۔ ابن اذ نان کہتے ہیں: میں نے علقمہ کو دوہزار درہم ادھار دیئے،جب ادائیگی کا وقت آیا تو میں نے کہا: میرا قرض ادا کرو، انہوں نے کہا: مجھے آئندہ سال تک مہلت دو، لیکن میں نے مہلت دینے سے انکار کر دیا، پس میں نے اس سے لے لیے، پھر میں اس کے پاس بعد میں آیا، انھوں نے کہا: تو تو میرے ساتھ چمٹ ہی گیا ہے اور تو نے مجھے روک دیا ہے، میں نے کہا: جی ہاں، اور یہ تمہارا اپنا عمل ہی ہے، انھوں نے کہا: میرا کیا معاملہ ہے؟ میں نے کہا: تم نے مجھے یہ حدیث بیان کی تھی کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ادھار نصف صدقہ کے قائم مقام ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، بات ایسے ہی ہے، پھر انھوں نے کہا: تو پھر اب لے لے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو چاہتا ہے کہ اس کی دعاقبول ہواور مصیبت چھٹ جائے تو وہ تنگدست کے قرض کے معاملے میں اس پر آسانی پیدا کرے۔
۔ سیدنا مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو دنیا میں مسلمان کی عیب پوشی کرے گا، اللہ تعالی دنیا وآخرت میںاس کی عیب پوشی کرے گا،جومصیبت زد ہ کو نجات دلائے گا، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے مصائب سے ایک مصیبت سے آزاد کرے گااور جو شخص اپنے بھائی کی مدد میں رہے گا، اللہ تعالی اس کی حاجت پوری کرنے میں رہے گا۔