۔ (۵۷۴۴)۔ عَنْ سُوَیْدِ بْنِ ھُبَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِیِّ قَالَ: ((خَیْرُ مَالِ الْمَرْئِ لَہٗمُہْرَۃٌ مَأْمُوْرَۃٌ أَوْ سِکَّۃٌ مَأْبُوْرَۃٌ)) (مسند احمد: ۱۵۹۳۹)
۔ سیدنا سوید بن ہبیرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا بہترین مال گھوڑی کا کثیر النسل بچہ ہے یا کھجوروں کی قطار ہے، جن کی پیوند کاری کی گئی ہو۔
Takhreej
(۵۷۴۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، ایاس بن زھیر من رجال التعجیل، لم یذکروا فی الرواۃ عنہ غیر مسلم بن بدیل ھذا، ولم یؤثر توثیقہ عن غیر ابن حبان، ثم انہ مرسل ۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۶۴۷۱، والبیھقی: ۱۰/ ۶۴، والبخاری فی ’’التاریخ الکبیر‘‘: ۱/ ۴۳۹ (انظر: ۱۵۸۴۵)
Explanation
فوائد:…کثیر النسل جانوروں اور زراعت میں گھروں کی خیر و برکت کے خزانے پوشیدہ ہیں، ایک آدمی نے تقریباً بیس کے قریب بھیڑ بکریاں پال رکھی تھیں، جب ہم نے اس کی گزر بسر کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کہا کہ اس کے بیوی بچوں کا انحصار صرف ان بھیڑ بکریوں پر ہے، خوشی غمی کی صورت میں جب بھی کسی بڑے خرچ کی ضرورت پڑتی ہے تو ایک دو جانور بیچ کر گزارا کر لیتے ہیں اور روٹین کی زندگی تو دو تین مہینوں کے بعد دو تین بچے فروخت کر دینے سے گزرتی رہتی ہے، جبکہ وہ آدمی انتہائی خوشحال نظر آ رہا تھا۔
5744
Zaeef