مسنداحمد

Musnad Ahmad

وکالت کے مسائل

اس چیز کا بیان جس میں وکیل مقرر کرنا جائز ہے

۔ (۶۰۹۹)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الْخَازِنَ الْأَمِیْنَ الَّذِیْیُعْطِیْ مَا أُمِرَ بِہٖکَامِلًامُوَفَّرًاطَیِّبَۃً بِہٖنَفْسُہُحَتّٰییَدْفَعَہُ إِلَی الَّذِیْ أُمِرَ لَہُ بِہٖأَحْدُالْمُتَصَدِّقِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۴۱)

۔ سیدنا ابوموسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ امانت دار منشی جو مالک کے حکم کے مطابق پورا پورا اور خوش دلی سے اس کو دے دیتا ہو، جس کے حق میں اس کو حکم دیا جاتا ہے، وہ بھی صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہو گا۔

۔ (۶۱۰۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ أَوْفٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا اُتِیَ بِصَدَقَۃٍ قَالَ: ((اللّٰہم صَلِّ عَلَیْہِ۔)) فَأَتَیْتُہُ بِصَدْقَۃِ مَالِ اَبِیْ فَقَالَ: ((اللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی آلِ اَبِیْ أَوْفٰی۔))۔ (مسند احمد: ۱۹۳۲۵)

۔ سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس صدقہ لایا جاتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دینے والے کے لیےیوں دعا کرتے: اے اللہ! اس آدمی پر رحمت فرما۔ ایک دفعہ میں اپنے باپ کے مال کاصدقہ لے کرآیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ!ابو اوفی کی آل پر رحم فرما۔

۔ (۶۱۰۱)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ لَیْلٰی عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ مَعَہُ بِہَدْیِہِ فَأَمَرَہُ أَنْ یَتَصَدَّقَ بِلُحُوْمِہَا وَجُلُوْدِھَا وَأَجِلَّتِہَا۔ (مسند احمد: ۸۹۴)

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو قر بانیاں دے کر بھیجا تھا اور یہ حکم دیا تھا کہ ان کا گو شت، چمڑے اور جھولیں صدقہ کر دینا۔