مسنداحمد

Musnad Ahmad

خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان

بیع عرایا کی اجازت اور اسثناء والی بیع کی ممانعت کابیان، الا یہ کہ اس کو معین کر دیا جائے

۔ (۵۸۴۷)۔ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تُبَاعُ ثَمْرَۃٌ بِتَمْرٍ وَلَا تُبَاعُ ثَمَرَۃٌ حَتّٰییَبْدُوَ صَلَاحُہَا)) قَالَ: فَلَقِیَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ عبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ فَقَالَ: رَخَّصَ رسَُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْعَرَایَا، قَالَ سُفْیَانُ: اَلْعَرَایَا، نَخْلٌ کَانَتْ تُوْھَبُ لِلْمَسَاکِیْنِ فَـلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ أَنْ یَنْتَظِرُوْا بِہَا فَیَبِیْعُوْنَہَا بِمَا شَاؤُوْا مِنْ تَمْرٍ۔ (مسند احمد: ۲۲۰۱۲)

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: درخت پر لگا ہوا پھل کھجوروں کے عوض فروخت نہ کیا جائے اور کوئی بھی پھل اس وقت تک فروخت نہ کیا جائے، جب تک اس کی صلاحیت نمایا ں نہ ہوجائے۔ پھر جب سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملے تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیع عرایا کی رخصت دی ہے۔امام سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرایا کی صورت یہ ہے کہ کھجور کا درخت مسکینوں کو ہبہ کیا جاتا، لیکن وہ زیادہ اتنظار نہ کر سکتے تھے، اس لیے اسی درخت کے پھل کو اپنی مرضی کے مطابق کوئی پھل لے کر بیچدیتے تھے۔

۔ (۵۸۴۸)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ اَبِیْ حَثْمَۃَ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ بَیْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ وَرَخَّصَ فِی الْعَرَایَا أَنْ تُشْتَرَی بِخَرْصِہَا یَاْکُلُہَا أَھْلُہَا رُطَبًا۔ (مسند احمد: ۱۷۳۹۴)

۔ سیدنا سہل بن ابی حثمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے درخت پر لگے ہوئے پھل کو خشک کھجوروں کے عو ض فروخت کرنے سے منع کیا، البتہ بیع عرایا کی رخصت دی ہے اوراس کی صورت یہ ہے کہ انداز ے سے پھل خرید لیا جائے، اس کے مالک تازہ کھجوریں کھا لیں گے۔

۔ (۵۸۴۹)۔ عَنْ زَیدِ بنِ َثابتٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَخَّصَ فِی الْعَرِیَّۃِ أَنْ تُؤْخَذَ (وَفِیْ لَفْظٍ: أَنْ تُبَاعَ) بِمِثْلِ خَرْصِہَا تَمْرًا (وَفِیْ لَفْظٍ: بِمِثْلِ خَرْصِہَا کَیْـلًا) یَاْکُلُہَا أَھْلُہَا رُطَبًا، زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: وَلَمْیُرَخِّصْ فِیْ غَیْرِ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۱۹۹۵)

۔ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیع عریہ کی رخصت دی ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ اندازے سے ماپ شدہ کھجوروں کے عوض (درختوں پر لگی ہوئی تازہ کھجوریں خرید لینا)، یہ لوگ (مالک) تازہ کھجوریں کھا لیں گے، اس کے علاوہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی رخصت نہیں دی۔

۔ (۵۸۵۰)۔ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ بَیْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ وَرَخَّصَ فِیْ الْعَرِیَّۃِ، قَالَ: وَالْعَرِیَّۃُ النَّخْلَۃُ وَالنَّخْلَتَانِ یَشْتَرِیْہِمَا الرَّجُلُ بِخَرْصِہِمَا مِنَ التَّمْرِ فَیَضْمَنُہُمَا فَرَخَّصَ فِیْ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۳۴۷۹)

۔ ایک صحابی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (درخت پر لگے) پھل کو خشک کھجوروںکے عوض فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے، البتہ بیع عریہ میں اجازت دی ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ ایک آدمی اندازے سے خشک کھجوروں کے عوض کھجور کے ایک دو درخت خریدتا ہے، پھر وہ ان درختوں کی حفاظت کی ذمہ داری قبول کرلیتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس میں رخصت دی ہے۔

۔ (۵۸۵۱)۔ عَنْ بُشَیْرِ بْنِ یَسَارٍ مَوْلٰی بَنِیْ حَارِثَۃَ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِیْجٍ وَسَہْلَ بْنَ اَبِیْ حَثْمَۃَ حَدَّثَاہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنِ الْمُزَابَنَۃِ، اَلثَّمَرُ بِالتَّمْرِ اِلَّا أَصْحَابَ الْعَرَایَا، فَاِنَّہُ قَدْ أَذِنَ لَھُمْ۔ (مسند احمد: ۱۷۳۹۴)

۔ بنو حارثہ کے غلام بشیر بن یسار بیان کرتے ہیں کہ سیدنا رافع بن خدیج اور سیدنا سہل بن ابی حثمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزابنہ سے منع کیا ہے، اس بیع میں (درخت پر لگے) پھل کو خشک کھجوروں کے عوض فروخت کیا جاتا ہے، اس سلسلہ میں عرایا والوں کو اجازت دی گئی ہے۔

۔ (۵۸۵۲)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ أَذِنَ لِأَصْحَابِ الْعَرَایَا أَنْ یَبِیْعُوْھَا بِخَرْصِہَا یَقُوْلُ: ((اَلْوَسْقَ وَالْوَسْقَیْنِ وَالثَّلاثَۃَ وَالْأَرْبَعَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۹۲۹)

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرایاوالوں کو ایک سے چار وسق تک اجازت دی ہے کہ وہ اتنی مقدار تک اندازے سے بیچ سکتے ہیں۔

۔ (۵۸۵۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَخَّصَ فِی الْعَرَایَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِہَا فِیْ خَمْسَۃِ أَوْسَقٍ أَوْ فِیِْمَا دُوْنَ خَمْسَۃٍ۔ (مسند احمد: ۷۲۳۵)

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرایا میں رخصت دی ہے، اس میں پانچ وسق تک یا اس سے کم مقدار تک اندازے سے کے ساتھ پھل بیچا جا سکتا ہے۔