TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان - زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان - خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 48 · 7 Hadith
۔ (۵۷۴۴)۔ عَنْ سُوَیْدِ بْنِ ھُبَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ قَالَ: ((خَیْرُ مَالِ الْمَرْئِ لَہٗمُہْرَۃٌ مَأْمُوْرَۃٌ أَوْ سِکَّۃٌ مَأْبُوْرَۃٌ)) (مسند احمد: ۱۵۹۳۹)
۔ سیدنا سوید بن ہبیرۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی کا بہترین مال گھوڑی کا کثیر النسل بچہ ہے یا کھجوروں کی قطار ہے، جن کی پیوند کاری کی گئی ہو۔
Takhreej
(۵۷۴۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، ایاس بن زھیر من رجال التعجیل، لم یذکروا فی الرواۃ عنہ غیر مسلم بن بدیل ھذا، ولم یؤثر توثیقہ عن غیر ابن حبان، ثم انہ مرسل ۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۶۴۷۱، والبیھقی: ۱۰/ ۶۴، والبخاری فی ’’التاریخ الکبیر‘‘: ۱/ ۴۳۹ (انظر: ۱۵۸۴۵)
Explanation
فوائد:…کثیر النسل جانوروں اور زراعت میں گھروں کی خیر و برکت کے خزانے پوشیدہ ہیں، ایک آدمی نے تقریباً بیس کے قریب بھیڑ بکریاں پال رکھی تھیں، جب ہم نے اس کی گزر بسر کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کہا کہ اس کے بیوی بچوں کا انحصار صرف ان بھیڑ بکریوں پر ہے، خوشی غمی کی صورت میں جب بھی کسی بڑے خرچ کی ضرورت پڑتی ہے تو ایک دو جانور بیچ کر گزارا کر لیتے ہیں اور روٹین کی زندگی تو دو تین مہینوں کے بعد دو تین بچے فروخت کر دینے سے گزرتی رہتی ہے، جبکہ وہ آدمی انتہائی خوشحال نظر آ رہا تھا۔
5744
Zaeef
۔ (۵۷۴۵)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَزْرَعُ زَرْعًا أَوْ یَغْرِسُ غَرْسًا فَیَاْکُلُ مِنْہُ طَیْرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ بَہِیْمَۃٌ اِلَّا کَانَ لَہُ بِہِ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۲۳)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی بھی مسلمان جب کھیتی کاشت کرتاہے یاپودالگاتاہے اور اس سے پر ندے، انسان اور حیوان کھاتے ہیں تو یہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔
Takhreej
(۵۷۴۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، ایاس بن زھیر من رجال التعجیل، لم یذکروا فی الرواۃ عنہ غیر مسلم بن بدیل ھذا، ولم یؤثر توثیقہ عن غیر ابن حبان، ثم انہ مرسل ۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۶۴۷۱، والبیھقی: ۱۰/ ۶۴، والبخاری فی ’’التاریخ الکبیر‘‘: ۱/ ۴۳۹ (انظر: ۱۵۸۴۵)
5745
Sahih
۔ (۵۷۴۶)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: حَدَّثَنِیْ أُمُّ مُبَشِّرٍ اِمْرَأَۃُ زَیْدِ بْنِ حَارَثَۃَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَائِطٍ فقَالَ: ((لَکِ ھٰذَا؟)) فَقُلْتُ: نَعَمْ فقَالَ: ((مَنْ غَرَسَہُ، مُسْلِمٌ أَوْ کَافِرٌ؟)) قُلْتُ: مُسْلِمٌ، قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَزْرَعُ أَوْ یَغْرِسُ غَرْسًا فَیَاْکُلُ مِنْہُ طَائِرٌ أَوْ اِنْسَانٌ أَوْ سَبُعٌ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: أَوْ دَابَّۃٌ) أَوْ شَیْئٌ اِلَّا کَانَ لَہُ صَدَقَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۷۹۰۵)
۔ سیدہ ام مبشر، جو کہ سیدنا زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی تھیں، سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ میں ایک باغ میں تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیایہ باغ تمہارا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو کس نے لگایا تھا، مسلمان نے یا کافر نے؟ میں نے کہا: مسلمان نے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان جو کھیتی کاشت کرتا ہے یا کوئی پودا گاڑھتا ہے اور پھر جو پرندہ، انسان، درندہ، چوپایہ اور کوئی بھی چیز اس سے کچھ کھاتی ہے، تو اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔
Takhreej
(۵۷۴۶) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم ۔ أخرج نحوہ مسلم: ۱۵۵۲ (انظر: ۲۷۳۶۱)
5746
Sahih
۔ (۵۷۴۶)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: حَدَّثَنِیْ أُمُّ مُبَشِّرٍ اِمْرَأَۃُ زَیْدِ بْنِ حَارَثَۃَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَائِطٍ فقَالَ: ((لَکِ ھٰذَا؟)) فَقُلْتُ: نَعَمْ فقَالَ: ((مَنْ غَرَسَہُ، مُسْلِمٌ أَوْ کَافِرٌ؟)) قُلْتُ: مُسْلِمٌ، قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَزْرَعُ أَوْ یَغْرِسُ غَرْسًا فَیَاْکُلُ مِنْہُ طَائِرٌ أَوْ اِنْسَانٌ أَوْ سَبُعٌ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: أَوْ دَابَّۃٌ) أَوْ شَیْئٌ اِلَّا کَانَ لَہُ صَدَقَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۷۹۰۵)
۔ ایک صحابی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے کانوں سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص درخت لگاتا ہے اور صبر کے ساتھ اس کی نگرانی اور دیکھ بھال کرتا ہے، حتیٰ کہ وہ پھل دینے لگتا ہے، تو پھر اس درخت کے پھل سے جو چیز کھائی جائے گی، وہ اللہ تعالی کے ہاں اس آدمی کے لیے صدقہ ہو گی۔
Takhreej
(۵۷۴۶) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم ۔ أخرج نحوہ مسلم: ۱۵۵۲ (انظر: ۲۷۳۶۱)
5747
Zaeef
۔ (۵۷۴۸)۔ عَنْ اَبِیْ أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِیِّ عَنْ رَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((مَا مِنْ رَجُلٍ یَغْرِسُ غَرْسًا اِلاَّ کَتَبَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُ مِنَ الْأَجْرِ قَدْرَ مَا یَخْرُجُ مِنْ ثَمَرِ ذٰلِکَ الْغَرْسِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۱۷)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جوآدمی درخت لگاتاہے تو اس سے جو پھل نکلتا ہے، اللہ تعالی اس کے بقدر اس کو اجر عطا کرتا ہے۔
Takhreej
(۵۷۴۸) اسنادہ ضعیف لضعف عبد اللہ بن عبد العزیز اللیثی۔أخرجہ الطبرانی : ۳۹۶۸ (انظر: ۲۳۵۲۰)
5748
Zaeef
۔ (۵۷۴۹)۔ عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ بِہِ وَھُوَیَغْرِسُ غَرْسًا بِدِمَشْقَ فَقَالَ لَہُ: أَتَفْعَلُ ھٰذَا وَأَنْتَ صَاحِبُ رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ فَقَالَ: لَاتَعْجَلْ عَلَیَّ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ غَرَسَ غَرْسًا لَمْ یَاْکُلْ مِنْہُ آدَمِیٌّ وَلَا خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اِلَّا کَانَ لَہُ صَدَقَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۵۵)
۔ سیدنا ابودردا ء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں دمشق میں پودے لگارہاتھا، میرے پاس سے ایک آدمی کا گزر ہوا، اس نے مجھ سے کہا: اے ابو درداء! آپ صحابی ہوکر یہ کام کرتے ہیں؟ میں نے کہا: مجھ پر اعتراض کرنے میںجلد بازی مت کرو، میں نے رسو ل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جوانسان پودا لگاتاہے پھر اس میں سے جو آدمی، بلکہ اللہ تعالی کی کوئی مخلوق جو کچھ کھاتی ہے، اس کے لیے وہ صدقہ ہوتا ہے۔
Takhreej
(۵۷۴۹) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۲۷۵۰۶)
Explanation
فوائد:… اعتراض کی وجہ یہ تھی کہ اس آدمی نے دنیا اور اس کی آبادی کی مذمت والی نصوص ذہن نشین کی ہوئی تھیں، ان کی روشنی میں اس نے سیدنا ابو درداء b پر اعتراض کیا کہ صحابی ٔ رسول کو زیب نہیں دیتا کہ وہ دنیوی امور کی طرف متوجہ ہوں، آگے سے انھوں نے اپنی حسنِ نیت کے ذریعے اس کا جواب دیا۔
5749
Sahih
۔ (۵۷۵۰)۔ عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ زَرَعَ زَرْعًا فَأَکَلَ مِنْہُ الطَّیْرُ أَوِ الْعَافِیَۃُ کَانَ لَہُ بِہِ صَدَقَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۷۴)
۔ خلادبن سائب اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسو ل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کھیتی کاشت کرتاہے، پھر اس سے پرندے یا کوئی بھی رزق کا طلبگار اس سے کھاتا ہے تو یہ اس کے لئے صدقہ کا باعث ہے۔
Takhreej
(۵۷۵۰) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۴۱۳۴(انظر: ۱۶۵۵۸)
Explanation
فوائد:…’’اَلْعَافِیۃ‘‘ کا اطلاق ہر اس جاندار پر ہوتا ہے، جو رزق طلب کرنے والا ہو، وہ انسان ہو، یا جانور، یا پرندہ، نیز ا س لفظ کا اطلاق جماعت پر بھی ہوتا ہے۔
5750
Sahih

Chapters

48
01
ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
9 Hadith
02
اس چیز کا بیان کہ سب سے بہترین کمائی تجارت اور آدمی کا اپنے ہاتھوں سے کام کرنا ہے، نیز اس امر کا بیان کہ بندے کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے
6 Hadith
03
بادشاہ کے عطیے اور عاملین زکوٰۃ کی کمائی کا بیان
9 Hadith
04
زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
05
بکریوں کو پالنے، ان کی برکت اور ان کو چرانے کا بیان
5 Hadith
06
سینگی لگانے والوں، لونڈیوں، قصاب اور سنار وغیرہ کی کمائی کا بیان
14 Hadith
07
ٹیکس وصول کرنے والوں اور سرداروں کی کمائی کا بیان
9 Hadith
08
تجارت کے ذریعے کمائی کرنے کا بیان خرید و فروخت میں سچائی اور امانت اور ان کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
09
سودا فروخت کرنے کے لیے جھوٹ بولنے اور قسم اٹھانے کی مذمت اور بازاروں کی مذمت کا بیان
7 Hadith
10
تجارت میں نرمی اختیار کرنے اور دررگزر کرنے، سودا واپس کرنے اور اچھا معاملہ کرنے اور اس کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
11
گھریا زمین کو فروخت کر کے اس کی قیمت کو اس جیسی چیز میں خرچ نہ کرنے والے کا بیان
3 Hadith
12
ان چیزو ں کا بیان کہ جن کی تجارت جائزنہیں ہے شراب، نجس اور بے فائدہ چیزوں کی تجارت کا بیان
11 Hadith
13
کتے، بلی اور چوری کی ہوئی بکری کی قیمت، زانیہ کی کمائی، نجومی کی مٹھائی اور گانے والیوں کی خریدو فروخت سے ممانعت کا بیان
10 Hadith
14
وَلاء اور زائد پانی کو فروخت کرنے اور سانڈ کی جفتی کی اجرت لینے سے نہی کا بیان
6 Hadith
15
دھوکے والی چیزوں کی تجارت سے ممانعت کا بیان
8 Hadith
16
ملامسہ اور منابذہ کی بیع سے ممانعت کا بیان
3 Hadith
17
مزابنہ اور محاقلہ کی تجارت اور ہر تر کو خشک کے عوض فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
10 Hadith
18
بیع عرایا کی اجازت اور اسثناء والی بیع کی ممانعت کابیان، الا یہ کہ اس کو معین کر دیا جائے
7 Hadith
19
اصولیعنی درختوں اور پھلوں کو فروخت کرنے کے بارے میں ابواب پیوند کاری کیا ہواکھجور کا درخت فروخت کرنے کا بیان
2 Hadith
20
پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے ان کو فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
12 Hadith
21
پھلوں کا اندازہ لگانے، سالوں کی بیع اور آفتوں کو معاف کر دینے کا بیان
3 Hadith
22
بیع عینہ، ایک سودے میں دو سودوں اور بیع عربون سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
23
ایک آدمی کا ایک خریدار کو کوئی چیز بیچنا، پھر وہی چیز کسی اور کو بیچ دینا اور ایسی چیز کی بیع کرنے کی ممانعت کہ بیچنے والا جس کا مالک نہ ہو اور وہ اس کو خرید کر اُس کے سپرد کر دے
3 Hadith
24
خریدار کو قبضے میں لینے سے پہلے خریدی ہوئی چیز کو آگے فروخت کر دینے کی ممانعت کا بیان
10 Hadith
25
ماپ اور وزن کرنے کے حکم اور دو صاع چلائے بغیر اناج کی بیع کرنے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
26
قافلوںکوملنے اور شہری کا دیہاتی کے لئے تجارت کرنے کی ممانعت کا بیان
9 Hadith
27
بیع نجش اور آدمی کی بیع پر بیع کرنے کی ممانعت کا بیان، ما سوائے بیع مزایدہ کے
9 Hadith
28
غلام کی تجارت کا اور محرم غلاموں کے مابین تفریق ڈالنے کی ممانعت کا بیان
2 Hadith
29
گواہ کے بغیر تجارت کرنے کا اور اس سلسلے میں سیدنا خزیمہ بن ثابت کی عظیم منقبت کا بیان
1 Hadith
30
تجارت میں شرطوں کے ابواب فروخت شدہ چیز سے فائدہ اٹھانے اور مزید اس قسم کی شرط لگانے کا بیان
2 Hadith
31
فاسد شرط کے ہونے کے باوجود تجارت کے عقد کے صحیح ہونے کا بیان
1 Hadith
32
تجارت میں غبن اور دھوکے سے سلامتی کی شرط کا بیان
3 Hadith
33
مجلس کے اختیار کا بیان
7 Hadith
34
عیوب کے احکام کے ابواب عیب کو واضح کر دینے، دھوکہ نہ کرنے اور دھوکہ کرنے والے کی وعید کا بیان
7 Hadith
35
اس جانور کا بیان، جس کا دودھ روکا گیا ہو
5 Hadith
36
غلام کی ضمانت اور اس چیز کا بیان کہ تازہ کی ہوئی کمائی عیب کی وجہ سے سودا واپس کرنے میں رکاوٹ نہیں بنے گی
3 Hadith
37
ذخیرہ اندوزی کی مذمت کا بیان
4 Hadith
38
بھائو مقرر کرنے کا بیان
4 Hadith
39
خریدوفروخت کرنے والوں کے مابین اختلاف ہو جانے کا بیان
5 Hadith
40
سود کے ابواب سود کے بارے میں سختی کا بیان
9 Hadith
41
ان اقسام کا بیان، جن میں سود پایا جاتا ہے
11 Hadith
42
بیع صرف کا بیان،یعنی چاندی کو سونے کے عوض ادھار پر فروخت کرنا
7 Hadith
43
نقد و نقد سودا ہونے کی صورت میں ایک جنس میں تفاضل کے جواز کے قائلین کی دلیل
7 Hadith
44
سونے کے عوض ایسی چیز بیچنے کابیان کہ جس میں سونا بھی ہو اور اس کے علاوہ کوئی چیز بھی ہو
3 Hadith
45
درہم و دینار کوتوڑنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی مجبوری ہو
1 Hadith
46
بوقت ِ تجارت اناج کے برابر برابر ہونے کا بیان
5 Hadith
47
تفاضل کا بیان اور جن چیزوں کو ماپا اور جن کا وزن نہ کیا جا سکتا ہو، ان میں ادھار کا اور حیوان کے عوض گوشت کی بیع کا بیان
5 Hadith
48
بیع سلم (بیع سلف) کے مسائل
5 Hadith
No chapter matched that.