مسنداحمد

Musnad Ahmad

قرض کے مسائل

اس چیز کا بیان کہ جس آدمی نے کسی حادثے یا ضرورت کی بنا پر قرضہ لیا، جبکہ وہ ادا کرنے کی نیت رکھتا ہو اور ادا نہ کر سکے تو اللہ تعالی اس کی طرف سے ادا کر دے گا

۔ (۶۰۴۱)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ بَکْرٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَدْعُو اللّٰہُ بِصَاحِبِ الدَّیْنِیَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتّٰییُوْقَفَ بَیْنَیَدَیْہِ، فَیُقَالُ: یَا ابْنَ آدَمَ! فِیْمَ أَخَذْتَ ھٰذَا الدَّیْنَ؟ وَفِیْمَ ضَیَّعْتَ حُقُوْقَ النَّاسِ؟ فَیَقُوْلُ: یَارَبِّ! اِنَّکَ تَعْلَمُ أَنِّیْ أَخَذْتُہُ فَلَمْ آکُلْ وَلَمْ أَشْرَبْ وَلَمْ أَلْبَسْ وَلَمْ أُضَیِّعْ، وَلٰکِنْ أَتٰی عَلٰییَدَیَّ إِمَّا حَرَقٌ وَإِمَّا سَرَقَ وَإِمَّا وَضِیْعَۃٌ، فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: صَدَقَ عَبْدِیْ، أَنَا أَحَقُّ مَنْ قَضٰی عَنْکَ الْیَوْمَ، فَیَدْعُو اللّٰہُ بِشَیْئٍ فَیَضَعَہُ فِیْ کِفَّۃِ مِیْزَانِہِ فَتَرْجَحُ حَسَنَاتُہُ عَلٰی سَیِّئَاتِہِ فَیَدْخُلَ الْجَنَّۃَ بِفَضْلِ رَحْمَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۰۸)

۔ سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مقروض آدمی کو روزِ قیامت بلا کر اپنے سامنے کھڑاکرکے کہیں گے: اے آدم کے بیٹے! یہ قرض کیوں لیا تھا؟ تو نے کس لیے لوگوں کے حقوق ضائع کئے تھے؟ وہ آدمی کہے گا: اے میرے پروردگار! تجھے معلوم ہے میں نے یہ قرض کھانے پینے، پہننے اور فضول ضائع کرنے کے لئے نہیں لیاتھا، بلکہ اپنے مال کے جل جانے یا چوری ہو جانے یا تجارت میں گھاٹا پڑنے کی وجہ سے لیا تھا، اللہ تعالیٰ کہے گا: میرے بندے نے سچ کہا ہے، لہٰذاآج میں اس کی طرف سے اس کا قرض پورا کرنے کا زیادہ حق رکھتا ہوں، پھر اللہ تعالیٰ کچھ منگوا کر اس آدمی کے ترازوکے پلڑے میںرکھے گے، جس کی وجہ سے اس کی نیکیاں اس کی برائیوں پر بھاری ہو جائیں گی، اس طرح اللہ تعالیٰ اس کو اپنی رحمت کی وجہ سے جنت میںداخل کردے گا۔

۔ (۶۰۴۲)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ قَالَ: کَانَتْ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تَدَّانُ، فَقِیْلَ لَھَا: مَا لَکِ وَلِلدَّیْنِ؟ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ عَبْدٍ کَانَتْ لَہُ نِیّۃٌ فِیْ أَدَائِ دَیْنِہِ اِلَّا کَانَ لَہُ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ عَوْنٌ۔)) فَاَنَا اَلْتَمِسُ ذٰلِکَ الْعَوْنَ۔ (مسند احمد: ۲۵۵۰۷)

۔ محمد بن علی کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قرض لیا کرتی تھیں، جب ان سے کہاگیا کہ آپ کا قرض سے کیا تعلق ہے تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جوشخص قرض لینے کے بعد اس کو ادا کرنے کی نیت رکھے گا، تو اللہ تعالی کی طرف اس کو خصوص مدد حاصل ہو گی۔ پس میں وہ مدد تلاش کر رہی ہوں۔

۔ (۶۰۴۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ حَمَلَ مِنْ أُمَّتِیْ دَیْنًا ثُمَّ جَہَدَ فِیْ قَضَائِہِ فَمَاتَ وَلَمْ یَقْضِہِ فَأَنَا وَلِیُّہُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۲۶)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میںسے جس انسان نے قرضہ لیا اور پھر اس کو ادا کرنے کی کوشش کی، لیکن ادا کرنے سے پہلے مر گیا تو میں اس کا ذمہ دار ہوں۔

۔ (۶۰۴۴)۔ وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَ عَلَیْہِ دَیْنٌ ھَمَّہُ قَضَاؤُہُ أَوْھَمَّ بِقَضَائِہِ لَمْ یَزَلْ مَعَہُ مِنَ اللّٰہِ حَارِسٌ۔)) (مسند احمد: ۲۶۷۱۷)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ ابوالقاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس انسان پر قرض ہو اوراس کو چکا دینے کا ارادہ رکھتا ہو تو اللہ تعالی کی طر ف سے اس پر ایک نگہبان مقرر ہو گا۔

۔ (۶۰۴۵)۔ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّھَا اسْتَدَانَتْ دَیْنًا فَقِیْلَ لَھَا: تَسْتَدِیْنِیْنَ وَلَیْسَ عِنْدَکِ وَفَائُہُ؟ قَالَتْ: إِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَا مِنْ أَحَدٍ یَسْتَدِیْنُ دَیْنًایَعْلَمُ اللّٰہُ أَنَّہُیُرِیْدُ أَدَائَہُ اِلَّا أَدَّاہُ۔)) (مسند احمد: ۲۷۳۵۳)

۔ زوجۂ رسول سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے قرض لیا، کسی نے ان سے کہا: آپ قرض لیتی ہیں، جبکہ آپ میں واپس کرنے کی طاقت نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب کوئی آدمی قر ض لیتا ہے اور اس کے بارے میں اللہ تعالییہ جانتا ہے کہیہ شخص ادا کرنا چاہتا ہے تو اللہ تعالی اس کو ادا کر وا دیتا ہے۔

۔ (۶۰۴۶)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ تَرَکَ مَالًا فَلِأَھْلِہِ، وَمَنْ تَرَکَ دَیْنًا فَعَلٰی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَ عَلٰی رَسُوْلِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۳۲۸۴)

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مال چھوڑا، وہ اس کے اہل وعیال کے لیے ہو گا اور جس نے قرض چھوڑا وہ اللہ تعالی اور اس کے رسو ل کے ذمے ہو گا۔

۔ (۶۰۴۷)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَنَا أَوْلَی النَّاسِ بِأَنْفُسِہِمْ، مَنْ تَرَکَ مَالًا فَلِمَوَالِیْ عَصَبَتِہِ وَمَنْ تَرَکَ ضِیَاعًا أَوْ کَلًّا فَأَنَا وَلِیُّہُ فَلِاُدْعٰی لَہُ۔)) (مسند احمد: ۸۶۵۸)

۔ سیدنا ا بو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں ایمانداروں کی جانوں سے بھی ان کے قریب ہوں، اس لیے جوشخص مال چھوڑے وہ اس کے عزیز واقارب کے لیے ہوگااور جو کوئی چھو ٹے بچے یا (قر ض وغیرہ) کا بوجھ چھوڑ کر فوت ہو، اس کا ذمہ دار میں ہوں گا۔