مسنداحمد

Musnad Ahmad

گروی کا بیان

حوالہ اور ضمان کا بیان مالدار پر حوالہ قبول کر لینے کے وجوب اور غنی کے ٹال مٹول کرنے کی حرمت کا بیان


۔ (۶۰۶۶)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَطْلُ الْغَنِیِّ ظُلْمٌ، وَاِذَا أُتْبِعَ اَحَدُکُمْ عَلٰی مَلِیْئٍ فَلْیَتَّبِعْ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((وَمَنْ أُحِیْلَ عَلٰی مَلِیْئٍ فَلْیَحْتَلْ۔)) (مسند احمد: ۹۹۷۴)

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مالدارکا قرض ادا کرنے سے ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تجھے کسی صاحب ِ مال کا حوالہ دیا جائے، تو تو اس کو تسلیم کرلے اور ایک سودے میں دو سودے نہیں ہیں۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۶۰۶۷) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۴۰۴ (انظر: ۵۳۹۵)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… پہلے حوالہ کی مثال ملاحظہ کریں، زاہد نے عثمان سے ایک ہزار روپے کا قرض لینا ہے اور عثمان نے اتنی ہی رقم ابراہیم سے لینی ہے، اب عثمان زاہد سے کہتا ہے کہ تو نے مجھ سے جو ہزار روپیہ لینا ہے، وہ ابراہیم سے لے لینا، جبکہ ابراہیم مالدار بھی ہے، ایسی صورت میں زاہد کو چاہیے کہ وہ عثمان کی بات تسلیم کر لے اور اس کو قرض لینےیا دینے سے بری کر دے۔ حوالہ کی تعریف:… مقروض کا اپنے قرض خواہ کو غیر کی طرف منتقل کر دینا۔ ایک سودے میں دو سودوں کے منع ہونے کے بارے میں مفصل بحث پہلے ہو چکی ہے۔