قرض لینے کے لیے مالدار آدمی کا پیچھا کرنے اور قید کے ذریعے اس کو سزا دینے اور تنگدست کو آزاد چھوڑنے کا بیان
۔ (۶۰۷۱)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشُّرَیْدِ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((لَیُّ الْوَاجِدِ ظُلْمٌ یُحِلُّ عِرْضَہُ وَعُقُوْبَتُہُ۔)) قَالَ وَکِیْعٌ: عِرْضَہُ: شَکَایَتَہُ، وَعُقُوْبَتُہُ: حَبْسُہُ۔ (مسند احمد: ۱۸۱۱۰)
۔ سیدنا شرید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غنی آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، یہ چیز اس کی عزت اور سزا کو حلال کر دیتی ہے۔ امام وکیع نے کہا: بے عزتی سے مراد اس کی شکایت کرنا اور سزا سے مرا اس کو قید کرنا ہے۔
Takhreej
(۶۰۷۱) تخریج: اسنادہ محتمل للتحسین۔ أخرجہ ابوداود: ۳۶۲۸، وابن ماجہ: ۲۴۲۷، والنسائی: ۷/ ۳۱۶، وعلقہ البخاری فی الاستقراض باب لصاحب الحق مقال (انظر: ۱۷۹۴۶)
Explanation
فوائد:… غنی آدمی کی قید لگانے سے معلوم ہوتا ہے کہ تنگ دست آدمی اس حکم سے مستثنی ہو گا اور اس کو مزید مہلت دی جائے گییا اس کو معاف کر دیا جائے گا۔
خلیفہ اور حکمران کو حق حاصل ہے کہ کسی شبہ یا جرم کی بنا پر آدمی کو قید کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ سیدنا معاویہ بن حیدہb سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اِنَّ النَّبِیَّV حَبَسَ رَجُلًا فِیْ تُھْمَۃٍ۔… نبی کریمa نے کسی تہمت کی وجہ سے ایک آدمی کو قید کر لیا تھا۔ (ابوداود: ۳۶۳۰، ترمذی: ۱۴۱۷، نسائی: ۴۸۷۵)
6071
Sahih