TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اس چیز کا بیان کہ جس آدمی نے کسی حادثے یا ضرورت کی بنا پر قرضہ لیا، جبکہ وہ ادا کرنے کی نیت رکھتا ہو اور ادا نہ کر سکے تو اللہ تعالی اس کی طرف سے ادا کر دے گا - اس چیز کا بیان کہ جس آدمی نے کسی حادثے یا ضرورت کی بنا پر قرضہ لیا، جبکہ وہ ادا کرنے کی نیت رکھتا ہو اور ادا نہ کر سکے تو اللہ تعالی اس کی طرف سے ادا کر دے گا - قرض کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 9 of قرض کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 9 of 10 · 7 Hadith
۔ (۶۰۴۱)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ بَکْرٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَدْعُو اللّٰہُ بِصَاحِبِ الدَّیْنِیَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتّٰییُوْقَفَ بَیْنَیَدَیْہِ، فَیُقَالُ: یَا ابْنَ آدَمَ! فِیْمَ أَخَذْتَ ھٰذَا الدَّیْنَ؟ وَفِیْمَ ضَیَّعْتَ حُقُوْقَ النَّاسِ؟ فَیَقُوْلُ: یَارَبِّ! اِنَّکَ تَعْلَمُ أَنِّیْ أَخَذْتُہُ فَلَمْ آکُلْ وَلَمْ أَشْرَبْ وَلَمْ أَلْبَسْ وَلَمْ أُضَیِّعْ، وَلٰکِنْ أَتٰی عَلٰییَدَیَّ إِمَّا حَرَقٌ وَإِمَّا سَرَقَ وَإِمَّا وَضِیْعَۃٌ، فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: صَدَقَ عَبْدِیْ، أَنَا أَحَقُّ مَنْ قَضٰی عَنْکَ الْیَوْمَ، فَیَدْعُو اللّٰہُ بِشَیْئٍ فَیَضَعَہُ فِیْ کِفَّۃِ مِیْزَانِہِ فَتَرْجَحُ حَسَنَاتُہُ عَلٰی سَیِّئَاتِہِ فَیَدْخُلَ الْجَنَّۃَ بِفَضْلِ رَحْمَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۰۸)
۔ سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مقروض آدمی کو روزِ قیامت بلا کر اپنے سامنے کھڑاکرکے کہیں گے: اے آدم کے بیٹے! یہ قرض کیوں لیا تھا؟ تو نے کس لیے لوگوں کے حقوق ضائع کئے تھے؟ وہ آدمی کہے گا: اے میرے پروردگار! تجھے معلوم ہے میں نے یہ قرض کھانے پینے، پہننے اور فضول ضائع کرنے کے لئے نہیں لیاتھا، بلکہ اپنے مال کے جل جانے یا چوری ہو جانے یا تجارت میں گھاٹا پڑنے کی وجہ سے لیا تھا، اللہ تعالیٰ کہے گا: میرے بندے نے سچ کہا ہے، لہٰذاآج میں اس کی طرف سے اس کا قرض پورا کرنے کا زیادہ حق رکھتا ہوں، پھر اللہ تعالیٰ کچھ منگوا کر اس آدمی کے ترازوکے پلڑے میںرکھے گے، جس کی وجہ سے اس کی نیکیاں اس کی برائیوں پر بھاری ہو جائیں گی، اس طرح اللہ تعالیٰ اس کو اپنی رحمت کی وجہ سے جنت میںداخل کردے گا۔
Takhreej
(۶۰۴۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، صدقۃ بن موسی الدقیقی ضعیف۔ أخرجہ البزار: ۱۳۳۲، والطیالسی: ۱۳۲۶ (انظر: ۱۷۰۸)
6041
Zaeef
۔ (۶۰۴۲)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ قَالَ: کَانَتْ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تَدَّانُ، فَقِیْلَ لَھَا: مَا لَکِ وَلِلدَّیْنِ؟ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ عَبْدٍ کَانَتْ لَہُ نِیّۃٌ فِیْ أَدَائِ دَیْنِہِ اِلَّا کَانَ لَہُ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ عَوْنٌ۔)) فَاَنَا اَلْتَمِسُ ذٰلِکَ الْعَوْنَ۔ (مسند احمد: ۲۵۵۰۷)
۔ محمد بن علی کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قرض لیا کرتی تھیں، جب ان سے کہاگیا کہ آپ کا قرض سے کیا تعلق ہے تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جوشخص قرض لینے کے بعد اس کو ادا کرنے کی نیت رکھے گا، تو اللہ تعالی کی طرف اس کو خصوص مدد حاصل ہو گی۔ پس میں وہ مدد تلاش کر رہی ہوں۔
Takhreej
(۶۰۴۲) تخریج: حدیث حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۴۰۹ (انظر: ۲۴۹۹۳)
6042
Sahih
۔ (۶۰۴۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ حَمَلَ مِنْ أُمَّتِیْ دَیْنًا ثُمَّ جَہَدَ فِیْ قَضَائِہِ فَمَاتَ وَلَمْ یَقْضِہِ فَأَنَا وَلِیُّہُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۲۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میںسے جس انسان نے قرضہ لیا اور پھر اس کو ادا کرنے کی کوشش کی، لیکن ادا کرنے سے پہلے مر گیا تو میں اس کا ذمہ دار ہوں۔
Takhreej
(۶۰۴۳) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابویعلی: ۴۸۳۸، والطبرانی ’’’فی الاوسط‘‘: ۹۳۳۴، والبیھقی: ۷/ ۲۲ (انظر: ۲۵۲۱۱)
6043
Sahih
۔ (۶۰۴۴)۔ وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَ عَلَیْہِ دَیْنٌ ھَمَّہُ قَضَاؤُہُ أَوْھَمَّ بِقَضَائِہِ لَمْ یَزَلْ مَعَہُ مِنَ اللّٰہِ حَارِسٌ۔)) (مسند احمد: ۲۶۷۱۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ ابوالقاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس انسان پر قرض ہو اوراس کو چکا دینے کا ارادہ رکھتا ہو تو اللہ تعالی کی طر ف سے اس پر ایک نگہبان مقرر ہو گا۔
Takhreej
(۶۰۴۴) تخریج: حدیث حسن۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۳۷۷۱ (انظر: ۲۶۱۸۷)
6044
Sahih
۔ (۶۰۴۵)۔ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّھَا اسْتَدَانَتْ دَیْنًا فَقِیْلَ لَھَا: تَسْتَدِیْنِیْنَ وَلَیْسَ عِنْدَکِ وَفَائُہُ؟ قَالَتْ: إِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَا مِنْ أَحَدٍ یَسْتَدِیْنُ دَیْنًایَعْلَمُ اللّٰہُ أَنَّہُیُرِیْدُ أَدَائَہُ اِلَّا أَدَّاہُ۔)) (مسند احمد: ۲۷۳۵۳)
۔ زوجۂ رسول سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے قرض لیا، کسی نے ان سے کہا: آپ قرض لیتی ہیں، جبکہ آپ میں واپس کرنے کی طاقت نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب کوئی آدمی قر ض لیتا ہے اور اس کے بارے میں اللہ تعالییہ جانتا ہے کہیہ شخص ادا کرنا چاہتا ہے تو اللہ تعالی اس کو ادا کر وا دیتا ہے۔
Takhreej
(۶۰۴۵) تخریج: صحیح بشواہدہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۴۲۸۸، والنسائی: ۷/ ۳۱۵ (انظر: ۲۶۸۱۶)
Explanation
فوائد:… ان احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ جو آدمی ایسی ضرورت کے لیے قرض لیتا ہے ، جس کے بغیر اس کا کوئی چارۂ کار نہ ہو اور پھر اس کی ادائیگی کا سچا عزم رکھتا ہو اور پہلی فرصت میں اس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کرنے والا ہے، لیکن اگر وہ پھر بھی قرض ادا نہ کر سکا تو حسن ظن یہی ہے کہ اللہ تعالی قیامت والے دن اس کامؤاخذہ نہیں کرے گا اور اگر قرض خواہ نے اپنی زندگی میں اس کو معاف نہ کیا تو اللہ تعالی اس کو اپنی طرف سے راضی کر دے گا۔
6045
Sahih
۔ (۶۰۴۶)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ تَرَکَ مَالًا فَلِأَھْلِہِ، وَمَنْ تَرَکَ دَیْنًا فَعَلٰی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَ عَلٰی رَسُوْلِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۳۲۸۴)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مال چھوڑا، وہ اس کے اہل وعیال کے لیے ہو گا اور جس نے قرض چھوڑا وہ اللہ تعالی اور اس کے رسو ل کے ذمے ہو گا۔
Takhreej
(۶۰۴۶) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابویعلی: ۴۳۴۳ (انظر: ۱۳۲۵۱)
6046
Sahih
۔ (۶۰۴۷)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَنَا أَوْلَی النَّاسِ بِأَنْفُسِہِمْ، مَنْ تَرَکَ مَالًا فَلِمَوَالِیْ عَصَبَتِہِ وَمَنْ تَرَکَ ضِیَاعًا أَوْ کَلًّا فَأَنَا وَلِیُّہُ فَلِاُدْعٰی لَہُ۔)) (مسند احمد: ۸۶۵۸)
۔ سیدنا ا بو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں ایمانداروں کی جانوں سے بھی ان کے قریب ہوں، اس لیے جوشخص مال چھوڑے وہ اس کے عزیز واقارب کے لیے ہوگااور جو کوئی چھو ٹے بچے یا (قر ض وغیرہ) کا بوجھ چھوڑ کر فوت ہو، اس کا ذمہ دار میں ہوں گا۔
Takhreej
(۶۰۴۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۷۴۵(انظر: ۸۶۷۳)
Explanation
فوائد:… نبی کریمa کا مؤمنوں کی جانوں سے بھی قریب ہونا، اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب آپa کسی مسلمان کو ایک چیز کی طرف بلا رہے ہوں، جبکہ اس کے نفس کا تقاضا کوئی اور ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس کے خیال کو ترک کر کے رسول اللہa کے حکم کو مانے، کیونکہ اسی میںدائمی نجات ہو گی، جبکہ ایسی صورت میں نفس کے تقاضے کو پورا کرنے میں ہلاکت ہو گی۔ مسلمانوں کے حکمرانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے، آپ a تو فوت ہونے والوں کے قرضے چکا تے اور ان کی اولاد کا سہارا بنتے تھے، اب معاملہ الٹ ہو چکا ہے، جس حکمران کا داؤ چلتا ہے، وہ اپنی رعایا کے مال ودولت اور قومی خزانے کو لوٹنا چاہتا ہے۔
6047
Sahih

Chapters

10
01
قر ض دینے کی فضیلت اور تنگدست پر آسانی کرنے کا بیان
3 Hadith
02
اچھے انداز میں قرض کی ادائیگی اور اس کا مطالبہ کرنے، قرض دار کی قرض خواہ کے لیے دعا کرنے اور لیے ہوئے قرض سے زیادہ مقدار دے دینے کے مستحب ہونے کا بیان
8 Hadith
03
قر ض سے محتاط رہنے، بوقت ضرورت اس کے جائز ہونے اور نبی کریمa کے قرض لینے کا بیان
6 Hadith
04
ادائیگی کا ارادہ نہ رکھنے والے یا ادائیگی میں سستی کرنے والے قرض دار شخص کی سخت مذمت اور فاضل آدمی کا فوت ہونے والے مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
6 Hadith
05
قرض کی وجہ سے میت کے نفس کو جنت سے روک لینے کا بیان
4 Hadith
06
مقروض آدمی کی نماز جنازہ ادا نہ کرنے کے حکم کا منسوخ ہونا
2 Hadith
07
قرضے کو وصیت اور ورثاء کے حقوق پر مقدم کرنے کا بیان، اگرچہ ورثاء چھوٹی عمر والے ہوں
1 Hadith
08
ادھار کی وجہ سے کسی چیز کو فروخت کرنے اور تنگدست سے کچھ قرضہ معاف کر دینے کے مستحب ہونے کا بیان
4 Hadith
09
اس چیز کا بیان کہ جس آدمی نے کسی حادثے یا ضرورت کی بنا پر قرضہ لیا، جبکہ وہ ادا کرنے کی نیت رکھتا ہو اور ادا نہ کر سکے تو اللہ تعالی اس کی طرف سے ادا کر دے گا
7 Hadith
10
تنگدست کو مہلت دینے والے یا اس کومعاف کر دینے والے کی فضیلت کا بیان
11 Hadith
No chapter matched that.