مسنداحمد

Musnad Ahmad

قرض کے مسائل

اچھے انداز میں قرض کی ادائیگی اور اس کا مطالبہ کرنے، قرض دار کی قرض خواہ کے لیے دعا کرنے اور لیے ہوئے قرض سے زیادہ مقدار دے دینے کے مستحب ہونے کا بیان

۔ (۶۰۱۰)۔ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ رَبِیْعَۃَ الْمَخْزُوْمِیِّ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِسْتَسْلَفَ مِنْہُ حِیْنَ غَزَا حُنَیْنًا ثَلَاثِیْنَ أَوْ أَرْبَعِیْنَ أَلْفًا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَضَاہُ اِیَّاہُ ثُمَّ قَالَ: ((بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ فِیْ أَھْلِکَ وَمَالِکَ، اِنَّمَا جَزَائُ السَّلَفِ الْوَفَائُ وَالْحَمْدُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۵۲۳)

۔ سیدنا عبداللہ بن ابی ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوۂ حنین کے موقع پر اس سے تیسیا چالیس ہزار درہم قرض لیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غزوہ سے واپس تشریف لائے تو اس کو قرضہ اداکیا اور دعا دیتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالی آپ کے اہل اور مال میں برکت دے، ادھار کا صلہ یہی ہے کہ اسے پوراپورا واپس کیاجائے اور اس کی تعریف کرکے شکریہ ادا کیا جائے۔

۔ (۶۰۱۱)۔ عَنْ اَبِيْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِيْ اِسْرَائِیْلَ سَاَلَ رَجُلًا اَنْ یُسْلِفَہٗ اَلْفَ دِیْنَارٍ ، فَقَالَ لَہٗ: اِئْتِنِيْبِشُھَدَائَاُشْھِدُھُمْعَلَیْکَ، فَقَالَ: کَفٰی بِاللّٰہِ شَھِیْدًا۔ قَالَ: فَاْتِنِيْ بِکَفِیْلٍ۔ قَالَ: کَفٰی بِاللّٰہِ کَفِیْلًا،قَالَ: صَدَقْتَ۔ قَالَ: فَدَفَعَ اِلَیْہِ اَلْفَ دِیْنَارٍ اِلٰی اَجَلٍ مُسَمًّی، فَخَرَجَ فِيْ الْبَحْرِ، وَقَضٰی حَاجَتَہٗوَجَائَالْاَجَلُالَّذِيْاَجَّلَلَہٗ،فَطَلَبَمَرْکَبًا،فَلَمْیَجِدْہُ، فَاَخَذَ خَشَبَۃً فَنَقَرَھَا فَاَدْخَلَ فِیْھَا اَلْفَ دِیْنَارٍ، وَکَتَبَ صَحِیْفَۃً اِلٰی صَاحِبِھَا ثُمَّ زَجَّجَ مَوْضِعَھَا، ثُمَّ اَتٰی بِھَا الْبَحْرَ فَقَالَ: اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ قَدْ عَلِمْتَ اَنِّيْ اسْتَسْلَفْتُ مِنْ فُلَانٍ اَلْفَ دِیْنَارٍ فَسَاَلَنِيْ شُھُوْدًا، وَسَاَلَنِيْ کَفِیْلًا، فَقُلْتُ: کَفٰی بِاللّٰہِ کَفِیْلًا، فَرَضِيَ بِکَ وَجَھِدْتُّ اَنْ اَجِدَ مَرْکَبًا اَبْعَثُ اِلَیْہِ بِحَقِّہٖ،فَلَمْاَجِدْ،وَاِنِّيْاسْتَوْدَعْتُکَھَا،فَرَمٰی بِھَا فِيْ الْبَحْرِ! فَخَرَجَ الرَّجُلُ الَّذِيْ کَانَ اَسْلَفَہٗیَنْظُرُ لَعَلَّ مَرْکَبًا یَقْدُمُ بِمَالِہٖ،فَاِذَاھُوَبِالْخَشَبَۃِ الَّتِيْ فِیْھَا الْمَالُ، فَاَخَذَھَا حَطَبًا، فَلَمَّا کَسَرَ ھَا وَجَدَ الْمْالَ وَالصَّحِیْفَۃَ، فَاَخَذَھَا، فَلَمَّا قَدِمَ الرَّجُلُ قَالَ لَہٗ: اِنِّيْلَمْاَجِدْمَرْکَبًایَخْرُجُ، فَقَالَ: اِنَّ اللّٰہَ اَدّّٰی عَنْکَ الَّذِيْ بَعَثْتَ بِہٖفِیْ الْخَشَبَۃِ۔ فَانْصَرَفَ بِالْاَلِفِ رَاشِدًا۔)) (مسند احمد: ۸۵۷۱)

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنو اسرائیل کے ایک آدمی نے کسی سے ایک ہزار دینار ادھار لینے کا سوال کیا۔ اس نے کہا: کوئی گواہ لاؤ، جسے میں تجھ پر گواہ بنا سکوں۔ اس نے کہا: اللہ ہی بطورِ گواہ کافی ہے۔ اس نے کہا: تو پھر کوئی کفیل لاؤ۔ اس نے کہا: اللہ ہی بطورِ کفیل کافی ہے۔ اس نے کہا: تو نے سچ کہا ہے۔ پس اس نے اسے ایک مقررہ وقت تک ایک ہزار دینار قرضہ دے دیا۔ وہ آدمی سمندر کی طرف روانہ ہو گیا اور اپنی ضرورت پوری کی۔ جب مقررہ وقت آ پہنچاتو اس نے کوئی سواری تلاش کی، لیکن نہ مل سکی۔ سو اس نے ایک لکڑی لی اور اس میں کھدائی کر کے ایک ہزار دینار رکھ دیا اور ان کے مالک کی طرف ایک خط لکھا اور (لوہے وغیرہ کے ذریعے اس سوراخ کو) بند کر دیا، پھر وہ لکڑی لے کر سمندر کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ! تو جانتاہے کہ میں نے فلاں آدمی سے ایک ہزار دینا ادھار لیا تھا، جب اس نے مجھ سے شاہد اور کفیل کا مطالبہ کیا تو میں نے کہا تھا کہ اللہ ہی بطورِ کفیل کافی ہے۔ وہ (تیری کفالت پر) راضی ہو گیا تھا اور اب میں نے سواری تلاش تو کی تاکہ اس کا حق اس تک پہنچا دوں، لیکن سواری نہیں مل رہی۔ اب میں اس مال کو تیرے سپرد کرتا ہوں۔ پھر اس نے وہ لکڑی سمندر میں پھینک دی۔ اُدھرادھار دینے والا آدمی اس غرض سے نکلا کہ شاید (کوئی سوار) کسی سواری پر سوار ہو کر (میرا قرضہ چکانے کے لیے) میرا مال لے کر آ رہا ہو۔ اچانک (اسے سمندر کے کنارے پر) ایک لکڑی نظر آئی جس میں اس کا مال تھا۔ اس نے ایندھن کا کام لینے کے لیے وہ لکڑی اٹھا لی، جب اسے توڑا تو اسے مال اور خط موصول ہوا، اس نے وہ لے لیا۔ بعد میں قرضہ لینے والا آدمی (ایک ہزار دینار لے کر) خود بھی پہنچ گیا اور کہا: مجھے کوئی سواری نہیں مل سکی تھی (لہٰذا اب یہ قرضہ چکانے آیا ہوں)۔ قرضہ دینے والے نے کہا: اللہ تعالی نے مجھ تک وہ چیز پہنچا دی، جو تو نے لکڑی میں بھیجی تھی۔ سو وہ کامیاب ہو کر واپس پلٹ گیا۔

۔ (۶۰۱۲)۔ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ قَالَ: بِعْتُ مِنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَکْرًا فَأَتَیْتُہُ أَتَقَاضَا فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِقْضِنِیْ ثَمْنَ بَکْرِیْ، فقَالَ: ((أَجَلْ، لَا أَقْضِیْکَہَا اِلَّا نَجِیْبَۃً۔)) قَالَ: فَقَضَانِیْ فَأَحْسَنَ قَضَائِیْ، قَالَ: وَجَائَ أَعْرَابِیٌّ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِقْضِنِیْ بَکْرِیْ فَأَعْطَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَمَلًا قَدْ أَسَنَّ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھٰذَا خَیْرٌ مِنْ بَکْرِیْ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ خَیْرَ الْقَوْمِ خَیْرُھُمْ قَضَائً۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۷۹)

۔ سیدنا عرباض بن ساریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایک اونٹ فروخت کیا، پھر جب میں اس کی قیمت کا تقاضا کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا تو کہا: اے اللہ کے رسول! میرے اونٹ کی قیمت اداکیجئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: ہاں ضرور، بلکہ میں تجھے عطا نہیں کروں گا، مگر اس سے عمدہ اونٹ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے میرا قرض چکایا اور اچھی ادائیگی کی، اتنے میں ایک بدّو آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرےاونٹ کی قیمت ادا کرو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو بڑا اونٹ عطا کیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ اونٹ تو میرے اونٹ سے بہتر ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ شخص قوم کا بہترین فرد ہے، جو ادائیگی کے لحاظ سے بہتر ہے۔

۔ (۶۰۱۳)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: کَانَ لِیْ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَیْنٌ فَقَضَانِیْ وَزَادَنِیْ۔ (مسند احمد: ۱۴۲۸۴)

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ذمہ میراقرض تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ مجھے ادا کیا اور زیادہ بھی دیا۔

۔ (۶۰۱۴)۔ عَنْ اَبِیْ رَافِعٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِسْتَسْلَفَ مِنْ رَجُلٍ بَکْرًا فَأَتَتْہُ اِبِلٌ مِنْ اِبِلِ الصَّدْقَۃِ، فَقَالَ: ((أَعْطُوْہُ)) فَقَالُوْا: لَا نَجِدُ لَہُ اِلَّا رَبَاعِیًا خِیَارًا، قَالَ: ((اَعْطُوْہُ فَاِنَّ خِیَارَ النَّاسِ أَحْسَنُہُمْ قَضَائً۔)) (مسند احمد: ۲۷۷۲۳)

۔ سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی سے ادھار اونٹ لیا تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس صدقہ کے اونٹ آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اِس کو اس کااونٹ دے دو۔ صحابہ نے کہا: اب تو ہمارے پاس چار دانتوں والا (چھ سال عمر والا) جو اس کے اونٹ سے اچھا اور بہتر اونٹ ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہی اِس کو دے دو، کیونکہ لوگوں میں بہترین آدمی وہی ہے، جواچھے طریقے سے قرض کی ادائیگی کرتا ہے۔

۔ (۶۰۱۵)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَقَاضَاہُ (وَفِیْ لَفْظٍ: یَتَقَاضَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعِیْرًا) فَاَغْلَظَ لَہُ، قَالَ: فَہَمَّ بِہٖأَصْحَابُہُ،فَقَالَ: ((دَعُوْہُفَاِنَّلِصَاحِبِالْحَقِّمَقَالًا۔)) قَالَ: ((اشْتَرُوْالَہُبَعِیْرًا فَأَعْطُوْہُ اِیَّاہُ (وَفِیْ لَفْظٍ: اِلْتَمِسُوْا لَہُ مِثْلَ سِنِّ بَعِیْرِہِ)۔)) قَالُوْا: لَا نَجِدُ اِلَّا سِنًّا أَفْضَلَ مِنْ سِنَّہٖ،قَالَ: ((فَاشْتَرُوْہُفَأَعْطُوْہُاِیَّاہُ فَاِنَّ مِنْ خَیْرِکُمْ أَحْسَنَکُمْ قَضَائً۔)) (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ) قَالَ الْاَعْرَابِیُّ: أَوْفَیْتَنِیْ أَوْفَاکَ اللّٰہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ خَیْرَکُمْ خَیْرُکُمْ قَضَائً۔)) (مسند احمد: ۹۳۷۹)

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک اونٹ کے قرض کی ادائیگی کامطالبہ کردیا اور سخت رویہ اختیار کیا، صحابہ کرام نے اس کے ساتھ کوئی کاروائی کرنے کا ارادہ کیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑدو، جس نے حق لیناہوتاہے، وہ باتیں کرتا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک اونٹ خرید کر اس کو ادا کرو۔ صحابہ نے کہا:اس کے اونٹ سے بہتر عمر والا اونٹ ہی میسر آ رہا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہی خرید کر دے دو، بے شک بہتر وہی ہے، جو قرض کی ادائیگی اچھے انداز میں کرتاہے۔ دیہاتی نے کہا:آپ نے مجھے میرے حق سے زیادہ دیا ہے، اللہ تعالی بھی آپ کو زیادہ دے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہتر وہ ہے، جو بہتر طورپر قرض ادا کرتا ہے۔

۔ (۶۰۱۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((دَخَلَ رَجُلٌ الْجَنَّۃَ بِسَمَاحَتِہِ قَاضِیًا وَمُقْتَضِیًا۔)) (مسند احمد: ۶۹۶۳)

۔ قرضہ اس لالچ میں دینا درست نہیں ہے کہ ادائیگی کے وقت اس سے بہتر چیز دی جائے گی، البتہ قرض دار اپنی طرف سے بہتر انداز میں ادائیگی کر سکتا ہے، بہرحال قرض خواہ کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اس قسم کی حرص رکھے۔

۔ (۶۰۱۷)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الْجُہَنِیِّ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ لِأَصْحَابِہِ: ((لَا تُخِیْفُوْا أَنْفُسَکُمْ، أَوْ قَالَ: الَأَنْفُسَ۔)) فَقِیْلَ لَہُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا نُخِیْفُ أَنْفُسَنَا؟ قَالَ: ((الدَّیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۴۲)

۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی اس بناء پر جنت میں داخل ہو گیا کہ وہ ادائیگی کے وقت اور تقاضا کرتے وقت نرمی (اور فراخ دلی) سے کام لیتا تھا۔