TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بوقت ِ تجارت اناج کے برابر برابر ہونے کا بیان - بوقت ِ تجارت اناج کے برابر برابر ہونے کا بیان - خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 46 of خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 46 of 48 · 5 Hadith
۔ (۵۹۹۲)۔ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْعَدَوِیِّ أَنَّہُ أَرْسَلَ غُلَامًا لَہُ بِصَاعٍ مِنْ قَمْحٍ فَقَالَ لَہُ: بِعْہُ ثُمَّ اشْتَرِ بِہِ شَعِیْرًا، فَذَھَبَ الْغُلَامُ فَأَخَذَ صَاعًا وَزِیَادَۃَ بَعْضِ صَاعٍ فَلَمَّا جَائَ مَعْمَرًا أَخْبَرَہُ بِذٰلِکَ فَقَالَ لَہُ مَعْمَرٌ: أَفَعَلْتَ؟ اِنْطَلِقْ فَرُدَّہُ وَلَا تَأْخُذْ اِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَاِنِّیْ کُنْتُ أَسْمَعُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ۔)) وَکَانَ طَعَامُنَا یَوْمَئِذٍ الشَّعِیْرَ، قِیْلَ: فَإِنَّہُ لَیْسَ مِثْلَہُ، قَالَ: إِنِّیْ أَخَافُ أَنْ یُضَارِعَ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۹۲)
۔ سیدنا معمر بن عبداللہ عدوی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک غلام کوبھیجا کہ وہ گندم کا ایک صاع لے جائے اور اسے پہلے فروخت کرے اور پھر اس کے عوض جَو خرید کر لائے، پس وہ غلام گیا اور ایک صاع سے زیادہ جو خرید کر آ گیا، جب وہ سیدنا معمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اورسودے کے بارے میں ان کو بتایا تو انھوں نے پوچھا: کیا تو واقعی اس طرح کر کے آیا ہے؟ واپس چل اور یہ سودا واپس کر دے اور اس کے عوض برابر برابر ہی لینا ہے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اناج کے بدلے اناج فروخت کرتے وقت برابر برابر ہو۔ اس وقت ہمارا کھانا جَو ہوتا تھا، کسی نے کہا: یہ تو ہم جنس ہی نہیں ہے، لیکن سیدنا معمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں ڈرتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس سے مشابہت ہو جائے۔
Takhreej
(۵۹۹۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۵۹۲(انظر: ۲۷۲۵۰)
Explanation
فوائد:… یہ محض سیدنا معمر b کی احتیاط تھی،وگرنہ جب جنس مختلف ہو جائے تو اس میں کمی بیشی کی کھلی اجازت ہے، جیسا کہ ’’ان اقسام کا بیان، جن میں سود پایا جاتا ہے‘‘ کے باب میں تفصیل گزر چکی ہے۔
5992
Sahih
۔ (۵۹۹۳)۔ عَنْ اَبِیْ دُھْقَانَۃَ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ: أَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ضَیْفٌ، فَقَالَ لِبِلَالٍ: ((إِئْتِنَا بِطَعَامٍ۔)) فَذَھَبَ بِلَالٌ فَأَبْدَلَ صَاعَیْنِ مِنْ تَمْرٍ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ جَیِّدٍ وَکَانَ تَمْرُھُمْ دُوْنًا فَأَعْجَبَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم التَّمْرُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مِنْ أَیْنَ ھٰذَا التَّمْرُ؟)) فَأَخْبَرَہُ أَنَّہُ أَبْدَلَ صَاعًا بِصَاعَیْنِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (رُدَّ عَلَیْنَا تَمْرَنَا۔)) (مسند احمد: ۴۷۲۸)
۔ ابودہقانہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں ایک مہمان آیا، آپ نے سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: ہمارے لئے کھانا لائو۔ سو وہ گئے اور کھجوروں کے دو صاع دے کر ان کے بدلے میں اچھی کھجوروں کا ایک صاع لیا، ان کی اپنی کھجوریں ناقص تھیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ کھجوریں بہت پسند آئی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ـ: یہ کھجور کہاں سے آئی ہے؟ سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا اس نے دوصاع کے عوض اِن کھجوروں کا ایک صاع لیا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہماری کھجوریں واپس لے کر آؤ۔
Takhreej
(۵۹۹۳) تخریج: حسن۔ أخرجہ ابویعلی: ۵۷۱۰، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۰۲۸، والدارمی: ۲/ ۲۵۷، والبزار: ۱۴۱۶ (انظر: ۴۷۲۸)
Explanation
فوائد:… کھجوروں کے ایک صاع کے عوض دو صاع کا لین دین سودی معاملہ ہے، اگلی احادیث میں بھی اسی چیز کو بیان کیا گیا ہے، اس کو ربا الفضل کہتے ہیں، جیسا کہ پہلے تفصیل گزر چکی ہے۔
5993
Sahih
۔ (۵۹۹۴)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُتِیَ بِتَمْرٍ رَیَّانَ وَکَانَ تَمْرُ نَبِیِّ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَمْرًا بَعْلًا فِیْہِیَبْسٌ، فَقَالَ: ((أَنّٰی لَکُمْ ھٰذَا التَّمْرُ؟)) فَقَالُوْا: ھٰذَا تمرٌ اِبْتَعْنَا صَاعًا بِصَاعَیْنِ مِنْ تَمْرِنَا، فقَالَ: النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَصْلُحُ ذَالِکَ، وَلٰکِنْ بِعْ تَمْرَکَ ثُمَّ ابْتَعْ حَاجَتَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴۳۲)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ترو تازہ اور سیرابی کھجوریں لائی گئیں جبکہ آپ کی کھجوروں بارانی تھیں اور ان میں خشکی آ گئی تھی، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: یہ کھجوریں کہاں سے آئی ہیں۔ لوگوں نے کہا: جی ہم نے دو صاع دے کر ان کھجوروں کا ایک صاع لیا ہے، آپ نے فرمایا: یہ سودا درست نہیں ہے، پہلے تم اپنی کھجوریں علیحدہ بیچو، پھر اس کی قیمت سے اس قسم کی اپنی ضرورت پوری کرو۔
Takhreej
(۵۹۹۴) تخریج: أخرجہ بنحوہ البخاری: ۲۲۰۱، ۲۲۰۲، ۲۳۰۲، ۲۳۰۳، ۴۲۴۴، ۷۳۵۰، ومسلم: ۱۵۹۳(انظر: ۱۱۴۱۲)
5994
Sahih
۔ (۵۹۹۵)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ، قَالَ یَزِیْدُ: تَمْرًا مِنْ تَمْرِ الْجَمْعِ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَبِیْعُ الصَّاعَیْنِ بِالصَّاعِ فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فقَالَ: ((لا صَاعَیْ تَمْرٍ بِصَاعٍ، وَلَا صَاعَیْ حِنْطَۃٍ بِصَاعٍ وَلَا دِرْھَمَیْنِ بِدِرْھَمٍ۔)) قَالَ یَزِیْدٌ: ((لَاصَاعَا تَمْرٍ بِصَاعٍٍ وَلَا صَاعَا حِنْطَۃٍ بِصَاعٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴۷۷)
۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں عہد ِ نبوی میں ملی جلی کھجوریں دی جاتی تھیں، اس لیے ہم ان میں سے دو صاع دے کر (اچھی کھجوروں) کا ایک صاع خریدتے تھے، لیکن جب یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کھجوروں کے دو صاع ایک صاع کے بدلے میں نہیں، گندم کے دو صاع ایک صاع کے عوض نہیں، چاندی کے دو درہم ایک درہم کے بدلے میں نہیں۔
Takhreej
(۵۹۹۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۰۸۰، ومسلم: ۱۵۹۵ (انظر: ۱۱۴۵۷)
Explanation
فوائد:… یزید کی روایت میں ’’صَاعَا‘‘ کو مرفوع پڑھا گیا ہے، اس کی تین وجوہات ہو سکتی ہے: ’’لَا‘‘ کا عمل باطل ہو گیا،یایہ ’’لَا‘‘ مشابہ بلیس ہے یا ’’لَا‘‘ کے بعد ’’یَصِحُّ‘‘ محذوف ہے۔
5995
Sahih
۔ (۵۹۹۶)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَسَمَ بَیْنَہُمْ طَعَامًا مُخْتَلِفًا بَعْضُہُ أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ، قَالَ: فَذَھَبْنَا نََتَزَایَدُ بَیْنَنَا، فَمَنَعَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ نَتَبَایَعَہُ اِلَّا کَیْلًا بِکَیْلٍ لَا زِیَادَۃَ فِیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۱۷۹۳)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے درمیان ایسا اناج تقسیم کیا کہ جس کی کچھ مقدار دوسری سے بہتر تھی، اس وجہ سے ہم نے آپس میں کمی بیشی کے ساتھ اس کی بیع شروع کر دی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اس طرح کی بیع کرنے سے منع کر دیا، الا یہ کہ وہ ماپ میں برابر ہوں اور کسی طرف سے کوئی مقدار میں زیادتی نہ ہو۔
Takhreej
(۵۹۹۶) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۷/ ۱۰۱ (انظر: ۱۱۷۷۱)
Explanation
فوائد:… ان احادیث میں سود کی جس قسم سے منع کیا گیا ہے، اس کو ربا الفضل کہتے ہیں، پہلے اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔
5996
Sahih

Chapters

48
01
ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
9 Hadith
02
اس چیز کا بیان کہ سب سے بہترین کمائی تجارت اور آدمی کا اپنے ہاتھوں سے کام کرنا ہے، نیز اس امر کا بیان کہ بندے کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے
6 Hadith
03
بادشاہ کے عطیے اور عاملین زکوٰۃ کی کمائی کا بیان
9 Hadith
04
زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
05
بکریوں کو پالنے، ان کی برکت اور ان کو چرانے کا بیان
5 Hadith
06
سینگی لگانے والوں، لونڈیوں، قصاب اور سنار وغیرہ کی کمائی کا بیان
14 Hadith
07
ٹیکس وصول کرنے والوں اور سرداروں کی کمائی کا بیان
9 Hadith
08
تجارت کے ذریعے کمائی کرنے کا بیان خرید و فروخت میں سچائی اور امانت اور ان کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
09
سودا فروخت کرنے کے لیے جھوٹ بولنے اور قسم اٹھانے کی مذمت اور بازاروں کی مذمت کا بیان
7 Hadith
10
تجارت میں نرمی اختیار کرنے اور دررگزر کرنے، سودا واپس کرنے اور اچھا معاملہ کرنے اور اس کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
11
گھریا زمین کو فروخت کر کے اس کی قیمت کو اس جیسی چیز میں خرچ نہ کرنے والے کا بیان
3 Hadith
12
ان چیزو ں کا بیان کہ جن کی تجارت جائزنہیں ہے شراب، نجس اور بے فائدہ چیزوں کی تجارت کا بیان
11 Hadith
13
کتے، بلی اور چوری کی ہوئی بکری کی قیمت، زانیہ کی کمائی، نجومی کی مٹھائی اور گانے والیوں کی خریدو فروخت سے ممانعت کا بیان
10 Hadith
14
وَلاء اور زائد پانی کو فروخت کرنے اور سانڈ کی جفتی کی اجرت لینے سے نہی کا بیان
6 Hadith
15
دھوکے والی چیزوں کی تجارت سے ممانعت کا بیان
8 Hadith
16
ملامسہ اور منابذہ کی بیع سے ممانعت کا بیان
3 Hadith
17
مزابنہ اور محاقلہ کی تجارت اور ہر تر کو خشک کے عوض فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
10 Hadith
18
بیع عرایا کی اجازت اور اسثناء والی بیع کی ممانعت کابیان، الا یہ کہ اس کو معین کر دیا جائے
7 Hadith
19
اصولیعنی درختوں اور پھلوں کو فروخت کرنے کے بارے میں ابواب پیوند کاری کیا ہواکھجور کا درخت فروخت کرنے کا بیان
2 Hadith
20
پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے ان کو فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
12 Hadith
21
پھلوں کا اندازہ لگانے، سالوں کی بیع اور آفتوں کو معاف کر دینے کا بیان
3 Hadith
22
بیع عینہ، ایک سودے میں دو سودوں اور بیع عربون سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
23
ایک آدمی کا ایک خریدار کو کوئی چیز بیچنا، پھر وہی چیز کسی اور کو بیچ دینا اور ایسی چیز کی بیع کرنے کی ممانعت کہ بیچنے والا جس کا مالک نہ ہو اور وہ اس کو خرید کر اُس کے سپرد کر دے
3 Hadith
24
خریدار کو قبضے میں لینے سے پہلے خریدی ہوئی چیز کو آگے فروخت کر دینے کی ممانعت کا بیان
10 Hadith
25
ماپ اور وزن کرنے کے حکم اور دو صاع چلائے بغیر اناج کی بیع کرنے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
26
قافلوںکوملنے اور شہری کا دیہاتی کے لئے تجارت کرنے کی ممانعت کا بیان
9 Hadith
27
بیع نجش اور آدمی کی بیع پر بیع کرنے کی ممانعت کا بیان، ما سوائے بیع مزایدہ کے
9 Hadith
28
غلام کی تجارت کا اور محرم غلاموں کے مابین تفریق ڈالنے کی ممانعت کا بیان
2 Hadith
29
گواہ کے بغیر تجارت کرنے کا اور اس سلسلے میں سیدنا خزیمہ بن ثابت کی عظیم منقبت کا بیان
1 Hadith
30
تجارت میں شرطوں کے ابواب فروخت شدہ چیز سے فائدہ اٹھانے اور مزید اس قسم کی شرط لگانے کا بیان
2 Hadith
31
فاسد شرط کے ہونے کے باوجود تجارت کے عقد کے صحیح ہونے کا بیان
1 Hadith
32
تجارت میں غبن اور دھوکے سے سلامتی کی شرط کا بیان
3 Hadith
33
مجلس کے اختیار کا بیان
7 Hadith
34
عیوب کے احکام کے ابواب عیب کو واضح کر دینے، دھوکہ نہ کرنے اور دھوکہ کرنے والے کی وعید کا بیان
7 Hadith
35
اس جانور کا بیان، جس کا دودھ روکا گیا ہو
5 Hadith
36
غلام کی ضمانت اور اس چیز کا بیان کہ تازہ کی ہوئی کمائی عیب کی وجہ سے سودا واپس کرنے میں رکاوٹ نہیں بنے گی
3 Hadith
37
ذخیرہ اندوزی کی مذمت کا بیان
4 Hadith
38
بھائو مقرر کرنے کا بیان
4 Hadith
39
خریدوفروخت کرنے والوں کے مابین اختلاف ہو جانے کا بیان
5 Hadith
40
سود کے ابواب سود کے بارے میں سختی کا بیان
9 Hadith
41
ان اقسام کا بیان، جن میں سود پایا جاتا ہے
11 Hadith
42
بیع صرف کا بیان،یعنی چاندی کو سونے کے عوض ادھار پر فروخت کرنا
7 Hadith
43
نقد و نقد سودا ہونے کی صورت میں ایک جنس میں تفاضل کے جواز کے قائلین کی دلیل
7 Hadith
44
سونے کے عوض ایسی چیز بیچنے کابیان کہ جس میں سونا بھی ہو اور اس کے علاوہ کوئی چیز بھی ہو
3 Hadith
45
درہم و دینار کوتوڑنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی مجبوری ہو
1 Hadith
46
بوقت ِ تجارت اناج کے برابر برابر ہونے کا بیان
5 Hadith
47
تفاضل کا بیان اور جن چیزوں کو ماپا اور جن کا وزن نہ کیا جا سکتا ہو، ان میں ادھار کا اور حیوان کے عوض گوشت کی بیع کا بیان
5 Hadith
48
بیع سلم (بیع سلف) کے مسائل
5 Hadith
No chapter matched that.