۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حمل کے حمل کی تجارت سے منع کیا ہے۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جاہلیت والے لوگ اونٹ کا گوشت حمل کے حمل کے عوض فروخت کر دیتے تھے، اور حمل کے حمل کی تجارت کی وضاحت یہ ہے کہ ایک اونٹنی اپنے پیٹ والے بچے کو جنم دے، پھر وہ پیدا ہونے والی حاملہ ہو کر جس بچییا بچے کو جنم دے گی، (اس کے ساتھ اس گوشت کو فروخت کرتے تھے) ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو اس سے منع کردیا تھا۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دھو کہ والی تجارت سے منع کیاہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ دورِ جاہلیت میں لوگوں کا طریقۂ تجارت تھا، اس کی صورت یہ تھی کہ آدمی حمل کے حمل کے عو ض اونٹنی فروخت کرتے تھے، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع کر دیا تھا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دھوکہ والی تجارت سے منع فرما دیاہے۔ ایوب کہتے ہیں کہ یحیی بن ابی کثیر نے دھوکے والی تجارت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: غوطہ خور کی بیع دھوکے کا سودا ہے، بھاگے ہوئے غلام کی بیع دھوکہ ہے، بھا گے ہوئے اونٹ کے سودے میں دھوکہ دہی ہے، چارپائیوں کے پیٹوں میں جوبچے ہیں، ان کی سودا بازی دھوکہ ہے، کانوں کی مٹی کا سودا دھوکے کا سودا ہے اور چوپائیوں کے تھنوں یعنی ان کے دودھ کا سودا بھی دھوکے پر مشتمل ہے، مگر ماپ کے ساتھ۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چارپائیو ں کے حملوں کو جنم لینے سے قبل خریدنے سے، ماپ کے بغیر تھنوں میں موجود دودھ کو خریدنے سے، بھاگے ہوئے غلام کو خریدنے سے، تقسیم سے پہلے غنیمتوں کو خریدنے سے، قبضے میں لینے سے پہلے صدقات کو خریدنے سے اور غوطہ خور کی تجارت سے منع فرمایا ہے۔
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لاچار وں کی تجارت، دھوکہ کی تجارت اور پکنے سے پہلے کھجوروں کے سودے سے منع فرمایا ہے۔
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعو د رضی اللہ عنہ سے رویت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانی میں موجو د مچھلیوں کا سودا نہ کرو، کیو نکہ اس میں دھوکہ ہے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کنکریوں والی تجارت او ردھوکے والے سودے سے منع فرمایاہے۔