مسنداحمد

Musnad Ahmad

خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان

بیع صرف کا بیان،یعنی چاندی کو سونے کے عوض ادھار پر فروخت کرنا


۔ (۵۹۷۷)۔ عَنْ اَبِیْ قِلَابَۃَ قَالَ: قَدِمَ ھِشَامُ بْنُ عَامِرٍ الْبَصْرَۃَ فَوَجَدَھُمْ یَتَبَایَعُوْنَ الذَّھَبَ فَقَامَ فَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْ بَیْعِ الذَّھَبِ بِالْوَرِقِ نَسِیْئَۃً وَأَخْبَرَ أَوْقَالَ: إِنَّ ذٰلِکَ ھُوَ الرِّبَا۔ (مسند احمد: ۱۶۳۷۴)

۔ ابو قلابہ سے روایت ہے کہ سیدنا ہشام بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بصرہ میں آئے اور وہاں لوگوں کو دیکھا کہ وہ (ادھار پر چاندی کے بدلے) سونا خریدتے تھے، پس وہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ادھار پر سونے کو چاندی کے عوض بیچنے سے منع کیا ہے، نیز فرمایا کہ یہ سود ہے۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۵۹۷۷) مرفوعہ صحیح لغیرہ،، وھذا اسناد ضعیف لانقطاعہ، ابو قلابۃ لم یسمع من ھشام بن عامر۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۲/ ۴۵۷،و ابویعلی: ۱۵۵۴، وعبد الرزاق: ۱۴۵۴۵ (انظر: ۱۶۲۶۶)