TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مفلسی اور مالی معاملات پر پابندی لگانے کے مسائل - مفلسی اور مالی معاملات پر پابندی لگانے کے مسائل - Book 93 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 93 of Musnad Ahmad, with 4 chapters and 12 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

12 Hadith · 4 Chapters
قرض لینے کے لیے مالدار آدمی کا پیچھا کرنے اور قید کے ذریعے اس کو سزا دینے اور تنگدست کو آزاد چھوڑنے کا بیان
۔ (۶۰۷۱)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشُّرَیْدِ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیُّ الْوَاجِدِ ظُلْمٌ یُحِلُّ عِرْضَہُ وَعُقُوْبَتُہُ۔)) قَالَ وَکِیْعٌ: عِرْضَہُ: شَکَایَتَہُ، وَعُقُوْبَتُہُ: حَبْسُہُ۔ (مسند احمد: ۱۸۱۱۰)
۔ سیدنا شرید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: غنی آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، یہ چیز اس کی عزت اور سزا کو حلال کر دیتی ہے۔ امام وکیع نے کہا: بے عزتی سے مراد اس کی شکایت کرنا اور سزا سے مرا اس کو قید کرنا ہے۔
Takhreej
(۶۰۷۱) تخریج: اسنادہ محتمل للتحسین۔ أخرجہ ابوداود: ۳۶۲۸، وابن ماجہ: ۲۴۲۷، والنسائی: ۷/ ۳۱۶، وعلقہ البخاری فی الاستقراض باب لصاحب الحق مقال (انظر: ۱۷۹۴۶)
Explanation
فوائد:… غنی آدمی کی قید لگانے سے معلوم ہوتا ہے کہ تنگ دست آدمی اس حکم سے مستثنی ہو گا اور اس کو مزید مہلت دی جائے گییا اس کو معاف کر دیا جائے گا۔ خلیفہ اور حکمران کو حق حاصل ہے کہ کسی شبہ یا جرم کی بنا پر آدمی کو قید کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ سیدنا معاویہ بن حیدہb سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اِنَّ النَّبِیَّV حَبَسَ رَجُلًا فِیْ تُھْمَۃٍ۔… نبی کریمa نے کسی تہمت کی وجہ سے ایک آدمی کو قید کر لیا تھا۔ (ابوداود: ۳۶۳۰، ترمذی: ۱۴۱۷، نسائی: ۴۸۷۵)
6071
Sahih
قرض لینے کے لیے مالدار آدمی کا پیچھا کرنے اور قید کے ذریعے اس کو سزا دینے اور تنگدست کو آزاد چھوڑنے کا بیان
۔ (۶۰۷۲)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: أُصِیْبَ رَجُلٌ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ ثِمَارٍ ابْتَاعَہَا فَکَثُرَ دَیْنُہُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَصَدَّقُوْا عَلَیْہِ۔)) قَالَ: فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَیْہِ فَلَمْ یَبْلُغْ ذٰلِکَ وَفَائَ دَیْنِہِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خُذُوْا مَا وَجَدْتُمْ وَلَیْسَ لَکُمْ اِلَّا ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۳۷)
۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد ِ مبارک میں ایک آدمی نے پھل خریدا، لیکن اس پھل پر کوئی آفت پڑی، جس کی وجہ سے وہ آدمی بہت زیادہ مقروض ہو گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس پر صدقہ کرو۔ لوگوں نے صدقہ تو کیا، لیکن اس کی مقدار اس کے قرضے سے کم رہی، بالآخر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قرض خواہوں سے فرمایا: جو کچھ تمہیں مل رہا ہے، اُس کو لے لو اور اس کے علاوہ مزید کچھ نہیں ہے۔
Takhreej
(۶۰۷۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۵۵۶ (انظر: ۱۱۳۱۷)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب مفلس کا مال اس کے ذمہ قرضوں سے کم ہو گا تو پھر بھی اس کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ اس مال کو اپنے قرض خواہوں کے سپرد کر دے۔
6072
Sahih
جو آدمی اپنا سامان مفلس ہو جانے والے خریدار کے پاس پا لینے
۔ (۶۰۷۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ وَجَدَ عَیْنَ مَالِہِ (وَفِیْ لَفْظٍ: مَتَاعِہِ) عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ فَہُوَ أَحَقُّ بِہٖمِمَّنْسِوَاہُ۔)) (مسنداحمد: ۷۱۲۴)
۔ سیدنا ابو ہر یرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص بعینہ اپنا مال و متاع اس آدمی کے پاس پاتا ہے، جو مفلس ہوچکا ہے تو وہ دوسرے قرضخواہوں کی بہ نسبت اس کا زیادہ حق رکھتاہے۔
Takhreej
(۶۰۷۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۴۰۲، ومسلم ۱۵۵۹ (انظر: ۷۱۲۴)
6073
Sahih
جو آدمی اپنا سامان مفلس ہو جانے والے خریدار کے پاس پا لینے
۔ (۶۰۷۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ وَجَدَ عَیْنَ مَالِہِ (وَفِیْ لَفْظٍ: مَتَاعِہِ) عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ فَہُوَ أَحَقُّ بِہٖمِمَّنْسِوَاہُ۔)) (مسنداحمد: ۷۱۲۴)
۔ (دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی مفلس ہو جائے اور اس کا ایک قرض خواہ اپنا مال اس کے پاس پا لے اور اس نے اس کی قیمت میں سے کچھ بھی وصول نہ کیا ہو تو وہ مال اسی کا ہو گا۔
Takhreej
(۶۰۷۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
6074
Sahih
جو آدمی اپنا سامان مفلس ہو جانے والے خریدار کے پاس پا لینے
۔ (۶۰۷۵)۔ عَنْ سَمُرَۃَ ْبِن جُنْدُبٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ وَجَدَ مَتَاعَہُ عِنْدَ مُفْلِسٍ بِعَیْنِہِ فَہُوَ أَحَقُّ بِہِ)) (مسند احمد: ۲۰۳۷۰)
۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو قرض خواہ، مفلس کے پاس اپنا مال بعینہ پا لے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہو گا۔
Takhreej
(۶۰۷۵) تخریج: صحیح بالشواہد (انظر: ۲۰۱۰۹)
Explanation
فوائد:… تینوں احادیث کا مفہوم واضح ہے کہ جب کوئی آدمی مفلس ہو جانے والے شخص کے پاس بعینہ اپنا سامان پا لے تو وہ اسی کا ہو گا، مفلس کے باقی قرض خواہوں کا اس میں کوئی حق نہیں ہو گا، بشرطیکہ اس نے اس کی قیمت میں کچھ بھی وصول نہ کیا ہو۔ حدیث کے الفاظ سے یہ شرط بھی سمجھ آرہی ہے کہ ابھی تک خریدار نے کسی کے مال میں کوئی تصرف نہ کیا ہو تو پھر اصل مالک زیادہ حقدار ہوگا۔ اگر خریدار نے مال میں کوئی تصرف کرلیا ہو، اس کی حالت میں کوئی تبدیلی وغیرہ کرلی ہو، اس میں کچھ استعمال کرلیا ہو تو اصل مالک زیادہ حقدار نہیں ہوگا۔ بلکہ عام قرض خواہوں کی طرح حصہ کے مطابق حقدار ہوگا۔ (عبداللہ رفیق)
6075
Sahih
بیوقوفوں پر پابندی لگانے کا اور ان لوگوں کابیان، جن پر پابندی لگائی جائے گی
۔ (۶۰۷۶)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَجُلًا عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَبْتَاعُ وَفِیْ عُقْْدَتِہِ یَعْنِیْ عَقْلِہِ ضَعْفٌ فَأَتٰی اَھْلُہُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: یَانَبِیَّ اللّٰہِ! اُحْجُرْ عَلٰی فُـلَانٍ، فَاِنَّہُ یَبْتَاعُ وَفِیْ عُقْدَتِہِ ضَعْفٌ، فَدَعَاہُ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَہَاہُ عَنِ الْبَیْعِ، فقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! إِنِّیْ لَا أَصْبِرُ عَنِ الْبَیْعِ، فَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنْ کُنْتَ غَیْرَ تَارِکِ الْبَیْعِ فَقُلْ: ھُوَ ھَائَ وَھَائَ وَلَا خِلَابَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۰۹)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد ِ مبارک میں ایک آدمی تجارت کیا کرتا تھا، اس کی عقل میں کچھ کمزوری تھی، اس لیے اس کے گھروالے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اللہ کے رسول! آپ اس آدمی پر پابندی لگا دیں، کیونکہ وہ سودے کرتا ہے اور اس کے عقل میں کمزوری ہے (اس طرح نقصان اٹھا بیٹھتا ہے) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بلایا اور تجارت کرنے سے منع کر دیا، لیکن اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تجارت کے بغیر نہیں رہ سکتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو اِس لین دین کو نہیں چھوڑ سکتا تو سودا کرتے وقت کہا کر: لیجئے جناب اور دیجئے، لیکن دھوکہ نہ ہو۔
Takhreej
(۶۰۷۶) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۳۵۰۱، وابن ماجہ: ۲۳۵۴، والترمذی: ۱۲۵۰، والنسائی: ۷/ ۲۵۲ (انظر: ۱۳۲۷۶)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کسی عذر کی بنا پر کسی شخص پر اس کے بعض معاملات کے سلسلے میں پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ آپ a نے اس آدمی کو سودا کرنے کا جو طریقہ سکھایا ہے، اس کی وضاحت حدیث نمبر (۵۹۱۶)میں گزر چکی ہے۔
6076
Sahih
سن رشد کے اثبات اور بلوغت کی علامتوں کا بیان
۔ (۶۰۷۷)۔ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ ھُرْمُزَ قَالَ: کَتَبَ نَجْدَۃُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ یَسْأَلُہُ عَنْ خَمْسِ خِلَالٍ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ وَفِیْہِ: وَمَتٰییَنْقَضِییُتْمُ الْیَتِیْمِ؟ فَاَجَابَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِیْ عَنْ یُتْمِ الْیَتِیْمِ مَتٰییَنْقَضِیْ، وَلَعُمْرِیْ! أَنَّ الرَّجُلَ تُنْبِتُ لِحْیَتُہُ وَھُوَ ضَعِیْفُ الْأَخْذِ لِنَفْسِہِ فَاِذَا کَانَ یَأْخُذُ لِنَفْسِہِ مِنْ صَالِحِ مَا یََأْخُذُ النَّاسُ فقَدْ ذَھَبَ الیُتْمُ۔ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۲۸۱۱)
۔ یزید بن ہرمز کہتے ہیں: نجدہ نے سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پانچ باتیں پوچھنے کے لیے ایک خط لکھا، … … ان میں ایک بات یہ تھی کہ یتیم کییتیمی کا وقت کب ختم ہوتاہے، سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے اس کے جواب میں لکھا: تونے مجھ سے سوال کیاہے کہ یتیم کییتیمی کا وقت کب ختم ہوتاہے، مجھے میری عمر کی قسم ہے کہ آدمی کی داڑھی اگ آتی ہے، لیکن پھر بھی وہ اپنے معاملہ میں کمزور گر فت والا رہتاہے، جب وہ لوگوں کے معاملات میں سے اپنے لیے اچھی چیز کا انتخاب کر سکتا ہو تو اس کییتیمی ختم ہو جائے گی۔
Takhreej
(۶۰۷۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۸۱۲(انظر: ۲۸۱۱)
6077
Sahih
سن رشد کے اثبات اور بلوغت کی علامتوں کا بیان
۔ (۶۰۷۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ وَعَنِ الْیَتِیْمِ مَتٰییَنْقَضِیْیُتْمُہُ؟ قَالَ: اِذَا احْتَلَمَ وَأُوْنِسَ مِنْہُ خَیْرٌ۔ (مسند احمد: ۲۶۸۵)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے اسی قسم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: اور یتیم کے بارے میں سوال کیا کہ اس کییتیمی کب ختم ہو گی؟ انھوں نے کہا: جب وہ بالغ ہو جائے اور اس سے بھلائی محسوس کی جانے لگے۔
Takhreej
(۶۰۷۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… بلا شک و شبہ معاشرے کے سمجھ دار لوگ آسانی کے ساتھ یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ فلاں بچہ بالغ ہو جانے کے بعد مال و دولت سنبھالنے کی اہلیت و صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں، دیکھا گیا ہے کہ بعض بچے بالغ ہونے سے پہلے بلا کے سمجھ داراور معاملات میں مضبوط گرفت والے ہوتے ہیں، جبکہ بعض بالغ ہونے کے بعد بھی نا سمجھ اور نا عاقبت اندیش رہتے ہیں، بہرحال یہ معاملہ قابل فہم ہے اور آسانی سے اس کا ادراک کیا جا سکتا ہے ۔
6078
Sahih
سن رشد کے اثبات اور بلوغت کی علامتوں کا بیان
۔ (۶۰۷۹)۔ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرَادَ أَنْ یَرْجُمَ مَجْنُوْنَۃً، فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: مَالَکَ ذٰلِکَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَۃٍ عَنِ النَّائِمِ حَتّٰییَسْتَیْقِظَ وَعَنِ الْطِفْلِ حَتّٰییَحْتَلِمَ وَعَنِ الْمَجْنُوْنِ حَتّٰییَبْرَأَ أَوْیَعْقِلَ)) فَأَدْرَأَ عَنْہَا عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ (مسند احمد:۱۱۸۳)
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک پاگل عورت کو رجم کرنے کا حکم دیا، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ کو اس طرح کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، سوئے ہوئے آدمی سے، یہاں تک کہ وہ بیدارہوجائے، بچے سے یہاںتک کہ وہ بالغ ہوجائے اور پاگل سے ، یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہوجائے۔ یہ سن کر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس سے حد کو ہٹا دیا۔
Takhreej
(۶۰۷۹) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۴۰۳، وابن ماجہ: ۲۰۴۲ (انظر: ۱۱۸۳)
6079
Sahih
سن رشد کے اثبات اور بلوغت کی علامتوں کا بیان
۔ (۶۰۸۰)۔ عَنْ عَطِیَّۃَ الْقُرَظِیِّ قَالَ: عُرِضْتُ عَلٰی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ قُرَیْظَۃَ فَشَکُّوْا فِیَّ فَأَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ یَنْظُرُوْا إِلَیَّ ھَلْ أَنْبَتُّ بَعْدُ؟ فَنَظَرُوْا فَلَمْ یَجِدُوْنِیْ أَنْبَتُّ فَخَلّٰی عَنِّیْ وَاَلْحَقَنِیْ بِالسَّبْیِ۔ (مسند احمد: ۲۳۰۳۶)
۔ سیدنا عطیہ قرظی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:مجھے قریظہ والے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر پیش کیا گیا، جب لوگوں کو میرے بالغٖیا نابالغ ہونے میں شک ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیاکہ دیکھا جائے کہ آیا میرے زیر ناف بال اگے ہوئے ہیںیا نہیں، پس جب انھوں نے دیکھا کہ میرےیہ بال اگے ہوئے نہیں ہیں تو مجھے چھوڑ دیا اور قیدیوں میں شامل کر دیا۔
Takhreej
(۶۰۸۰) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۴۴۰۴، والنسائی: ۶/ ۱۵۵، وابن ماجہ: ۲۵۴۲، والترمذی: ۱۵۸۴ (انظر: ۲۲۶۵۹)
Explanation
فوائد:… غزوۂ خندق کے موقع پر یہودیوں کے قبیلے بنو قریظہ نے عہد شکنی کی، جب آپ a نے ان کا محاصرہ کر لیا تو وہ سیدنا سعد بن معاذ bکے فیصلے پر راضی ہو گئے، انھوں نے یہ فیصلہ دیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے اور ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا جائے، اب جس بچے کے بارے میں بالغ ہونے یا نہ ہونے کا شک گزرتا تو اس کے زیر ناف بال دیکھ کر فیصلہ کیا جاتا، اگر وہ اگ چکے ہوتے تو اس کو بالغ مرد سمجھ کر قتل کر دیا جاتا اور بصورتِ دیگر اس کو بچہ سمجھ کر چھوڑ دیا جاتا۔ اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ زیر ناف بال بلوغت اور عدم بلوغت کے مابین حد فاصل ہیں، لیکن کیایہ عام قانون ہے؟ اس باب کی آخری حدیث کے فوائد دیکھیں۔
6080
Sahih
سن رشد کے اثبات اور بلوغت کی علامتوں کا بیان
۔ (۶۰۸۱)۔ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَرَضَہُ یَوْمَ أُحُدٍ وَھُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشَرَۃَ فَلَمْ یُجِزْہُ، ثُمَّ عَرَضَہُ یَوْمَ الْخَنْدَقِ وَھُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشَرَۃَ فَأَجَازَہُ۔ (مسند احمد: ۴۶۶۱)
۔ امام نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ان کو غزوۂ احد کے موقع پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر پیش کیا گیا، جبکہ ان کی عمر چودہ برس تھی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اجازت نہ دی، پھر ان کو پندرہ برس کی عمر میں غزوۂ خندق کے موقع پر پیش کیا گیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اجازت دے دی۔
Takhreej
(۶۰۸۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۶۶۴، ومسلم: ۱۸۶۸(انظر: ۴۶۶۱)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں جنگ کا معاملہ بیان کیا گیا ہے کہ کتنے وجود اور طاقت کا آدمی جا سکتا ہے اور کون سا نہیں جا سکتا، چودہ یا پندرہ برس کی عمر کا بلوغت یا عدم بلوغت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ عمر کو اس ضمن میں معیار قرار دیا جا سکتا ہے، سیدہ عائشہ c نو سال کی عمر میں بالغ ہو گئی تھیں۔
6081
Sahih
سن رشد کے اثبات اور بلوغت کی علامتوں کا بیان
۔ (۶۰۸۲)۔ عَنْ مُحَمَّدٍ یَعْنِیْ ابْنَ سِیْرِیْنَ أَنَّ عَائِشَۃَ نَزَلَتْ عَلٰی صَفِیَّۃَ أُمِّ طَلْحَۃَ الطَّلَحَاتِ فَرَأَتْ بَنَاتٍ لَھَا یُصَلِّیْنَ بِغَیْرِ خِمْرَۃٍ قَدْ حِضْنَ قَالَ: فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: لَاتُصَلِّیَنَّ جَارِیَۃٌ مِنْہُنَّ اِلَّا فِیْ خِمَارٍ، إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ عَلَیَّ وَکَانَتْ فِیْ حِجْرِیْ جَارِیَۃٌ فَأَلْقٰی عَلَیَّ حَقْوَہُ فَقَالَ: ((شُقِّیْہِ بَیْنَ ھٰذِہٖوَبَیْنَ الْفَتَاۃِ الَّتِیْ فِیْ حِجْرِ أُمِّ سَلَمَۃَ فَأِنِّیْ لَا أَرَاھَا اِلَّا قَدْ حَاضَتْ، أَوْ لَا أَرَاھُمَا اِلَّا قَدْ حَاضَتَا۔)) (مسند احمد: ۲۵۱۵۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ وہ سیدہ ام طلحۂ طلحات صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گئیں اور دیکھا کہ بالغہ بچیاں بغیر دوپٹوں کے نماز پڑھ رہی تھیں، پس انھوں نے کہا: ان میں سے کوئی بچی دوپٹے کے بغیر نماز نہ پڑھے، ایک دفعہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے ، جبکہ میری پرورش میںایک لڑکی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ازار مجھے دیا اورفرمایا: یہ لڑکی اور ام سلمہ کی تربیت میں پرورش پانے والے لڑکی،یہ ازار پھاڑ کر ان دونوں کو دے دو، کیونکہ میرا خیال ہے کہ یہ دونوں بالغ ہو چکی ہیں۔
Takhreej
(۶۰۸۲) حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۶۴۲، والترمذی: ۳۷۷، وابن ماجہ: ۶۵۵(انظر: ۲۴۶۴۶)
Explanation
فوائد:… حیض کے خون کا شروع ہو جاناعورت کے لیے بلوغت کی علامت ہے۔ بلوغت اور عدم بلوغت کی علامتوں کا خلاصہ یہ ہے: علمائے امت کا اس چیز پر اتفاق ہے کہ احتلام مردو زن دونوں کے بالغ ہونے کی اور حیض اور حمل عورت کے بالغ ہونے کی علامت ہیں۔ شافعیہ کا خیال ہے کہ زیرناف بالوں کو کافروں کے بالغ یا نابالغ ہونے کی علامت قرار دیا جائے گا، کیونکہ کفر کی وجہ سے ان کی ان باتوں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی عمر کتنی ہے یا ان کو احتلام ہو چکا ہے یا نہیں،یاان کی بچیوں کو حیض آ چکا ہے یا نہیں۔
6082
Sahih