مسنداحمد

Musnad Ahmad

خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان

ان چیزو ں کا بیان کہ جن کی تجارت جائزنہیں ہے شراب، نجس اور بے فائدہ چیزوں کی تجارت کا بیان

۔ (۵۷۹۹)۔ قَالَ عَطَائُ ابْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ وَھُوَ بِمَکَّۃَ وَ ھُوَ یَقُوْلُ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ عَامَ الْفََتْحِ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلَہُ حَرَّمَ بَیْعَ الْخَمْرِ وَالْمَیْتَۃِ وَالْخِنْزِیْرِ وَالْاَصْنَامِ۔)) فَقِیْلَ لَہُ عِنْدَ ذٰلِکَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیتَ شُحُوْمَ الْمَیْتَۃِ فَاِنَّہُ یُدْھَنُ بِہَا السُّفُنَ وَیُدْھَنُ بِہَا الْجُلُوْدُ وَیَسْتَصْبِحُ بِہَا النَّاسُ؟ قَالَ: ((لَا، ھُوَ حَرَامٌ۔)) ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَ ذٰلِکَ: ((قَاتَلَ اللّٰہُ الْیَہُوْدَ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَمَّا حَرَّمَ عَلَیْہَا الشُّحُوْمَ جَمَلُوْھَا ثُمَّ بَاعُوْھَا وَأَکَلُوْا أَثْمَانَہَا۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۲۶)

۔ عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ فتح مکہ والے سال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اوراس کے رسو ل نے شراب، مردار، خنزیر،اوربتوں کی تجارت کو حرام قراردیا ہے۔ اس وقت کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے حکم کے بارے میں غور کریں! کیونکہ اس سے کشیتوں اور چمڑو ں کونرم کیاجاتاہے اور لوگ اس سے چراغ بھی جلاتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی نہیں، اس کی تجارت حرام ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰیہودیوں کوبرباد کرے، جب اللہ تعالی نے ان پر چربی کو حرام کیا تو انہوں نے اس کو پگھلا کر بیچنا شروع کر دیا اور اس کی قیمت کھا گئے۔

۔ (۵۸۰۰)۔ وعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ الْفَتْحِِ وَھُوَ بِمَکَّۃَیَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ حَرَّمَ بَیْعَ الْخَمْرِ۔)) فذکر مثلہ۔ (مسند احمد: ۶۹۹۷)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر فرمایا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ میں تھے: اللہ تعالیٰ او راس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شراب کی تجارت کو حرام قراردیا ہے، …۔ پھر راوی نے درج بالا حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی۔

۔ (۵۸۰۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتِ الْآیَاتُ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَۃِ فِی الرِّبَا خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلیَ الْمَسْجِدِ وَحَرَّمَ التِّجَارَۃَ فِی الْخَمْرِ۔ (مسند احمد: ۲۶۰۴۸)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: جب سو رۂ بقرہ کے آخر والی سودسے متعلقہ آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں تشریف لائے اور شر اب کی خریدوفروخت کو حرام قرار دیا۔

۔ (۵۸۰۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتِ الْآیَاتُ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَۃِ فِی الرِّبَا خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلیَ الْمَسْجِدِ وَحَرَّمَ التِّجَارَۃَ فِی الْخَمْرِ۔ (مسند احمد: ۲۶۰۴۸)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد ِ حرام میں حجر اسود کے سامنے تشریف فرماتھے، اچانک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آسمان کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگے اور پھر فرمایا: اللہ تعالیٰیہودیوں پر لعنت کر ے، ان پر چر بی کو حرام کیاگیا، لیکن انہوں نے اس کو فروخت کیا اور اس کی قیمت کو کھا گئے، حالا نکہ جب اللہ تعالیٰ لوگوں پر کسی چیز کاکھانا حرام کرتا ہے تو ان پر اس کی قیمت کو بھی حرام کردیتا ہے۔

۔ (۵۸۰۴)۔ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْبُنَانِیِّ قَالَ: کُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَجَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ إِنِّیْ اَشْتَرِیْ ھٰذِہِ الْحِیْطَانَ تَکُوْنُ فِیْہَا الْأَعْنَابُ فَـلَا نَسْتَطِیْعُ أَنْ نَبِیْعَہَا کُلَّہَا عِنَبًا حَتّٰی نَعْصِرَہُ، قَالَ: فَعَنْ ثَمَنِ الْخَمْرِ تَسْأَلُنِیْ؟ سَأُحَدِّثُکَ حَدِیْثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کُنَّا جُلُوْسًا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذْ رَفَعَ رَأْسَہُ إِلَی السَّمَائِ ثُمَّ أَکَبَّ وَنَکَتَ فِیْ الْأَرْضِ وَقَالَ: ((اَلْوَیْلُ لِبَنِیْ إِسْرَائِیْلَ۔)) فَقَالَ لَہُ عُمَرُ: یَانَبِیَّ اللّٰہِ! لَقَدْ أَفْزَعَنَا قَوْلُکَ لِبَنِیْ إِسْرَائِیْلَ، فقَالَ: ((لَیْسَ عَلَیْکُمْ مِنْ ذٰلِکَ بَأْسٌ، إِنَّہُمْ لَمَّا حُرِّمَتْ عَلَیْہِمُ الشُّحُوْمُ فَتَوَاطَئُوْہُ فَیَبِیْعُوْنَہُ فَیَأْکُلُوْنَ ثَمَنَہُ وَکَذٰلِکَ ثَمَنُ الْخَمْرِ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ۔)) (مسند احمد: ۵۹۸۲)

۔ عبد الوا حد بنانی کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس موجود تھا، ایک آدمی ان کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے ابو عبدالر حمن!میں باغات خریدتا ہوں، بعض میں انگورلگے ہوتے ہیں، چونکہ ان سب کو انگورہی کی صورت میں فروخت کرنا ممکن نہیں ہے، اس لیے کیا ہم ان کا رس نکال سکتے ہیں؟ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا تم مجھ سے شراب کی قیمت کے بارے میں سوال کر رہے ہو؟ اب میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں، ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اچانک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آسمان کی طرف سراٹھایا، پھر اس کو زمین کی جانب جھکایا اور زمین میں کریدا اور پھر فرمایا: بنی اسرائیل کے لئے ہلاکت ہے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عر ض کی: اے اللہ کے نبی! بنی اسرائیل سے متعلقہ آپ کے ارشاد نے ہمیں گھبرا دیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سے آپ پر کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے، ان پر جب چربی حرام کی گئی تو انھوں نے حیلہ کیا اور(اس کو پگھلا کر) بیچا اور اس کی قیمت کھا گئے، بالکل اسی طرح شراب کی قیمت تم پر حرام ہے۔

۔ (۵۸۰۵)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ الثَّقَفِیِّ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ بَاعَ الْخَمْرَ فَلْیُشَقِّصِ الْخَنَازِیْرَ۔)) یَعْنِیْیُقَصِّبُہَا۔ (مسند احمد: ۱۸۴۰۱)

۔ سیدنا مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص شراب کی تجارت کرتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ خنزیروں کاقصاب بن جائے۔

۔ (۵۸۰۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ذُکِرَ لِعُمْرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ سَمُرَۃَ (وَقَالَ مَرَّۃً: بَلَغَ عُمَرَ أَنَّ سَمُرَۃَ) بَاعَ خَمْرًا، قَالَ: قَاتَلَ اللّٰہُ سَمُرَۃَ، إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَعَنَ اللّٰہُ الْیَہُوْدَ حُرِّمَتْ عَلَیْہِمُ الشُّحُوْمُ فَجَمَلُوْھَا فَبَاعُوْھَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۰)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کوجب یہ اطلاع ملی کہ سیدنا سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے شراب فروخت کی ہے تو انھوں نے کہا: اللہ تعالی سمرہ کو ہلاک کرے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو یہ فرمایاہے کہ اللہ تعالی نے یہودیوں پر اس لیے لعنت کی تھی کہ ان پر چر بی کو حرام قرار دیا گیا تھا، لیکن انھوں نے اس کو پگھلا کر بیچنا شروع کر دیا۔

۔ (۵۸۰۷)۔ عَنْ نَافِعِ بْنِ کَیْسَانَ اَنَّ أَبَاہُ أَخْبَرَہُ اَنَّہُ کَانَ یَتَّجِرُ بِالْخَمْرِ فِیْ زَمَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَّہُ أَقْبَلَ مِنَ الشَّامِ وَمَعَہُ خَمْرٌ فِی الزِقَاقِ یُرِیْدُ بِہَا التِّجَارَۃَ، فَاَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! اِنِّیْ جِئْتُکَ بِشَرَابٍ جَیِّدٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا کَیْسَانُ! إِنَّہَا قَدْ حُرِّمَتْ بَعْدَکَ۔)) قَالَ: أَفَاَبِیْعُہَا؟یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّہَا قَدْ حُرِّمَتْ وَحُرِّمَ ثَمَنُہَا۔)) فَانْطَلَقَ کَیْسَانُ اِلَی الزِّقَاقِ فَاَخَذَ بِأَرْجُلِہَا ثُمَّ أَھْرَاقَہَا۔ (مسند احمد: ۱۹۱۶۸)

۔ نافع بن کیسان کہتے ہیں: مجھے میرے باپ نے بتایا کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں شراب کی تجارت کرتے تھے، اس سلسلے میں وہ شام سے شراب کی مشکیں لے کر آئے، لیکن جب انھوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! میں بہت عمدہ شراب لے کر آپ کے پاس آیا ہوں، تو رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے کیسان !شراب تیرے جانے کے بعد حرام کر دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا: تو اے اللہ کے رسول! کیا میں اس کو بیچ سکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ خود بھی حرام کر دی گئی ہے اور اس کا بیچنا بھی حرام کر دیا گیا ہے۔ پس کیسان اُن مشکوں کی طرف گیا اور ان کے کونوں سے پکڑ کر ان کو بہا دیا۔

۔ (۵۸۰۸)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ وَعْلَۃَ قَالَ: سَاَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ بَیْعِ الْخَمْرِ، فَقَالَ: کَانَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَدِیْقٌ مِنْ ثَقِیْفٍ أَوْ مِنْ دَوْسٍ فَلَقِیَہُ بِمَکَّۃَ عَامَ الْفَتْحِ بِرَاوِیَۃِ خَمْرٍ یَہْدِیْہَا اِلَیْہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا أَبَا فُلَانٍ! أَمَا عَلِمْتَ اَنَّ اللّٰہَ حَرَّمَہَا؟)) فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ عَلَی غُلَامِہِ، فَقَالَ: اذْھَبْ فَبِعْہَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ: ((یَا أَبَا فُلَانٍ! اَمَّا عَلِمْتَ اَنَّ اللّٰہَ حَرَّمَہَا؟)) فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ عَلٰی غُلَامِہِ فَقَالَ: اذْھَبْ فَبِعْہَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا أَبَا فُلَانٍ بِمَاذَا أَمَرْتَہُ؟)) قَالَ: أَمَرْتُہُ أَنْ یَبِیْعَہَا، قَالَ: ((اِنَّ الَّذِیْ حَرَّمَ شُرْبَہَا حَرَّمَ بَیْعَہَا)) فَاَمَرَبِہَا فَاُفْرِغَتْ فِی الْبَطْحَائِ۔ (مسند احمد: ۲۰۴۱)

۔ عبدالرحمن بن وعلہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے شراب کی خرید و فروخت کے بارے میں سوال کیا،انہوںنے کہا: ثقیفیادوس قبیلے کاایک آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دوست تھا، وہ شراب کا ایک مٹکا لے کر مکہ مکرمہ میں فتح مکہ والے سال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ملا، وہ یہ شراب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بطورِ تحفہ دینا چاہتا تھا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو فلاں! کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالی نے اس کو حرام کردیا ہے؟ اس آدمی نے اپنے غلام کوحکم دیتے ہوئے کہا: اسے لے جااور فروخت کردے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: ابو فلاں! تو نے غلام کو کیاحکم دیا ہے؟ اس نے کہا: جی میں نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ اس کو فروخت کر دے۔ یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس ذات نے اس کا پیناحرام کیا ہے، اسی نے اس کا بیچنا بھی حرام قرار دیا ہے۔ یہ سن کر اس آدمی نے اس شراب کے متعلق حکم دیا تو وہ وادی ٔ بطحاء میں بہا دی گئی۔

۔ (۵۸۰۹)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ غَنَمٍ اَلْأَشْعَرِیِّ اَنَّ الدَّارِیَّ کَانَ یُہْدِیْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کُلَّ عَامٍ رَاوِیَۃً مِنْ خَمْرٍ فَلَمَّا کَانَ عَامَ حُرِّمَتْ فَجَائَ ہُ بِرَاوِیَۃٍ فَلَمَّا نَظَرَ اِلَیْہِ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ضَحِکَ قَالَ: ((ھَلْ شَعَرْتَ اَنَّھَا قَدْ حُرِّمَتْ بَعْدَکَ؟)) قَالَ: یَارَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! أَفَـلَا اَبِیْعُہَا فَأَنْتَفِعُ بِثَمَنِہَا؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَعَنَ اللّٰہُ الْیَہُوْدَ، اِنْطَلَقُوْا إِلٰی مَا حُرِّمَ عَلَیْہِمْ مِنْ شُحُوْمِ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ فَاَذَابُوْہُ فَجَعَلُوْہُ ثَمَنًا لَہُ)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((فَاَذَابُوْہُ وَجَعَلُوْہُ إِھَالَۃً فبَاَعُوْا بِہٖمَایَأکُلُوْنَ وَإِنَّ الْخَمْرَ حَرَّامٌ وَثمَنُہَا حَرَامٌ، وَإِنَّ الْخَمْرَ حَرَامٌ وَثَمَنُہَا حَرَامٌ وَإِنَّ الْخَمْرَ حَرَامٌ وَثَمَنُہَا حَرَامٌ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۵۸)

۔ عبد الرحمن بن غنم بیان کرتے ہیں کہ سیدنا داری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہرسال شراب کا ایک مٹکا رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بطورِ ہدیہ پیش کرتے تھے، جس سال شراب کی حرمت نازل ہوئی تو وہ معمول کے مطابق مٹکا لے کر آ گئے، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انہیں دیکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرائے اور فرمایا: شاید تجھے پتہ نہ چل سکا کہ تیرے بعد یہ شراب حرام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا: جی مجھے تو معلوم نہیں تھا، اے اللہ کے رسو ل! کیا اب میں اس کو فروخت کر کے اس کی قیمت سے فائدہ نہ اٹھا لوں؟ رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالییہودیوںپر لعنت کرے، گائے اور بکری کی جو چربی ان پر حرام کی گئی، انھوں نے اس کو پگھلایا، پھر اس کی قیمت طے کی اور پھر اس کو بیچ کر اس کی قیمت کو کھا گئے، اور بیشک شراب حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے بیشک شراب حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے بے شک حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے۔