مسنداحمد

Musnad Ahmad

خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان

دھوکے والی چیزوں کی تجارت سے ممانعت کا بیان

۔ (۵۸۲۶)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْ بَیْعِ حَبََل الحَبْلَۃِ۔ (مسند احمد: ۵۵۱۰)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے حمل کے حمل کی تجارت سے منع کیا ہے۔

۔ (۵۸۲۷)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کَانَ أَھْلُ الْجَاھِلِیَّۃِیَبِیْعُوْنَ لَحْمَ الْجَزُوْرَ بِحَبْلِ حَبْلَۃِ، وَحَبْلُ حَبْلَۃٍ تُنْتَجُ النَّاقَۃُ مَا فِیْ بَطَنِہَا ثُمَّ تَحْمِلُ الَّتِیْ تُنْتَجُہُ، فَنَہَاھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ذَالِکَ۔ (مسند احمد: ۴۶۴۰)

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جاہلیت والے لوگ اونٹ کا گوشت حمل کے حمل کے عوض فروخت کر دیتے تھے، اور حمل کے حمل کی تجارت کی وضاحت یہ ہے کہ ایک اونٹنی اپنے پیٹ والے بچے کو جنم دے، پھر وہ پیدا ہونے والی حاملہ ہو کر جس بچییا بچے کو جنم دے گی، (اس کے ساتھ اس گوشت کو فروخت کرتے تھے) ۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو اس سے منع کردیا تھا۔

۔ (۵۸۲۸)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ بَیْعِ الْغَرَرِ، وَقَالَ: اِنَّ أَھْلَ الْجَاھِلِیَّۃِ کَانُوْا یَبْتَاعُوْنَ ذٰلِکَ الْبَیْعَ،یَبْتَاعُ الرَّجُلُ بِالشَّارِفِ حَبْلَ الْحَبْلَۃِ فَنَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۶۴۳۷)

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دھو کہ والی تجارت سے منع کیاہے، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: یہ دورِ جاہلیت میں لوگوں کا طریقۂ تجارت تھا، اس کی صورت یہ تھی کہ آدمی حمل کے حمل کے عو ض اونٹنی فروخت کرتے تھے، رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع کر دیا تھا۔

۔ (۵۸۲۹)۔ حَدَّثَنَا اَسْوَدُ بْنُ یَعْقُوْبَ بْنِ عُتْبَۃَ عَنْ یَحْیَی بَنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ بَیْعِ الْغَرَرِ، قَالَ أَیُّوْبُ: وَفَسَّرَ یَحْیٰی بَیْعَ الْغَرَرِ، قَالَ: اِنَّ مِنَ الْغَرَرِ ضَرْبَۃَ الْغَائِصِ، وَبَیْعُ الْغَرَرِ الْعَبْدُ الْآبِقُ، وَبَیْعُ الْبَعِیْرِ الشَّارِدِ، وَبَیْعُ الْغَرَرَ مَا فِیْ بُطُوْنِ الْأَنْعَامِ، وَبَیْعُ الْغَرَرِ تُرَابُ الْمَعَادِنِ، وَبَیْعُ الْغَرَرِ مَا فِیْ ضُرُوْعِ الْأَنْعَامِ اِلَّا بِکَیْلٍ۔ (مسند احمد:۲۷۵۲)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دھوکہ والی تجارت سے منع فرما دیاہے۔ ایوب کہتے ہیں کہ یحیی بن ابی کثیر نے دھوکے والی تجارت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: غوطہ خور کی بیع دھوکے کا سودا ہے، بھاگے ہوئے غلام کی بیع دھوکہ ہے، بھا گے ہوئے اونٹ کے سودے میں دھوکہ دہی ہے، چارپائیوں کے پیٹوں میں جوبچے ہیں، ان کی سودا بازی دھوکہ ہے، کانوں کی مٹی کا سودا دھوکے کا سودا ہے اور چوپائیوں کے تھنوں یعنی ان کے دودھ کا سودا بھی دھوکے پر مشتمل ہے، مگر ماپ کے ساتھ۔

۔ (۵۸۲۹)۔ حَدَّثَنَا اَسْوَدُ بْنُ یَعْقُوْبَ بْنِ عُتْبَۃَ عَنْ یَحْیَی بَنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ بَیْعِ الْغَرَرِ، قَالَ أَیُّوْبُ: وَفَسَّرَ یَحْیٰی بَیْعَ الْغَرَرِ، قَالَ: اِنَّ مِنَ الْغَرَرِ ضَرْبَۃَ الْغَائِصِ، وَبَیْعُ الْغَرَرِ الْعَبْدُ الْآبِقُ، وَبَیْعُ الْبَعِیْرِ الشَّارِدِ، وَبَیْعُ الْغَرَرَ مَا فِیْ بُطُوْنِ الْأَنْعَامِ، وَبَیْعُ الْغَرَرِ تُرَابُ الْمَعَادِنِ، وَبَیْعُ الْغَرَرِ مَا فِیْ ضُرُوْعِ الْأَنْعَامِ اِلَّا بِکَیْلٍ۔ (مسند احمد:۲۷۵۲)

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چارپائیو ں کے حملوں کو جنم لینے سے قبل خریدنے سے، ماپ کے بغیر تھنوں میں موجود دودھ کو خریدنے سے، بھاگے ہوئے غلام کو خریدنے سے، تقسیم سے پہلے غنیمتوں کو خریدنے سے، قبضے میں لینے سے پہلے صدقات کو خریدنے سے اور غوطہ خور کی تجارت سے منع فرمایا ہے۔

۔ (۵۸۳۱)۔ وَعَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ بَیْعِ الْمُضْطَرِّیْنَ وَعَنْ بَیْعِ الْغَرَرِ وَعَنْ بَیْعِ التَّمْرَۃِ قَبْلَ أَنْ تُدْرِکَ۔ (مسند احمد: ۹۳۷)

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لاچار وں کی تجارت، دھوکہ کی تجارت اور پکنے سے پہلے کھجوروں کے سودے سے منع فرمایا ہے۔

۔ (۵۸۳۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَشْتَرُوْا السَّمَکَ فِی الْمَائِ فَاِنَّہُ غَرَرٌ۔)) (مسند احمد: ۳۶۷۶)

۔ سیدنا عبداللہ بن مسعو د ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے رویت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پانی میں موجو د مچھلیوں کا سودا نہ کرو، کیو نکہ اس میں دھوکہ ہے۔

۔ (۵۸۳۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْ بَیْعِ الْحَصٰی وَبَیْعِ الْغَرَرَ۔ (مسند احمد: ۷۴۰۵)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کنکریوں والی تجارت او ردھوکے والے سودے سے منع فرمایاہے۔