینے سے پہلے فروخت کرنا، ذخیرہ اندوزی، سونے کی خرید و فروخت میں ربا الفضل، بیوٹی پارلر کے جھانسے میں کئی حرام امور کا ارتکاب، فون اور موبائل کا بیلنس اور بجلی اور گیس چوری کرنا، کمپیوٹر اور ٹی وی وغیرہ کے ذریعے واضح حرام امور کا گھروںمیں اہتمام کرنا، جوا پر مشتمل واضح صورتیں، کئی بیماریوں میں آپریش کی ضرورت نہ ہونے کے باوجود ڈاکٹروں کا مال و زر حاصل کرنے کے لیے آپریشن کر دینا، اکثر لوگوں کا اپنی ڈیوٹی اورذمہ داری کا حق ادا نہ کرنا۔ ہمارے معاشرے میں درج بالا حرام صورتیں نہ صرف موجود ہیں، بلکہ ہر دوسرا شخص ان کے استعمال کو اپنا حق سمجھنے لگ گیا ہے۔
5723
Sahih
ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
۔ (۵۷۲۴)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَنِ اشْتَرٰی ثَوْبًا بِعَشْرَۃِ دَرَاھِمَ وَفِیْہَا دِرْھَمٌ حَرَامٌ لَمْ یَقْبَلِ اللّٰہُ لَہُ صَلَاۃً مَادَامَ عَلَیْہِ، قَالَ: ثُمَّ أَدْخَلَ إِصْبَعَیْہِ فِیْ أُذُنَیْہِ وَقَالَ: صُمَّتَا إِنْ لَمْ یَکُنِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَمِعْتُہ یَقُوْلُہُ۔ (مسند احمد: ۵۷۳۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہے: اگر کوئی آدمی دس درہم کا لباس خریدے اور اس میں ایک درہم حرام کمائی کا ہوتو جب تک وہ کپڑا اس کے جسم پر رہے گا، اللہ تعالیٰ اس کی نماز کو قبول نہیں کرے گا۔ پھر سیدناابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں اور کہا: اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ بات نہ سنی ہو تو میرے دونوں کان بہرے ہو جائیں۔
Takhreej
(۵۷۲۴) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، بقیۃ بن الولید الحمصییدلس تدلیس التسویۃ، وعثمان بن زفر الجھنی مجھول الحال۔ أخرجہ البیھقی فی ’’الشعب‘‘: ۶۱۱۴(انظر: ۵۷۳۲)
5724
Zaeef
ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
۔ (۵۷۲۵)۔ عَنْ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیْرٍیَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَوْمَأَ بِاِصْبَعَیْہِ إِلٰی أُذُنَیْہِ: ((إِنَّ الْحَلَالَ بَیِّنٌ وَالْحَرَامَ بَیِّنٌ، وَاِنَّ بَیْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُشْتَبِہَاتٍ لَایَدْرِیْ کَثِیْرٌ مِنَ النَّاسِ أَ مِنَ الْحَلَالِ ھِیَ أَمْ مِنَ الْحَرَامِ، فَمَنْ تَرَکَہَا اِسْتَبْرَأَ لِدِیْنِہِ وَعِرْضِہِ، وَمَنْ وَاقَعَہَا یُوْشِکُ أَنْ یُوَاقِعَ الْحَرَامَ، فمَنْ رَعٰی إِلٰی جَنْبِ حِمًییُوْشِکُ اَنْ یَرْتَعَ فِیْہِ، وَلِکُلِّ مَلِکٍ حِمًی، وَاِنَّ حِمَی اللّٰہِ مَحَارِمُہُ، وَإِنَّ فِی الْإنْسَانِ مُضْغَۃً اِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّہُ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہُ اَلَا وَھِیَ الْقَلْبُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۵۸)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، ساتھ ہی انھوں نے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا: بیشک حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، لیکن حلال و حرام کے درمیان کچھ امور مشتبہ ہیں، بہت سارے لوگ ان کے بارے میں نا آشنا ہیں کہ آیا وہ حلا ل ہیںیا وہ حرام، جس نے ان امور کو ترک کر دیا اس نے اپنے دین اور عزت کی حفاظت کرلی اور جوان میں گھس گیا، قریب ہے کہ وہ حرام میں واقع ہوجائے گا، اس کی مثال یہ ہے کہ اگر ایک آدمی کسی کی چراگاہ کے نزدیک جانور چر ائے گا تو ممکن ہے کہ وہ اس میں منہ ماری بھی کردیں، ہر بادشاہ کا ایک ممنوعہ علاقہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ممنوعہ چیزیں اس کی حرام کردہ اشیاء ہیں، انسان میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے، اگر وہ صحیح ہو جائے تو سارا جسم صحیح ہوجاتاہے اور اگر وہ خراب ہوجائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے، خبردار! وہ دل ہے۔
Takhreej
(۵۷۲۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۰۵۱، ومسلم: ۱۵۹۹(انظر: ۱۸۳۶۸)
Explanation
فوائد:…قرآن و حدیث کی روشنی میں حلال اور حرام امور بالکل واضح ہیں، البتہ بیچ میں کچھ ایسے امور ہیں کہ واضح طور پر جن کی حلت یا حرمت کا فیصلہ نہیں کیا سکتاہے، ان ہی کو مشتبہ امور کہتے ہیں، اس حدیث مبارکہ کا تقاضا یہ ہے کہ ان امور سے بھی اجتناب کیا جائے، تاکہ آدمی حرام کاموں سے مکمل طور پر محفوظ رہے، جو آدمی ان شبہات سے بچے گا، وہ اللہ تعالی کے ہاں اجر پائے گا اور جو ان کے لیے جواز پیدا کرے گا، وہ نادم ہو گا اور فضائل سے محروم رہے گا۔ دیکھیں حدیث نمبر (۶۲۰۴)، اس حدیث میں ایک مشتبہ چیز کا بیان ہے۔ رسول اللہ a نے راستے میں پڑی ہوئی کھجور کے بارے میں فرمایا: ’’اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہو سکتی ہے تو میں اسے کھا لیتا۔‘‘ (صحیح بخاری: ۲۰۵۵) حدیث ِ مبارکہ کے آخری حصے سے معلوم ہوتا ہے کہ بندے کی اصلاح کا دارومدار دل پر ہے، لہذا دل کو پر خلوص رکھا جائے اور اصلاح کی کوشش کی جائے۔
5725
Sahih
ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
۔ (۵۷۲۶)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِکَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ: ((یَا کَعْبُ بْنَ عُجْرَۃَ! إِنَّہُ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ، النَّارُ أَوْلٰی بِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۹۴)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: اے کعب بن عجرہ! وہ گوشت جنت میں داخل نہیں ہو گا، جو حرام سے پلا ہو گا، آگ اس کے زیادہ لائق ہو گی۔
Takhreej
(۵۷۲۶) تخریج: اسنادہ قوی علی شرط مسلم۔ أخرجہ ابن حبان: ۴۵۱۴، والحاکم: ۴/ ۴۲۲، والدارمی: ۲۷۷۶، وابو یعلی: ۱۹۹۹(انظر: ۱۴۴۴۱)
Explanation
فوائد:…ارشادِ باری تعالی ہے: {اِنَّّ الَّذِیْنَیَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتَامیٰ ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِھِمْ نَارًا} ’’جولوگ ظلم سے یتیموںکا مال کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں۔‘‘ (النسا ئ:۱۰ ) حرام مال جہنم کا بہت بڑا سبب ہے، اس کی وجہ سے اللہ کی بارگاہ میں کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی۔
5726
Sahih
ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
۔ (۵۷۲۷)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((سَیَکُوْنُ قَوْمٌ یَأْکُلُوْنَ بِأَلْسِنَتِہِمْ کَمَا تَأْکُلُ الْبَقَرَۃُ مِنَ الْأَرْضِ)) (مسند احمد: ۱۵۱۷)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقر یب ایسے لوگ ظاہر ہوں گے کہ جواپنی زبانوں کے ذریعے اس طرح کھائیں گے،جیسے گائے زمین سے چرتی ہے۔
Takhreej
(۵۷۲۷) تخریج: حسن لغیرہ ۔ أخرجہ البزار: ۲۰۸۱(انظر: ۱۵۱۷)
Explanation
فوائد:…یہ حدیث، حدیث نمبر (۵۷۲۳) کے ہم معنی ہے، اس کا مفہوم یہ ہے کہ جیسے گائے چرتے وقت خشک اور تر اور میٹھے اور کڑوے چارے کے مابین فرق نہیں کرتی، بلکہ سب کو تلف کر دیتی ہے، ایسی ہی بعض لوگ حلال و حرام اور حق و باطل میں کوئی تمیز نہیں کرتے، آج کل اچھے بھلے سمجھدار لوگوں نے نہ صرف سودی معاملات کو جائز سمجھ لیا ہے، بلکہ وہ عملی طور پر اس میںملوث ہیں، جبکہ وہ منہج کے طور پر اپنے آپ کو برحق اور نمازی پرہیزگار بھی سمجھتے ہیں۔
5727
Sahih
ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
۔ (۵۷۲۸)۔ عَنْ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ اَبِیْ مَرْیَمَ قَالَ: کَانَتْ لِمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیْکَرِبَ جَارِیَۃٌ تَبِیْعُ اللَّبَنَ وَیَقْبِضُ الْمِقْدَامُ الثَّمَنَ، فَقِیْلَ لَہُ: سُبْحَانَ اللّٰہ! تَبِیْعُ اللَّبَنَ وَتَقْبِضُ الثَّمَنَ، فَقَالَ: نَعَمْ، وَمَا بَأْسٌ بِذٰلِکَ؟ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَیَأْتِیَنَّ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یَنْفَعُ فِیْہِ اِلَّا الدِّیْنَارُ وَالدِّرْھَمُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۳۳)
۔ ابوبکر بن ابی مریم کہتے ہیں کہ سیدنا مقدام بن معد ی کرب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ایک لونڈی دودھ فروخت کرتی تھی اور وہ دودھ کی قیمت لیتے تھے،کسی نے ان سے کہا: سبحان اللہ! (بڑا تعجب ہے) دودھ لونڈی فروخت کرتی ہے اور قیمت تم لے لیتے ہو، انھوں نے جواباً کہا: یہ کوئی گناہ والی بات نہیں، میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ لوگوں پر ایساوقت آئے گا کہ جس میں صرف دیناراور درہم ہی کام آئیں گے۔
Takhreej
(۵۷۲۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابی بکر بن ابی مریم، ولانقطاعہ، ابو بکر بن ابی مریم لم یدرک المقدام بن معدی کرب ۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۰/ ۶۵۹، وفی ’’الاوسط‘‘: ۲۲۹۰(انظر: ۱۷۲۰۱)
Explanation
فوائد:…مرفوع حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ ایسا زمانہ بھی آئے گاکہ اس میں کمائی کرنا ہی لوگوں کے مفید رہے گا، وگرنہ وہ چوری، نفاق اور ظالم کی اعانت جیسے امور میں پڑ جائیں گے۔
5728
Zaeef
اس چیز کا بیان کہ سب سے بہترین کمائی تجارت اور آدمی کا اپنے ہاتھوں سے کام کرنا ہے، نیز اس امر کا بیان کہ بندے کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے
۔ (۵۷۲۹)۔ عَنْ جُمَیْعِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ خَالِہٖقَالَ: سُئِلَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ أَفْضَلِ الْکَسَبِ فَقَالَ: ((بَیْعٌ مَبْرُوْرٌ وَعَمَلُ الرَّجُلِ بِیَدِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۳۰)
۔ جمیع بن عمیر اپنے ماموں (سیدناابوبردہ بن نیار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ سب سے بہتر ذریعہ معاش کون سا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیع مبرور اور آدمی کا اپنے ہاتھ کے ذریعے کمائی کرنا۔
Takhreej
(۵۷۲۹) حسن لغیرہ ۔ أخرجہ الحاکم: ۲/ ۱۰، والبیھقی: ۵/ ۲۶۳، والبزار: ۱۲۵۸ (انظر: ۱۵۸۳۶)
Explanation
فوائد:…بیع مبرور سے مراد وہ تجارت ہے جس میں کوئی شبہ اور خیانت نہ ہو، ہاتھ کے ذریعے کمائی کرنے سے مراد کھیتی باڑی اور صنعت و ہنر وغیرہ ہے۔
5729
Sahih
اس چیز کا بیان کہ سب سے بہترین کمائی تجارت اور آدمی کا اپنے ہاتھوں سے کام کرنا ہے، نیز اس امر کا بیان کہ بندے کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے
۔ (۵۷۳۰)۔ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ قَالَ: قِیْلَیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَیُّ الْکَسْبِ أَطْیَبُ؟ قَالَ: ((عَمَلُ الرَّجُلِ بِیَدِہِ وَکُلُّ بَیْعٍ مَبْرُوْرٍ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۹۷)
۔ سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! کون سی کمائی سب سے زیادہ پاکیزہ ہے؟ آپ نے فرمایا: آدمی کے ہاتھ کی کمائی اور ہر مبرور تجارت۔
Takhreej
(۵۷۲۹) حسن لغیرہ ۔ أخرجہ الحاکم: ۲/ ۱۰، والبیھقی: ۵/ ۲۶۳، والبزار: ۱۲۵۸ (انظر: ۱۵۸۳۶)
5730
Sahih
اس چیز کا بیان کہ سب سے بہترین کمائی تجارت اور آدمی کا اپنے ہاتھوں سے کام کرنا ہے، نیز اس امر کا بیان کہ بندے کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے
۔ (۵۷۳۱)۔ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیْکَرِبَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ رَأٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَاسِطًا یَدَیْہِیَقُوْلُ: ((مَا أَکَلَ أَحَدٌ مِنْکُمْ طَعَامًا فِی الدُّنْیَا خَیْرًا لَہُ (وَفِیْ لَفْظٍ: أَحَبَّ اِلَی اللّٰہِ) مِنْ أَنْ یَاْکُلَ مِنْ عَمَلِ یَدَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۲۲)
۔ سیدنا مقدام بن معد یکرب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دونوں ہاتھ پھیلائے اور فرمایا: اس دنیا میں سب سے زیادہ بہتراور (ایک روایت کے الفاظ) اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ محبوب وہ کھانا ہے، جو آدمی اپنے ہاتھوں سے کما کر کھاتا ہے۔
Takhreej
(۵۷۳۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۰۷۲ (انظر: ۱۷۱۹۰)
5731
Sahih
اس چیز کا بیان کہ سب سے بہترین کمائی تجارت اور آدمی کا اپنے ہاتھوں سے کام کرنا ہے، نیز اس امر کا بیان کہ بندے کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے
۔ (۵۷۳۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((اِنَّ أَطْیَبُ مَا أَکَلَ الرَّجُلُ مِنْ کَسْبِہِ، وَإِنَّ وَلَدَہُ مِنْ کَسْبِہِ))
۔ سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے عمدہ چیز وہ ہے، جو آدمی اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھائے اور اس کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے۔
Takhreej
(۵۷۳۲) تخریج:أخرجہ مطولا و مختصرا البخاری: ۱۷۰۱، ۱۷۰۲(انظر: ۲۴۰۳۲)
5732
Sahih
اس چیز کا بیان کہ سب سے بہترین کمائی تجارت اور آدمی کا اپنے ہاتھوں سے کام کرنا ہے، نیز اس امر کا بیان کہ بندے کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے
۔ (۵۷۳۳)۔ وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ أَوْلَادَکُمْ مِنْ أَطْیَبِ کَسْبِکُمْ فَکُلُوْا مِنْ کَسْبِ أَوْلَادِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۶۳۶)
۔ (دوسری سند) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہاری اولاد بھی تمہاری بہترین کمائی میں سے ہے، پس تم اپنی اولاد کی کمائی سے کھایا کرو۔
Takhreej
(۵۷۳۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
5733
Sahih
اس چیز کا بیان کہ سب سے بہترین کمائی تجارت اور آدمی کا اپنے ہاتھوں سے کام کرنا ہے، نیز اس امر کا بیان کہ بندے کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے
۔ (۵۷۳۴)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: أَتٰی أَعْرَابِیٌّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: إِنَّ اَبِیْیُرِیْدُ أَنْ یَجْتَاحَ مَالِیْ، قَالَ: ((أَنْتَ وَمَالُکَ لِوَالِدِکَ، إِنَّ أَطْیَبَ مَا أَکَلْتُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ، وَإِنَّ أَمْوَالَ أَوْلَادِکُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ فَکُلُوْہُ ھَنِیْئًا)) (مسند احمد: ۶۶۷۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک بدّو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میرا باپ میرے مال کو فنا کرنا چاہتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اور تیرا مال تیرے والد کا ہے، سب سے بہتر چیز وہ ہے جو تم اپنی کمائی سے کھاتے ہو اور تمہاری اولاد تمہاری کمائی میں سے ہے، پاس اس کو خوشگواری کے ساتھ کھاؤ۔
Takhreej
(۵۷۳۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:…آخری تین احادیث سے معلوم ہوا کہ والدین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی اولاد کی کمائی سے کھا سکتے ہیں، لیکنیہ حکم علی الاطلاق نہیں ہے، درج ذیل بحث پر توجہ کریں: سیدہ عائشہ c بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ aنے فرمایا: ((إِنَّ أَوْلَادَکُمْ ھِبَۃُ اللّٰہِ لَکُمْ {یَھَبُ لِمَن یَّشَائُ إِنَاثاً وَیَھَبُ لِمَن یَّشَائُ الذُّکُور} (الشوری:۴۹) فَھُمْ وَأَمْوَالُھُمْ لَکُمْ إِذَا احْتَجْتُمْ إِلَیْھَا۔)) ’’بیشک اللہ نے تمھیں تمھاری اولادیں ہبہ کی ہیں، {وہ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔} وہ اور ان کے اموال تمھارے لیے ہیں، جب بھی تمھیں ضرورت پڑے ۔‘‘ (مستدرک حاکم :۲/۲۸۴،بیھقی:۷/۴۸۰، صحیحہ:۲۵۶۴) یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اولاد کو والدین کی ضروریات پوری کرنی چاہئیں۔ لیکن ذہن نشین رہنا چاہیے کہ جب والدین کا مقصد محض یہ ہو کہ وہ اپنے بیٹے کے مال پر قبضہ کر لیںیا اس کو تلف کر دیں، جس کی مثالیں موجود ہیں، تو وہ اپنا مال روک سکتا ہے، لیکن ایسے حالات کے باوجود اولاد، والدین سے انتقامی کاروائی نہیں کر سکتی اور ضروری ہے کہ پھر بھی ان کی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔ امام البانیk لکھتے ہیں: ’’اس حدیث میں بڑا اہم فقہی فائدہ ہے کہ والدین، اولاد کا مال اس وقت لے سکتے ہیں، جب ان کو ضرورت ہو۔ اس فرمانِ رسول سے پتہ چلتا ہے کہ درج ذیل حدیث اپنے اطلاق پر باقی نہیں ہے: ((اَنْتَ وَ مَالُکَ لِأَبِیْکَ۔)) … ’’تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔‘‘ (ارواء الغلیل: ۸۳۸) اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ باپ جیسے چاہے اور جب چاہے، اپنی اولادکے مال میں تصرف کرتا پھرے، بلکہ اسے حاجت و ضرورت کے بقدر مال لینے کی اجازت ہے۔ (الصحیحہ: ۲۵۶۴)
5734
Sahih
بادشاہ کے عطیے اور عاملین زکوٰۃ کی کمائی کا بیان
۔ (۵۷۳۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ السَّعَدِیِّ أَنَّہُ قَدِمَ عَلٰی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِیْ خَلَافَتِہِ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ: أَ لَمْ أُحَدَّثْ أَنَّکَ تَلِیْ مِنْ أَعْمَالِ النَّاسِ أَعْمَالًا، فَاِذَا أُعْطِیْتَ الْعُمَالَۃَ کَرِھْتَہَا؟ قَالَ: فَقُلْتُ: بَلٰی، فَقَالَ عُمَرُ: فَمَا تُرِیْدُ إِلٰی ذٰلِکَ؟ قَالَ: قُلْتُ: إِنَّ لِیْ أَفْرَاسًا وَأَعْبُدًا وَأَنَا بِخَیْرٍ وَأُرِیْدُ أَنْ تَکُوْنَ عُمَالَتِیْ صَدَقَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ، فَقَالَ عُمَرُ: فَـلَا تَفْعَلْ فَإِنِّی قَدْ کُنْتُ أَرَدْتُ الَّذِیْ أَرَدْتَّ، فَکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعْطِیْنِی الْعَطَائَ فأَقُوْلُ أَعْطِہِ أَفْقَرَ اِلیہِ مِنِّی، قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خُذْہُ فَتَمَوَّلْہُ وَتَصَدَّقْ بِہِ، فَمَا جَائَ کَ مِنْ ھٰذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَیْرُ مُشْرِفٍ لَا سَائِلٍ فَخُذْہُ وَمَا لَا فَلَاتُتْبِعْہُ نَفْسَکَ)) (مسند احمد: ۱۰۰)
۔ عبداللہ بن سعدی، سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور خلافت میں ان کے پاس آئے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم کو لوگوں کے امور پر مامور کیا جاتا ہے، پھر جب آپ کو اس کی مزدوری دی جاتی ہے تو تم اس کو ناپسند کرتے ہو، کیا بات ایسے ہی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فرمایا: اس سے تمہارا مقصد کیا ہے؟اس نے کہا: میں گھوڑوںاور غلاموں کامالک اور مال والا ہوں، میری خواہش یہ ہے کہ میرییہ خدمت مسلمانوں کے لیے صدقہ قرار پائے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ایسا مت کرو، میں نے بھی تمہاری طرح کا ارادہ کیا تھا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے عطیہ دیتے تو میں کہتا تھا کہ آپ یہ چیز مجھ سے زیادہ ضرورت مندکودے دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے کہ یہ لے لو اور اس کو اپنا مال بنا لو اور صدقہ کرو، اس طرح کا جو مال کسی طمع اور سوال کے بغیر مل جائے تو اس کو لے لیا کرو اور اس طرح نہ ملے تو اپنے نفس کو اس کے پیچھے نہ لگایا کرو۔
Takhreej
(۵۷۳۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۱۶۳، ومسلم: ۱۰۴۵ (انظر: ۱۰۰)
5735
Sahih
بادشاہ کے عطیے اور عاملین زکوٰۃ کی کمائی کا بیان
۔ (۵۷۳۶)۔ عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ أَمْوَالِ السَّلَاطِیْنَ، فَقَالَ: ((مَا آتَاکَ اللّٰہُ مِنْہَا منْ غَیْرِ مَسْئَلَۃٍ وَلاَ اِشْرَافٍ فَکُلْہُ وَتَمَوَّلْہُ۔)) قَالَ: وقَالَ الْحَسَنُ: لَابَأْسَ بِہَا مَا لَمْ یَرْحَلْ اِلَیْہَا وَیُشْرِفْ لَھَا۔ (مسند احمد: ۲۸۱۰۸)
۔ سیدنا ابودرداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سلاطین کے مال کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرما یا: ان سے جو مال اللہ تعالی تجھے سوال اور لالچ کے بغیرعطا کر دے، تو اس کو کھا لے اور اپنا مال بنا لے۔ حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا: (بادشاہوں کا) وہ مال لینے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ جس کے لیے نہ آدمی کو جانا پڑتا ہے اور نہ وہ اس کی لالچ میں رہتا ہے۔
Takhreej
(۵۷۳۶) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۲۷۵۵۷)
Explanation
فوائد:…موجودہ دور میں اربابِ حکومت کے قریب رہنے والوں کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ وہ دنیوی مال و زر تک رسائی حاصل کر لیں،یہ مقصد درست نہیں ہے، نبی کریمa سلطان کے اس تحفے کو جائز قرار دے رہے ہیں، جس کی لینے والے کو کوئی لالچ اور حرص نہ ہو۔‘‘
5736
Sahih
بادشاہ کے عطیے اور عاملین زکوٰۃ کی کمائی کا بیان
۔ (۵۷۳۷)۔ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَلْعَامِلُ فِی الصَّدَقَۃِ بِالْحَقِّ لِوَجْہِ اللّٰـہِ عَزَّوَجَلَّ کَالْغَازِیْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ حَتّٰییرْجِعَ إِلٰی أَھْلِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۲۰)
۔ سیدنا رافع بن حذیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رضائے الہی کی خاطر اور حق کے ساتھ صدقہ وخیرات کی وصولی کرنے والا عامل اللہ تعالی کے راستے میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے اہل والوں کی طرف لوٹ آئے۔
Takhreej
(۵۷۳۷) حدیث حسن ۔ أخرجہ ابوداود: ۲۵۴۷، والترمذی:۵۸۴، وابن ماجہ: ۱۷۹۹(انظر: ۱۵۸۲۶)
5737
Sahih
بادشاہ کے عطیے اور عاملین زکوٰۃ کی کمائی کا بیان
۔ (۵۷۳۸)۔ عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ عَرَضَ لَہُ شَیْئٌ مِنْ ھٰذَا الرِّزْقِ مِنْ غَیْرِ مَسْأَلَۃٍ وَلَا إِشْرَافٍ فَلْیَتَوَسَّعْ بِہٖفِیْ رِزْقِہِ فَاِنْ کَانَ عَنْہُ غَنِیًّا فَلْیُوَجِّھْہُ إِلٰی مَنْ ھُوَ أَحْوَجُ اِلَیْہِ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۹۲۴)
۔ سیدنا عائذ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص کو لالچ اور سوال کے بغیر رزق میسر آ جائے، تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو اپنے رزق میں ملا کر مزید وسعت پیدا کرے، پس اگر وہ خود اس سے غنی ہو تو اپنے سے زیادہ کسی ضرورت مند کو دے دے۔
Takhreej
(۵۷۳۸) تخریج: صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۸/ ۳۰، والبیھقی فی ’’الشعب‘‘: ۳۵۵۴ (انظر: ۲۰۶۴۸)
5738
Sahih
بادشاہ کے عطیے اور عاملین زکوٰۃ کی کمائی کا بیان
۔ (۵۷۳۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ آتَاہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالیٰ رِزْقًا مِنْ غَیْرِ مَسْأَلَۃٍ فَلْیَقْبَلْہُ۔)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: سَاَلْتُ اَبِیْ مَا الْإشْرَافُ؟ قَالَ: تَقُوْلُ فِیْ نَفْسِکَ: سَیَبْعَثُ إِلَیَّ فُلَانٌ، سَیَصِلُنِیْ فَلَانٌ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۲۵)
۔ (دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جسے اللہ تعالی بن مانگے رزق عطا کر دے تو وہ اسے قبول کر لے۔ امام احمد بن حنبل کے بیٹے عبداللہ کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سے پوچھا کہ ِاشراف یعنی مال کی لالچ کرنے سے کیا مراد ہے، انھوں نے کہا: تیرا اپنے نفس میںیہ خیال رکھنا کہ فلاں آدمی میری طرف فلاں چیز بھیجے گا، عنقریب مجھے فلاں چیز موصول ہو گی۔
Takhreej
(۵۷۳۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
5739
Sahih

Chapters

48
01
ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
9 Hadith
02
اس چیز کا بیان کہ سب سے بہترین کمائی تجارت اور آدمی کا اپنے ہاتھوں سے کام کرنا ہے، نیز اس امر کا بیان کہ بندے کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے
6 Hadith
03
بادشاہ کے عطیے اور عاملین زکوٰۃ کی کمائی کا بیان
9 Hadith
04
زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
05
بکریوں کو پالنے، ان کی برکت اور ان کو چرانے کا بیان
5 Hadith
06
سینگی لگانے والوں، لونڈیوں، قصاب اور سنار وغیرہ کی کمائی کا بیان
14 Hadith
07
ٹیکس وصول کرنے والوں اور سرداروں کی کمائی کا بیان
9 Hadith
08
تجارت کے ذریعے کمائی کرنے کا بیان خرید و فروخت میں سچائی اور امانت اور ان کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
09
سودا فروخت کرنے کے لیے جھوٹ بولنے اور قسم اٹھانے کی مذمت اور بازاروں کی مذمت کا بیان
7 Hadith
10
تجارت میں نرمی اختیار کرنے اور دررگزر کرنے، سودا واپس کرنے اور اچھا معاملہ کرنے اور اس کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
11
گھریا زمین کو فروخت کر کے اس کی قیمت کو اس جیسی چیز میں خرچ نہ کرنے والے کا بیان
3 Hadith
12
ان چیزو ں کا بیان کہ جن کی تجارت جائزنہیں ہے شراب، نجس اور بے فائدہ چیزوں کی تجارت کا بیان
11 Hadith
13
کتے، بلی اور چوری کی ہوئی بکری کی قیمت، زانیہ کی کمائی، نجومی کی مٹھائی اور گانے والیوں کی خریدو فروخت سے ممانعت کا بیان
10 Hadith
14
وَلاء اور زائد پانی کو فروخت کرنے اور سانڈ کی جفتی کی اجرت لینے سے نہی کا بیان
6 Hadith
15
دھوکے والی چیزوں کی تجارت سے ممانعت کا بیان
8 Hadith
16
ملامسہ اور منابذہ کی بیع سے ممانعت کا بیان
3 Hadith
17
مزابنہ اور محاقلہ کی تجارت اور ہر تر کو خشک کے عوض فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
10 Hadith
18
بیع عرایا کی اجازت اور اسثناء والی بیع کی ممانعت کابیان، الا یہ کہ اس کو معین کر دیا جائے
7 Hadith
19
اصولیعنی درختوں اور پھلوں کو فروخت کرنے کے بارے میں ابواب پیوند کاری کیا ہواکھجور کا درخت فروخت کرنے کا بیان
2 Hadith
20
پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے ان کو فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
12 Hadith
21
پھلوں کا اندازہ لگانے، سالوں کی بیع اور آفتوں کو معاف کر دینے کا بیان
3 Hadith
22
بیع عینہ، ایک سودے میں دو سودوں اور بیع عربون سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
23
ایک آدمی کا ایک خریدار کو کوئی چیز بیچنا، پھر وہی چیز کسی اور کو بیچ دینا اور ایسی چیز کی بیع کرنے کی ممانعت کہ بیچنے والا جس کا مالک نہ ہو اور وہ اس کو خرید کر اُس کے سپرد کر دے
3 Hadith
24
خریدار کو قبضے میں لینے سے پہلے خریدی ہوئی چیز کو آگے فروخت کر دینے کی ممانعت کا بیان
10 Hadith
25
ماپ اور وزن کرنے کے حکم اور دو صاع چلائے بغیر اناج کی بیع کرنے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
26
قافلوںکوملنے اور شہری کا دیہاتی کے لئے تجارت کرنے کی ممانعت کا بیان
9 Hadith
27
بیع نجش اور آدمی کی بیع پر بیع کرنے کی ممانعت کا بیان، ما سوائے بیع مزایدہ کے
9 Hadith
28
غلام کی تجارت کا اور محرم غلاموں کے مابین تفریق ڈالنے کی ممانعت کا بیان
2 Hadith
29
گواہ کے بغیر تجارت کرنے کا اور اس سلسلے میں سیدنا خزیمہ بن ثابت کی عظیم منقبت کا بیان
1 Hadith
30
تجارت میں شرطوں کے ابواب فروخت شدہ چیز سے فائدہ اٹھانے اور مزید اس قسم کی شرط لگانے کا بیان
2 Hadith
31
فاسد شرط کے ہونے کے باوجود تجارت کے عقد کے صحیح ہونے کا بیان
1 Hadith
32
تجارت میں غبن اور دھوکے سے سلامتی کی شرط کا بیان
3 Hadith
33
مجلس کے اختیار کا بیان
7 Hadith
34
عیوب کے احکام کے ابواب عیب کو واضح کر دینے، دھوکہ نہ کرنے اور دھوکہ کرنے والے کی وعید کا بیان
7 Hadith
35
اس جانور کا بیان، جس کا دودھ روکا گیا ہو
5 Hadith
36
غلام کی ضمانت اور اس چیز کا بیان کہ تازہ کی ہوئی کمائی عیب کی وجہ سے سودا واپس کرنے میں رکاوٹ نہیں بنے گی
3 Hadith
37
ذخیرہ اندوزی کی مذمت کا بیان
4 Hadith
38
بھائو مقرر کرنے کا بیان
4 Hadith
39
خریدوفروخت کرنے والوں کے مابین اختلاف ہو جانے کا بیان
5 Hadith
40
سود کے ابواب سود کے بارے میں سختی کا بیان
9 Hadith
41
ان اقسام کا بیان، جن میں سود پایا جاتا ہے
11 Hadith
42
بیع صرف کا بیان،یعنی چاندی کو سونے کے عوض ادھار پر فروخت کرنا
7 Hadith
43
نقد و نقد سودا ہونے کی صورت میں ایک جنس میں تفاضل کے جواز کے قائلین کی دلیل
7 Hadith
44
سونے کے عوض ایسی چیز بیچنے کابیان کہ جس میں سونا بھی ہو اور اس کے علاوہ کوئی چیز بھی ہو
3 Hadith
45
درہم و دینار کوتوڑنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی مجبوری ہو
1 Hadith
46
بوقت ِ تجارت اناج کے برابر برابر ہونے کا بیان
5 Hadith
47
تفاضل کا بیان اور جن چیزوں کو ماپا اور جن کا وزن نہ کیا جا سکتا ہو، ان میں ادھار کا اور حیوان کے عوض گوشت کی بیع کا بیان
5 Hadith
48
بیع سلم (بیع سلف) کے مسائل
5 Hadith
No chapter matched that.