۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تجارت دست بدست ہو،اس میں کوئی سود نہیں ہوتا۔ یعنی سود صرف ادھار میںہوتا ہے، ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سود ادھار میں ہوتا ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تجارت دست بدست ہو،اس میں کوئی سود نہیں ہوتا۔ یعنی سود صرف ادھار میںہوتا ہے، ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سود ادھار میں ہوتا ہے۔
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سود نہیں ہے، مگر ادھار میں۔
۔ یحییٰ بن قیس مازنی کہتے ہیں: میں نے امام عطاء سے سوال کیا کہ جب دینار کے بدلے دینار اور درہم کے بدلے درہم کی تجارت کی جا رہی ہو تو ان میں کمی بیشی ہو سکتی ہے؟ انھوں نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تو اس کو حلال قرار دیتے تھے، سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدناابن عباس رضی اللہ عنہ وہ امور بیان کرتے ہیں،جو انھوں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں سنے، پس جب یہ بات اُن تک پہنچی تو انھوں نے کہا: واقعی میں نے خود یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں سنی، البتہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سود نہیں ہے، مگر ادھار میں۔
۔ ابو صالح کہتے ہیں: جب میں نے ابو سعید کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ سونے کے بدلے میں سونا برابر برابر ہونا چاہیے تو میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کو ملا اور ان سے کہا: تم جو کچھ کہتے ہو، اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے، آیا تم نے یہ چیز قرآن مجید میںپائی ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا: یہ ایسی چیز نہیں ہے کہ جس کو میں نے کتاب اللہ میں پایا ہو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہو، مجھے تو سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے خبرد ی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سود تو ادھار میں ہے۔
۔ ذکوان کہتے ہیں: سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا اور کہا:ان سے بیع صرف کے بارے میںپوچھنا کہ آیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسی حدیث سنی ہے جو ہم نہیں سن پائے یا تم نے اللہ تعالی کی کتاب میں کوئی ایسی چیز پڑھی ہے، جو ہم نہیں پڑھ سکے؟ انہوں نے جواباً کہا: میں ایسی کوئی حدیث بیان نہیں کرتا، بات یہ ہے کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی سود نہیں ہے، مگر ادھار میں۔
۔ سلیمان بن علی ربعی کہتے ہیں: ابو جوز ا ء نے ہمیں کئی بار بیان کیاہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بیع صرف کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ ایک کے بدلے دو ہوں یا زیادہ ہوں یا کم ہوں، جب میں اگلی بار حج کے لیے گیا تو یہ بزرگ ابھی تک زندہ تھے، میں ان کے پاس آیا اور بیع صرف کے بارے میں دوبارہ سوال کیا، انھوں نے کہا: وزن میں برابر ہونا چاہیے، میں نے کہا: آپ نے مجھے یہ فتوی دیا تھا کہ ایک کے بدلے دو بھی ہو سکتے ہیں، میں اس وقت سے یہی فتوی دیتا رہا ہوں؟ انھوں نے کہا: یہ میری رائے تھی، اب سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیاہے (کہ یہ سود ہے)، اس لیے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث کی وجہ سے اپنی رائے چھوڑ دی ہے۔