مسنداحمد

Musnad Ahmad

خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان

پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے ان کو فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان

۔ (۵۸۵۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یُبَاعُ الثَّمَرُ حَتّٰییُطْعَمَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۷)

۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھلوں کو اس وقت تک فروخت نہ کیا جائے، جب تک وہ کھانے کے قابل نہ ہو جائیں۔

۔ (۵۸۵۷)۔ عَنْ اَبِی الْبُخْتَرِیِّ الطَّائِیِّ قَالَ: سَاَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ بَیْعِ النَّخْلِ فَقَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ بَیْعِ النَّخْلِ حَتّٰییَاْکُلَ مِنْہُ أَوْ یُوْکَلَ مِنْہُ وَحَتّٰییُوْزَنَ، قَالَ: فَقُلْتُ: مَایُوْزَنُ؟ فَقَالَ رَجُلٌ عِنْدَہُ: حَتّٰییُحْزَرَ۔ (مسند احمد: ۳۱۷۳)

۔ ابو بختری طائی سے روایت ہے کہ اس نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے کھجور کے پھل کو فروخت کرنے کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھجور کاپھل اس وقت تک فروخت کرنے سے منع فرمایا، جب تک وہ کھانے اور وزن کے قابل نہ ہو جائے۔ ایک اور بندے نے کہا: وزن سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: اندازہ لگانا۔

۔ (۵۸۵۸)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْ بَیْعِ النَّخْلِ حَتّٰییَزْھُوَ وَعَنِ السُّنْبُلِ حَتّٰییَبْیَضَّ وَیَأْمَنَ الْعَاھَۃَ، نَہَی الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِیَ۔ (مسند احمد: ۴۴۹۳)

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھجور کے پھلوں کو فروخت سے منع کیاہے،یہاں تک کہ وہ رنگ پکڑ جائے اور بالیوں کو بھی بیچنے سے منع فرمایا ہے، یہاں تک کہ دانہ مضبوط ہوجائے اور آفت سے امن ہو جائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فروخت کرنے والے اور خریدنے والے دونوں کو منع کیاہے۔

۔ (۵۸۵۹)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَقَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَۃُ حَتّٰییَبْدُوَ صَلَاحُہَا، قَالَ: وَقَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! مَا صَلَاحُہَا؟ قَالَ: ((اِذَا ذَھَبَتْ عاھَتُہَا وَخَلَصَ طَیِّبُہَا۔)) (مسند احمد: ۴۹۹۸)

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھل کی صلاحیت کے ظاہر ہونے سے پہلے اس کو فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی صلاحیت کا ظاہر ہونا کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب ا س کی آفت کا وقت ختم ہوجائے اور عمدہ پھل واضح ہو جائیں۔

۔ (۵۸۶۰)۔ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سُرَاقَۃَ قَالَ: سَاَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ بَیْعِ الثِّمَارِ فَقَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ بَیْعِ الثِّمَارِ حَتّٰی تَذْھَبَ الْعَاھَۃُ، فَقُلْتُ: وَ مَتٰی ذَاکَ؟ قَالَ: حَتّٰی تَطْلُعَ الثُّرَیَّا۔ (مسند احمد:۵۱۰۵)

۔ عثمان بن عبداللہ بن سراقہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پھلوں کی فروخت کے بارے میں سوال کیا،انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آفت کا ڈر ختم ہو جانے تک پھلوں کی بیع سے منع کیا، میں نے کہا: اور یہ کب ہوتا ہے؟ انھوں نے کہا: جب ثریا ستارہ ظاہر ہوتا ہے۔

۔ (۵۸۶۱)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ بَیْعِ الثَّمَرَۃِ قَبْلَ أَنْ تُدْرِکَ۔ (مسند احمد: ۹۳۷)

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھل کو پختہ ہونے سے قبل فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔

۔ (۵۸۶۲)۔ عَنْ حُمَیْدٍ قَالَ: سُئِلَ أَنْسُ عَنْ بَیْعِ الثَّمَرِ، فَقَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ بَیْعِ الثَّمَرَۃِ حَتّٰی تَزْھُوَ، قِیْلَ لِأَنْسٍ: مَاتَزْھُوَ؟ قَالَ: تَحْمَرَّ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۶۲)

۔ حمید سے روایت ہے کہ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پھلوں کی فروخت کے بارے میں سوال کیا گیا،انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھل کو پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع کیا ہے، کسی نے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: پکنے سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: ان کا سرخ ہو جانا۔

۔ (۵۸۶۳)۔ عَنْ سُلَیْمِ بنْ حَیَّانَ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ مِیْنَائَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ بَیْعِ الثَّمَرَۃِ حَتّٰی تُشْقِحَ، قَالَ: قُلْتُ لِسَعِیْدٍ: مَا تُشْقِحَ؟ قَالَ: تَحْمَارُّ وَ تَصْفَارُّ وَیُؤْکَلُ مِنْہَا۔ (مسند احمد: ۱۴۹۴۵)

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے پھلوں میں سرخی اور زردی آنے سے پہلے ان کو بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ سلیم بن حیان کہتے ہیں: میں نے سعید سے کہا: تُشْقِح سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: پھلوں کا سرخ اور زرد ہو جانا اور اس قابل ہو جانا کہ ان کو کھایا جائے۔

۔ (۵۸۶۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَبِیْعُوْا ثِمَارَکُمْ حَتّٰییَبْدُوَ صَلَاحُہَا وَتَنْجُوَ مِنَ الْعَاھَۃِ)) (مسند احمد: ۲۴۹۱۱)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھلوں کو ان کی صلاحیت کے ظاہر ہونے اور آفت سے محفوظ ہو جانے سے پہلے فروخت نہ کرو۔

۔ (۵۸۶۵)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تُبَاعُ ثَمَرَۃٌ حَتّٰییَبْدُوَ صَلَاحُہَا۔)) (مسند احمد: ۷۵۴۹م)

۔ سیدنا ابو ہر یرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھل کی صلا حیت ظاہر ہونے سے پہلے اس کو فروخت نہ کیا جائے۔

۔ (۵۸۶۶)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: نَہَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ بَیْعِ النَّخْلِ حَتّٰییَزْھُوَ، وَالْحَبِّ حَتّٰییُفْرَکَ وعَنِ الثِّمَارِ حَتّٰی تُطْعَمَ۔ (مسند احمد: ۱۲۶۶۶)

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پختہ ہونے سے پہلے کھجوروں کی بیع سے، پکنے کے قریب ہونے سے پہلے اناج کی کی تجارت سے اور کھانے کے قابل ہونے سے پہلے پھلوں کے سودے سے منع فرمایا ہے۔

۔ (۵۸۶۷)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْ بَیْعِ الثَّمَرَۃِ حَتّٰی تَزْھُوَ وَ عَنْ بَیْعِ الْعِنَبِ حَتّٰییَسْوَدَّ وَعَنْ بَیْعِ الْحَبِّ حَتّٰییَشْتَدَّ۔ (مسند احمد: ۱۳۶۴۸)

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پختہ ہونے سے قبل پھل کو، کالا ہونے سے پہلے انگور کو اور سخت ہونے سے پہلے اناج کو فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔