مسنداحمد

Musnad Ahmad

خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان

ان اقسام کا بیان، جن میں سود پایا جاتا ہے

۔ (۵۹۶۳)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلذَّھَبُ بِالْوَرَقِ رِبًا اِلَّا ھَائَ وَھَائَ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا اِلَّا ھَائَ وَھَائَ وَالْشَعِیْرُ بِالْشَّعِیْرِ رِبًا وَالتَّمْرُ بالتَّمْرِ رِبًا اِلَّا ھَائَ وَھَائَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۲)

۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سونا چاندی کے عوض فروخت کرناسود ہے، الا یہ کہ وہ نقد و نقد ہوں، اسی طرح گندم، گندم کے عوض بیچنا سو د ہے، الا یہ کہ وہ نقد ونقد ہو، اور جو، جو کے عوض فروخت کرناسود ہے، الا یہ کہ وہ نقد و نقد ہو، اسی طرح کھجور، کھجور کے عوض فروخت کرنا سود ہے، الا یہ کہ وہ نقد و نقد ہو۔

۔ (۵۹۶۴)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْحِنْطَۃُ بِالْحِنَّطَۃِ وَالشَّعِیْرُ بِالشَّعِیْرِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ کَیْلًا بِکَیْلٍ وَزْنًا بِوَزْنٍ فَمَنْ زَادَ أَوِاسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبٰی اِلَّا مَا اخْتَلَفَ أَلْوَانُہُ۔)) (مسند احمد: ۷۱۷۱)

۔ سیدنا ابو ہر یرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گندم کے بدلے گندم، جو کے بدلے جو، کھجور کے بدلے کھجور اور نمک کے بدلے نمک ناپ تول کر اور برابر برابر فروخت کیے جائیں گے، جو زیادہ دے گا یا جو زیادتی کا مطالبہ کرے گا، وہ سود لے گا، ہاں جب اقسام مختلف ہو جائیں (تو پھر زیادہ دینےیا لینے میں کوئی حرج نہیں ہے)۔

۔ (۵۹۶۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ مَرْفُوْعًا: ((اَلذَّھَبُ بِالذَّھَبِ وَالْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ)) فَذَکَرَ َنحْوَہُ وَزَادَ فِیْ آخِرِہِ: ((اَلْآخِذُ وَالْمُعْطِیْ فِیْہِ سَوَائٌ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۵۰)

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سونے کے بدلے سونا، چاندی کے بدلے چاندی … اوپر والی حدیث کی طرح بیان کیا، البتہ اس کے آخر میںیہ اضافہ ہے: زائد لینے والا اور دینے والا، دونوں برابر ہیں۔

۔ (۵۹۶۶)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الذَّھَبُ بِالذَّھَبِ وَالْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ وَالْوَرَقُ بِالْوَرَقِ مِثْلًا بِمِثْلٍ یَدًا بِیَدٍ، مَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبٰی۔)) (مسند احمد: ۹۶۳۷)

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیع کے وقت سونے کے عوض سونا، چاندی کے عوض چاندی اور چاندی کے سکے کے عوض چاندی کا سکہ نقدو نقد اور برابر برابر ہونا چاہیے، جس نے زیادہ دیایا طلب کیا، اس نے سود لیا۔

۔ (۵۹۶۷)۔ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ أَنَّ مُعَاوِیَۃَ اشْتَرٰی سِقَایَۃً مِنْ فِضَّۃٍ بِأَقَلَّ مِنْ ثَمَنِہَا أَوْ أَکْثَرَ، قَالَ: فَقَالَ اَبُوْ الدَّرْدَائِ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ مِثْلِ ھٰذَا اِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ۔ (مسند احمد: ۲۸۰۸۱)

۔ عطاء بن یسار کہتے ہیں: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے چاندی کاایک پیالہ خریدا، اس کی قیمت میں دی گئی چاندی اس سے کم یا زیادہ تھی، سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس قسم کے سودے سے منع فرمایا ہے، ما سوائے اس کے جو برابر برابر ہو۔

۔ (۵۹۶۸)۔ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِی قِلَابَۃَ عَنْ أَبِی الْأَشْعَثِ قَالَ کَانَ أُنَاسٌ یَبِیعُونَ الْفِضَّۃَ مِنَ الْمَغَانِمِ إِلَی الْعَطَاء ِ فَقَالَ عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ نَہٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ الذَّہَبِ بِالذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ بِالْفِضَّۃِ وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِیرِ بِالشَّعِیرِ وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ إِلَّا سَوَاء ً بِسَوَاء ٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ فَمَنْ زَادَ وَاسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبٰی۔ زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: فَاِذَا اخْتَلَفَتْ فِیْہِ الْاَوْصَافُ فَبِیْعُوْا کَیْفَ شِئْتُمْ اِذَا کَانَ یَدًا بِیَدٍ۔ (مسند احمد: ۲۳۰۵۹)

۔ ابو اشعث سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: لوگ مالِ غنیمت میں سے چاندی ملنے تک اس کو بیچ دیتے تھے، سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سونے کے بدلے سونے کی، چاندی کے بدلے چاندی کی، کھجور کے بدلے کھجور کی، گندم کے بدلے گندم کی، جو کے بدلے جو کی اور نمک کے بدلے نمک کی بیع کرنے سے منع فرمایا، الا یہ کہ وہ برابر برابر ہوں، جس نے زیادہ دیایا زیادہ کا مطالبہ کیا، اس نے سودی معاملہ کیا۔ ایک روایت میں ہے: جب یہ جنسیں مختلف ہو جائیں تو جیسے چاہو خرید و فروخت کر لو، بشرطیکہ ہاتھوں ہاتھ ہو۔

۔ (۵۹۶۹)۔ عَنْ نَافِعٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَاتَبِیْعُوْا الذَّھَبَ بِالذَّھَبِ وَلَا الْوَرَقَ بِالْوَرَقِ اِلَّا مِثْـلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَہَا عَلَی بَعْضٍ، وَلَا تَبِیْعُوْا شَیْئًا غَائِبًا مِنْہَا بِنَاجِزٍ، فَاِنِّیْ أَخَافُ عَلَیْکُمُ الرَّمَائَ، وَالرَّمَائُ الرِّبَائُ، قَالَ: فَحَدَّثَ رَجُلٌ اِبْنَ عُمَرَ ھٰذَا الْحَدِیْثَ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّیُحَدِّثُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمَا تَمَّ مَقَالَتُہُ حَتّٰی دَخَلَ بِہٖعَلٰی اَبِیْ سَعِیْدٍ وَأَنَا مَعَہُ، فَقَالَ: إِنَّ ھٰذَا حَدَّثَنِیْ عَنْکَ حَدِیْثًایَزْعُمُ اَنَّکَ تُحَدِّثُہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَفَسَمِعْتَہُ؟ فَقَالَ: بَصَرَ عَیْنِیْ وسَمِعَ أُذُنِیْ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لا تَبِیْعُوا الذَّھَبَ بِالذَّھَبِ وَلَا الْوَرَقَ بِالْوَرَقِ اِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوْا بَعْضَہَا عَلٰی بَعْضٍ وَلَا تَبِیْعُوْا شَیْئًا مِنْہَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۱۹)

۔ امام نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: سونے کو سونے کے بدلے اور چاندی کو چاندی کے بدلے فروخت نہ کرو، مگر برابر برابر، ایک چیز کو دوسری کے مقابلے میں نہ بڑھاؤ اور نہ ادھار کو نقد کے ساتھ فروخت کرو، کیونکہ ایسی صورت میں مجھے سود کا اندیشہہے، اتنے میں ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس قسم کی ایک حدیث ِ نبوی سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے واسطہ سے بیان کر دی، لیکن ابھی تک اس نے اپنی بات پوری نہیں کی تھی کہ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس پہنچ گئے اور میں بھی اُن کے ساتھ تھا، وہ داخل ہوئے اور کہا: اس شخص کا خیال ہے کہ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ حدیث رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کرتے ہیں، کیا واقعتا آپ نے یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے؟ ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میری آنکھوں نے دیکھا تھا اور میرے کانوں نے سنا تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سونے کو سونے کے عوض اور چاندی کو چاندی کے عوض فروخت نہ کرو، مگر برابر برابر اور ایک چیز کو دوسرے کے مقابلے میں زیادہ نہ کرو اور نہ نقد کو ادھار کے بدلے بیچو۔

۔ (۵۹۷۰)۔ عَنْ حَکِیْمِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((اَلذَّہَبُ بِالذَّہَبِ وَالْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ مِثْلًا بِمِثْلٍ۔)) حَتَّی خَصَّ الْمِلْحَ۔ قَالَ: فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ: إِنَّ ھٰذَا لَا یَقُوْلُ شَیْئًا لِعُبَادَۃَ، فَقَالَ عُبَادَۃُ: لَا أُبَالِیْ أَنْ أَکُوْنَ بِأَرْضٍ یَکُوْنُ فِیْہَا مُعَاوِیَۃُ أَشْہَدُ أَنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۳۱۰۳)

۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سونے کے عوض سونا اور چاندی کے عوض چاندی برابر برابر ہیں۔ یہاں تک نمک کا بھی خصوصی ذکر کیا، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیدنا عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اس بات کی کوئی اہمیت نہیں، (یہ حدیث ِ نبوی نہیں ہے)۔ یہ سن کر سیدنا عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے کہ جس مقام پر میں ہوں، وہاں سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی ہوں، میںیہ شہادت دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔

۔ (۵۹۷۱)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ بَکْرَۃَ قَالَ: قَالَ لَنَا اَبُوْ بَکْرَۃَ: نَہَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ نَبْتَاعَ الْفِضَّۃَ بِالْفِضَّۃِ وَالذَّھَبَ بِالذَّھَبِ اِلَّا سَوَائً، وَأَمَرَنَا أَنْ نَبْتَاعَ الْفِضَّۃَ فِی الذَّھَبِ وَالذَّھَبَ فِی الْفِضَّۃِ، کَیْفَ شِئْنَا؟ فَقَالَ لَہُ ثَابِتُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ: یَدًا بِیَدٍ، قَالَ: ھٰذَا سَمِعْتُ۔ (مسند احمد: ۲۰۷۷۰)

۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں چاندی کے عوض چاندی اور سونے کے عوض سونا خریدنے سے منع فرمایا، الا یہ کہ وہ برابربرابر ہوں، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ چاندی کو سونے کے عوض اور سونے کو چاندی کے عوض جس طرح چاہیں سودا کر لیں۔ یہ سن کر سیدنا ثابت بن عبید اللہ نے کہا: کیا پھر نقد و نقد کی قید ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے اسی طرح سنا تھا۔

۔ (۵۹۷۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لا تَبِیْعُوا الدِّینارَ بِالدِّیْنَارَیْنِ وَلَا الدِّرْھَمَ بِالدِّرْھَمَیْنِ وَلَا الصَّاعَ بِالصَّاعَیْنِ، فَاِنِّیْ اَخَافُ عَلَیْکُمُ الرَّمَائَ۔)) وَالرَّمَائُ ھُوَ الرِّبَائُ فَقَامَ إِلَیْہِ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَاَیْتَ الرَّجُلَ یَبِیْعُ الْفَرَسَ بِالْأَفْرَاسِ وَالنَّجِیْبَۃَ بِالْاِبِلِ؟ قَالَ: ((لا بَأْسَ اِذَا کَانَ یَدًا بِیَدٍ۔)) (مسنداحمد: ۵۸۸۵)

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ فروخت کرو ایک دینار دودینارکے عوض، اور نہ ہی ایک درہم دودرہم کے عوض اور نہ ہی ایک ایک صاع، دوصاع کے عوض اس طرح مجھے ڈرہے کہ تم سود میں مبتلاہوجائو گے۔ ایک آدمی کھڑا ہوکر کہنے لگے اے اللہ کے رسول!اس بارے میں آپ کا کیا حکم ہے ؟کہ آدمی ایک گھوڑا زیادہ گھوڑوں کے عوض اور اونٹنی اونٹ کے عوض فروخت کرے۔ آپ نے فرمایا جب نقد ونقد ہوتو اس میں کوئی حرج نہیں۔

۔ (۵۹۷۳)۔ عَنْ شُرَحْبِیْلَ أَنَّ ابنَ عُمَرَ وَأَباَ ہُرَیرَۃَ وَأَبَا سَعِیْدٍ حَدَّثُوْ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الذَّھَبُ باِلذَّھَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالْفِضَّۃُ بالْفِضَّۃِ مثلاً بِمِثْلٍ، عَیْنًا بِعَیْنٍ، منْ زَادَ اَوِ ازْدَادَ فَقَدْ اَرْبیٰ۔)) قَالَ شرَحْبِیْلُ: إِنْ لَمْ أَکنْ سَمِعْتُہُ فأَدْخَلَنِیَ اللّٰہُ النَّارَ۔ (مسند احمد: ۱۱۵۷۷)

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا ابو ہر یرہ اور سیدنا ابو سعید سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سونے کے عوض سونا برابر برابر ہو اور چاندی کے بدلے میں چاندی برابر برابر ہو، بالکل ایک دوسرے کے برابر برابر ہوں، جس نے زیادہ دیایا زیادتی کا مطالبہ کیا، اس نے سود والا معاملہ کیا۔ شر حبیل کہتے ہیں: اگر میں نے یہ حدیث نہ سنی ہوتو اللہ تعالی مجھے آگ میں داخل کر دے۔