مسنداحمد

Musnad Ahmad

مفلسی اور مالی معاملات پر پابندی لگانے کے مسائل

جو آدمی اپنا سامان مفلس ہو جانے والے خریدار کے پاس پا لینے

۔ (۶۰۷۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ وَجَدَ عَیْنَ مَالِہِ (وَفِیْ لَفْظٍ: مَتَاعِہِ) عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ فَہُوَ أَحَقُّ بِہٖمِمَّنْسِوَاہُ۔)) (مسنداحمد: ۷۱۲۴)

۔ سیدنا ابو ہر یرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص بعینہ اپنا مال و متاع اس آدمی کے پاس پاتا ہے، جو مفلس ہوچکا ہے تو وہ دوسرے قرضخواہوں کی بہ نسبت اس کا زیادہ حق رکھتاہے۔

۔ (۶۰۷۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ وَجَدَ عَیْنَ مَالِہِ (وَفِیْ لَفْظٍ: مَتَاعِہِ) عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ فَہُوَ أَحَقُّ بِہٖمِمَّنْسِوَاہُ۔)) (مسنداحمد: ۷۱۲۴)

۔ (دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی مفلس ہو جائے اور اس کا ایک قرض خواہ اپنا مال اس کے پاس پا لے اور اس نے اس کی قیمت میں سے کچھ بھی وصول نہ کیا ہو تو وہ مال اسی کا ہو گا۔

۔ (۶۰۷۵)۔ عَنْ سَمُرَۃَ ْبِن جُنْدُبٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ وَجَدَ مَتَاعَہُ عِنْدَ مُفْلِسٍ بِعَیْنِہِ فَہُوَ أَحَقُّ بِہِ)) (مسند احمد: ۲۰۳۷۰)

۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو قرض خواہ، مفلس کے پاس اپنا مال بعینہ پا لے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہو گا۔