اس چیز کا بیان جس میں وکیل مقرر کرنا جائز ہے
۔ (۶۰۹۹)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((إِنَّ الْخَازِنَ الْأَمِیْنَ الَّذِیْیُعْطِیْ مَا أُمِرَ بِہٖکَامِلًامُوَفَّرًاطَیِّبَۃً بِہٖنَفْسُہُحَتّٰییَدْفَعَہُ إِلَی الَّذِیْ أُمِرَ لَہُ بِہٖأَحْدُالْمُتَصَدِّقِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۴۱)
۔ سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ امانت دار منشی جو مالک کے حکم کے مطابق پورا پورا اور خوش دلی سے اس کو دے دیتا ہو، جس کے حق میں اس کو حکم دیا جاتا ہے، وہ بھی صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہو گا۔
Takhreej
(۶۰۹۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۴۳۸، ۳۲۱۹، ومسلم: ۱۰۲۳ (انظر: ۱۹۵۱۲)
Explanation
فوائد:… وکالت کامطلب یہ ہے کہ اپنامعاملہ دوسرے کو سونپ دینا، اس کے جواز پر کتاب وسنت کے بہت سارے دلائل موجودہیں۔
6099
Sahih