TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

وکالت کے مسائل - وکالت کے مسائل - Book 95 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 95 of Musnad Ahmad, with 3 chapters and 5 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

5 Hadith · 3 Chapters
اس چیز کا بیان جس میں وکیل مقرر کرنا جائز ہے
۔ (۶۰۹۹)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الْخَازِنَ الْأَمِیْنَ الَّذِیْیُعْطِیْ مَا أُمِرَ بِہٖکَامِلًامُوَفَّرًاطَیِّبَۃً بِہٖنَفْسُہُحَتّٰییَدْفَعَہُ إِلَی الَّذِیْ أُمِرَ لَہُ بِہٖأَحْدُالْمُتَصَدِّقِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۴۱)
۔ سیدنا ابوموسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ امانت دار منشی جو مالک کے حکم کے مطابق پورا پورا اور خوش دلی سے اس کو دے دیتا ہو، جس کے حق میں اس کو حکم دیا جاتا ہے، وہ بھی صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہو گا۔
Takhreej
(۶۰۹۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۴۳۸، ۳۲۱۹، ومسلم: ۱۰۲۳ (انظر: ۱۹۵۱۲)
Explanation
فوائد:… وکالت کامطلب یہ ہے کہ اپنامعاملہ دوسرے کو سونپ دینا، اس کے جواز پر کتاب وسنت کے بہت سارے دلائل موجودہیں۔
6099
Sahih
اس چیز کا بیان جس میں وکیل مقرر کرنا جائز ہے
۔ (۶۱۰۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ أَوْفٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا اُتِیَ بِصَدَقَۃٍ قَالَ: ((اللّٰہم صَلِّ عَلَیْہِ۔)) فَأَتَیْتُہُ بِصَدْقَۃِ مَالِ اَبِیْ فَقَالَ: ((اللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی آلِ اَبِیْ أَوْفٰی۔))۔ (مسند احمد: ۱۹۳۲۵)
۔ سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس صدقہ لایا جاتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دینے والے کے لیےیوں دعا کرتے: اے اللہ! اس آدمی پر رحمت فرما۔ ایک دفعہ میں اپنے باپ کے مال کاصدقہ لے کرآیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ!ابو اوفی کی آل پر رحم فرما۔
Takhreej
(۷۱۰۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۴۹۷، ۴۱۶۶، ۶۳۳۲، ومسلم: ۱۰۷۸(انظر: ۱۹۱۱۵)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابو اوفیb نے اپنے مال کی زکوۃ اپنے بیٹے کے سپرد کر دی، وہ نبی کریمa کے پاس لے کر آئے۔
6100
Sahih
اس چیز کا بیان جس میں وکیل مقرر کرنا جائز ہے
۔ (۶۱۰۱)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ لَیْلٰی عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ مَعَہُ بِہَدْیِہِ فَأَمَرَہُ أَنْ یَتَصَدَّقَ بِلُحُوْمِہَا وَجُلُوْدِھَا وَأَجِلَّتِہَا۔ (مسند احمد: ۸۹۴)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو قر بانیاں دے کر بھیجا تھا اور یہ حکم دیا تھا کہ ان کا گو شت، چمڑے اور جھولیں صدقہ کر دینا۔
Takhreej
(۶۱۰۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۷۱۷، ومسلم: ۱۳۱۷(انظر: ۸۹۴)
Explanation
فوائد:… ہر جائز امر میں وکالت درست ہے، آپ a کی کئی احادیث اس کے جواز پر دلالت کرتی ہے۔
6101
Sahih
اس آدمی کا بیان کہ جس کو ایک چیز خریدنے کا وکیل بنایا گیا، لیکن اس نے زیادہ چیزیں خرید کر اضافی چیزوں میں از خود تصرف کیا
۔ (۶۱۰۲)۔ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ شَبِیْبٍ أَنَّہُ سَمِعَ الْحَیَّیُخْبِرُوْنَ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ اَبِی الْجَعْدِ الْبَارِقِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ مَعَہُ بِدِیْنَارٍیَشْتَرِیْ لَہُ أُضْحِیَّۃً (وَقَالَ مَرَّۃً: أَوْشَاۃً) فَاشْتَرٰی لَہُ اثْنَتَیْنِ فَبَاعَ وَاحِدَۃً بِدِیْنَارٍ وَاَتَاہُ بِالْاُخْرٰی فَدَعَا لَہُ بِالْبَرْکَۃِ فِیْ بَیْعِہِ فَکَانَ لَوِ اشْتَرٰی التُّرَابَ لَرَبِحَ فِیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۹۵۷۱)
۔ سیدنا عروہ بن ابی الجعد بارقی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قربانی کا جانور یا ایک بکری خریدنے کے لیے مجھے ایک دینار دے کر بھیجا، ہوا یوں کہ میں نے اس کی دو بکریاں خرید لیں اور ان میں سے ایک کو ایک دینار کے عوض فروخت کر دیا اور ایک دینار اور ایک بکری لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے لیے میری تجارت میں برکت کی دعا کی۔ راوی کہتا ہے: سیدنا عروہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اگر مٹی بھی خرید لیتے تو ان کو اس میں نفع ہوتا تھا۔
Takhreej
(۶۱۰۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۶۴۲ (انظر: ۱۹۳۵۶)
Explanation
فوائد:… اگر وکیل سے متعلقہ تمام امور کی وضاحت کر دی جائے تو ٹھیک، وگرنہ جو معاملہ اس کو سونپا جائے گا، اس کو اس معاملے کا اور اس سے متعلقہ امور کا اختیار ہو گا۔
6102
Sahih
ایک آدمی نے مال کا صدقہ کرنے کے لیے ایک وکیل بنایا، لیکن اس نے وہی مال اس مالک کے بیٹے کو دے دیا
۔ (۶۱۰۳)۔ عَنْ اَبِی الْجَوَیْرِیَۃِ أَنَّ مَعْنَ بْنِ یَزِیْدَ حَدَّثَہُ قَالَ: بَایَعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَا وَاَبِیْ وَجَدِّیْ وَخَطَبَ عَلَیَّ فَاَنْکَحَنِیْ وَخَاصَمْتُ اِلَیْہِ فَکَانَ اَبِیْیَزِیْدُ خَرَجَ بِدَنَانِیْرَیَتَصَدَّقُ بِہَا فَوَضَعَہَا عِنْدَ رَجُلٍ فِی الْمَسْجِدِ وَأَخَذْتُہَا فَأَتَیْتُہُ بِہَا فَقَالَ: وَاللّٰہِ! مَا اِیَّاکَ أَرَدْتُ بِہَا فَخَاصَمْتُہُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((لَکَ مَانَوَیْتَیَایَزِیْدُ! وَلَکَ یَامَعْنُ! مَا أَخَذْتَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۵۴)
۔ سیدنا معن بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اور میرے باپ اور دادا نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی، پھر انھوں نے میری منگنی کی اور نکاح بھی کر دیا، ایک دن میرے و الد سیدنایزید صدقہ کرنے کے لیے دینار لے کر نکلے اور مسجد میں ایک بندے کے پاس رکھ دیئے (تاکہ وہ کسی کو دے دے)، لیکن میں خود اس سے لے کر گھر آ گیا، میرے باپ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے تجھے دینے کا ارادہ تو نہیں کیا تھا، پس میں نے ان کو ساتھ لیا اور یہ جھگڑا لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے یزید! تو نے جو نیت کی، وہ ہو گئی، اور اے معن! تو نے جس نیت سے لیے ہیں، وہ تیرے لیے ہے۔
Takhreej
(۶۱۰۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۴۲۲(انظر: ۱۵۸۶۰)
Explanation
فوائد:… سیدنایزیدb کا مقصد یہ تھا کہ اس کا وکیل اس رقم کو محتاجوں میں تقسیم کر دے گا، چونکہ اس کا اپنا بیٹا محتاجوں میں شامل تھا، اس لیے آپa نے اس صدقے کو نافذ کر دیا۔
6103
Sahih