۔ (۵۷۹۹)۔ قَالَ عَطَائُ ابْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ وَھُوَ بِمَکَّۃَ وَ ھُوَ یَقُوْلُ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ عَامَ الْفََتْحِ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلَہُ حَرَّمَ بَیْعَ الْخَمْرِ وَالْمَیْتَۃِ وَالْخِنْزِیْرِ وَالْاَصْنَامِ۔)) فَقِیْلَ لَہُ عِنْدَ ذٰلِکَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیتَ شُحُوْمَ الْمَیْتَۃِ فَاِنَّہُ یُدْھَنُ بِہَا السُّفُنَ وَیُدْھَنُ بِہَا الْجُلُوْدُ وَیَسْتَصْبِحُ بِہَا النَّاسُ؟ قَالَ: ((لَا، ھُوَ حَرَامٌ۔)) ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عِنْدَ ذٰلِکَ: ((قَاتَلَ اللّٰہُ الْیَہُوْدَ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَمَّا حَرَّمَ عَلَیْہَا الشُّحُوْمَ جَمَلُوْھَا ثُمَّ بَاعُوْھَا وَأَکَلُوْا أَثْمَانَہَا۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۲۶)
۔ عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ فتح مکہ والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اوراس کے رسو ل نے شراب، مردار، خنزیر،اوربتوں کی تجارت کو حرام قراردیا ہے۔ اس وقت کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے حکم کے بارے میں غور کریں! کیونکہ اس سے کشیتوں اور چمڑو ں کونرم کیاجاتاہے اور لوگ اس سے چراغ بھی جلاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، اس کی تجارت حرام ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰیہودیوں کوبرباد کرے، جب اللہ تعالی نے ان پر چربی کو حرام کیا تو انہوں نے اس کو پگھلا کر بیچنا شروع کر دیا اور اس کی قیمت کھا گئے۔
Takhreej
(۵۷۹۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۲۳۶، ومسلم: ۱۵۸۱ (انظر: ۱۴۴۷۲)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے دو مسئلے ثابت ہوتے ہیں: (۱) جو چیز حرام ہے، اس کی خرید و فروخت بھی حرام ہے، (۲) کسی آدمی کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ کوئی حیلہ استعمال کر کے حرام چیز کو کسی اور چیز کی شکل دے دے، جیسےیہودیوں نے حرام چربی کو پگھلا کر اس کو دوسری شکل میں تبدیل کر لیا تھا، عربی زبان میں چربی کو ’’شَحَم‘‘ اور پگھلی ہوئی چربی کو ’’وَدَک‘‘ کہتے ہیں۔
5799
Sahih