TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نقد و نقد سودا ہونے کی صورت میں ایک جنس میں تفاضل کے جواز کے قائلین کی دلیل - نقد و نقد سودا ہونے کی صورت میں ایک جنس میں تفاضل کے جواز کے قائلین کی دلیل - خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 43 of خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 43 of 48 · 7 Hadith
۔ (۵۹۸۱، ۵۹۸۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا رِبَا فِیْمَا کَانَ یَدًا بِیَدٍ۔)) قَالَ: یَعْنِی إِنَّمَا الرِّبَا فِی النَّسَائِ۔ (وَفِیْ لَفْظٍ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الرِّبَا فِی النَّسِیْئَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۸۶، ۲۲۱۳۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تجارت دست بدست ہو،اس میں کوئی سود نہیں ہوتا۔ یعنی سود صرف ادھار میںہوتا ہے، ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سود ادھار میں ہوتا ہے۔
Takhreej
(۵۹۸۱و ۵۹۸۲) ) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۱۷۸، ۲۱۷۹، ومسلم: ۱۵۹۶(انظر: ۲۱۷۴۳)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ نہیں کہ ربا الفضل جائز ہے، اگلی حدیث کے فوائد پڑھیں، سیدنا ابن عباسdپہلے تو صرف ربا النسیئہ کو تسلیم کرتے تھے، لیکن بعد میں انھوں نے اس رائے سے رجوع کر لیا تھا، جیسا کہ اس باب کی آخری حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔
5981
Sahih
۔ (۵۹۸۱، ۵۹۸۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا رِبَا فِیْمَا کَانَ یَدًا بِیَدٍ۔)) قَالَ: یَعْنِی إِنَّمَا الرِّبَا فِی النَّسَائِ۔ (وَفِیْ لَفْظٍ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الرِّبَا فِی النَّسِیْئَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۸۶، ۲۲۱۳۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تجارت دست بدست ہو،اس میں کوئی سود نہیں ہوتا۔ یعنی سود صرف ادھار میںہوتا ہے، ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سود ادھار میں ہوتا ہے۔
Takhreej
(۵۹۸۱و ۵۹۸۲) ) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۱۷۸، ۲۱۷۹، ومسلم: ۱۵۹۶(انظر: ۲۱۷۴۳)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ نہیں کہ ربا الفضل جائز ہے، اگلی حدیث کے فوائد پڑھیں، سیدنا ابن عباسdپہلے تو صرف ربا النسیئہ کو تسلیم کرتے تھے، لیکن بعد میں انھوں نے اس رائے سے رجوع کر لیا تھا، جیسا کہ اس باب کی آخری حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔
5982
Sahih
۔ (۵۹۸۳)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ حَدَّثَنِیْ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ ((لَا رِبَا اِلَّا فِی النَّسِیْئَۃِ))(مسند احمد:۲۲۱۰۵)
۔ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سود نہیں ہے، مگر ادھار میں۔
Takhreej
(۵۹۸۳) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… سیدنا اسامہ bکی حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک جنس کے تبادلہ کے وقت ایک طرف سے زیادتییا کمی کی صورت میں کوئی سود نہیں ہوتا، لیکن اس بات پر مسلمانوں کا اجماع ہو چکا ہے کہ اس حدیث کے ظاہر پر عمل نہیں کیا جائے گا، جیسا امام نووی نے شرح مسلم میں کہا اور امام خطابی نے (اعلام الحدیث: ۲/ ۱۰۶۷) میں کہا: اہل علم نے سیدنا اسامہ bکی حدیث کی اس طرح توجیہ کی ہے کہ یہ صرف حدیث کا آخری حصہ سن سکے ہیں، پہلا حصہ اِن سے رہ گیا تھا، اس کی صورت یہ بنتی ہے کہ جب آپ a سے کھجور کے بدلے جو کییا گندم کے بدلے کھجور کییا سونے کے بدلے چاندی کی تفاضل کے ساتھ بیعکرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ a نے فرمایا: ((اِنَّمَا الرِّبَا فِیْ النَّسِیْئَۃِ۔)) … ’’سود تو صرف ادھار میں ہے۔‘‘ آپa کی مراد یہ تھی کہ اس قسم کے مسئلے میں ادھار میں سود پایا جائے گا، یعنی جب جنسیں مختلف ہو جائیں تو ان میں تفاضل تو جائز ہے، بشرطیکہ وہ نقد و نقد ہوں، ہاں جب ان میں ادھار گھس آیا تو سود لازم آئے گا۔ یہ توجیہ اور معنی اس بنا پر کیا گیا ہے کہ سیدنا اسامہ bکی روایت کے مفہوم کے بر خلاف امت کا اجماع ہو چکا ہے۔ اگر امام خطابی کی تاویل نہ کی جائے اور کہا جائے کہ آپ a نے اس حدیث میں صرف ربا النسیئہ کو حرام قرار دیا ہے تو دوسری خاص نصوص کی روشنی میں ربا الفضل کو بھی ممنوع قرار دیا جائے گا۔ یہ توجیہ کرنے کی اصل بنیاد تو یہ ہے کہ ربا الفضل کی صورت احادیث کے لحاظ سے ناجائز اور حرام ہے اس لیےیہ ممکن نہیں ہے کہ عام لحاظ سے کہا جائے کہ سود صرف ادھار میں ہے۔ اہل علم ’’سود تو صرف ادھار میں ہے‘‘ کی ایک توجیہیہ بھی کرتے ہیں کہ سود کا بڑا حصہ یہ زیادہ تر سود ادھار میں ہے، یہ مقصد نہیں کہ ادھار کے علاوہ سود کی کوئی صورت نہیں جیسے کہا جاتا ہے کہ شاعر تو صرف فلان ہے، خطیب تو صرف فلان ہے۔ اس سے مقصد دوسرے لوگوں کی شاعری اور خطابت کی نفی نہیں بلکہ کمال درجہ کا شاعر اور خطیب مراد ہوتا ہے۔ (عبداللہ رفیق)
5983
Sahih
۔ (۵۹۸۴)۔ عَنْ یَحْیَی بنِ قَیْسٍ المَازَنیِّ قَالَ: سَاَلْتُ عَطَائً عَنِ الدِّینَارِ بالدِّینَارِ وَبَیْنَہُمَا فَضْلٌ وَالدِّرْھَمِ بالدِّرْھَمِ؟ قَالَ: کَانَ ابنُ عَبَّاسٍ یُحِلُّہُ، فَقَالَ ابنُ الزُّبَیْرِ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ یُحَدِّثُ بِمَا لَمْ یَسْمَعْ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَبَلَغَ ابنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: إِنِّیْ لَمْ أَسْمَعْہُ منْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلٰکِنْ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنِیْ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ الرِّبَا اِلاَّ فِی النَّسِیْئَۃِ اَوِ النَّظِرَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۱۳۹)
۔ یحییٰ بن قیس مازنی کہتے ہیں: میں نے امام عطاء سے سوال کیا کہ جب دینار کے بدلے دینار اور درہم کے بدلے درہم کی تجارت کی جا رہی ہو تو ان میں کمی بیشی ہو سکتی ہے؟ انھوں نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تو اس کو حلال قرار دیتے تھے، سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیدناابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وہ امور بیان کرتے ہیں،جو انھوں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نہیں سنے، پس جب یہ بات اُن تک پہنچی تو انھوں نے کہا: واقعی میں نے خود یہ حدیث رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نہیں سنی، البتہ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ سود نہیں ہے، مگر ادھار میں۔
Takhreej
(۵۹۸۴) تخریج: انظر الحدیث السابق
5984
Sahih
۔ (۵۹۸۵)۔ عَنْ اَبیْ صَالِحٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبا سَعِیْدٍیَقُوْلُ: الذَّھَبُ بِالذَّھَبِ وَزْنًا بوَزْنٍ، قَالَ: فَلَقِیْتُ ابنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ: أَرَأیتَ مَا تَقُوْلُ، أَشَیْئًا وَجَدْتَّہُ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ أَوْ سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: لَیْسَ بِشَیْئٍ وَجَدْتُّہُ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ أَوْ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلٰکِنْ أَخْبَرَنِیْ اُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلرِّبَا فِی النَّسِیْئَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۹۳)
۔ ابو صالح کہتے ہیں: جب میں نے ابو سعید کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ سونے کے بدلے میں سونا برابر برابر ہونا چاہیے تو میں سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملا اور ان سے کہا: تم جو کچھ کہتے ہو، اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے، آیا تم نے یہ چیز قرآن مجید میںپائی ہے یا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا: یہ ایسی چیز نہیں ہے کہ جس کو میں نے کتاب اللہ میں پایا ہو یا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا ہو، مجھے تو سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے خبرد ی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ سود تو ادھار میں ہے۔
Takhreej
(۵۹۸۵) تخریج: انظر الحدیث السابق
5985
Sahih
۔ (۵۹۸۶)۔ عَنْ ذَکْوَانَ قَالَ: أَرْسَلَنِیْ اَبُوْ سَعِیْدٍ الخُدْرِیُّ اِلٰی ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قُلْ لَہُ فِی الصَرْفِ، أَسَمِعْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا لِمْ نَسْمَعْ أَوْ قَرَأْتَ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مَا لَمْ نَقْرَأْ؟ قَالَ: بِکُلٍّ لَا أَقُوْلُ وَلٰکنْ سَمِعْتُ أُسامَۃَ بنَ زَیدٍیُحَدِّثُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَارِبًا اِلاَّ فِی الدَّیْنِ)) أَوْ قَالَ: ((فِیْ النَّسِیْئَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۱۶۰)
۔ ذکوان کہتے ہیں: سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف بھیجا اور کہا:ان سے بیع صرف کے بارے میںپوچھنا کہ آیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایسی حدیث سنی ہے جو ہم نہیں سن پائے یا تم نے اللہ تعالی کی کتاب میں کوئی ایسی چیز پڑھی ہے، جو ہم نہیں پڑھ سکے؟ انہوں نے جواباً کہا: میں ایسی کوئی حدیث بیان نہیں کرتا، بات یہ ہے کہ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی سود نہیں ہے، مگر ادھار میں۔
Takhreej
(۵۹۸۶) تخریج: انظر الحدیث السابق
5986
Sahih
۔ (۵۹۸۷)۔ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ عَلِیٍّ الرَّبْعِیِّ حَدَّثَنَا اَبُو الْجَوْزَائ، غَیْرَ مَرَّۃٍ قَالَ: سَاَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّرْفِ یَدً ابِیَدٍ؟ فَقَالَ: لَا بَأْسَ بِذٰلِکَ اثْنَیْنِ بِوَاحِدٍ أَکْثَرُ مِنْ ذٰلِکَ وَأَقَلُّ، قَالَ: ثُمَّ حَجَجْتُ مَرَّۃً أُخْرٰی وَالشَّیْخُ حَیٌّ، فَأَتَیْتُہُ فَسَأَلْتُہُ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَ: وَزْنًا بِوَزْنٍ، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّکَ قَدْ أَفْتَیْتَنِی اثْنَیْنِ بِوَاحِدٍ فَلَمْ أَزَلْ أُفْتِیْ بِہٖمُنْذُأَفْتَیْتَنِیْ، فقَالَ: إِنَّ ذٰلِکَ کَانَ عَنْ رَأْیِیْ وَھٰذَا اَبُوْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیُّیُحَدِّثُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتَرَکْتُ رَأْیِیْ اِلٰی حَدِیْثِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۱۴۹۹)
۔ سلیمان بن علی ربعی کہتے ہیں: ابو جوز ا ء نے ہمیں کئی بار بیان کیاہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیع صرف کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ ایک کے بدلے دو ہوں یا زیادہ ہوں یا کم ہوں، جب میں اگلی بار حج کے لیے گیا تو یہ بزرگ ابھی تک زندہ تھے، میں ان کے پاس آیا اور بیع صرف کے بارے میں دوبارہ سوال کیا، انھوں نے کہا: وزن میں برابر ہونا چاہیے، میں نے کہا: آپ نے مجھے یہ فتوی دیا تھا کہ ایک کے بدلے دو بھی ہو سکتے ہیں، میں اس وقت سے یہی فتوی دیتا رہا ہوں؟ انھوں نے کہا: یہ میری رائے تھی، اب سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیاہے (کہ یہ سود ہے)، اس لیے میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اس حدیث کی وجہ سے اپنی رائے چھوڑ دی ہے۔
Takhreej
(۵۹۸۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۲۵۸ (انظر: ۱۱۴۷۹)
5987
Sahih

Chapters

48
01
ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
9 Hadith
02
اس چیز کا بیان کہ سب سے بہترین کمائی تجارت اور آدمی کا اپنے ہاتھوں سے کام کرنا ہے، نیز اس امر کا بیان کہ بندے کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے
6 Hadith
03
بادشاہ کے عطیے اور عاملین زکوٰۃ کی کمائی کا بیان
9 Hadith
04
زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
05
بکریوں کو پالنے، ان کی برکت اور ان کو چرانے کا بیان
5 Hadith
06
سینگی لگانے والوں، لونڈیوں، قصاب اور سنار وغیرہ کی کمائی کا بیان
14 Hadith
07
ٹیکس وصول کرنے والوں اور سرداروں کی کمائی کا بیان
9 Hadith
08
تجارت کے ذریعے کمائی کرنے کا بیان خرید و فروخت میں سچائی اور امانت اور ان کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
09
سودا فروخت کرنے کے لیے جھوٹ بولنے اور قسم اٹھانے کی مذمت اور بازاروں کی مذمت کا بیان
7 Hadith
10
تجارت میں نرمی اختیار کرنے اور دررگزر کرنے، سودا واپس کرنے اور اچھا معاملہ کرنے اور اس کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
11
گھریا زمین کو فروخت کر کے اس کی قیمت کو اس جیسی چیز میں خرچ نہ کرنے والے کا بیان
3 Hadith
12
ان چیزو ں کا بیان کہ جن کی تجارت جائزنہیں ہے شراب، نجس اور بے فائدہ چیزوں کی تجارت کا بیان
11 Hadith
13
کتے، بلی اور چوری کی ہوئی بکری کی قیمت، زانیہ کی کمائی، نجومی کی مٹھائی اور گانے والیوں کی خریدو فروخت سے ممانعت کا بیان
10 Hadith
14
وَلاء اور زائد پانی کو فروخت کرنے اور سانڈ کی جفتی کی اجرت لینے سے نہی کا بیان
6 Hadith
15
دھوکے والی چیزوں کی تجارت سے ممانعت کا بیان
8 Hadith
16
ملامسہ اور منابذہ کی بیع سے ممانعت کا بیان
3 Hadith
17
مزابنہ اور محاقلہ کی تجارت اور ہر تر کو خشک کے عوض فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
10 Hadith
18
بیع عرایا کی اجازت اور اسثناء والی بیع کی ممانعت کابیان، الا یہ کہ اس کو معین کر دیا جائے
7 Hadith
19
اصولیعنی درختوں اور پھلوں کو فروخت کرنے کے بارے میں ابواب پیوند کاری کیا ہواکھجور کا درخت فروخت کرنے کا بیان
2 Hadith
20
پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے ان کو فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
12 Hadith
21
پھلوں کا اندازہ لگانے، سالوں کی بیع اور آفتوں کو معاف کر دینے کا بیان
3 Hadith
22
بیع عینہ، ایک سودے میں دو سودوں اور بیع عربون سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
23
ایک آدمی کا ایک خریدار کو کوئی چیز بیچنا، پھر وہی چیز کسی اور کو بیچ دینا اور ایسی چیز کی بیع کرنے کی ممانعت کہ بیچنے والا جس کا مالک نہ ہو اور وہ اس کو خرید کر اُس کے سپرد کر دے
3 Hadith
24
خریدار کو قبضے میں لینے سے پہلے خریدی ہوئی چیز کو آگے فروخت کر دینے کی ممانعت کا بیان
10 Hadith
25
ماپ اور وزن کرنے کے حکم اور دو صاع چلائے بغیر اناج کی بیع کرنے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
26
قافلوںکوملنے اور شہری کا دیہاتی کے لئے تجارت کرنے کی ممانعت کا بیان
9 Hadith
27
بیع نجش اور آدمی کی بیع پر بیع کرنے کی ممانعت کا بیان، ما سوائے بیع مزایدہ کے
9 Hadith
28
غلام کی تجارت کا اور محرم غلاموں کے مابین تفریق ڈالنے کی ممانعت کا بیان
2 Hadith
29
گواہ کے بغیر تجارت کرنے کا اور اس سلسلے میں سیدنا خزیمہ بن ثابت کی عظیم منقبت کا بیان
1 Hadith
30
تجارت میں شرطوں کے ابواب فروخت شدہ چیز سے فائدہ اٹھانے اور مزید اس قسم کی شرط لگانے کا بیان
2 Hadith
31
فاسد شرط کے ہونے کے باوجود تجارت کے عقد کے صحیح ہونے کا بیان
1 Hadith
32
تجارت میں غبن اور دھوکے سے سلامتی کی شرط کا بیان
3 Hadith
33
مجلس کے اختیار کا بیان
7 Hadith
34
عیوب کے احکام کے ابواب عیب کو واضح کر دینے، دھوکہ نہ کرنے اور دھوکہ کرنے والے کی وعید کا بیان
7 Hadith
35
اس جانور کا بیان، جس کا دودھ روکا گیا ہو
5 Hadith
36
غلام کی ضمانت اور اس چیز کا بیان کہ تازہ کی ہوئی کمائی عیب کی وجہ سے سودا واپس کرنے میں رکاوٹ نہیں بنے گی
3 Hadith
37
ذخیرہ اندوزی کی مذمت کا بیان
4 Hadith
38
بھائو مقرر کرنے کا بیان
4 Hadith
39
خریدوفروخت کرنے والوں کے مابین اختلاف ہو جانے کا بیان
5 Hadith
40
سود کے ابواب سود کے بارے میں سختی کا بیان
9 Hadith
41
ان اقسام کا بیان، جن میں سود پایا جاتا ہے
11 Hadith
42
بیع صرف کا بیان،یعنی چاندی کو سونے کے عوض ادھار پر فروخت کرنا
7 Hadith
43
نقد و نقد سودا ہونے کی صورت میں ایک جنس میں تفاضل کے جواز کے قائلین کی دلیل
7 Hadith
44
سونے کے عوض ایسی چیز بیچنے کابیان کہ جس میں سونا بھی ہو اور اس کے علاوہ کوئی چیز بھی ہو
3 Hadith
45
درہم و دینار کوتوڑنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی مجبوری ہو
1 Hadith
46
بوقت ِ تجارت اناج کے برابر برابر ہونے کا بیان
5 Hadith
47
تفاضل کا بیان اور جن چیزوں کو ماپا اور جن کا وزن نہ کیا جا سکتا ہو، ان میں ادھار کا اور حیوان کے عوض گوشت کی بیع کا بیان
5 Hadith
48
بیع سلم (بیع سلف) کے مسائل
5 Hadith
No chapter matched that.