مسنداحمد

Musnad Ahmad

خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان

زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان

۔ (۵۷۴۴)۔ عَنْ سُوَیْدِ بْنِ ھُبَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ قَالَ: ((خَیْرُ مَالِ الْمَرْئِ لَہٗمُہْرَۃٌ مَأْمُوْرَۃٌ أَوْ سِکَّۃٌ مَأْبُوْرَۃٌ)) (مسند احمد: ۱۵۹۳۹)

۔ سیدنا سوید بن ہبیرۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی کا بہترین مال گھوڑی کا کثیر النسل بچہ ہے یا کھجوروں کی قطار ہے، جن کی پیوند کاری کی گئی ہو۔

۔ (۵۷۴۵)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَزْرَعُ زَرْعًا أَوْ یَغْرِسُ غَرْسًا فَیَاْکُلُ مِنْہُ طَیْرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ بَہِیْمَۃٌ اِلَّا کَانَ لَہُ بِہِ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۲۳)

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی بھی مسلمان جب کھیتی کاشت کرتاہے یاپودالگاتاہے اور اس سے پر ندے، انسان اور حیوان کھاتے ہیں تو یہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔

۔ (۵۷۴۶)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: حَدَّثَنِیْ أُمُّ مُبَشِّرٍ اِمْرَأَۃُ زَیْدِ بْنِ حَارَثَۃَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَائِطٍ فقَالَ: ((لَکِ ھٰذَا؟)) فَقُلْتُ: نَعَمْ فقَالَ: ((مَنْ غَرَسَہُ، مُسْلِمٌ أَوْ کَافِرٌ؟)) قُلْتُ: مُسْلِمٌ، قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَزْرَعُ أَوْ یَغْرِسُ غَرْسًا فَیَاْکُلُ مِنْہُ طَائِرٌ أَوْ اِنْسَانٌ أَوْ سَبُعٌ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: أَوْ دَابَّۃٌ) أَوْ شَیْئٌ اِلَّا کَانَ لَہُ صَدَقَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۷۹۰۵)

۔ سیدہ ام مبشر، جو کہ سیدنا زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی تھیں، سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ میں ایک باغ میں تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیایہ باغ تمہارا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو کس نے لگایا تھا، مسلمان نے یا کافر نے؟ میں نے کہا: مسلمان نے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان جو کھیتی کاشت کرتا ہے یا کوئی پودا گاڑھتا ہے اور پھر جو پرندہ، انسان، درندہ، چوپایہ اور کوئی بھی چیز اس سے کچھ کھاتی ہے، تو اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔

۔ (۵۷۴۶)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: حَدَّثَنِیْ أُمُّ مُبَشِّرٍ اِمْرَأَۃُ زَیْدِ بْنِ حَارَثَۃَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَائِطٍ فقَالَ: ((لَکِ ھٰذَا؟)) فَقُلْتُ: نَعَمْ فقَالَ: ((مَنْ غَرَسَہُ، مُسْلِمٌ أَوْ کَافِرٌ؟)) قُلْتُ: مُسْلِمٌ، قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَزْرَعُ أَوْ یَغْرِسُ غَرْسًا فَیَاْکُلُ مِنْہُ طَائِرٌ أَوْ اِنْسَانٌ أَوْ سَبُعٌ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: أَوْ دَابَّۃٌ) أَوْ شَیْئٌ اِلَّا کَانَ لَہُ صَدَقَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۷۹۰۵)

۔ ایک صحابی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے کانوں سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص درخت لگاتا ہے اور صبر کے ساتھ اس کی نگرانی اور دیکھ بھال کرتا ہے، حتیٰ کہ وہ پھل دینے لگتا ہے، تو پھر اس درخت کے پھل سے جو چیز کھائی جائے گی، وہ اللہ تعالی کے ہاں اس آدمی کے لیے صدقہ ہو گی۔

۔ (۵۷۴۸)۔ عَنْ اَبِیْ أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِیِّ عَنْ رَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((مَا مِنْ رَجُلٍ یَغْرِسُ غَرْسًا اِلاَّ کَتَبَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُ مِنَ الْأَجْرِ قَدْرَ مَا یَخْرُجُ مِنْ ثَمَرِ ذٰلِکَ الْغَرْسِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۱۷)

۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جوآدمی درخت لگاتاہے تو اس سے جو پھل نکلتا ہے، اللہ تعالی اس کے بقدر اس کو اجر عطا کرتا ہے۔

۔ (۵۷۴۹)۔ عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ بِہِ وَھُوَیَغْرِسُ غَرْسًا بِدِمَشْقَ فَقَالَ لَہُ: أَتَفْعَلُ ھٰذَا وَأَنْتَ صَاحِبُ رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ فَقَالَ: لَاتَعْجَلْ عَلَیَّ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ غَرَسَ غَرْسًا لَمْ یَاْکُلْ مِنْہُ آدَمِیٌّ وَلَا خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اِلَّا کَانَ لَہُ صَدَقَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۵۵)

۔ سیدنا ابودردا ء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں دمشق میں پودے لگارہاتھا، میرے پاس سے ایک آدمی کا گزر ہوا، اس نے مجھ سے کہا: اے ابو درداء! آپ صحابی ہوکر یہ کام کرتے ہیں؟ میں نے کہا: مجھ پر اعتراض کرنے میںجلد بازی مت کرو، میں نے رسو ل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جوانسان پودا لگاتاہے پھر اس میں سے جو آدمی، بلکہ اللہ تعالی کی کوئی مخلوق جو کچھ کھاتی ہے، اس کے لیے وہ صدقہ ہوتا ہے۔

۔ (۵۷۵۰)۔ عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ زَرَعَ زَرْعًا فَأَکَلَ مِنْہُ الطَّیْرُ أَوِ الْعَافِیَۃُ کَانَ لَہُ بِہِ صَدَقَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۷۴)

۔ خلادبن سائب اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسو ل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کھیتی کاشت کرتاہے، پھر اس سے پرندے یا کوئی بھی رزق کا طلبگار اس سے کھاتا ہے تو یہ اس کے لئے صدقہ کا باعث ہے۔