مسنداحمد

Musnad Ahmad

صلح کے مسائل اور عہد و امان کے احکام

جب راستے کے بارے میں لوگوںکا اختلاف ہو جائے تو کتنا راستہ چھوڑا جائے گا


۔ (۶۰۹۵)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی فِی الرَّحْبَۃِ تَکُوْنُ بَیْنَ الطَّرِیْقِ ثُمَّ یُرِیْدُ أَھْلُہَا الْبُنْیَانَ فِیْہَا، فَقَضٰی أَنْ یَتْرُکَ لِلطَّرِیْقِ فِیْہَا سَبْعَ أَذْرُعٍ، قَالَ: وَکَانَتْ تِلْکَ الطَّرِیْقُ تُسَمَّی الْمِیْتَائَ۔ (مسند احمد:۲۳۱۵۹)

۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ راستے میں پڑنی والی ایک کھلی جگہ تھی، جب اس کے مالکوں نے وہاں تعمیر کرنا چاہی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ سات ہاتھ راستہ چھوڑا جائے، اس راستے کو آمدورفت والا رستہ کہا جاتا تھا۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۶۰۹۵) تخریج: صحیح بالشواھد۔ أخرجہ البیھقی: ۶/ ۱۵۵ (انظر: ۲۲۷۷۸)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ اگر کسی کی خالی زمین پڑی رہے اور لوگ اس سے گزرتے رہیںیا کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرتے رہیں تو وہ زمین اُس پہلے مالک کی ہی رہے گی اور اس کو استعمال کرنے والوں کا اس میں کوئی حق نہیں ہو گا، ما سوائے اس کے کہ لوگوں کے لیے سات ہاتھ چوڑا راستہ چھوڑ دیا جائے گا، ہمارے ہاں کچھ عرصہ تک زمین کو عارضی طورپر استعمال کرنے والے لوگ مستقل قبضے کا دعوی کر دیتے ہیں،یہ دعوی خلافِ شرع ہے۔