مسنداحمد

Musnad Ahmad

اجارہ کے مسائل

اجارہ کی مشروعیت کا بیان

۔ (۶۱۳۲)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنِ اسْتِئْجَارِ الْأَجِیْرِ حَتّٰییُبَیَّنَ لَہُ أَجْرُہُ وَعَنِ النَّجْشِ وَاللَّمْسِ وَإِلْقَائِ الْحَجَرِ۔ (مسند احمد: ۱۱۵۸۶)

۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزدوری کا تعین کرنے سے پہلے مزدور کو کام پر لگانے سے، بیع نجش سے، بیع لمس سے اور پتھر پھینکنے سے منع فرمایا ہے۔

۔ (۶۱۳۳)۔ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکِ نِ الْأَشْجَعِیِّ قَالَ: غَزَوْنَا وَعَلَیْنَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَأَصَابَتْنَا مَخْمَصَۃٌ فَمَرُّوْا عَلٰی قَوْمٍ قَدْ نَحَرُوْا جَزُوْرًا، فَقُلْتُ: أُعَالِجُہَا لَکُمْ عَلٰی أَنْ تُطْعِمُوْنِیْ مِنْہَا شَیْئًا؟ فَعَالَجْتُہَا ثُمَّ أَخَذْتُ الَّذِیْ أَعْطَوْنِیْ فَأَتَیْتُ بِہٖعُمَرَبْنَ الْخَطَّابِ فَاَبٰی أَنْ یَأْکُلَہُ، ثُمَّ اَتَیْتُ بِہٖاَبَاعُبَیْدَۃَ بْنَ الْجَرَّاحِ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَاَبٰی أَنْ یَاْکُلَ، ثُمَّ إِنِّیْ بُعِثْتُ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ ذٰلِکَ فِیْ فَتْحِ مَکَّۃَ فَقَالَ: ((أَنْتَ صَاحِبُ الْجَزُوْرِ؟)) فَقُلْتُ: نَعَمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَمْ یَزِدْنِیْ عَلٰی ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۷۸)

۔ سیدنا عوف بن مالک اشجعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے ایک غزوہ کیا، اس میں ہمارے امیر سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، ہوا یوں کہ ہم سخت بھوک میں مبتلا ہوگئے، ہم ایک قوم کے پاس سے گزرے، انھوں نے اونٹ ذبح کئے ہوئے تھے۔ میں (عوف) نے ان سے کہا: اگر تم مجھے بھی ان میں سے کھلاؤ تو میں تمہیں ان کا گوشت وغیرہ بنا کر دے سکتا ہوں؟انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، چنانچہ میںنے ان کاکام کیا اورانہوں نے مجھے کھانے کے لیے کچھ دیا، میں وہ لے کر سیدنا عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا، لیکن انہوں نے تو کھانے سے انکار کردیا، پھر میں سیدنا ابوعبیدہ بن جراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا، لیکن انہوں نے بھی کھانے سے انکارکردیا، پھر جب فتح مکہ کے موقع پر مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف بھیجا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: وہ اونٹوں والے تم ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! ۔اس سے زائد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچھ نہیں فرمایا۔

۔ (۶۱۳۴)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جُعْتُ مَرَّۃً بِالْمَدِیْنَۃِ جُوْعًا شَدِیْدًا فَخَرَجْتُ أَطْلُبُ الْعَمَلَ فِیْ عَوَالِی الْمَدِیْنَۃِ فَاِذَا أَنَا بِاِمْرَأَۃٍ قَدْ جَمَعَتْ مَدَرًا فَظَنَنْتُہَا تُرِیْدُ بَلَّہَ فَأَتَیْتُہَا فَقَاطَعْتُہَا کُلَّ ذَنُوْبٍ عَلٰی تَمْرَۃٍ فَمَدَدْتُ سِتَّۃَ عَشَرَ ذَنُوْبًا حَتّٰی مَجَلَتْ یَدَایَ ثُمَّ أَتَیْتُ الْمَائَ فَأَصَبْتُ مِنْہُ ثُمَّ أَتَیْتُہَا فَقُلْتُ: بِکَفَّیَّ ھٰکَذَا بَیْنَیَدَیْہَا وَبَسَطَ اِسْمَاعِیْلُ (یَعْنِیْ ابْنَ اِبْرَاہِیْمَ أَحَدَ الرُّوَاۃِ) یَدَیْہِ وَجَمَعَہُمَا فَعَدَّتْ لِیْ سِتَّ عَشَرَۃَ تَمْرَۃً فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرْتُہُ فَأَکَلَ مَعِیَ مِنْہَا۔ (مسند احمد: ۱۱۳۵)

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ جب میں مدینہ میں تھا، مجھے بہت سخت بھوک لگی، پس میں کسی کام کی تلاش میں مدینہ منورہ کے بالائی حصہ کی جانب نکلا، اچانک میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ وہ مٹی جمع کر چکی تھی اور اب اس کو گارا بنانا چاہتی تھی، میں اس کے پاس آیا اور اس سے ایک ایک ڈول کے بدلے ایک ایک کھجور لینے کا طے کیا، پس میں نے کنوئیں سے پانی کے سولہ ڈول کھینچے ، ان کی وجہ سے میرے ہاتھوں پر چھالے پڑ گئے، پھر میں نے وہ پانی لا کر مٹی پر ڈالا اور پھر اس خاتون کے پاس آیا مزدوری لینے کے لیے اس کے سامنے اپنی ہتھیلیاں پھیلادیں، اسماعیل راوی نے کیفیت بیان کرنے کے لیے اپنے ہاتھوں کو پھیلایا اور جمع کیا، پس اس عورت نے گن کر سولہ کھجوریں مجھے دیں، پس میں وہ کھجوریں لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ساری بات بتلائی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے ساتھ وہ کھجوریں کھائیں۔