TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

گروی کا بیان - گروی کا بیان - Book 92 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 92 of Musnad Ahmad, with 6 chapters and 12 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

12 Hadith · 6 Chapters
حضر میں گر وی رکھنے کے جوازکا بیان
۔ (۶۰۵۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قُبِضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَدِرْعُہُ مَرْھُوْنَۃٌ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ یَہُوْدَ عَلٰی ثَلَاثِیْنَ صَاعًا مِنْ شَعِیْرٍ أَخَذَھَا رِزْقًا لِعِیَالِہِ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۹)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات ہوئی تو اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زرہ ایکیہودی کے پاس تیس صاع جو کے عوض بطورِ گروی پڑی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے اہل وعیال کی خوراک کے لئے یہودی سے وہ جو ادھار لئے تھے۔
Takhreej
(۶۰۵۹) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط البخاری۔ أخرجہ الترمذی: ۱۲۱۴، والنسائی: ۷/ ۳۰۳، وابن ماجہ: ۲۴۳۹(انظر: ۲۱۰۹)
Explanation
فوائد:… ارشادِ باری تعالی ہے: {وَاِنْ کُنْْتُمْ عَلٰی سَفَرٍ وَ لَمْ تَجِدُوْا کَاتِبًا فَرِھٰنٌ مَّقْبُوْضَۃٌ} … ’’اور اگر تم سفر میں ہو اور لکھنے والانہ پاؤ تو قبضہ میں رکھی ہوئی گروی ہو گی۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۲۸۳) اس آیت ِ مقدسہ میں سفر میں گروی رکھنے کا ذکر ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ گروی رکھنا سفر کے ساتھ خاص ہے، یہاں اغلبیت کے طور پر سفر کا ذکر کیا گیا، وگرنہ حضر میں بھی گروی رکھنا درست ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا روایت سے معلوم ہو رہا ہے۔ اس حدیث سے کفار کے ساتھ ایسے معاملات کا جواز نکلتا ہے، جن کے متعلق واضح حرمت نہیں آئی۔
6059
Sahih
حضر میں گر وی رکھنے کے جوازکا بیان
۔ (۶۰۶۰)۔ عَنْ عَائِشَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَدِرْعُہُ مَرْھُوْنَۃٌ بِثَـلَاثِیْنَ صَاعًا مِنْ شَعِیْرٍ۔ (مسند احمد: ۲۶۵۲۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب فوت ہوئے تھے تو آپ کی زرہ تیس صاع جوکے عوض گروی میں پڑی ہوئی تھی۔
Takhreej
(۶۰۶۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۹۱۶، ۴۴۶۷، ومسلم: ۱۶۰۳ (انظر: ۲۵۹۹۸)
6060
Sahih
حضر میں گر وی رکھنے کے جوازکا بیان
۔ (۶۰۶۱)۔ وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: اِشْتَرٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ یَہُوْدِیٍّ طَعَامًا نَسِیْئَۃً فَأَعْطَاہُ دِرْعًا لَہُ رَھْنًا۔ (مسند احمد: ۲۴۶۴۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ادھار پر ایکیہودی سے اناج خریدا تھا اور اپنی زرہ بطورِ گروی اس کے پاس رکھی تھی۔
Takhreej
(۶۰۶۱) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ اسلحہ وغیرہ جس سے غیر مسلم کو نقصان پہنچ سکے، اس سے احتیاط کرتے ہوئے دوسر ی اشیاء کی تجارت غیر مسلموں سے جائز ہے۔
6061
Sahih
حضر میں گر وی رکھنے کے جوازکا بیان
۔ (۶۰۶۲)۔ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیْدَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تُوُفِّیَیَوْمَ تُوُفِّیَ وَدِرْعُہُ مَرْھُوْنَۃٌ عِنْدَ رَجُلٍ مِنَ الْیَہُوْدِ بِوَسْقٍ مِنْ شَعِیْرٍ۔ (مسند احمد: ۲۸۱۳۹)
۔ سیدنا اسماء بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب فوت ہوئے توآپ کی زرہ ایکیہودی کے پاس ایک وسق جوکے عوض بطورِ گروی پڑی تھی۔
Takhreej
(۶۰۶۲) تخریج: صحیح لغیرہ دون قولہ ’’بوسق من شعیر‘‘، وھذا اسناد ضعیف لضعف شھر بن حوشب۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۴۳۸(انظر: ۲۷۵۸۷)
Explanation
فوائد:… صحیح احادیث کے مطابق آپ a نے تیس صاع غلہ لیا تھا، اس روایت میں وسق کا ذکر ہے، جس میں ساٹھ صاع ہوتے ہیں۔
6062
Sahih
حضر میں گر وی رکھنے کے جوازکا بیان
۔ (۶۰۶۳)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: وَلَقَدْ رَھَنَ یَعْنِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دِرْعًا لَہُ عِنْدَ یَہُوْدِیٍّ بِالْمَدِیْنَۃِ أَخَذَ مِنْہُ طَعَامًا، فَمَا وَجَدَ مَا یَفْتَکُّہَا بِہٖ (زَادَفِیْ رِوَایَۃٍ: حَتّٰی مَاتَ)۔ (مسند احمد: ۱۳۵۳۱)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ کے ایکیہودی کے ہاں اپنی زرہ گر وی رکھ کر اس سے اناج لیاتھا، وفات تک اتنی گنجائش نہ ہو سکی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو واپس لے لیتے ۔
Takhreej
(۶۰۶۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۴۱۴۷(انظر: ۱۳۴۹۷)
6063
Sahih
گروی میں رکھی ہوئی سواری پر اس کے خرچ کے عوض سواری کر لینے کا بیان
۔ (۶۰۶۴)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الظَّہْرُ یُرْکَبُ بِنَفَقَۃٍ اِذَا کَانَ مَرْھُوْنًا، یُشْرَبُ لَبَنُ الدَّرِّ اِذَا کَانَ مَرْھُوْنًا وَعَلٰی الَّذِیْیَشْرَبُ وَیَرْکَبُ نَفَقَتُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۱۱۴)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گروی میں رکھی ہوئی سواری پر اس پر ہونے والے خرچ کے عوض میں سواری کی جائی گے اور اسی طرح دودھ والے جانور کا دودھ پیا جائے گا، اور اس کا خرچ دودھ پینے والے اور سواری کرنے والے شخص پر ہو گا۔
Takhreej
(۶۰۶۴) تخریج: أخرجہ بنحوہ البخاری: ۲۵۱۱، ۲۵۱۲(انظر: ۱۰۱۱۰)
6064
Sahih
گروی میں رکھی ہوئی سواری پر اس کے خرچ کے عوض سواری کر لینے کا بیان
۔ (۶۰۶۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا کَانَتِ الدَّابَّۃُ مَرْھُوْنَۃً فَعَلٰی الْمُرْتَہِنِ عَلَفُہَا وَلَبَنُ الدَّرِّ یُشْرَبُ وَعَلٰی الَّذِیْیَشْرَبُ وَیَرْکَبُ نَفَقَتُہُ۔)) (مسند احمد: ۷۱۲۵)
۔ (دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب جانور گروی میں رکھا جا ئے گا تو اس کا چارہ گروی لینے والے کے ذمہ ہو گا اور دودھ والے جانور کا دودھ پیا جائے گا اور دودھ پینے والے اور سواری کرنے والے شخص پر اس کا خرچ ہو گا۔
Takhreej
(۶۰۶۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… گروی رکھنے والے کو رَاھِن اور جس کے پاس گروی رکھی جائے، اس کو مُرْتَھِن کہتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ مرتہن گروی میں رکھی ہوئی سے کوئی فائدہ حاصل کر سکتا ہے یا نہیں؟ اس سوال کے جواب کا خلاصہ درج ذیل ہے: اگر گروی رکھی جانے والی چیز خرچے کی محتاج نہ ہو، مثلا گھر، سائیکل، موٹر سائیکل اور دیگر سامان وغیرہ تو کسی حال میں مرتہن کے لیےیہ جائز نہ ہو گا کہ وہ اس سے نفع حاصل کرے اور اگر گروی میں رکھی جانے والی چیز خرچے کی محتاج ہو، مثلا بکری اور گھوڑا وغیرہ، تو مرتہن اپنی طرف سے اس چیز پر جتنا خرچ کرے گا، اس کے برابر اس سے فائدہ اٹھا سکے گا، جیسا کہ درج بالا احادیث سے معلوم ہو رہا ہے۔
6065
Sahih
حوالہ اور ضمان کا بیان مالدار پر حوالہ قبول کر لینے کے وجوب اور غنی کے ٹال مٹول کرنے کی حرمت کا بیان
۔ (۶۰۶۶)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَطْلُ الْغَنِیِّ ظُلْمٌ، وَاِذَا أُتْبِعَ اَحَدُکُمْ عَلٰی مَلِیْئٍ فَلْیَتَّبِعْ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((وَمَنْ أُحِیْلَ عَلٰی مَلِیْئٍ فَلْیَحْتَلْ۔)) (مسند احمد: ۹۹۷۴)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مالد ار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب کسی کو مالدار کے حوالے کیا جائے تواس کو چاہیے کہ وہ یہ بات قبول کرے۔ ایک روایت میںہے: جب کسی کو مالدار کے حوالے کیا جائے تو وہ یہ حوالہ قبول کر لے۔
Takhreej
(۶۰۶۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۲۸۸، ومسلم: ۱۵۶۴ (انظر: ۹۹۷۳)
6066
Sahih
حوالہ اور ضمان کا بیان مالدار پر حوالہ قبول کر لینے کے وجوب اور غنی کے ٹال مٹول کرنے کی حرمت کا بیان
۔ (۶۰۶۶)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَطْلُ الْغَنِیِّ ظُلْمٌ، وَاِذَا أُتْبِعَ اَحَدُکُمْ عَلٰی مَلِیْئٍ فَلْیَتَّبِعْ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((وَمَنْ أُحِیْلَ عَلٰی مَلِیْئٍ فَلْیَحْتَلْ۔)) (مسند احمد: ۹۹۷۴)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مالدارکا قرض ادا کرنے سے ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تجھے کسی صاحب ِ مال کا حوالہ دیا جائے، تو تو اس کو تسلیم کرلے اور ایک سودے میں دو سودے نہیں ہیں۔
Takhreej
(۶۰۶۷) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۴۰۴ (انظر: ۵۳۹۵)
Explanation
فوائد:… پہلے حوالہ کی مثال ملاحظہ کریں، زاہد نے عثمان سے ایک ہزار روپے کا قرض لینا ہے اور عثمان نے اتنی ہی رقم ابراہیم سے لینی ہے، اب عثمان زاہد سے کہتا ہے کہ تو نے مجھ سے جو ہزار روپیہ لینا ہے، وہ ابراہیم سے لے لینا، جبکہ ابراہیم مالدار بھی ہے، ایسی صورت میں زاہد کو چاہیے کہ وہ عثمان کی بات تسلیم کر لے اور اس کو قرض لینےیا دینے سے بری کر دے۔ حوالہ کی تعریف:… مقروض کا اپنے قرض خواہ کو غیر کی طرف منتقل کر دینا۔ ایک سودے میں دو سودوں کے منع ہونے کے بارے میں مفصل بحث پہلے ہو چکی ہے۔
6067
Sahih
مفلس میت کے قرض کی ضمانت کا بیان
۔ (۶۰۶۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ قَتَادَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: تُوُفِّیَ رَجُلٌ مِنَّا فَأَتَیْنَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِیُصَلِّیَ عَلَیْہِ، فَقَالَ: ((ھَلْ تَرَکَ مِنْ شَیْئٍ؟)) قَالُوْا: لَا، وَاللّٰہِ! مَاتَرَکَ مِنْ شَیْئٍ، قَالَ: ((فَہَلْ تَرَکَ عَلَیْہِ مِنْ دَیْنٍ؟)) قَالُوْا: نَعَمْ، ثَمَانِیَۃَ عَشَرَ دِرْھَمًا، قَالَ: ((فَہَلْ تَرَکَ لَھَا مِنْ قَضَائٍ؟)) قَالُوْا: لَا، وَاللّٰہِ! مَاتَرَکَ لَھَا مِنْ شَیْئٍ، قَالَ: ((فَصَلُّوْا أَنْتُمْ عَلَیْہِ۔)) قَالَ اَبُوْ قَتَادَۃَ: یَا رَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! أَرَأَیْتَ إِنْ قَضَیْتُ عَنْہُ اَتُصَلِّیْ عَلَیْہِ؟ قَالَ: ((إِنْ قَضَیْتَ عَنْہُ بِالْوَفَائِ صَلَّیْتُ عَلَیْہِ۔)) قَالَ: فَذَھَبَ أَبُوْقَتَادَۃَ فَقَضٰی عَنْہُ فقَالَ: ((وَفَّیْتَ مَاعَلَیْہِ؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَدَعَا بِہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۳۰۳۴)
۔ سیدنا ابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم انصارمیں سے ایک آدمی فوت ہوا ،ہم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میںیہ درخوست کی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی نمازجنازہ پڑھائیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے کوئی ترکہ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی نہیں، کچھ نہیں چھوڑا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیایہ مقروض ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، یہ اٹھارہ درہم کا مقروض ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا اس نے ان کی ادائیگی کے لئے کچھ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی نہیں، کچھ نہیں چھوڑا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر خود ہی اس کی نمازِ جنازہ پڑھ لو۔ سیدنا ابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! بتائیں کہ اگر میں اس کا قرض ادا کردوں توپھر آپ اس کی نماز جنازہ پڑھیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم پورا ادا کردو تو میں نماز جنازہ پڑھوں گا۔ سیدنا ابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ گئے اور اس کا قرض ادا کر کے آ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: ابوقتادہ! مکمل ادا کردیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی اداکردیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میت کو منگوایا اور اس کی نمازجنازہ ادا کی۔
Takhreej
(۶۰۶۸) تخریج: حدیث صحیح بطرقہ وشواھدہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۴۰۷، والترمذی: ۱۰۶۹، والنسائی: ۴/۶۵ (انظر: ۲۲۶۵۷)
Explanation
فوائد:… حدیث نمبر (۶۰۲۶) یہ بات گزر چکی ہے کہ جونہی سیدنا ابو قتادہ نے قرض کی ذمہ داری اٹھائی اور آپa سے کہا: اے اللہ کے رسول! اس میت کا قرض مجھ پر ہے، یہ سن کر رسول اللہa نے نماز جنازہ پڑھا دی، لیکن اس حدیث میں ہے کہ آپa کی نماز جنازہ پڑھانے سے پہلے سیدنا ابو قتادہb گئے اور قرض ادا کر کے آٹے پھر آپa نے ان سے پوچھا کہ ادائیگی مکمل ہو گئی ہے، جب انھوں نے مثبت جواب دیا تو تب آپa نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔ ان دو روایات میں جمع وتطبیق کی صورت یہ ہے کہ سیدنا ابو قتادہb قرض خواہ کی طرف گئے اور میت کی طرف سے ضمانت اٹھائی، اگرچہ بالفعل اس کا قرضہ ادا نہیں کیا، اس ضمانت کی وجہ سے میت بریٔ الذمہ ہو گیا اور آپa نے نمازِ جنازہ پڑھا دی، اگلے باب کی حدیث سے اس تاویل و تطبیق کی تائید ہوتی ہے۔
6068
Sahih
جس چیز کی ضمانت دی گئی ہو، ضامن اس کی ادائیگی سے ہی بری ہو گی، نہ کہ صرف ضمانت اٹھانے سے
۔ (۶۰۶۹)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: تُوُفِّیَ رَجُلٌ فَغَسَّلْنَاہُ وَحَنَّطْنَاہُ ثُمَّ أَتَیْنَا بِہٖرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ عَلَیْہِ، فَقُلْنَا: تُصَلِّیْ عَلَیْہِ، فَخَطَا خُطًی ثُمَّ قَالَ: ((أَعَلَیْہِ دَیْنٌ؟)) قُلْنَا: دِیْنَارَانِ، فَانْصَرَفَ فَتَحَمَّلَہَا اَبُوْ قَتَادَۃَ فَأَتَیْنَاہُ فَقَالَ اَبُوْ قَتَادَۃَ: الدِّیْنَارَانِ عَلَیَّ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَحَقَّ الْغَرِیْمِ، وَبَرِیئَ مِنْھُمَا الْمَیِّتُ؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَصَلّٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذٰلِکَ بِیَوْمٍ: ((مَا فَعَلَ الدِّیْنَارَانِ؟)) فَقَالَ: إِنَّمَا مَاتَ أَمْسِ، قَالَ: فَعَادَ إِلَیْہِ مِنَ الْغَدِ، فَقَالَ: قَدْ قَضَیْتُہُمَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْآنَ بَرَدَتْ عَلَیْہِ جِلْدُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۹۰)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی فوت ہوا، پس ہم نے اسے غسل دیا اور خوشبو لگائی، پھر ہم اسے لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی نمازجنازہ ادا فرمائیں۔ ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا کہ آپ اس کی نمازِ جنازہ پڑھائیں، آپ چند قدم چل کررک گئے اور فرمایا: کیا اس پر قرض ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں، دودینار ہیں،یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو واپس چل پڑے،پھر سیدنا ابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کی ادائیگی کی ذمہ داری اٹھائی اور ہم دوبارہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ سیدنا ابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دودیناروں کی ذمہ داری لے لی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا اب قر ض خواہ تجھ سے یہ حق طلب کرے گا اور میت اس سے بری ہو گئی ہے؟ سیدنا ابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی ہاں، تب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی نمازجنازہ ادا کی۔ ایک دن کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: وہ دیناروں کا کیا بنا؟ سیدناابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ابھی کل تو وہ فوت ہوا ہے، پھر وہ لوٹے اور اگلے دن ان کی ادائیگی کر کے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ان کو ادا کر دیا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب اس کی جلد ٹھنڈی ہوئی ہے۔
Takhreej
(۶۰۶۹) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۳۳۴۳ (انظر: ۱۴۵۳۶)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث واضح دلالت کرتی ہے کہ میت کا قرض کوئی اپنے ذمہ لے تو اسے جلدی ادا کردیناچاہیے اور ذمہ لینے کے باوجود میت پر اس وقت تک بوجھ رہتا ہے، جب تک اس کی جانب سے ادانہ کردیاجائے۔
6069
Sahih
اگر اصل مالک فروخت شدہ چیز کو پا لیتا ہے تو اس چیز کی ضمانت فروخت کرنے والے پر ہو گی
۔ (۶۰۷۰)۔ عَنْ سَمُرَۃَ ْبِن جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا سُرِقَ مِنَ الرَّجُلِ مَتَاعٌ أَوْ ضَاعَ لَہُ مَتَاعٌ فَوَجَدَہُ بِیَدِ رَجُلٍ بِعَیْنِہِ فَہُوَ أَحَقُّ بِہٖوَیَرْجِعُ الْمُشْتَرِیْ عَلٰی الْبَائِعِ بِالثَّمَنِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۴۰۸)
۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کسی آدمی کا سامان چوری ہوجائے یا کسی طرح سے ضائع ہوجائے اور پھر وہ کسی کے پاس اپنا سامان بعینہ پا لے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہو گا اور خرید ار حصولِ قیمت کیلئے فروخت کنندہ کی طرف رجوع کرے گا۔
Takhreej
(۶۰۷۰) تخریج: حدیث حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۳۳۱(انظر: ۲۰۱۴۶)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا مطلب ہے کہ ایک آدمی کا مال گم ہو جاتا ہے یا چوری ہو جاتا ہے اور پھر وہ مال اسی حالت میں کسی کے پاس مل جاتا ہے، تو یہ مال اصل مالک کو ہی ملے گا، اس آدمی نے جس سے خریدا ہو گا، اس سے اس کی قیمت واپس لے لے گا۔
6070
Sahih