۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: درخت پر لگا ہوا پھل کھجوروں کے عوض فروخت نہ کیا جائے اور کوئی بھی پھل اس وقت تک فروخت نہ کیا جائے، جب تک اس کی صلاحیت نمایا ں نہ ہوجائے۔ پھر جب سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو ملے تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیع عرایا کی رخصت دی ہے۔امام سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرایا کی صورت یہ ہے کہ کھجور کا درخت مسکینوں کو ہبہ کیا جاتا، لیکن وہ زیادہ اتنظار نہ کر سکتے تھے، اس لیے اسی درخت کے پھل کو اپنی مرضی کے مطابق کوئی پھل لے کر بیچدیتے تھے۔
۔ سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درخت پر لگے ہوئے پھل کو خشک کھجوروں کے عو ض فروخت کرنے سے منع کیا، البتہ بیع عرایا کی رخصت دی ہے اوراس کی صورت یہ ہے کہ انداز ے سے پھل خرید لیا جائے، اس کے مالک تازہ کھجوریں کھا لیں گے۔
۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیع عریہ کی رخصت دی ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ اندازے سے ماپ شدہ کھجوروں کے عوض (درختوں پر لگی ہوئی تازہ کھجوریں خرید لینا)، یہ لوگ (مالک) تازہ کھجوریں کھا لیں گے، اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی رخصت نہیں دی۔
۔ ایک صحابی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (درخت پر لگے) پھل کو خشک کھجوروںکے عوض فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے، البتہ بیع عریہ میں اجازت دی ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ ایک آدمی اندازے سے خشک کھجوروں کے عوض کھجور کے ایک دو درخت خریدتا ہے، پھر وہ ان درختوں کی حفاظت کی ذمہ داری قبول کرلیتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں رخصت دی ہے۔
۔ بنو حارثہ کے غلام بشیر بن یسار بیان کرتے ہیں کہ سیدنا رافع بن خدیج اور سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزابنہ سے منع کیا ہے، اس بیع میں (درخت پر لگے) پھل کو خشک کھجوروں کے عوض فروخت کیا جاتا ہے، اس سلسلہ میں عرایا والوں کو اجازت دی گئی ہے۔
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرایاوالوں کو ایک سے چار وسق تک اجازت دی ہے کہ وہ اتنی مقدار تک اندازے سے بیچ سکتے ہیں۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرایا میں رخصت دی ہے، اس میں پانچ وسق تک یا اس سے کم مقدار تک اندازے سے کے ساتھ پھل بیچا جا سکتا ہے۔