TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے ان کو فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان - پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے ان کو فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان - خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 20 of خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 20 of 48 · 12 Hadith
۔ (۵۸۵۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یُبَاعُ الثَّمَرُ حَتّٰییُطْعَمَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۷)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھلوں کو اس وقت تک فروخت نہ کیا جائے، جب تک وہ کھانے کے قابل نہ ہو جائیں۔
Takhreej
(۵۸۵۶) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ ابن حبان: ۴۹۸۸، والبیھقی: ۵/ ۳۰۲، والدارقطنی: ۳/ ۱۴، والحاکم: ۲/ ۳۷ (انظر: ۲۲۴۷)
5856
Sahih
۔ (۵۸۵۷)۔ عَنْ اَبِی الْبُخْتَرِیِّ الطَّائِیِّ قَالَ: سَاَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ بَیْعِ النَّخْلِ فَقَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ بَیْعِ النَّخْلِ حَتّٰییَاْکُلَ مِنْہُ أَوْ یُوْکَلَ مِنْہُ وَحَتّٰییُوْزَنَ، قَالَ: فَقُلْتُ: مَایُوْزَنُ؟ فَقَالَ رَجُلٌ عِنْدَہُ: حَتّٰییُحْزَرَ۔ (مسند احمد: ۳۱۷۳)
۔ ابو بختری طائی سے روایت ہے کہ اس نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے کھجور کے پھل کو فروخت کرنے کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھجور کاپھل اس وقت تک فروخت کرنے سے منع فرمایا، جب تک وہ کھانے اور وزن کے قابل نہ ہو جائے۔ ایک اور بندے نے کہا: وزن سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: اندازہ لگانا۔
Takhreej
(۵۸۵۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۲۴۶، ۲۲۵۰، ومسلم: ۱۵۳۷(انظر: ۳۱۷۳)
Explanation
فوائد:… کھانا یا کھانے کے قابل ہونا، وزن کرنا، اندازہ کرنا، ان سب الفاظ سے مراد پھلوں کا پک کر بیع کے قابل ہو جاناہے۔
5857
Sahih
۔ (۵۸۵۸)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْ بَیْعِ النَّخْلِ حَتّٰییَزْھُوَ وَعَنِ السُّنْبُلِ حَتّٰییَبْیَضَّ وَیَأْمَنَ الْعَاھَۃَ، نَہَی الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِیَ۔ (مسند احمد: ۴۴۹۳)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھجور کے پھلوں کو فروخت سے منع کیاہے،یہاں تک کہ وہ رنگ پکڑ جائے اور بالیوں کو بھی بیچنے سے منع فرمایا ہے، یہاں تک کہ دانہ مضبوط ہوجائے اور آفت سے امن ہو جائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فروخت کرنے والے اور خریدنے والے دونوں کو منع کیاہے۔
Takhreej
(۵۸۵۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۵۳۵(انظر: ۴۴۹۳)
Explanation
فوائد:… آفت سے مراد وہ مصیبت ہے جو پھلوں اور کھیتیوں کو تباہ کر دیتی ہے۔
5858
Sahih
۔ (۵۸۵۹)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَقَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَۃُ حَتّٰییَبْدُوَ صَلَاحُہَا، قَالَ: وَقَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! مَا صَلَاحُہَا؟ قَالَ: ((اِذَا ذَھَبَتْ عاھَتُہَا وَخَلَصَ طَیِّبُہَا۔)) (مسند احمد: ۴۹۹۸)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھل کی صلاحیت کے ظاہر ہونے سے پہلے اس کو فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی صلاحیت کا ظاہر ہونا کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب ا س کی آفت کا وقت ختم ہوجائے اور عمدہ پھل واضح ہو جائیں۔
Takhreej
(۵۸۵۹) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ: ’’یا رسول اللہ! وما صلاحھا …‘‘ وھذا اسناد ضعیف لضعف حجاج بن ارطاۃ وعطیۃَ العوفی، والصحیح ان التفسیر من قول ابن عمر کما ورد عند الشیخین۔ أخرج الصحیح منہ البخاری: ۲۱۹۴، ومسلم: ۱۵۳۴ (انظر: ۴۹۹۸)
5859
Sahih
۔ (۵۸۶۰)۔ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سُرَاقَۃَ قَالَ: سَاَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ بَیْعِ الثِّمَارِ فَقَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ بَیْعِ الثِّمَارِ حَتّٰی تَذْھَبَ الْعَاھَۃُ، فَقُلْتُ: وَ مَتٰی ذَاکَ؟ قَالَ: حَتّٰی تَطْلُعَ الثُّرَیَّا۔ (مسند احمد:۵۱۰۵)
۔ عثمان بن عبداللہ بن سراقہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پھلوں کی فروخت کے بارے میں سوال کیا،انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آفت کا ڈر ختم ہو جانے تک پھلوں کی بیع سے منع کیا، میں نے کہا: اور یہ کب ہوتا ہے؟ انھوں نے کہا: جب ثریا ستارہ ظاہر ہوتا ہے۔
Takhreej
(۵۸۶۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۴۸۶، ومسلم: ۱۵۳۴ (انظر: ۵۱۰۵)
Explanation
فوائد:… ابو داود کی سیدنا ابو ہریرہb سے مروی روایت میں ہے: رسول اللہ a نے فرمایا: ((اِذَا طَلَعَ النَّجَمُ صَبَاحًا رُفِعَتِ الْعَاھَۃُ عَنْ کُلِّ بَلَدٍ۔)) … ’’جب ستارہ صبح کے وقت طلوع ہو جاتا ہے تو ہر شہر سے آفت اٹھ جاتی ہے۔‘‘ ثریا ایک ستارہ ہے، موسم گرما کے شروع میںیہ ستارہ صبح کے وقت طلوع ہوتا ہے، اس وقت حجاز میں سخت گرمی پڑتی ہے اور پھل پکنا شروع ہو جاتے ہیں، اس روایت کا اصل مقصود پھلوں کا پکنا ہے، ثریا ستارے کے طلوع کو پکنے کی علامت قرار دیا گیا ہے۔
5860
Sahih
۔ (۵۸۶۱)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ بَیْعِ الثَّمَرَۃِ قَبْلَ أَنْ تُدْرِکَ۔ (مسند احمد: ۹۳۷)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھل کو پختہ ہونے سے قبل فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۵۸۶۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، لضعف ابی عامر المزنی وجھالۃ الشیخ من بنی تمیم۔ أخرجہ ابوداود: ۳۳۸۲(انظر: ۹۳۷)
5861
Zaeef
۔ (۵۸۶۲)۔ عَنْ حُمَیْدٍ قَالَ: سُئِلَ أَنْسُ عَنْ بَیْعِ الثَّمَرِ، فَقَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ بَیْعِ الثَّمَرَۃِ حَتّٰی تَزْھُوَ، قِیْلَ لِأَنْسٍ: مَاتَزْھُوَ؟ قَالَ: تَحْمَرَّ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۶۲)
۔ حمید سے روایت ہے کہ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پھلوں کی فروخت کے بارے میں سوال کیا گیا،انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھل کو پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع کیا ہے، کسی نے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: پکنے سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: ان کا سرخ ہو جانا۔
Takhreej
(۵۸۶۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۴۸۸، ۲۱۹، ۲۱۹۷، ومسلم: ۱۵۵۵ (انظر: ۱۲۱۳۸)
5862
Sahih
۔ (۵۸۶۳)۔ عَنْ سُلَیْمِ بنْ حَیَّانَ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ مِیْنَائَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ بَیْعِ الثَّمَرَۃِ حَتّٰی تُشْقِحَ، قَالَ: قُلْتُ لِسَعِیْدٍ: مَا تُشْقِحَ؟ قَالَ: تَحْمَارُّ وَ تَصْفَارُّ وَیُؤْکَلُ مِنْہَا۔ (مسند احمد: ۱۴۹۴۵)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے پھلوں میں سرخی اور زردی آنے سے پہلے ان کو بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ سلیم بن حیان کہتے ہیں: میں نے سعید سے کہا: تُشْقِح سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: پھلوں کا سرخ اور زرد ہو جانا اور اس قابل ہو جانا کہ ان کو کھایا جائے۔
Takhreej
(۵۸۶۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۱۹۶، ومسلم: ۱۵۳۶(انظر: ۱۴۸۸۴)
5863
Sahih
۔ (۵۸۶۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَبِیْعُوْا ثِمَارَکُمْ حَتّٰییَبْدُوَ صَلَاحُہَا وَتَنْجُوَ مِنَ الْعَاھَۃِ)) (مسند احمد: ۲۴۹۱۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھلوں کو ان کی صلاحیت کے ظاہر ہونے اور آفت سے محفوظ ہو جانے سے پہلے فروخت نہ کرو۔
Takhreej
(۵۸۶۴) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ مالک فی ’’المؤطا‘‘: ۲/ ۶۱۸، والشافعی فی ’’مسندہ‘‘: ۲/ ۱۴۹(انظر: ۲۴۴۰۷)
5864
Sahih
۔ (۵۸۶۵)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تُبَاعُ ثَمَرَۃٌ حَتّٰییَبْدُوَ صَلَاحُہَا۔)) (مسند احمد: ۷۵۴۹م)
۔ سیدنا ابو ہر یرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھل کی صلا حیت ظاہر ہونے سے پہلے اس کو فروخت نہ کیا جائے۔
Takhreej
(۵۸۶۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۵۳۸(انظر: ۷۵۵۹)
5865
Sahih
۔ (۵۸۶۶)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: نَہَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ بَیْعِ النَّخْلِ حَتّٰییَزْھُوَ، وَالْحَبِّ حَتّٰییُفْرَکَ وعَنِ الثِّمَارِ حَتّٰی تُطْعَمَ۔ (مسند احمد: ۱۲۶۶۶)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پختہ ہونے سے پہلے کھجوروں کی بیع سے، پکنے کے قریب ہونے سے پہلے اناج کی کی تجارت سے اور کھانے کے قابل ہونے سے پہلے پھلوں کے سودے سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۵۸۶۶) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ البیھقی: ۵/ ۳۰۳، وعبد الرزاق: ۱۴۳۲۱ (انظر: ۱۲۶۳۸)
5866
Sahih
۔ (۵۸۶۷)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْ بَیْعِ الثَّمَرَۃِ حَتّٰی تَزْھُوَ وَ عَنْ بَیْعِ الْعِنَبِ حَتّٰییَسْوَدَّ وَعَنْ بَیْعِ الْحَبِّ حَتّٰییَشْتَدَّ۔ (مسند احمد: ۱۳۶۴۸)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پختہ ہونے سے قبل پھل کو، کالا ہونے سے پہلے انگور کو اور سخت ہونے سے پہلے اناج کو فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۵۸۶۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلنم۔ أخرجہ ابوداود: ۳۳۷۱، وابن ماجہ: ۲۲۱۷، والترمذی: ۱۲۲۸ (انظر: ۱۳۶۱۳)
Explanation
فوائد:… مذکورہ بالا تمام روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ درختوں اور پودوں پر لگا ہوا پھل پکنے سے پہلے فروخت نہیں کیا جا سکتا، ہر پھل کے پکنے کی علامت اس کے ساتھ خاص ہے۔ کوئی بھی پھل یا فصل پکنے سے پہلے مختلف ادوار اور کیفیات سے گزرتی ہیں، بیچ میں ایسی کیفیتیں بھی آ جاتی ہیں کہ ان میں معمولی بارش ہو جانا اور ہوا کا چل جانا بہت نقصان دہ ثابت ہوتا ہے، جبکہ بعض کیفیتوں میں بارش اور ہوا کا چلنا انتہائی ضروری ہوتا ہے، لیکن جب فصل پک کر تیار ہو جائے تو پھر عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ گرمییا سردی، معتدل مقدار کے ساتھ بارش اور ہواؤں کا چل پڑنا یا رک جانا، اس سے فصل متاثر نہیں ہوتی، ہاں شاذ و نادر ایسے بھی ہوتا ہے کہ فصل پک جانے کے باوجود کسی بڑی آفت کی وجہ سے مکمل طور پر تباہ ہو جاتی ہے، ایسے میں کیا کرنا چاہیے، اس کی وضاحت اگلے باب میں ہو گی۔ بہرحال زمیندار لوگوں کو متنبہ رہنا چاہیے اور کوئی فصل پکنے سے پہلے فروخت نہیں کرنی چاہیے۔
5867
Sahih

Chapters

48
01
ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
9 Hadith
02
اس چیز کا بیان کہ سب سے بہترین کمائی تجارت اور آدمی کا اپنے ہاتھوں سے کام کرنا ہے، نیز اس امر کا بیان کہ بندے کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے
6 Hadith
03
بادشاہ کے عطیے اور عاملین زکوٰۃ کی کمائی کا بیان
9 Hadith
04
زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
05
بکریوں کو پالنے، ان کی برکت اور ان کو چرانے کا بیان
5 Hadith
06
سینگی لگانے والوں، لونڈیوں، قصاب اور سنار وغیرہ کی کمائی کا بیان
14 Hadith
07
ٹیکس وصول کرنے والوں اور سرداروں کی کمائی کا بیان
9 Hadith
08
تجارت کے ذریعے کمائی کرنے کا بیان خرید و فروخت میں سچائی اور امانت اور ان کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
09
سودا فروخت کرنے کے لیے جھوٹ بولنے اور قسم اٹھانے کی مذمت اور بازاروں کی مذمت کا بیان
7 Hadith
10
تجارت میں نرمی اختیار کرنے اور دررگزر کرنے، سودا واپس کرنے اور اچھا معاملہ کرنے اور اس کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
11
گھریا زمین کو فروخت کر کے اس کی قیمت کو اس جیسی چیز میں خرچ نہ کرنے والے کا بیان
3 Hadith
12
ان چیزو ں کا بیان کہ جن کی تجارت جائزنہیں ہے شراب، نجس اور بے فائدہ چیزوں کی تجارت کا بیان
11 Hadith
13
کتے، بلی اور چوری کی ہوئی بکری کی قیمت، زانیہ کی کمائی، نجومی کی مٹھائی اور گانے والیوں کی خریدو فروخت سے ممانعت کا بیان
10 Hadith
14
وَلاء اور زائد پانی کو فروخت کرنے اور سانڈ کی جفتی کی اجرت لینے سے نہی کا بیان
6 Hadith
15
دھوکے والی چیزوں کی تجارت سے ممانعت کا بیان
8 Hadith
16
ملامسہ اور منابذہ کی بیع سے ممانعت کا بیان
3 Hadith
17
مزابنہ اور محاقلہ کی تجارت اور ہر تر کو خشک کے عوض فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
10 Hadith
18
بیع عرایا کی اجازت اور اسثناء والی بیع کی ممانعت کابیان، الا یہ کہ اس کو معین کر دیا جائے
7 Hadith
19
اصولیعنی درختوں اور پھلوں کو فروخت کرنے کے بارے میں ابواب پیوند کاری کیا ہواکھجور کا درخت فروخت کرنے کا بیان
2 Hadith
20
پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے ان کو فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
12 Hadith
21
پھلوں کا اندازہ لگانے، سالوں کی بیع اور آفتوں کو معاف کر دینے کا بیان
3 Hadith
22
بیع عینہ، ایک سودے میں دو سودوں اور بیع عربون سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
23
ایک آدمی کا ایک خریدار کو کوئی چیز بیچنا، پھر وہی چیز کسی اور کو بیچ دینا اور ایسی چیز کی بیع کرنے کی ممانعت کہ بیچنے والا جس کا مالک نہ ہو اور وہ اس کو خرید کر اُس کے سپرد کر دے
3 Hadith
24
خریدار کو قبضے میں لینے سے پہلے خریدی ہوئی چیز کو آگے فروخت کر دینے کی ممانعت کا بیان
10 Hadith
25
ماپ اور وزن کرنے کے حکم اور دو صاع چلائے بغیر اناج کی بیع کرنے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
26
قافلوںکوملنے اور شہری کا دیہاتی کے لئے تجارت کرنے کی ممانعت کا بیان
9 Hadith
27
بیع نجش اور آدمی کی بیع پر بیع کرنے کی ممانعت کا بیان، ما سوائے بیع مزایدہ کے
9 Hadith
28
غلام کی تجارت کا اور محرم غلاموں کے مابین تفریق ڈالنے کی ممانعت کا بیان
2 Hadith
29
گواہ کے بغیر تجارت کرنے کا اور اس سلسلے میں سیدنا خزیمہ بن ثابت کی عظیم منقبت کا بیان
1 Hadith
30
تجارت میں شرطوں کے ابواب فروخت شدہ چیز سے فائدہ اٹھانے اور مزید اس قسم کی شرط لگانے کا بیان
2 Hadith
31
فاسد شرط کے ہونے کے باوجود تجارت کے عقد کے صحیح ہونے کا بیان
1 Hadith
32
تجارت میں غبن اور دھوکے سے سلامتی کی شرط کا بیان
3 Hadith
33
مجلس کے اختیار کا بیان
7 Hadith
34
عیوب کے احکام کے ابواب عیب کو واضح کر دینے، دھوکہ نہ کرنے اور دھوکہ کرنے والے کی وعید کا بیان
7 Hadith
35
اس جانور کا بیان، جس کا دودھ روکا گیا ہو
5 Hadith
36
غلام کی ضمانت اور اس چیز کا بیان کہ تازہ کی ہوئی کمائی عیب کی وجہ سے سودا واپس کرنے میں رکاوٹ نہیں بنے گی
3 Hadith
37
ذخیرہ اندوزی کی مذمت کا بیان
4 Hadith
38
بھائو مقرر کرنے کا بیان
4 Hadith
39
خریدوفروخت کرنے والوں کے مابین اختلاف ہو جانے کا بیان
5 Hadith
40
سود کے ابواب سود کے بارے میں سختی کا بیان
9 Hadith
41
ان اقسام کا بیان، جن میں سود پایا جاتا ہے
11 Hadith
42
بیع صرف کا بیان،یعنی چاندی کو سونے کے عوض ادھار پر فروخت کرنا
7 Hadith
43
نقد و نقد سودا ہونے کی صورت میں ایک جنس میں تفاضل کے جواز کے قائلین کی دلیل
7 Hadith
44
سونے کے عوض ایسی چیز بیچنے کابیان کہ جس میں سونا بھی ہو اور اس کے علاوہ کوئی چیز بھی ہو
3 Hadith
45
درہم و دینار کوتوڑنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی مجبوری ہو
1 Hadith
46
بوقت ِ تجارت اناج کے برابر برابر ہونے کا بیان
5 Hadith
47
تفاضل کا بیان اور جن چیزوں کو ماپا اور جن کا وزن نہ کیا جا سکتا ہو، ان میں ادھار کا اور حیوان کے عوض گوشت کی بیع کا بیان
5 Hadith
48
بیع سلم (بیع سلف) کے مسائل
5 Hadith
No chapter matched that.