TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بیع عرایا کی اجازت اور اسثناء والی بیع کی ممانعت کابیان، الا یہ کہ اس کو معین کر دیا جائے - بیع عرایا کی اجازت اور اسثناء والی بیع کی ممانعت کابیان، الا یہ کہ اس کو معین کر دیا جائے - خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 18 of خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 18 of 48 · 7 Hadith
۔ (۵۸۴۷)۔ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تُبَاعُ ثَمْرَۃٌ بِتَمْرٍ وَلَا تُبَاعُ ثَمَرَۃٌ حَتّٰییَبْدُوَ صَلَاحُہَا)) قَالَ: فَلَقِیَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ عبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ فَقَالَ: رَخَّصَ رسَُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْعَرَایَا، قَالَ سُفْیَانُ: اَلْعَرَایَا، نَخْلٌ کَانَتْ تُوْھَبُ لِلْمَسَاکِیْنِ فَـلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ أَنْ یَنْتَظِرُوْا بِہَا فَیَبِیْعُوْنَہَا بِمَا شَاؤُوْا مِنْ تَمْرٍ۔ (مسند احمد: ۲۲۰۱۲)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: درخت پر لگا ہوا پھل کھجوروں کے عوض فروخت نہ کیا جائے اور کوئی بھی پھل اس وقت تک فروخت نہ کیا جائے، جب تک اس کی صلاحیت نمایا ں نہ ہوجائے۔ پھر جب سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملے تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیع عرایا کی رخصت دی ہے۔امام سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرایا کی صورت یہ ہے کہ کھجور کا درخت مسکینوں کو ہبہ کیا جاتا، لیکن وہ زیادہ اتنظار نہ کر سکتے تھے، اس لیے اسی درخت کے پھل کو اپنی مرضی کے مطابق کوئی پھل لے کر بیچدیتے تھے۔
Takhreej
(۵۸۴۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۱۸۳، ۲۱۸۴، ومسلم: ۱۵۳۴(انظر: ۲۱۶۷۲)
5847
Sahih
۔ (۵۸۴۸)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ اَبِیْ حَثْمَۃَ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ بَیْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ وَرَخَّصَ فِی الْعَرَایَا أَنْ تُشْتَرَی بِخَرْصِہَا یَاْکُلُہَا أَھْلُہَا رُطَبًا۔ (مسند احمد: ۱۷۳۹۴)
۔ سیدنا سہل بن ابی حثمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے درخت پر لگے ہوئے پھل کو خشک کھجوروں کے عو ض فروخت کرنے سے منع کیا، البتہ بیع عرایا کی رخصت دی ہے اوراس کی صورت یہ ہے کہ انداز ے سے پھل خرید لیا جائے، اس کے مالک تازہ کھجوریں کھا لیں گے۔
Takhreej
(۵۸۴۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۳۸۴، ومسلم: ۱۵۴۰(انظر: ۱۷۲۶۲)
5848
Sahih
۔ (۵۸۴۹)۔ عَنْ زَیدِ بنِ َثابتٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَخَّصَ فِی الْعَرِیَّۃِ أَنْ تُؤْخَذَ (وَفِیْ لَفْظٍ: أَنْ تُبَاعَ) بِمِثْلِ خَرْصِہَا تَمْرًا (وَفِیْ لَفْظٍ: بِمِثْلِ خَرْصِہَا کَیْـلًا) یَاْکُلُہَا أَھْلُہَا رُطَبًا، زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: وَلَمْیُرَخِّصْ فِیْ غَیْرِ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۱۹۹۵)
۔ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیع عریہ کی رخصت دی ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ اندازے سے ماپ شدہ کھجوروں کے عوض (درختوں پر لگی ہوئی تازہ کھجوریں خرید لینا)، یہ لوگ (مالک) تازہ کھجوریں کھا لیں گے، اس کے علاوہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی رخصت نہیں دی۔
Takhreej
(۵۸۴۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۳۸۰، ومسلم: ۱۵۳۹ (انظر: ۲۱۶۵۶)
5849
Sahih
۔ (۵۸۵۰)۔ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ بَیْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ وَرَخَّصَ فِیْ الْعَرِیَّۃِ، قَالَ: وَالْعَرِیَّۃُ النَّخْلَۃُ وَالنَّخْلَتَانِ یَشْتَرِیْہِمَا الرَّجُلُ بِخَرْصِہِمَا مِنَ التَّمْرِ فَیَضْمَنُہُمَا فَرَخَّصَ فِیْ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۳۴۷۹)
۔ ایک صحابی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (درخت پر لگے) پھل کو خشک کھجوروںکے عوض فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے، البتہ بیع عریہ میں اجازت دی ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ ایک آدمی اندازے سے خشک کھجوروں کے عوض کھجور کے ایک دو درخت خریدتا ہے، پھر وہ ان درختوں کی حفاظت کی ذمہ داری قبول کرلیتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس میں رخصت دی ہے۔
Takhreej
(۵۸۵۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۵۴۰ (انظر: ۲۳۰۹۱)
5850
Sahih
۔ (۵۸۵۱)۔ عَنْ بُشَیْرِ بْنِ یَسَارٍ مَوْلٰی بَنِیْ حَارِثَۃَ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِیْجٍ وَسَہْلَ بْنَ اَبِیْ حَثْمَۃَ حَدَّثَاہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنِ الْمُزَابَنَۃِ، اَلثَّمَرُ بِالتَّمْرِ اِلَّا أَصْحَابَ الْعَرَایَا، فَاِنَّہُ قَدْ أَذِنَ لَھُمْ۔ (مسند احمد: ۱۷۳۹۴)
۔ بنو حارثہ کے غلام بشیر بن یسار بیان کرتے ہیں کہ سیدنا رافع بن خدیج اور سیدنا سہل بن ابی حثمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزابنہ سے منع کیا ہے، اس بیع میں (درخت پر لگے) پھل کو خشک کھجوروں کے عوض فروخت کیا جاتا ہے، اس سلسلہ میں عرایا والوں کو اجازت دی گئی ہے۔
Takhreej
(۵۸۵۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۳۸۴، ومسلم: ۱۵۴۰ (انظر: ۱۷۲۶۲)
5851
Sahih
۔ (۵۸۵۲)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ أَذِنَ لِأَصْحَابِ الْعَرَایَا أَنْ یَبِیْعُوْھَا بِخَرْصِہَا یَقُوْلُ: ((اَلْوَسْقَ وَالْوَسْقَیْنِ وَالثَّلاثَۃَ وَالْأَرْبَعَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۹۲۹)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرایاوالوں کو ایک سے چار وسق تک اجازت دی ہے کہ وہ اتنی مقدار تک اندازے سے بیچ سکتے ہیں۔
Takhreej
(۵۸۵۲) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابن حبان: ۵۰۰۸، وابویعلی: ۱۷۸۱، وابن خزیمۃ: ۲۴۶۹، والحاکم: ۱/ ۴۱۷ (انظر: ۱۴۸۶۸)
5852
Sahih
۔ (۵۸۵۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَخَّصَ فِی الْعَرَایَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِہَا فِیْ خَمْسَۃِ أَوْسَقٍ أَوْ فِیِْمَا دُوْنَ خَمْسَۃٍ۔ (مسند احمد: ۷۲۳۵)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرایا میں رخصت دی ہے، اس میں پانچ وسق تک یا اس سے کم مقدار تک اندازے سے کے ساتھ پھل بیچا جا سکتا ہے۔
Takhreej
(۵۸۵۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۱۹۰، ۲۳۸۲، ومسلم: ۱۵۴۱ (انظر: ۷۲۳۶)
Explanation
فوائد:… اس باب میں بیع عرایا کے جواز کا بیان ہے، پچھلے باب میں بیان کیے گئے اصولوں کے مطابق تو یہ سودا بھی مزابنہ کی ایک صورت ہے، جس سے منع کیا گیا ہے، لیکن شریعت ِ مطہرہ نے لوگوں کی آسانی کے لیے کچھ شرطوں کے ساتھ بیع عرایاکی رخصت دی ہے، اس کی درج ذیل صورتیں ہیں: (۱) مالک، مسکین کو کھجوروں کے کچھ درختوں کا پھل ہبہ کر دیتا، لیکن جب وہ دیکھتا کہ مسکین انتظار نہیں کر سکتا ہے تو وہ اس مسکین سے ان درختوں پر لگی کھجوریں خشک کھجوروںکے عوض خرید لیتا۔ (۲) کچھ لوگوں کے پاس خشک کھجوریں موجود ہیں، لیکن وہ تازہ کھجوریں کھانا چاہتے ہیں، اس لیے وہ خشک کھجوروں کے عوض میں باغ کے مالکوں سے درختوں پر لگی ہوئی تازہ کھجوریں خرید لیتے ہیں۔ (۳) کھجوروں کا مالک ایک دو کھجوروں کا پھل کسی شخص کو ہبہ کر دیتا ہے، پھر وہ اس شخص کے آنے کو اچھا نہیں سمجھتا یا اس سے تکلیف محسوس کرتا ہے، پس وہ اس شخص کو خشک کھجوریں دے کر اس سے ہبہ کی کھجوریں خرید لیتا ہے۔ بیع عرایا کی شرطیںیہ ہیں کہ اس بیع کا تعلق اہل خانہ کے کھانے سے ہو، نہ کہ آگے تجارت کرنے سے، نیز اس سودے میں کھجوروں کی مقدار پانچ وسق یا اس سے کم ہو، بہتر یہ ہے کہ اس سودے کی مقدار کو پانچ وسق سے کم رکھا جائے۔پانچ وسق کی مقدار پندرہ من اورتیس کلو گرام ہے، اس کی تفصیلیہ ہے کہ ایک وسق میں ساٹھ صاع ہوتے ہیں، پس پانچ اوساق میں تین سو صاع ہوگئے اور ایک صاع کا وزن تقریبا دو کلو سو گرام ہوتا ہے۔ اس باب میں بیع ثُنْیا کا ذکر نہیں کیا گیا، ویسے پچھلے باب میں اس بیع کی وضاحت کی جا چکی ہے۔
5853
Sahih

Chapters

48
01
ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
9 Hadith
02
اس چیز کا بیان کہ سب سے بہترین کمائی تجارت اور آدمی کا اپنے ہاتھوں سے کام کرنا ہے، نیز اس امر کا بیان کہ بندے کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے
6 Hadith
03
بادشاہ کے عطیے اور عاملین زکوٰۃ کی کمائی کا بیان
9 Hadith
04
زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
05
بکریوں کو پالنے، ان کی برکت اور ان کو چرانے کا بیان
5 Hadith
06
سینگی لگانے والوں، لونڈیوں، قصاب اور سنار وغیرہ کی کمائی کا بیان
14 Hadith
07
ٹیکس وصول کرنے والوں اور سرداروں کی کمائی کا بیان
9 Hadith
08
تجارت کے ذریعے کمائی کرنے کا بیان خرید و فروخت میں سچائی اور امانت اور ان کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
09
سودا فروخت کرنے کے لیے جھوٹ بولنے اور قسم اٹھانے کی مذمت اور بازاروں کی مذمت کا بیان
7 Hadith
10
تجارت میں نرمی اختیار کرنے اور دررگزر کرنے، سودا واپس کرنے اور اچھا معاملہ کرنے اور اس کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
11
گھریا زمین کو فروخت کر کے اس کی قیمت کو اس جیسی چیز میں خرچ نہ کرنے والے کا بیان
3 Hadith
12
ان چیزو ں کا بیان کہ جن کی تجارت جائزنہیں ہے شراب، نجس اور بے فائدہ چیزوں کی تجارت کا بیان
11 Hadith
13
کتے، بلی اور چوری کی ہوئی بکری کی قیمت، زانیہ کی کمائی، نجومی کی مٹھائی اور گانے والیوں کی خریدو فروخت سے ممانعت کا بیان
10 Hadith
14
وَلاء اور زائد پانی کو فروخت کرنے اور سانڈ کی جفتی کی اجرت لینے سے نہی کا بیان
6 Hadith
15
دھوکے والی چیزوں کی تجارت سے ممانعت کا بیان
8 Hadith
16
ملامسہ اور منابذہ کی بیع سے ممانعت کا بیان
3 Hadith
17
مزابنہ اور محاقلہ کی تجارت اور ہر تر کو خشک کے عوض فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
10 Hadith
18
بیع عرایا کی اجازت اور اسثناء والی بیع کی ممانعت کابیان، الا یہ کہ اس کو معین کر دیا جائے
7 Hadith
19
اصولیعنی درختوں اور پھلوں کو فروخت کرنے کے بارے میں ابواب پیوند کاری کیا ہواکھجور کا درخت فروخت کرنے کا بیان
2 Hadith
20
پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے ان کو فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
12 Hadith
21
پھلوں کا اندازہ لگانے، سالوں کی بیع اور آفتوں کو معاف کر دینے کا بیان
3 Hadith
22
بیع عینہ، ایک سودے میں دو سودوں اور بیع عربون سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
23
ایک آدمی کا ایک خریدار کو کوئی چیز بیچنا، پھر وہی چیز کسی اور کو بیچ دینا اور ایسی چیز کی بیع کرنے کی ممانعت کہ بیچنے والا جس کا مالک نہ ہو اور وہ اس کو خرید کر اُس کے سپرد کر دے
3 Hadith
24
خریدار کو قبضے میں لینے سے پہلے خریدی ہوئی چیز کو آگے فروخت کر دینے کی ممانعت کا بیان
10 Hadith
25
ماپ اور وزن کرنے کے حکم اور دو صاع چلائے بغیر اناج کی بیع کرنے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
26
قافلوںکوملنے اور شہری کا دیہاتی کے لئے تجارت کرنے کی ممانعت کا بیان
9 Hadith
27
بیع نجش اور آدمی کی بیع پر بیع کرنے کی ممانعت کا بیان، ما سوائے بیع مزایدہ کے
9 Hadith
28
غلام کی تجارت کا اور محرم غلاموں کے مابین تفریق ڈالنے کی ممانعت کا بیان
2 Hadith
29
گواہ کے بغیر تجارت کرنے کا اور اس سلسلے میں سیدنا خزیمہ بن ثابت کی عظیم منقبت کا بیان
1 Hadith
30
تجارت میں شرطوں کے ابواب فروخت شدہ چیز سے فائدہ اٹھانے اور مزید اس قسم کی شرط لگانے کا بیان
2 Hadith
31
فاسد شرط کے ہونے کے باوجود تجارت کے عقد کے صحیح ہونے کا بیان
1 Hadith
32
تجارت میں غبن اور دھوکے سے سلامتی کی شرط کا بیان
3 Hadith
33
مجلس کے اختیار کا بیان
7 Hadith
34
عیوب کے احکام کے ابواب عیب کو واضح کر دینے، دھوکہ نہ کرنے اور دھوکہ کرنے والے کی وعید کا بیان
7 Hadith
35
اس جانور کا بیان، جس کا دودھ روکا گیا ہو
5 Hadith
36
غلام کی ضمانت اور اس چیز کا بیان کہ تازہ کی ہوئی کمائی عیب کی وجہ سے سودا واپس کرنے میں رکاوٹ نہیں بنے گی
3 Hadith
37
ذخیرہ اندوزی کی مذمت کا بیان
4 Hadith
38
بھائو مقرر کرنے کا بیان
4 Hadith
39
خریدوفروخت کرنے والوں کے مابین اختلاف ہو جانے کا بیان
5 Hadith
40
سود کے ابواب سود کے بارے میں سختی کا بیان
9 Hadith
41
ان اقسام کا بیان، جن میں سود پایا جاتا ہے
11 Hadith
42
بیع صرف کا بیان،یعنی چاندی کو سونے کے عوض ادھار پر فروخت کرنا
7 Hadith
43
نقد و نقد سودا ہونے کی صورت میں ایک جنس میں تفاضل کے جواز کے قائلین کی دلیل
7 Hadith
44
سونے کے عوض ایسی چیز بیچنے کابیان کہ جس میں سونا بھی ہو اور اس کے علاوہ کوئی چیز بھی ہو
3 Hadith
45
درہم و دینار کوتوڑنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی مجبوری ہو
1 Hadith
46
بوقت ِ تجارت اناج کے برابر برابر ہونے کا بیان
5 Hadith
47
تفاضل کا بیان اور جن چیزوں کو ماپا اور جن کا وزن نہ کیا جا سکتا ہو، ان میں ادھار کا اور حیوان کے عوض گوشت کی بیع کا بیان
5 Hadith
48
بیع سلم (بیع سلف) کے مسائل
5 Hadith
No chapter matched that.