۔ ابن اذ نان کہتے ہیں: میں نے علقمہ کو دوہزار درہم ادھار دیئے،جب ادائیگی کا وقت آیا تو میں نے کہا: میرا قرض ادا کرو، انہوں نے کہا: مجھے آئندہ سال تک مہلت دو، لیکن میں نے مہلت دینے سے انکار کر دیا، پس میں نے اس سے لے لیے، پھر میں اس کے پاس بعد میں آیا، انھوں نے کہا: تو تو میرے ساتھ چمٹ ہی گیا ہے اور تو نے مجھے روک دیا ہے، میں نے کہا: جی ہاں، اور یہ تمہارا اپنا عمل ہی ہے، انھوں نے کہا: میرا کیا معاملہ ہے؟ میں نے کہا: تم نے مجھے یہ حدیث بیان کی تھی کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ادھار نصف صدقہ کے قائم مقام ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، بات ایسے ہی ہے، پھر انھوں نے کہا: تو پھر اب لے لے۔
Takhreej
(۶۰۰۷) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۴۳۰ (انظر: ۳۹۱۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو چاہتا ہے کہ اس کی دعاقبول ہواور مصیبت چھٹ جائے تو وہ تنگدست کے قرض کے معاملے میں اس پر آسانی پیدا کرے۔
۔ سیدنا مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو دنیا میں مسلمان کی عیب پوشی کرے گا، اللہ تعالی دنیا وآخرت میںاس کی عیب پوشی کرے گا،جومصیبت زد ہ کو نجات دلائے گا، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے مصائب سے ایک مصیبت سے آزاد کرے گااور جو شخص اپنے بھائی کی مدد میں رہے گا، اللہ تعالی اس کی حاجت پوری کرنے میں رہے گا۔
فوائد:… قرضہ دیناافضل عمل ہے، آپ a نے اس کو صدقہ قرار دیا ہے، مزید ایک حدیثیہ ہے:
سلیمان بن بریدہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ a کو فرماتے سنا: ((مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِراً فَلَہُ بِکُلِّ یَوْمٍ مِثْلَہُ صَدَقَۃٌ۔)) قَالَ: ثُمَّ سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: ((مَن أَنْظَرَ مُعْسِراً، فَلَہُ بِکُلِّ یَوْمٍ مِثْلَیْہِ صَدَقَۃٌ۔)) قُلْتُ: سَمِعْتُکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! تَقُوْلُ : ((مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِراً، فَلَہُ بِکُلِّ یَوْمٍ مِثْلَہُ صَدَقَۃٌ۔)) ثُمَّ سَمِعْتُکَ تَقُوْلُ: ((مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا، فَلَہُ بِکُلِّ یَوْمٍ مِثْلَیْہِ صَدَقَۃٌ۔))؟ قَالَ: ((لَہُ بِکُلِّیَوْمٍ صَدَقَۃٌ قَبْلَ أَن یَحِلَّ الدَّیْنُ، فَإِذَا حَلَّ الدَّیْنَ فَأَنْظَرَہُ فَلَہُ بِکُلِّ یَوْمٍ مِثْلَیْہِ صَدَقَۃٌ۔))… ’’جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی تو اسے ہر روز (قرض کی مقدار) کی مثل صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا۔‘‘ اس کے بعد آپaکو یوں فرماتے سنا: ’’جس نے کسی تنگ دست کومہلت دی تو اسے ہر روز اس (مقدار) سے دو گنا کے برابر صدقے کا ثواب ملے گا۔‘‘ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو پہلے یوں فرماتے سنا: ’’جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی تو اسے ہر روز اسی (مقدار) کی مثل صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا۔‘‘ اور پھر یوں سنا: ’’جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی تو اسے ہر روز اس (مقدار) سے دو گنا صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا؟‘‘ آپa نے فرمایا: ’’قرض کی ادائیگی سے پہلے تک اسے ہر روز (اتنی ہی مقدار میں) صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا، اور جب (وعدے کے مطابق) قرض واجب الادا ہو جائے لیکن وہ پھر مہلت دے دے، (تو ایسی صورت میں) اسے (اس مقدار) کا دو گناہ ثواب ملے گا۔‘‘ (مسند احمد: ۵/۳۶۰)
۔ سیدنا عبداللہ بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین کے موقع پر اس سے تیسیا چالیس ہزار درہم قرض لیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ سے واپس تشریف لائے تو اس کو قرضہ اداکیا اور دعا دیتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالی آپ کے اہل اور مال میں برکت دے، ادھار کا صلہ یہی ہے کہ اسے پوراپورا واپس کیاجائے اور اس کی تعریف کرکے شکریہ ادا کیا جائے۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو اسرائیل کے ایک آدمی نے کسی سے ایک ہزار دینار ادھار لینے کا سوال کیا۔ اس نے کہا: کوئی گواہ لاؤ، جسے میں تجھ پر گواہ بنا سکوں۔ اس نے کہا: اللہ ہی بطورِ گواہ کافی ہے۔ اس نے کہا: تو پھر کوئی کفیل لاؤ۔ اس نے کہا: اللہ ہی بطورِ کفیل کافی ہے۔ اس نے کہا: تو نے سچ کہا ہے۔ پس اس نے اسے ایک مقررہ وقت تک ایک ہزار دینار قرضہ دے دیا۔ وہ آدمی سمندر کی طرف روانہ ہو گیا اور اپنی ضرورت پوری کی۔ جب مقررہ وقت آ پہنچاتو اس نے کوئی سواری تلاش کی، لیکن نہ مل سکی۔ سو اس نے ایک لکڑی لی اور اس میں کھدائی کر کے ایک ہزار دینار رکھ دیا اور ان کے مالک کی طرف ایک خط لکھا اور (لوہے وغیرہ کے ذریعے اس سوراخ کو) بند کر دیا، پھر وہ لکڑی لے کر سمندر کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ! تو جانتاہے کہ میں نے فلاں آدمی سے ایک ہزار دینا ادھار لیا تھا، جب اس نے مجھ سے شاہد اور کفیل کا مطالبہ کیا تو میں نے کہا تھا کہ اللہ ہی بطورِ کفیل کافی ہے۔ وہ (تیری کفالت پر) راضی ہو گیا تھا اور اب میں نے سواری تلاش تو کی تاکہ اس کا حق اس تک پہنچا دوں، لیکن سواری نہیں مل رہی۔ اب میں اس مال کو تیرے سپرد کرتا ہوں۔ پھر اس نے وہ لکڑی سمندر میں پھینک دی۔ اُدھرادھار دینے والا آدمی اس غرض سے نکلا کہ شاید (کوئی سوار) کسی سواری پر سوار ہو کر (میرا قرضہ چکانے کے لیے) میرا مال لے کر آ رہا ہو۔ اچانک (اسے سمندر کے کنارے پر) ایک لکڑی نظر آئی جس میں اس کا مال تھا۔ اس نے ایندھن کا کام لینے کے لیے وہ لکڑی اٹھا لی، جب اسے توڑا تو اسے مال اور خط موصول ہوا، اس نے وہ لے لیا۔ بعد میں قرضہ لینے والا آدمی (ایک ہزار دینار لے کر) خود بھی پہنچ گیا اور کہا: مجھے کوئی سواری نہیں مل سکی تھی (لہٰذا اب یہ قرضہ چکانے آیا ہوں)۔ قرضہ دینے والے نے کہا: اللہ تعالی نے مجھ تک وہ چیز پہنچا دی، جو تو نے لکڑی میں بھیجی تھی۔ سو وہ کامیاب ہو کر واپس پلٹ گیا۔
Takhreej
(۶۰۱۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۰۶۳ (انظر: ۸۵۸۷)
Explanation
فوائد:… قرض کی ادائیگی کامعاملہ تو واضح طور پر ثابت ہو رہا ہے، اس نکتے پر بھی غور کرنا چاہیے کہ جب آدمی اللہ تعالی کو حقیقی گواہ اور کفیل تسلیم کر لیتا ہے تو اللہ تعالی اپنی شان کے مطابق اس آدمی کو صلہ دیتے ہیں، غور کریں کہ اللہ تعالی نے اس لکڑی کو متعلقہ بندے تک کیسے پہنچایا۔ لیکن جب اس بندے نے دیکھا کہ اس نے اللہ تعالی پر بھروسہ کر کے رقم تو بھیج دی ہے، لیکن شرعی قوانین کے مطابق اس نے حق ادا نہیں کیا، اس لیے وہ قرض خواہ کے پاس پہنچا، لیکن اس نے صدق و امانت کا ثبوت دیتے ہوئے لکڑی کے مل جانے کا اقرار کیا۔ سبحان اللہ وکفی باللہ وکیلا۔
۔ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک اونٹ فروخت کیا، پھر جب میں اس کی قیمت کا تقاضا کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو کہا: اے اللہ کے رسول! میرے اونٹ کی قیمت اداکیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: ہاں ضرور، بلکہ میں تجھے عطا نہیں کروں گا، مگر اس سے عمدہ اونٹ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے میرا قرض چکایا اور اچھی ادائیگی کی، اتنے میں ایک بدّو آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرےاونٹ کی قیمت ادا کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بڑا اونٹ عطا کیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ اونٹ تو میرے اونٹ سے بہتر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص قوم کا بہترین فرد ہے، جو ادائیگی کے لحاظ سے بہتر ہے۔
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذمہ میراقرض تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ مجھے ادا کیا اور زیادہ بھی دیا۔
فوائد:… قرضہ اس لالچ میں دینا درست نہیں ہے کہ ادائیگی کے وقت اس سے بہتر چیز مل جائے گی، البتہ قرض دار اپنی طرف سے بہتر انداز میں ادائیگی کر سکتا ہے، بہرحال قرض خواہ کیلئے جائز نہیں ہے کہ وہ اس قسم کی حرص رکھے۔
۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے ادھار اونٹ لیا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس صدقہ کے اونٹ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اِس کو اس کااونٹ دے دو۔ صحابہ نے کہا: اب تو ہمارے پاس چار دانتوں والا (چھ سال عمر والا) جو اس کے اونٹ سے اچھا اور بہتر اونٹ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی اِس کو دے دو، کیونکہ لوگوں میں بہترین آدمی وہی ہے، جواچھے طریقے سے قرض کی ادائیگی کرتا ہے۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک اونٹ کے قرض کی ادائیگی کامطالبہ کردیا اور سخت رویہ اختیار کیا، صحابہ کرام نے اس کے ساتھ کوئی کاروائی کرنے کا ارادہ کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑدو، جس نے حق لیناہوتاہے، وہ باتیں کرتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک اونٹ خرید کر اس کو ادا کرو۔ صحابہ نے کہا:اس کے اونٹ سے بہتر عمر والا اونٹ ہی میسر آ رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی خرید کر دے دو، بے شک بہتر وہی ہے، جو قرض کی ادائیگی اچھے انداز میں کرتاہے۔ دیہاتی نے کہا:آپ نے مجھے میرے حق سے زیادہ دیا ہے، اللہ تعالی بھی آپ کو زیادہ دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہتر وہ ہے، جو بہتر طورپر قرض ادا کرتا ہے۔
۔ قرضہ اس لالچ میں دینا درست نہیں ہے کہ ادائیگی کے وقت اس سے بہتر چیز دی جائے گی، البتہ قرض دار اپنی طرف سے بہتر انداز میں ادائیگی کر سکتا ہے، بہرحال قرض خواہ کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اس قسم کی حرص رکھے۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی اس بناء پر جنت میں داخل ہو گیا کہ وہ ادائیگی کے وقت اور تقاضا کرتے وقت نرمی (اور فراخ دلی) سے کام لیتا تھا۔
فوائد:… حدیث نمبر (۵۷۸۸)میں اس قسم کی حدیث گزر چکی ہے، معمولات میں نرمی اختیار کرنا، یہ کوئی چند دنوں کا کھیل نہیں ہے، اس صفت سے متصف ہونے کے لیے خاصا تکلف کرنا پڑتا ہے اور اپنے آپ کو اس چیز کا عادی بنانا پڑتا ہے کہ ہر قسم کے قول و فعل سے پہلے اپنے آپ کو سوچنے کا موقع دیا جائے۔
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: اپنے آپ کو خوف میں مبتلا نہ کر دیا کرو۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسو ل!کون سی چیز ہمیں خوف وہراس میں مبتلا کر سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرض۔
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: امن کے بعد اپنے نفسوں کو خوف میں مبتلا نہ کر دیا کرو۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرض لے کر۔
فوائد:… کوئی مانے نہ مانے، قرضدار آدمی کا امن تباہ ہو جاتا ہے، عجیب قسم کی احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتا ہے، قرضہ وصول کرنے کے لیے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، وقت پر ادائیگی نہ کر سکنے کی صورت میں توہین آمیز باتیں سننا پڑتی ہیں اور ایسی صورت میں آدمی اپنے قرض خواہ سے چھپنا شروع کر دیتا ہے، نفس کو بے عزت کلمات سننے کی عادت ہو جاتی ہے اور بسا اوقات تو بھری مجلس میں غیرت و حمیت کو کھونا پڑتا ہے، اس پر مستزاد یہ کہ وعدہ خلافی کرنے اور جھوٹ بولنے کی وجہ سے معاشرے میں اس کی ساخت کو بری طرح نقصان پہنچتا ہے۔ ان ہی مصائب کو آپa نے خوف سے تعبیر کیا ہے۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو اس حال میں موت آئے کہ وہ مقروض ہو (تو وہ دیکھ لے کہ) وہاں دینار ودرہم تو نہیں ہوں گے، بلکہ نیکیوں اور بدیوں کا تبادلہ ہو گا۔
فوائد:… حشر والے دن قرض خواہ، قرضدار کی نیکیاں لے کر یا اپنی برائیاں اس کے کھاتے میں ڈال کر راضی ہو گا، جبکہ اس مقام پر سب سے زیادہ ضرورت نیکیوں کی زیادتی اور برائیوںکی کمی کی ہو گی۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: میں کفر اورقرض سے اللہ تعالی کی پناہ مانگتا ہوں۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا قر ض، کفر کے برابر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔
Takhreej
(۶۰۲۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابوسلمۃ صاحب الطعام وجابر بن یزید لایعرفان۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۱۴۹۹، والبزار: ۱۳۰۵ (انظر: ۱۳۵۵۹)
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حلیق نصرانی کے پاس بھیجا تاکہ وہ آسانی تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کچھ کپڑے بھیج دے، پس میں اس کے پاس آیا اور کہا: رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تیری طرف اس لیے بھیجا ہے کہ تم آسانی تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کچھ کپڑے بھیج دو، لیکن اس نے (طعن کرتے ہوئے) کہا: آسانی کیا ہوتی ہے اور یہ کب ہوتی ہے؟ اللہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بکری ہے نہ اونٹ۔ میں انس یہ بات سن کر واپس آ گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: یہ اللہ کا دشمن جھوٹ بول رہا ہے، میں سب سے بہتر لین دین کرنے والا ہوں، (لیکنیاد رکھو کہ) اگر کوئی آدمی مختلف ٹکڑوں سے بنا ہوا کپڑا پہن لے تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ اپنی امانت کی وجہ سے کوئی ایسی چیز حاصل کرے، جو اس کے پاس نہ ہو۔
فوائد:… حدیث ِ مبارکہ کے آخری حصے کا مفہوم یہ ہے کہ بندے کو کم سے کم چیزوں پر گزارا کر لینا چاہیے، لیکن اپنی امانت کے سہارے قرض نہیں لینا چاہیے، کیونکہ ممکن ہے کہ بعد میں حالات ساتھ نہ دیں اور قرض کی ادائیگی لیٹ ہو جائے یا موت ہی موقع نہ دے، پہلی صورت میں صفت ِ امانت متأثر ہو گی اور دوسری صورت میں آخرت کا معاملہ خطرے میں پڑ جائے گا۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو عمانییا قطری کپڑے زیب تن کئے ہوئے تھے، میں نے کہا کہ یہ دو کپڑے تو موٹے ہیں، جب آپ کو ان میں پسینہ آتا ہے تو یہ وزنی ہوجاتے ہیں، فلاں تاجر کے ہاں ایک قسم کے کپڑے آئے ہیں، اگر آپ اس کی طرف پیغام بھیج دیں کہ وہ آسانی تک دو کپڑے آپ کو فروخت کردے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو پیغام بھیجا تو اس نے کہا: میں جانتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کیا چاہتا ہے، وہ میرے کپڑے پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، یعنی وہ اس کے عوض میں میرے درہم ادا نہیں کرے گا، جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا وہ جھوٹ بول رہا ہے، یہ لوگ جانتے ہیں کہ میں ان سب سے زیادہ اللہ تعالی سے ڈرنے والا، سب سے زیادہ سچا اور سب سے زیادہ امانت کو ادا کرنے والا ہوں۔
Takhreej
(۶۰۲۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۳۸۷(انظر: ۸۷۳۳)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے ہمیںیہ سبق بھی حاصل ہوتا ہے کہ نبی کریمa اپنی ذات پر کیے گئے اعتراضات کا جواب کیسے دیتے تھے، اس معاملے میں انسان کو انتہائی فہیم اور حکیم ہونا چاہیے،یہ کوئی قانون وضابطہ نہیں ہے کہ ہر اعتراض کے جواب میں لڑائی کی جائے، یا اعتراض پر اعتراض کر دیا جائے، یا کسی قسم کی بے صبری کا مظاہرہ کیا جائے۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو انسان لوگوں سے (قرض وغیرہ کے طور پر) مال لیتا ہے اور اس کاارادہ واپس اداکرنے کا بھی ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ادائیگی میں اس کی مدد کرتا ہے، لیکن جوانسان لوگوں کامال اس ارادہ سے لیتا ہے کہ اسے ضائع کر دے تو اللہ تعالی بھی اس کو تلف کر دیتا ہے۔
۔ سیدنا محمد بن عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں اللہ کی راہ میں قتل ہو جاؤں تو مجھے اس کا کیا صلہ ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت ملے گی۔ پھر جب وہ آدمی جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مگر قرض معاف نہیں ہو گا، ابھی جبریل نے میرے ساتھ سرگوشی کی ہے۔
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک جنازہ لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا اس میت نے کوئی قرضہ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس نے کوئی ترکہ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی نہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی، پھر ایک اورجنازہ لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں پوچھا: اس نے کچھ قرض چھوڑا ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، پھر فرمایا: کوئی ترکہ چھوڑا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، تین دینار چھوڑے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگلیوں پر شمارکرتے ہوئے فرمایا: یہ آگ کے تین داغ ہیں۔ پھر تیسرا جنازہ لایا گیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ مقروض تھا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، یہ مقروض تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی ترکہ بھی چھوڑا ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر خود ہی اس کی نماز جنازہ پڑھ لو۔ یہ سن کر سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا قرضہ میرے ذمہ ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔
فوائد:… نبی کریمa نے خود مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہیں پڑھی اور صحابہ کو اس کی ادائیگی کا حکم دیا، اس سے یہ استدلال کرنا درست ہے کہ علاقے کی معروف اہل علم شخصیات کو ان لوگوں کی نمازِ جنازہ میں شرکت نہیں کرنی چاہیے، جن کی نمازِ جنازہ آپ a نے نہیں پڑھی۔
آپa نے ترکہ کے تین دیناروں کو آگ کے تین داغ کیوں قرار دیا؟
معلوم ایسے ہوتا ہے کہ اس وعید کا بیچ میںکوئی اور سبب ہو گا، اس کا اظہار صرف دیناروں کی بنا پر نہیں کیا گیا، کیونکہ اہل علم کا اتفاق ہے کہ میت مال کی اتنی مقدار چھوڑ جانے کی وجہ سے آگ کا حقدار نہیں ٹھہرتا ہے۔ آپ خود غور کریں کہ ایک طرف تو آپ a نے ترکہ چھوڑ جانے کی رغبت دلاتے ہوئے سیدنا سعد بن ابی وقاص b کو فرمایا: ’’اگر تو (اپنے ترکہ کے ذریعے) اپنے وارثوں کو غنی کر دے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تو ان کو اس حال میں چھوڑ جائے کہ وہ لوگوں کے سامنے دست ِ سوال پھیلاتے پھریں۔‘‘ (بخاری، مسلم)
اسی طرح جب نجدی نے زکوۃ کا مسئلہ سنا تو آپ a سے سوال کیا: کیا زکوۃ کے علاوہ بھی میرے مال میںکوئی حق ہے؟ آپ a نے فرمایا: ’’نہیں، ہاں اگر تم نفلی طور پر صدقہ کرنا چاہو (تو کر سکتے ہو)۔‘‘ (بخاری، مسلم) اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ مالدار زکوۃ کی ادائیگی کے بعد مال اپنے پاس رکھ سکتا ہے اور اسی حالت میں اس کو موت بھی آسکتی ہے۔
اس قسم کی بہت ساری احادیث ہیں جو زندگی میں مال و دولت جمع کرنے اور صاحب ِ مال کے فوت ہونے کے بعد اس کو اس کے وارثوں میں تقسیم کر دینے پر دلالت کرتی ہیں۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں ایک باب یہ قائم کیا ہے: ’’بَابُ مَنْ اَدَّیٰ زَکَاتَہٗفَلَیْسَ بِکَنْزٍ؛ لِقَوْلِ النَّبِیِّV : ((لَیْسَ فِیْمَا دُوْنَ خَمْسَۃِ اَوْسُقٍ صَدَقَۃٌ …)) … زکوۃ کی ادائیگی کے بعد مال وہ خزانہ نہیں رہتا (جس کی مذمت کی گئی ہے) کیونکہ آپ a نے فرمایا: ’’پانچ وسق سے کم غلہ پر زکوۃ لاگو نہیں ہوتی…‘‘
اس بحث کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ ممکن ہے کہ اِس آدمی نے مال سے متعلقہ حقوق کی ادائیگی صحیح طور پر نہ کی ہو، مثلا اہل و عیال پر خرچ کرنا، بھوکے کو کھانا کھلانا، ننگے کو لباس پہنانا، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ آدمی مال کے باوجود فقر و فاقے کا اظہار کرتا ہو، جیسا کہ علقمہ مزنی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے، وہ کہتے ہیں: اہل صفہ، مسجد میں رات گزارتے تھے، ان میں سے ایک آدمی فوت ہو گیا، جب اس کا ازار کھولا گیا تواس میں سے دو دینار نکلے، جن کو دیکھ کر آپ a نے فرمایا: ’’دو داغ ہیں۔‘‘ (مصنف عبد الرزاق: ۱/ ۴۲۱/ ۱۶۴۹)
اور اس احتمال کا بھی امکان ہے کہ یہ شخص اپنے مال کو بڑھانے کے لیے لوگوں سے سوال کرتا ہو۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ مال سے متعلقہ تمام حقوق ادا کرے اور حلال ذرائع سے مال جمع کرے، وگرنہ وہ اس وعید کا مستحق قرار پائے گا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اس حدیث میں بیان کی گئی وعید کا مطلب یہ ہو کہ ہمیں صدقہ و خیرات کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ ایک دینار میں ساڑھے چار ماشے سونا ہوتا ہے۔