مسنداحمد

Musnad Ahmad

خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان

سونے کے عوض ایسی چیز بیچنے کابیان کہ جس میں سونا بھی ہو اور اس کے علاوہ کوئی چیز بھی ہو

۔ (۵۹۸۸)۔ عَنْ فُضَالۃَ بْنِ عُبَیْدٍ قَالَ: أُتِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقِلَادَۃٍ فِیْہَا ذَھَبٌ وَخَرْزٌ تُبَاعُ وَھِیَ مِنَ الْغَنَائِمِ فَأَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالذَّھَبِ الَّذِیْ فِی الْقِلَادَۃِ فَنُزِعَ وَحْدَہُ ثُمَّ قَالَ: ((الذَّھَبُ بِالذَّھَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ)) (مسند احمد: ۲۴۴۳۶)

۔ سیدنا فضالہ بن عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک ہار لایا گیا، اس میں سونا اور موتی تھے اور وہ برائے فروخت تھا اور وہ مال غنیمت سے حاصل ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ ہار میں جو سونا ہے، اس کو الگ کر دیا جائے، پھر فرمایا: سونے کو سونے کے بدلے برابر برابر فروخت کیا جاتا ہے۔

۔ (۵۹۸۹)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: اِشْتَرَیْتُ قِلَادَۃًیَوْمَ خَیْبَرَ بِاِثْنَیْ عَشَرَ دِیْنَارًا فِیْہَا ذَھَبٌ وَخَرْزٌ فَفَصَّلْتُہَا فَوَجَدْتُّ فِیْہَا أَکْثَرَ مِنَ اثْنَیْ عَشَرَ دِیْنَارًا فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((لَا تُبَاعُ حَتّٰی تُفَصَّّلَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۶۲)

۔ سیدنا فضالہ بن عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے خیبر والے دن بارہ دینار میں ایک ہار خریدا، اس میں سونا اور موتی تھے۔ جب میں نے اسے علیحدہ علیحدہ کیا تو اس کا سونا ہی بارہ دینار سے زیادہ نکلا، جب میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات بتلائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تک اس کو علیحدہ علیحدہ نہ کیا گیا ہو، اس وقت تک اس کو فروخت نہ کیا جائے۔

۔ (۵۹۹۰)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ فَتْحِ خَیْبَرَ فَبَاعَ الْیَہُوْدُ الْأُوْقِیَۃَ الذَّّھَبَ بِالدِّیْنَارَیْنِ وَالثَّلَاثَۃِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَبِیْعُوْا الذَّھَبَ بِالذَّھَبِ اِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۶۸)

۔ سیدنا فضالہ بن عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم خیبر کی فتح کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، یہودیوں نے ایک اوقیہ کے برابر سونا دو دو اور تین تین دیناروں کے عوض فروخت کیا، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سونے کے عوض سونا فروخت نہ کیا کرو، الا یہ کہ برابر برابر ہو۔