مسنداحمد

Musnad Ahmad

خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان

مزابنہ اور محاقلہ کی تجارت اور ہر تر کو خشک کے عوض فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان

۔ (۵۸۳۷)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْمُحَاقَلَۃِ وَھُوْ اِشْتِرَائُ الزَّرْعِ وَھُوَ فِی سُنْبُلِہِ بِالْحِنْطَۃِ، وَنَہٰی عَنِ الْمُزَابَنَۃِ وَھُوَ شِرَائُ الثِّمَارِ بِالتَّمْرِ۔ (مسند احمد: ۹۰۷۷)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے محاقلہ اور مزانبہ سے منع فرمایاہے، محاقلہ یہ ہے کہ کھیتی کی بالیوں میں لگا اناج گندم کے عوض فروخت کیا جائے اور مزانبہ یہ ہے کہ ایک درخت پر لگے ہوئے پھل کی کھجوروں کے عوض بیع کر دی جائے۔

۔ (۵۸۳۸)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنِ الْمُزَابَنَۃِ وَالْمُحَاقَلَۃِ، وَالْمُزَابَنَۃُ، اِشْتِرَائُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ فِیْ رُؤُوْسِ النَّخْلِ، وَالْمُحَاقَلَۃُ، اِسْتِکْرَائُ الْأَرْضِ بِالْحِنْطَۃِ (وَفِیْ لَفْظٍ) وَالْمُزَابَنَۃُ، اِشْتِرَائُ الثَّمَرَۃِ فِی رُؤُوْسِ النَّخْلِ کَیْلًا۔ (مسند احمد: ۱۱۰۶۷)

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا ہے، مزابنہ یہ ہے کہ درخت پر لگئے ہوئے پھل کو ماپی ہوئی کھجوروں کے عوض بیچ دیا جائے اور محاقلہ یہ ہے کہ زمین کو گندم کے عوض کرائے پر دیا جائے۔

۔ (۵۸۳۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْمُحَاقَلَۃِ وَالْمُزَابَنَۃِ وَکَانَ عِکْرَمَۃُیَکْرَہُ بَیْعَ الْقَصِیْلِ۔ (مسند احمد: ۱۹۶۰)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے، عکرمہ رحمہ اللہ قصیل کی بیع ناپسند کرتے تھے۔

۔ (۵۸۴۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ کَانَ یَقُوْلُ: ((لَا تُبَایِعُوْا الثَّمْرَۃَ حَتّٰییَبْدُوَ صَلَاحُہَا۔)) نَہَی الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِیَ، وَنَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْمُزَابَنَۃِ، أَنْ یَبِیْعَ ثَمْرَۃَ حَائِطِہِ اِنْ کَانَتْ نَخْلًا بِتَمْرٍ کَیْلًا، وَاِنْ کَانَتْ کَرْمًا اَنْ یَبِیْعَہُ بِزَبِیْبٍ کَیْلًا وَاِنْ کَانَتْ زَرْعًا اَنْ یَبِیْعَہُ بِکَیْلٍ مَعْلُوْمٍ، نَہٰی عَنْ ذٰلِکَ کُلِّہِ۔ (مسند احمد: ۶۰۵۸)

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھل کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے اس کی خریدوفروخت نہ کرو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کو منع قرار دیا ہے، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزابنہ سے بھی ممانعت فرمائی ہے، جس کی صورت یہ ہے کہ آدمی اپنے باغ کا (درختوں پر لگا ہوا)پھل اس طرح فروخت کرے کہ اگر وہ کھجوریں ہیں تو ان کو ماپی ہوئی کھجوروں کے عوض بیچ دے اور اگر وہ انگور ہیں تو ان کو ماپے ہوئے خشک انگور کے بدلے میں فروخت کر دے اور اگر وہ کھیتی ہے تو اس کو ماپ شدہ اناج کے بدلے میں بیچ دے۔

۔ (۵۸۴۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْمُزَابَنَۃِ وَالْمُزَابَنَۃُ، اَلثَّمْرُ بِالتَّمْرِ کَیْلًا، وَالْعِنَبُ بِالزَّبِیْبِ کَیْلًا، وَالْحِنْطَۃُ بِالزَّرْعِ کَیْلًا۔ (مسند احمد: ۴۶۴۷)

۔ (دوسری سند)وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزابنہ سے منع کر دیا ہے، اور مزانبہ یہ ہے کہ درخت پر لگا ہوا پھل ماپی ہوئی کھجوروںکے عوض اور درخت پر لگا ہوا انگور ماپے ہوئے خشک انگور کے عوض اور کھیتی کو ماپ شدہ گندم کے عوض فروخت کر دیا جائے۔

۔ (۵۸۴۲)۔ عَنْ اَبِیْ عَیَّاشٍ قَالَ: سُئِلَ سَعْدٌ عَنْ بَیْعِ سُلْتٍ بِشَعِیْرٍ أَوْ شَیْئٍ مِنْ ھٰذَا، فَقَالَ: سُئِلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ تَمْرٍ بِرُطَبٍ، فَقَالَ: ((تَنْقُصُ الرُّطَبَۃُ اِذَا یَبِسَتْ؟)) قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: ((فَـلَا إِذًا۔)) (مسند احمد: ۱۵۵۲)

۔ ابو عیاش سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے خشک جو کی تر جو کے ساتھ بیع کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا،انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے تر کھجور کی خشک کھجور کے ساتھ بیع کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیاتو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پوچھا: جب تر کھجور خشک ہوجاتی ہے، تواس کا وزن کم ہوجاتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر یہ بیع جائز نہیں ہے۔

۔ (۵۸۴۳)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ، فقَالَ: ((أَلَیْسَیَنْقُصُ الرُّطَبُ اِذَا یَبِسَ؟)) قَالُوا: بَلٰی، فَکَرِھَہُ۔ (مسند احمد: ۱۵۱۵)

۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ آیا تر کھجور کو خشک کھجور کے عوض فروخت کیا جا سکتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تر کھجور خشک ہو جاتی ہے تو کیا اس کا وزن کم نہیں ہوجاتا۔ لوگوں نے کہا: جی ہاں، اس وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس تجارت کو ناپسند کیا۔

۔ (۵۸۴۴)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنِ الْمُزَابَنَۃِ، وَالْمُزَابَنَۃُ أَنْ یُبَاعَ مَا فِی رُؤُوْسِ النَّخْلِ بِتَمْرٍ بِکَیْلٍ مُسَمًّی اِنْ زَادَ فَلِیْ، وَاِنْ نَقَصَ فَعَلَیَّ۔ قَالَ ابْنُ عَمَرَ: حَدَّثَنِیْ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَخَّصَ فِیْ بَیْعِ الْعَرَایَا بِخَرْصِہَا۔ (مسند احمد: ۴۴۹۰)

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ہے اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کا درخت پر لگا ہوا پھل ماپ شدہ کھجوروں کے عوض فروخت کر دیا جائے اور یہ کہا جائے کہ اگر پھل زیادہ ہو گیا تو میرے لیے ہو گا اور اگر کم ہو گیا تو پھر میں اس کا ذمہ دار ہوں گا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اندازے سے بیع عرایا کی اجازت دی ہے۔

۔ (۵۸۴۵)۔ عَنْ اِسْمَاعِیْلَ الشَّیْبَانِیِّ بِعْتُ مَافِیْ رُؤُوْسِ نَخْلِیْ بِمِائَۃِ وَسْقٍ، اِنْ زَادَ فَلَہُمْ وَاِنْ نَقَصَ فَلَہُمْ، فَسَاَلْتُ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ: نَہٰی عَنْہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَخَّصَ فِیْ الْعَرَایَا۔ (مسند احمد: ۴۵۹۰)

۔ اسماعیل شیبانی کہتے ہیں: میں نے کھجور کے درختوں پر لگا ہوا پھل ایک سو وسق کے عوض فروخت کر دیا اور کہا: اگر زیادہ ہوگیا تو بھی اُن کا اور اگر کم ہو گیا تو بھی اُن کا، پھر میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسی تجارت سے منع کیا ہے، البتہ بیع عرایا کی رخصت دی ہے۔

۔ (۵۸۴۶)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنِ الْمُحَاقَلَۃِ وَالْمُزَابَنَۃِ وَالْمُخَابَرَۃِ وَالْمُعَاوَمَۃِ وَالثُّنْیَا وَرَخَّصَ فِِی الْعَرَایَا۔ (مسند احمد: ۱۴۴۱۰)

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے محاقلہ، مزابنہ، مخابرہ، معاومہ اور ثُنْیَا کی تجارتوں سے منع فرمایا ہے، البتہ بیع عرایا کی اجازت دی ہے۔