TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ان چیزو ں کا بیان کہ جن کی تجارت جائزنہیں ہے شراب، نجس اور بے فائدہ چیزوں کی تجارت کا بیان - ان چیزو ں کا بیان کہ جن کی تجارت جائزنہیں ہے شراب، نجس اور بے فائدہ چیزوں کی تجارت کا بیان - خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 12 of خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 12 of 48 · 11 Hadith
۔ (۵۷۹۹)۔ قَالَ عَطَائُ ابْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ وَھُوَ بِمَکَّۃَ وَ ھُوَ یَقُوْلُ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ عَامَ الْفََتْحِ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلَہُ حَرَّمَ بَیْعَ الْخَمْرِ وَالْمَیْتَۃِ وَالْخِنْزِیْرِ وَالْاَصْنَامِ۔)) فَقِیْلَ لَہُ عِنْدَ ذٰلِکَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیتَ شُحُوْمَ الْمَیْتَۃِ فَاِنَّہُ یُدْھَنُ بِہَا السُّفُنَ وَیُدْھَنُ بِہَا الْجُلُوْدُ وَیَسْتَصْبِحُ بِہَا النَّاسُ؟ قَالَ: ((لَا، ھُوَ حَرَامٌ۔)) ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَ ذٰلِکَ: ((قَاتَلَ اللّٰہُ الْیَہُوْدَ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَمَّا حَرَّمَ عَلَیْہَا الشُّحُوْمَ جَمَلُوْھَا ثُمَّ بَاعُوْھَا وَأَکَلُوْا أَثْمَانَہَا۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۲۶)
۔ عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ فتح مکہ والے سال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اوراس کے رسو ل نے شراب، مردار، خنزیر،اوربتوں کی تجارت کو حرام قراردیا ہے۔ اس وقت کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے حکم کے بارے میں غور کریں! کیونکہ اس سے کشیتوں اور چمڑو ں کونرم کیاجاتاہے اور لوگ اس سے چراغ بھی جلاتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی نہیں، اس کی تجارت حرام ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰیہودیوں کوبرباد کرے، جب اللہ تعالی نے ان پر چربی کو حرام کیا تو انہوں نے اس کو پگھلا کر بیچنا شروع کر دیا اور اس کی قیمت کھا گئے۔
Takhreej
(۵۷۹۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۲۳۶، ومسلم: ۱۵۸۱ (انظر: ۱۴۴۷۲)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے دو مسئلے ثابت ہوتے ہیں: (۱) جو چیز حرام ہے، اس کی خرید و فروخت بھی حرام ہے، (۲) کسی آدمی کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ کوئی حیلہ استعمال کر کے حرام چیز کو کسی اور چیز کی شکل دے دے، جیسےیہودیوں نے حرام چربی کو پگھلا کر اس کو دوسری شکل میں تبدیل کر لیا تھا، عربی زبان میں چربی کو ’’شَحَم‘‘ اور پگھلی ہوئی چربی کو ’’وَدَک‘‘ کہتے ہیں۔
5799
Sahih
۔ (۵۸۰۰)۔ وعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ الْفَتْحِِ وَھُوَ بِمَکَّۃَیَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ حَرَّمَ بَیْعَ الْخَمْرِ۔)) فذکر مثلہ۔ (مسند احمد: ۶۹۹۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر فرمایا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ میں تھے: اللہ تعالیٰ او راس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شراب کی تجارت کو حرام قراردیا ہے، …۔ پھر راوی نے درج بالا حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی۔
Takhreej
(۵۸۰۰) تخریج: صحیح۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الاوسط‘‘ (انظر: ۶۹۹۷)
5800
Sahih
۔ (۵۸۰۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتِ الْآیَاتُ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَۃِ فِی الرِّبَا خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلیَ الْمَسْجِدِ وَحَرَّمَ التِّجَارَۃَ فِی الْخَمْرِ۔ (مسند احمد: ۲۶۰۴۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: جب سو رۂ بقرہ کے آخر والی سودسے متعلقہ آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں تشریف لائے اور شر اب کی خریدوفروخت کو حرام قرار دیا۔
Takhreej
(۵۸۰۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۵۹، ۴۵۴۰، ومسلم: ۱۵۸۰ (انظر: ۲۵۵۳۲)
5801
Sahih
۔ (۵۸۰۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتِ الْآیَاتُ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَۃِ فِی الرِّبَا خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلیَ الْمَسْجِدِ وَحَرَّمَ التِّجَارَۃَ فِی الْخَمْرِ۔ (مسند احمد: ۲۶۰۴۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد ِ حرام میں حجر اسود کے سامنے تشریف فرماتھے، اچانک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آسمان کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگے اور پھر فرمایا: اللہ تعالیٰیہودیوں پر لعنت کر ے، ان پر چر بی کو حرام کیاگیا، لیکن انہوں نے اس کو فروخت کیا اور اس کی قیمت کو کھا گئے، حالا نکہ جب اللہ تعالیٰ لوگوں پر کسی چیز کاکھانا حرام کرتا ہے تو ان پر اس کی قیمت کو بھی حرام کردیتا ہے۔
Takhreej
(۵۸۰۲) تخریج: صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۳۴۸۸(انظر: ۲۲۲۱)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں ایک ضابطہ بیان کیا گیا ہے کہ حرام چیز کی تجارت اور قیمت حرام ہے ۔
5802
Sahih
۔ (۵۸۰۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔ (مسند احمد: ۸۷۳۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بھی اسی قسم کی حدیث مروی ہے۔
Takhreej
(۵۸۰۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین (انظر: ۸۷۴۵)
5803
Sahih
۔ (۵۸۰۴)۔ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْبُنَانِیِّ قَالَ: کُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَجَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ إِنِّیْ اَشْتَرِیْ ھٰذِہِ الْحِیْطَانَ تَکُوْنُ فِیْہَا الْأَعْنَابُ فَـلَا نَسْتَطِیْعُ أَنْ نَبِیْعَہَا کُلَّہَا عِنَبًا حَتّٰی نَعْصِرَہُ، قَالَ: فَعَنْ ثَمَنِ الْخَمْرِ تَسْأَلُنِیْ؟ سَأُحَدِّثُکَ حَدِیْثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کُنَّا جُلُوْسًا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذْ رَفَعَ رَأْسَہُ إِلَی السَّمَائِ ثُمَّ أَکَبَّ وَنَکَتَ فِیْ الْأَرْضِ وَقَالَ: ((اَلْوَیْلُ لِبَنِیْ إِسْرَائِیْلَ۔)) فَقَالَ لَہُ عُمَرُ: یَانَبِیَّ اللّٰہِ! لَقَدْ أَفْزَعَنَا قَوْلُکَ لِبَنِیْ إِسْرَائِیْلَ، فقَالَ: ((لَیْسَ عَلَیْکُمْ مِنْ ذٰلِکَ بَأْسٌ، إِنَّہُمْ لَمَّا حُرِّمَتْ عَلَیْہِمُ الشُّحُوْمُ فَتَوَاطَئُوْہُ فَیَبِیْعُوْنَہُ فَیَأْکُلُوْنَ ثَمَنَہُ وَکَذٰلِکَ ثَمَنُ الْخَمْرِ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ۔)) (مسند احمد: ۵۹۸۲)
۔ عبد الوا حد بنانی کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس موجود تھا، ایک آدمی ان کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے ابو عبدالر حمن!میں باغات خریدتا ہوں، بعض میں انگورلگے ہوتے ہیں، چونکہ ان سب کو انگورہی کی صورت میں فروخت کرنا ممکن نہیں ہے، اس لیے کیا ہم ان کا رس نکال سکتے ہیں؟ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا تم مجھ سے شراب کی قیمت کے بارے میں سوال کر رہے ہو؟ اب میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں، ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اچانک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آسمان کی طرف سراٹھایا، پھر اس کو زمین کی جانب جھکایا اور زمین میں کریدا اور پھر فرمایا: بنی اسرائیل کے لئے ہلاکت ہے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عر ض کی: اے اللہ کے نبی! بنی اسرائیل سے متعلقہ آپ کے ارشاد نے ہمیں گھبرا دیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سے آپ پر کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے، ان پر جب چربی حرام کی گئی تو انھوں نے حیلہ کیا اور(اس کو پگھلا کر) بیچا اور اس کی قیمت کھا گئے، بالکل اسی طرح شراب کی قیمت تم پر حرام ہے۔
Takhreej
(۵۸۰۴) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘ (انظر: ۵۹۸۲)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا وہی مفہوم ہے جو اس باب کی پہلی حدیث کا ہے۔
5804
Sahih
۔ (۵۸۰۵)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ الثَّقَفِیِّ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ بَاعَ الْخَمْرَ فَلْیُشَقِّصِ الْخَنَازِیْرَ۔)) یَعْنِیْیُقَصِّبُہَا۔ (مسند احمد: ۱۸۴۰۱)
۔ سیدنا مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص شراب کی تجارت کرتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ خنزیروں کاقصاب بن جائے۔
Takhreej
(۵۸۰۵) اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال عمر بن بیان التغلبی۔ أخرجہ ابوداود: ۳۴۸۹ (انظر: ۱۸۲۱۴)
Explanation
فوائد:… یہ زجرو توبیخ کا ایک انداز ہے، یعنی جو شخص شراب کی خرید و فروخت کرتا ہے، اس کو چاہیے کہ وہ خنزیروں کا گوشت فروخت کیا کرے۔
5805
Zaeef
۔ (۵۸۰۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ذُکِرَ لِعُمْرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ سَمُرَۃَ (وَقَالَ مَرَّۃً: بَلَغَ عُمَرَ أَنَّ سَمُرَۃَ) بَاعَ خَمْرًا، قَالَ: قَاتَلَ اللّٰہُ سَمُرَۃَ، إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَعَنَ اللّٰہُ الْیَہُوْدَ حُرِّمَتْ عَلَیْہِمُ الشُّحُوْمُ فَجَمَلُوْھَا فَبَاعُوْھَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کوجب یہ اطلاع ملی کہ سیدنا سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے شراب فروخت کی ہے تو انھوں نے کہا: اللہ تعالی سمرہ کو ہلاک کرے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو یہ فرمایاہے کہ اللہ تعالی نے یہودیوں پر اس لیے لعنت کی تھی کہ ان پر چر بی کو حرام قرار دیا گیا تھا، لیکن انھوں نے اس کو پگھلا کر بیچنا شروع کر دیا۔
Takhreej
(۵۸۰۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۲۲۳، ومسلم: ۱۵۸۲ (انظر: ۱۷۰)
5806
Sahih
۔ (۵۸۰۷)۔ عَنْ نَافِعِ بْنِ کَیْسَانَ اَنَّ أَبَاہُ أَخْبَرَہُ اَنَّہُ کَانَ یَتَّجِرُ بِالْخَمْرِ فِیْ زَمَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَّہُ أَقْبَلَ مِنَ الشَّامِ وَمَعَہُ خَمْرٌ فِی الزِقَاقِ یُرِیْدُ بِہَا التِّجَارَۃَ، فَاَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! اِنِّیْ جِئْتُکَ بِشَرَابٍ جَیِّدٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا کَیْسَانُ! إِنَّہَا قَدْ حُرِّمَتْ بَعْدَکَ۔)) قَالَ: أَفَاَبِیْعُہَا؟یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّہَا قَدْ حُرِّمَتْ وَحُرِّمَ ثَمَنُہَا۔)) فَانْطَلَقَ کَیْسَانُ اِلَی الزِّقَاقِ فَاَخَذَ بِأَرْجُلِہَا ثُمَّ أَھْرَاقَہَا۔ (مسند احمد: ۱۹۱۶۸)
۔ نافع بن کیسان کہتے ہیں: مجھے میرے باپ نے بتایا کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں شراب کی تجارت کرتے تھے، اس سلسلے میں وہ شام سے شراب کی مشکیں لے کر آئے، لیکن جب انھوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! میں بہت عمدہ شراب لے کر آپ کے پاس آیا ہوں، تو رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے کیسان !شراب تیرے جانے کے بعد حرام کر دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا: تو اے اللہ کے رسول! کیا میں اس کو بیچ سکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ خود بھی حرام کر دی گئی ہے اور اس کا بیچنا بھی حرام کر دیا گیا ہے۔ پس کیسان اُن مشکوں کی طرف گیا اور ان کے کونوں سے پکڑ کر ان کو بہا دیا۔
Takhreej
(۵۸۰۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن لھیعۃ، ونافعُ بن کیسان مختلف فی صحبتہ۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۹/ ۴۳۸، وفی ’’الاوسط‘‘: ۳۱۴۹ (انظر: ۱۸۹۶۰)
5807
Zaeef
۔ (۵۸۰۸)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ وَعْلَۃَ قَالَ: سَاَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ بَیْعِ الْخَمْرِ، فَقَالَ: کَانَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَدِیْقٌ مِنْ ثَقِیْفٍ أَوْ مِنْ دَوْسٍ فَلَقِیَہُ بِمَکَّۃَ عَامَ الْفَتْحِ بِرَاوِیَۃِ خَمْرٍ یَہْدِیْہَا اِلَیْہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا أَبَا فُلَانٍ! أَمَا عَلِمْتَ اَنَّ اللّٰہَ حَرَّمَہَا؟)) فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ عَلَی غُلَامِہِ، فَقَالَ: اذْھَبْ فَبِعْہَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ: ((یَا أَبَا فُلَانٍ! اَمَّا عَلِمْتَ اَنَّ اللّٰہَ حَرَّمَہَا؟)) فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ عَلٰی غُلَامِہِ فَقَالَ: اذْھَبْ فَبِعْہَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا أَبَا فُلَانٍ بِمَاذَا أَمَرْتَہُ؟)) قَالَ: أَمَرْتُہُ أَنْ یَبِیْعَہَا، قَالَ: ((اِنَّ الَّذِیْ حَرَّمَ شُرْبَہَا حَرَّمَ بَیْعَہَا)) فَاَمَرَبِہَا فَاُفْرِغَتْ فِی الْبَطْحَائِ۔ (مسند احمد: ۲۰۴۱)
۔ عبدالرحمن بن وعلہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے شراب کی خرید و فروخت کے بارے میں سوال کیا،انہوںنے کہا: ثقیفیادوس قبیلے کاایک آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دوست تھا، وہ شراب کا ایک مٹکا لے کر مکہ مکرمہ میں فتح مکہ والے سال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ملا، وہ یہ شراب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بطورِ تحفہ دینا چاہتا تھا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو فلاں! کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالی نے اس کو حرام کردیا ہے؟ اس آدمی نے اپنے غلام کوحکم دیتے ہوئے کہا: اسے لے جااور فروخت کردے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: ابو فلاں! تو نے غلام کو کیاحکم دیا ہے؟ اس نے کہا: جی میں نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ اس کو فروخت کر دے۔ یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس ذات نے اس کا پیناحرام کیا ہے، اسی نے اس کا بیچنا بھی حرام قرار دیا ہے۔ یہ سن کر اس آدمی نے اس شراب کے متعلق حکم دیا تو وہ وادی ٔ بطحاء میں بہا دی گئی۔
Takhreej
(۵۸۰۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۵۷۹(انظر: )
5808
Sahih
۔ (۵۸۰۹)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ غَنَمٍ اَلْأَشْعَرِیِّ اَنَّ الدَّارِیَّ کَانَ یُہْدِیْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کُلَّ عَامٍ رَاوِیَۃً مِنْ خَمْرٍ فَلَمَّا کَانَ عَامَ حُرِّمَتْ فَجَائَ ہُ بِرَاوِیَۃٍ فَلَمَّا نَظَرَ اِلَیْہِ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ضَحِکَ قَالَ: ((ھَلْ شَعَرْتَ اَنَّھَا قَدْ حُرِّمَتْ بَعْدَکَ؟)) قَالَ: یَارَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! أَفَـلَا اَبِیْعُہَا فَأَنْتَفِعُ بِثَمَنِہَا؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَعَنَ اللّٰہُ الْیَہُوْدَ، اِنْطَلَقُوْا إِلٰی مَا حُرِّمَ عَلَیْہِمْ مِنْ شُحُوْمِ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ فَاَذَابُوْہُ فَجَعَلُوْہُ ثَمَنًا لَہُ)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((فَاَذَابُوْہُ وَجَعَلُوْہُ إِھَالَۃً فبَاَعُوْا بِہٖمَایَأکُلُوْنَ وَإِنَّ الْخَمْرَ حَرَّامٌ وَثمَنُہَا حَرَامٌ، وَإِنَّ الْخَمْرَ حَرَامٌ وَثَمَنُہَا حَرَامٌ وَإِنَّ الْخَمْرَ حَرَامٌ وَثَمَنُہَا حَرَامٌ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۵۸)
۔ عبد الرحمن بن غنم بیان کرتے ہیں کہ سیدنا داری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہرسال شراب کا ایک مٹکا رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بطورِ ہدیہ پیش کرتے تھے، جس سال شراب کی حرمت نازل ہوئی تو وہ معمول کے مطابق مٹکا لے کر آ گئے، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انہیں دیکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرائے اور فرمایا: شاید تجھے پتہ نہ چل سکا کہ تیرے بعد یہ شراب حرام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا: جی مجھے تو معلوم نہیں تھا، اے اللہ کے رسو ل! کیا اب میں اس کو فروخت کر کے اس کی قیمت سے فائدہ نہ اٹھا لوں؟ رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالییہودیوںپر لعنت کرے، گائے اور بکری کی جو چربی ان پر حرام کی گئی، انھوں نے اس کو پگھلایا، پھر اس کی قیمت طے کی اور پھر اس کو بیچ کر اس کی قیمت کو کھا گئے، اور بیشک شراب حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے بیشک شراب حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے بے شک حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے۔
Takhreej
(۵۸۰۹) تخریج: صحیح لغیرہ دون قولہ ’’ان الداری کان یھدی لرسول اللہ راویۃ خمر‘‘ فھی منکرۃ، وھذا اسناد ضعیف، روایۃ عبد الرحمن بن غنم عن النبیV مرسلۃ وشھر بن حوشب ضعیف۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۴۱۶۷ (انظر: ۱۷۹۹۵)
5809
Sahih

Chapters

48
01
ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
9 Hadith
02
اس چیز کا بیان کہ سب سے بہترین کمائی تجارت اور آدمی کا اپنے ہاتھوں سے کام کرنا ہے، نیز اس امر کا بیان کہ بندے کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے
6 Hadith
03
بادشاہ کے عطیے اور عاملین زکوٰۃ کی کمائی کا بیان
9 Hadith
04
زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
05
بکریوں کو پالنے، ان کی برکت اور ان کو چرانے کا بیان
5 Hadith
06
سینگی لگانے والوں، لونڈیوں، قصاب اور سنار وغیرہ کی کمائی کا بیان
14 Hadith
07
ٹیکس وصول کرنے والوں اور سرداروں کی کمائی کا بیان
9 Hadith
08
تجارت کے ذریعے کمائی کرنے کا بیان خرید و فروخت میں سچائی اور امانت اور ان کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
09
سودا فروخت کرنے کے لیے جھوٹ بولنے اور قسم اٹھانے کی مذمت اور بازاروں کی مذمت کا بیان
7 Hadith
10
تجارت میں نرمی اختیار کرنے اور دررگزر کرنے، سودا واپس کرنے اور اچھا معاملہ کرنے اور اس کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
11
گھریا زمین کو فروخت کر کے اس کی قیمت کو اس جیسی چیز میں خرچ نہ کرنے والے کا بیان
3 Hadith
12
ان چیزو ں کا بیان کہ جن کی تجارت جائزنہیں ہے شراب، نجس اور بے فائدہ چیزوں کی تجارت کا بیان
11 Hadith
13
کتے، بلی اور چوری کی ہوئی بکری کی قیمت، زانیہ کی کمائی، نجومی کی مٹھائی اور گانے والیوں کی خریدو فروخت سے ممانعت کا بیان
10 Hadith
14
وَلاء اور زائد پانی کو فروخت کرنے اور سانڈ کی جفتی کی اجرت لینے سے نہی کا بیان
6 Hadith
15
دھوکے والی چیزوں کی تجارت سے ممانعت کا بیان
8 Hadith
16
ملامسہ اور منابذہ کی بیع سے ممانعت کا بیان
3 Hadith
17
مزابنہ اور محاقلہ کی تجارت اور ہر تر کو خشک کے عوض فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
10 Hadith
18
بیع عرایا کی اجازت اور اسثناء والی بیع کی ممانعت کابیان، الا یہ کہ اس کو معین کر دیا جائے
7 Hadith
19
اصولیعنی درختوں اور پھلوں کو فروخت کرنے کے بارے میں ابواب پیوند کاری کیا ہواکھجور کا درخت فروخت کرنے کا بیان
2 Hadith
20
پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے ان کو فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
12 Hadith
21
پھلوں کا اندازہ لگانے، سالوں کی بیع اور آفتوں کو معاف کر دینے کا بیان
3 Hadith
22
بیع عینہ، ایک سودے میں دو سودوں اور بیع عربون سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
23
ایک آدمی کا ایک خریدار کو کوئی چیز بیچنا، پھر وہی چیز کسی اور کو بیچ دینا اور ایسی چیز کی بیع کرنے کی ممانعت کہ بیچنے والا جس کا مالک نہ ہو اور وہ اس کو خرید کر اُس کے سپرد کر دے
3 Hadith
24
خریدار کو قبضے میں لینے سے پہلے خریدی ہوئی چیز کو آگے فروخت کر دینے کی ممانعت کا بیان
10 Hadith
25
ماپ اور وزن کرنے کے حکم اور دو صاع چلائے بغیر اناج کی بیع کرنے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
26
قافلوںکوملنے اور شہری کا دیہاتی کے لئے تجارت کرنے کی ممانعت کا بیان
9 Hadith
27
بیع نجش اور آدمی کی بیع پر بیع کرنے کی ممانعت کا بیان، ما سوائے بیع مزایدہ کے
9 Hadith
28
غلام کی تجارت کا اور محرم غلاموں کے مابین تفریق ڈالنے کی ممانعت کا بیان
2 Hadith
29
گواہ کے بغیر تجارت کرنے کا اور اس سلسلے میں سیدنا خزیمہ بن ثابت کی عظیم منقبت کا بیان
1 Hadith
30
تجارت میں شرطوں کے ابواب فروخت شدہ چیز سے فائدہ اٹھانے اور مزید اس قسم کی شرط لگانے کا بیان
2 Hadith
31
فاسد شرط کے ہونے کے باوجود تجارت کے عقد کے صحیح ہونے کا بیان
1 Hadith
32
تجارت میں غبن اور دھوکے سے سلامتی کی شرط کا بیان
3 Hadith
33
مجلس کے اختیار کا بیان
7 Hadith
34
عیوب کے احکام کے ابواب عیب کو واضح کر دینے، دھوکہ نہ کرنے اور دھوکہ کرنے والے کی وعید کا بیان
7 Hadith
35
اس جانور کا بیان، جس کا دودھ روکا گیا ہو
5 Hadith
36
غلام کی ضمانت اور اس چیز کا بیان کہ تازہ کی ہوئی کمائی عیب کی وجہ سے سودا واپس کرنے میں رکاوٹ نہیں بنے گی
3 Hadith
37
ذخیرہ اندوزی کی مذمت کا بیان
4 Hadith
38
بھائو مقرر کرنے کا بیان
4 Hadith
39
خریدوفروخت کرنے والوں کے مابین اختلاف ہو جانے کا بیان
5 Hadith
40
سود کے ابواب سود کے بارے میں سختی کا بیان
9 Hadith
41
ان اقسام کا بیان، جن میں سود پایا جاتا ہے
11 Hadith
42
بیع صرف کا بیان،یعنی چاندی کو سونے کے عوض ادھار پر فروخت کرنا
7 Hadith
43
نقد و نقد سودا ہونے کی صورت میں ایک جنس میں تفاضل کے جواز کے قائلین کی دلیل
7 Hadith
44
سونے کے عوض ایسی چیز بیچنے کابیان کہ جس میں سونا بھی ہو اور اس کے علاوہ کوئی چیز بھی ہو
3 Hadith
45
درہم و دینار کوتوڑنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی مجبوری ہو
1 Hadith
46
بوقت ِ تجارت اناج کے برابر برابر ہونے کا بیان
5 Hadith
47
تفاضل کا بیان اور جن چیزوں کو ماپا اور جن کا وزن نہ کیا جا سکتا ہو، ان میں ادھار کا اور حیوان کے عوض گوشت کی بیع کا بیان
5 Hadith
48
بیع سلم (بیع سلف) کے مسائل
5 Hadith
No chapter matched that.