مسنداحمد

Musnad Ahmad

قرض کے مسائل

مقروض آدمی کی نماز جنازہ ادا نہ کرنے کے حکم کا منسوخ ہونا

۔ (۶۰۳۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا یُصَلِّیْ عَلٰی رَجُلٍ عَلَیْہِ دَیْنٌ، فَأُتِیَ بِمَیِّتٍ فَسَأَلَ: ((ھَلْ عَلَیْہِ دَیْنٌ؟)) قَالُوْا: نَعَمْ، دِیْنَارَانَ، قَالَ: ((صَلُّوْا عَلٰی صَاحِبِکُمْ۔)) فَقَالَ أَبُوْقَتَادَۃَ: ھُمَا عَلَیَّیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فصَلّٰی عَلَیْہِ، فَلَمَّا فَتَحَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلٰی رَسُوْلِہِ قَالَ: ((أَنَا أَوْلٰی بِکُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِہِ فَمَنْ تَرَکَ دَیْنًا فَعَلَیَّ وَمَنْ تَرَکَ مَالًا فَلِوَرَثَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۲۰۶)

۔ سیدنا جابربن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے، ایک دفعہ آپ کے پاس ایک میت لائی گئی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا کہ کیا اس پر قرض ہے ۔ لوگوں نے کہا: جی ہاں، یہ دو دینار کامقروض ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تم خود ہی اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو۔ اتنے میں سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسو ل! وہ میرے ذمہ ہیں، تب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، جب اللہ تعالی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پرفتوحات کے دروازے کھولے توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں ہر مؤمن کے اس کی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں، اس لیے اب جو قرض چھوڑ کر مرے گا، اس کی ادائیگی میرے ذمے ہو گی اورجو مال چھوڑ کر مرے گا، وہ اس کے ورثاء کاہوگا۔

۔ (۶۰۳۵)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: کَانَ رَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا شَہِدَ جَنَازَۃً سَأَلَ: ((عَلٰی صَاحِبِکُمْ دَیْنٌ؟)) فَاِنْ قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: ((ھَلْ لَہُ وَفَائٌ؟۔)) فَاِنْ قَالُوْا: نَعَمْ، صَلّٰی عَلَیْہِ، وَإِنْ قَالُوْا: لَا، قَالَ: ((صَلُّوْا عَلٰی صَاحِبِکُمْ۔)) فَلَمَّا فَتَحَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہِ الْفُتُوْحَ، قَالَ: ((أَنَا أَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ أَنْفُسِہِمْ، فَمَنْ تَرَکَ دَیْنًا فَعَلَیَّ وَمَنْ تَرَکَ مَالًا فَلِوَرَثَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۷۸۸۶)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب کسی جنازہ میں شرکت کرتے توپو چھتے: تمہارے اس ساتھی پر کوئی قر ض تو نہیں ہے؟ اگر لوگ کہتے: جی ہاں ہے، تو پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پو چھتے: تو کیا اس نے قرض پورا کرنے کے لیے کچھ مال بھی چھوڑ اہے؟ اگرلوگ کہتے کہ جی ہاں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھا دیتے اور اگر لوگ کہتے کہ اس نے کوئی مال نہیںچھوڑا تو آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: خود اپنے ساتھی پرنماز پڑھ لو۔ پھر جب اللہ تعالی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لئے فتوحات کے دروازے کھول دئیے توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں ایمانداروں کی جانوں سے بھی زیادہ ان کے قریب ہوں، اس لیے جوقر ض چھوڑ کر مرے گا، اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہو گی اور جو مال چھو ڑ کر مرے گا، وہ اس کے ورثا ء کا ہوگا۔