TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قرض لینے کے لیے مالدار آدمی کا پیچھا کرنے اور قید کے ذریعے اس کو سزا دینے اور تنگدست کو آزاد چھوڑنے کا بیان - قرض لینے کے لیے مالدار آدمی کا پیچھا کرنے اور قید کے ذریعے اس کو سزا دینے اور تنگدست کو آزاد چھوڑنے کا بیان - مفلسی اور مالی معاملات پر پابندی لگانے کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of مفلسی اور مالی معاملات پر پابندی لگانے کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 4 · 2 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۶۰۷۱)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشُّرَیْدِ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیُّ الْوَاجِدِ ظُلْمٌ یُحِلُّ عِرْضَہُ وَعُقُوْبَتُہُ۔)) قَالَ وَکِیْعٌ: عِرْضَہُ: شَکَایَتَہُ، وَعُقُوْبَتُہُ: حَبْسُہُ۔ (مسند احمد: ۱۸۱۱۰)
۔ سیدنا شرید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: غنی آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، یہ چیز اس کی عزت اور سزا کو حلال کر دیتی ہے۔ امام وکیع نے کہا: بے عزتی سے مراد اس کی شکایت کرنا اور سزا سے مرا اس کو قید کرنا ہے۔
Takhreej
(۶۰۷۱) تخریج: اسنادہ محتمل للتحسین۔ أخرجہ ابوداود: ۳۶۲۸، وابن ماجہ: ۲۴۲۷، والنسائی: ۷/ ۳۱۶، وعلقہ البخاری فی الاستقراض باب لصاحب الحق مقال (انظر: ۱۷۹۴۶)
Explanation
فوائد:… غنی آدمی کی قید لگانے سے معلوم ہوتا ہے کہ تنگ دست آدمی اس حکم سے مستثنی ہو گا اور اس کو مزید مہلت دی جائے گییا اس کو معاف کر دیا جائے گا۔ خلیفہ اور حکمران کو حق حاصل ہے کہ کسی شبہ یا جرم کی بنا پر آدمی کو قید کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ سیدنا معاویہ بن حیدہb سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اِنَّ النَّبِیَّV حَبَسَ رَجُلًا فِیْ تُھْمَۃٍ۔… نبی کریمa نے کسی تہمت کی وجہ سے ایک آدمی کو قید کر لیا تھا۔ (ابوداود: ۳۶۳۰، ترمذی: ۱۴۱۷، نسائی: ۴۸۷۵)
6071
Sahih
۔ (۶۰۷۲)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: أُصِیْبَ رَجُلٌ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ ثِمَارٍ ابْتَاعَہَا فَکَثُرَ دَیْنُہُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَصَدَّقُوْا عَلَیْہِ۔)) قَالَ: فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَیْہِ فَلَمْ یَبْلُغْ ذٰلِکَ وَفَائَ دَیْنِہِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خُذُوْا مَا وَجَدْتُمْ وَلَیْسَ لَکُمْ اِلَّا ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۳۷)
۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد ِ مبارک میں ایک آدمی نے پھل خریدا، لیکن اس پھل پر کوئی آفت پڑی، جس کی وجہ سے وہ آدمی بہت زیادہ مقروض ہو گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس پر صدقہ کرو۔ لوگوں نے صدقہ تو کیا، لیکن اس کی مقدار اس کے قرضے سے کم رہی، بالآخر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قرض خواہوں سے فرمایا: جو کچھ تمہیں مل رہا ہے، اُس کو لے لو اور اس کے علاوہ مزید کچھ نہیں ہے۔
Takhreej
(۶۰۷۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۵۵۶ (انظر: ۱۱۳۱۷)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب مفلس کا مال اس کے ذمہ قرضوں سے کم ہو گا تو پھر بھی اس کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ اس مال کو اپنے قرض خواہوں کے سپرد کر دے۔
6072
Sahih