TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جو آدمی اپنا سامان مفلس ہو جانے والے خریدار کے پاس پا لینے - جو آدمی اپنا سامان مفلس ہو جانے والے خریدار کے پاس پا لینے - مفلسی اور مالی معاملات پر پابندی لگانے کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of مفلسی اور مالی معاملات پر پابندی لگانے کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 4 · 3 Hadith
۔ (۶۰۷۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ وَجَدَ عَیْنَ مَالِہِ (وَفِیْ لَفْظٍ: مَتَاعِہِ) عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ فَہُوَ أَحَقُّ بِہٖمِمَّنْسِوَاہُ۔)) (مسنداحمد: ۷۱۲۴)
۔ سیدنا ابو ہر یرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص بعینہ اپنا مال و متاع اس آدمی کے پاس پاتا ہے، جو مفلس ہوچکا ہے تو وہ دوسرے قرضخواہوں کی بہ نسبت اس کا زیادہ حق رکھتاہے۔
Takhreej
(۶۰۷۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۴۰۲، ومسلم ۱۵۵۹ (انظر: ۷۱۲۴)
6073
Sahih
۔ (۶۰۷۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ وَجَدَ عَیْنَ مَالِہِ (وَفِیْ لَفْظٍ: مَتَاعِہِ) عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ فَہُوَ أَحَقُّ بِہٖمِمَّنْسِوَاہُ۔)) (مسنداحمد: ۷۱۲۴)
۔ (دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی مفلس ہو جائے اور اس کا ایک قرض خواہ اپنا مال اس کے پاس پا لے اور اس نے اس کی قیمت میں سے کچھ بھی وصول نہ کیا ہو تو وہ مال اسی کا ہو گا۔
Takhreej
(۶۰۷۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
6074
Sahih
۔ (۶۰۷۵)۔ عَنْ سَمُرَۃَ ْبِن جُنْدُبٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ وَجَدَ مَتَاعَہُ عِنْدَ مُفْلِسٍ بِعَیْنِہِ فَہُوَ أَحَقُّ بِہِ)) (مسند احمد: ۲۰۳۷۰)
۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو قرض خواہ، مفلس کے پاس اپنا مال بعینہ پا لے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہو گا۔
Takhreej
(۶۰۷۵) تخریج: صحیح بالشواہد (انظر: ۲۰۱۰۹)
Explanation
فوائد:… تینوں احادیث کا مفہوم واضح ہے کہ جب کوئی آدمی مفلس ہو جانے والے شخص کے پاس بعینہ اپنا سامان پا لے تو وہ اسی کا ہو گا، مفلس کے باقی قرض خواہوں کا اس میں کوئی حق نہیں ہو گا، بشرطیکہ اس نے اس کی قیمت میں کچھ بھی وصول نہ کیا ہو۔ حدیث کے الفاظ سے یہ شرط بھی سمجھ آرہی ہے کہ ابھی تک خریدار نے کسی کے مال میں کوئی تصرف نہ کیا ہو تو پھر اصل مالک زیادہ حقدار ہوگا۔ اگر خریدار نے مال میں کوئی تصرف کرلیا ہو، اس کی حالت میں کوئی تبدیلی وغیرہ کرلی ہو، اس میں کچھ استعمال کرلیا ہو تو اصل مالک زیادہ حقدار نہیں ہوگا۔ بلکہ عام قرض خواہوں کی طرح حصہ کے مطابق حقدار ہوگا۔ (عبداللہ رفیق)
6075
Sahih