TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جب راستے کے بارے میں لوگوںکا اختلاف ہو جائے تو کتنا راستہ چھوڑا جائے گا - جب راستے کے بارے میں لوگوںکا اختلاف ہو جائے تو کتنا راستہ چھوڑا جائے گا - صلح کے مسائل اور عہد و امان کے احکام - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 5 of صلح کے مسائل اور عہد و امان کے احکام in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 6 · 4 Hadith
۔ (۶۰۹۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِی الطَّرِیْقِ فَدَعُوْا سَبْعَ أَذْرُعٍ ثُمَّ ابْنُوْا، وَمَنْ سَئَلَہُ جَارُہُ أَنْ یَدْعَمَ عَلٰی حَائِطِہِ فَلْیَدَعْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۷)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب راستے کے بارے میں تمہارا اختلاف ہو جائے تو سات ہاتھ چھوڑ کر عمارتیں تعمیر کر لو، اور جو اپنے پڑوسی سے اس کی دیوارپر شہتیر رکھنے کا مطالبہ کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو رکھنے دے۔
Takhreej
(۶۰۹۲) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۳۳۹(انظر: ۲۷۵۷)
Explanation
فوائد:… اسلام ایسا باکمال مذہب ہے کہ یہ نہ صرف آخرت کو سنوارنے کے ڈھنگ سکھاتا ہے، جو اس کا مقصودِ اصلی ہے، بلکہ دنیا میں بھی تنگ دستی و تنگ ذہنی سے آزاد ہو کر فارغ البالی اور خوشحالی کے ساتھ رہنے کے لیے قوانین وضع کرتا ہے۔ جہاںشریعت نے وسیع گھر کو امن و سعادت کی علامت قرار دیا ہے، وہاں کھلے راستوں اور کھلی گلیوں کی وجہ سے بھی کئی پریشانیاں دور ہو جاتی ہے۔ اگر اس مسئلہ میں لوگ اتفاقِ رائے سے کوئی حد متعین کر لیں تو ٹھیک وگرنہ شریعت کا حکم نافذ ہو گا، جس کے مطابق کسی گزرگاہ کی چوڑائی سات ہاتھ یعنی ساڑھے دس فٹ رکھی جائے گی۔ گلیوں کا دس گیارہ فٹ وسیع ہونا دورِ حاضر کا اہم تقاضا ہے۔
6092
Sahih
۔ (۶۰۹۳)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ، وَلِلرَّجُلِ أَنْ یَجْعَلَ خَشَبَۃً فِیْ حَائِطِ جَارِہِ، وَالطَّرِیْقُ الْمِیْتَائُ سَبْعَۃُ اَذْرُعٍ۔)) (مسند احمد: ۲۸۶۵)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (اپنے بھائی کو اس کے حق میں کمی کر دینے والا ) نقصان پہچانا اور (پہنچائی گئی اذیت سے ) زیادہ ضرر پہنچانا جائز نہیںاور آدمی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے پڑوسی کی دیوار پر شہتیر وغیرہ رکھ لے اور آمد ورفت والا راستہ سات ہاتھ چھوڑناہے۔
Takhreej
(۶۰۹۳) حسن۔ أخرجہ البیھقی:۶/ ۹۶، وأخرجہ قولہ: ’’لاضرر ولا ضرار‘‘ فقط ابن ماجہ: ۳۳۴۱ (انظر: ۲۸۶۵)
Explanation
فوائد:… ’’اَلْمِیْتَائ‘‘ باب ’’اَتٰییَأْتِیْ‘‘ سے مفعال کا وزن ہے اور میم زائد ہے، ’’اَلطَّرِیْقُ الْمِیْتَائُ‘‘ سے مراد بڑا راستہ ہے، جہاں سے کثرت سے لوگوں کا گزر ہوتا ہے، بعض نے اس کے معانی کھلے راستے یا آباد راستے کے بھی کیے ہیں۔
6093
Sahih
۔ (۶۰۹۴)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا اخْتَلَفُوْا فِیْ الطَّرِیْقِ رُفِعَ مِنْ بَیْنِہِمْ سَبْعَۃُ أَذْرُعٍ۔)) (مسند احمد: ۷۱۲۶)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لوگوں میںراستہ کے بارے میں اختلاف ہوجائے تو درمیان سے سات ہاتھ چھوڑا جائے گا۔
Takhreej
(۶۰۹۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۱۳(انظر: ۷۱۲۶)
6094
Sahih
۔ (۶۰۹۵)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی فِی الرَّحْبَۃِ تَکُوْنُ بَیْنَ الطَّرِیْقِ ثُمَّ یُرِیْدُ أَھْلُہَا الْبُنْیَانَ فِیْہَا، فَقَضٰی أَنْ یَتْرُکَ لِلطَّرِیْقِ فِیْہَا سَبْعَ أَذْرُعٍ، قَالَ: وَکَانَتْ تِلْکَ الطَّرِیْقُ تُسَمَّی الْمِیْتَائَ۔ (مسند احمد:۲۳۱۵۹)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ راستے میں پڑنی والی ایک کھلی جگہ تھی، جب اس کے مالکوں نے وہاں تعمیر کرنا چاہی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ سات ہاتھ راستہ چھوڑا جائے، اس راستے کو آمدورفت والا رستہ کہا جاتا تھا۔
Takhreej
(۶۰۹۵) تخریج: صحیح بالشواھد۔ أخرجہ البیھقی: ۶/ ۱۵۵ (انظر: ۲۲۷۷۸)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ اگر کسی کی خالی زمین پڑی رہے اور لوگ اس سے گزرتے رہیںیا کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرتے رہیں تو وہ زمین اُس پہلے مالک کی ہی رہے گی اور اس کو استعمال کرنے والوں کا اس میں کوئی حق نہیں ہو گا، ما سوائے اس کے کہ لوگوں کے لیے سات ہاتھ چوڑا راستہ چھوڑ دیا جائے گا، ہمارے ہاں کچھ عرصہ تک زمین کو عارضی طورپر استعمال کرنے والے لوگ مستقل قبضے کا دعوی کر دیتے ہیں،یہ دعوی خلافِ شرع ہے۔
6095
Sahih