۔ (۶۰۹۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہما عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ((اِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِی الطَّرِیْقِ فَدَعُوْا سَبْعَ أَذْرُعٍ ثُمَّ ابْنُوْا، وَمَنْ سَئَلَہُ
جَارُہُ أَنْ یَدْعَمَ عَلٰی حَائِطِہِ فَلْیَدَعْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۷)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب راستے کے بارے میں تمہارا اختلاف ہو جائے تو سات ہاتھ چھوڑ کر عمارتیں تعمیر کر لو، اور جو اپنے پڑوسی سے اس کی دیوارپر شہتیر رکھنے کا مطالبہ کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو رکھنے دے۔
Takhreej
(۶۰۹۲) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۳۳۹(انظر: ۲۷۵۷)
Explanation
فوائد:… اسلام ایسا باکمال مذہب ہے کہ یہ نہ صرف آخرت کو سنوارنے کے ڈھنگ سکھاتا ہے، جو اس کا مقصودِ اصلی ہے، بلکہ دنیا میں بھی تنگ دستی و تنگ ذہنی سے آزاد ہو کر فارغ البالی اور خوشحالی کے ساتھ رہنے کے لیے قوانین وضع کرتا ہے۔ جہاںشریعت نے وسیع گھر کو امن و سعادت کی علامت قرار دیا ہے، وہاں کھلے راستوں اور کھلی گلیوں کی وجہ سے بھی کئی پریشانیاں دور ہو جاتی ہے۔ اگر اس مسئلہ میں لوگ اتفاقِ رائے سے کوئی حد متعین کر لیں تو ٹھیک وگرنہ شریعت کا حکم نافذ ہو گا، جس کے مطابق کسی گزرگاہ کی چوڑائی سات ہاتھ یعنی ساڑھے دس فٹ رکھی جائے گی۔ گلیوں کا دس گیارہ فٹ وسیع ہونا دورِ حاضر کا اہم تقاضا ہے۔
6092
Sahih