مسنداحمد

Musnad Ahmad

قرض کے مسائل

قرضے کو وصیت اور ورثاء کے حقوق پر مقدم کرنے کا بیان، اگرچہ ورثاء چھوٹی عمر والے ہوں

۔ (۶۰۳۶)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: إِنَّکُمْ تَقْرَئُ وْنَ {مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍیُّوْصٰی بِہَا أَوْ دَیْنٍ} وَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی بِالدَّیْنِ قَبْلَ الْوَصِیَّۃِ وَأَنَّ أَعْیَانَ بَنِیْ الْأُمِّ یَتَوَارَثُوْنَ دُوْنَ بَنِیْ الْعَلَّاتِ، یَرِثُ الرَّجُلُ أَخَاہُ لِاَبِیْہِ وَأُمِّہِ دُوْنَ أَخِیْہِ لِاَبِیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۲۲)

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ تم یہ آیت پڑھتے ہو میت کی طرف سے کی گئی وصیت اور قرضے کے بعد (ترکہ تقسیم کرو) لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وصیت کو پورا کرنے سے پہلے قرضے کی ادائیگی کا فیصلہ کیا ہے، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ حکم بھی فرمایا ہے کہ عینی بھائی وارث بنیں گے، نہ کہ علاتی بھائی، بندے کا عینی بھائی وارث بنتا ہے، نہ کہ علاتی بھائی۔