۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو وہ لوگ دوتین تین سال کے کھجور کی بیع سلف کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو بیع سلف کرنا چاہے، اس کو چاہیے کہ وہ مقررہ ماپ، معین وزن اور مقررہ مدت تک کرے۔
۔ محمد بن ابی مجالد کہتے ہیں: ابن شداد اور ابوبردہ نے مجھے بھیجا اور کہا: تو سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کے پاس جا اور ان سے کہہ کہ عبداللہ بن شداد اور ابو بردہ آپ کو سلام کہتے ہیں اور یہ سوال کرتے ہیں کہ تم لوگ عہد ِ نبوی میں گندم، جو اور منقی میں بیع سلف کیا کرتے تھے؟ انھوں نے جواباً کہا: جی ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میںمال غنیمت حاصل کرتے اور پھر اس میں گندم، جو، کھجور اور منقی میں بیع سلف کرتے تھے۔ میں نے کہا:کیایہ بیع ان سے کرتے تھے، جن کے پاس کھیتی ہوتی تھییا ان سے بھی کہ جن کے پاس کھیتی نہیں ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: اس چیز کے بارے میں ہم پوچھتے ہی نہیں تھے۔ (جب میں نے واپس آ کر ان کو تفصیل بتائی تو) انھوں نے کہا: اب سیدنا عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس جا اوران سے یہی مسئلہ دریافت کر کے آ۔ پس میں ان کے پاس گیا اور انھوں نے بھی سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ والا جواب دیا۔ امام احمد کہتے ہیں کہ ابو معاویہ کی روایت میں تیل (یا زیتون کے تیل) کاذکر بھی ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک آدمی نے ایک آدمی سے کھجوریں خریدیں، لیکن اس سال انہیں پھل ہی نہیں لگا، پس وہ دونوں فیصلہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اس کے درہم کو اپنے لئے کیسے حلال سمجھتا ہے؟اس کے درہم اس کو واپس لوٹادے، کھجور میں ہر گز بیع سلم نہ کیا کرو، جب تک کہ اس کی صلاحیت ظاہر نہ ہوجائے۔ راوی کہتا ہے: میں نے مسروق سے پوچھا کہ صلاحیت کے ظہور کا کیا مطلب ہے، انھوں نے کہا: پھل کا سرخ یازرد ہوجانا۔
۔ سیدنا ابوسعید خدری سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: گندم اور عام جو اور چھلکے کے بغیر جو میں اس وقت تک بیع سلف جائزنہیں، جب تک کہ اس کادانہ خشک نہ ہوجائے ، انگوراور زیتون وغیرہ میں بھییہ بیع جائز نہیں ہے، یہاں تک کہ یہ چیزیں اچھی طرح پختہ نہ ہو جائیں اور نہ نقد سونے کی ادھار چاندی کے ساتھ اور نقد چاندی کی ادھار سونے کے ساتھ بیع جائز ہے۔ امام احمد نے کہا: یہ روایت مرفوع نہیں ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حمل کے حمل کا ادھار کے ساتھ سودا کرنا سود ہے۔