TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اجارہ کے مسائل - اجارہ کے مسائل - Book 97 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 97 of Musnad Ahmad, with 5 chapters and 19 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

19 Hadith · 5 Chapters
اجارہ کی مشروعیت کا بیان
۔ (۶۱۳۲)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنِ اسْتِئْجَارِ الْأَجِیْرِ حَتّٰییُبَیَّنَ لَہُ أَجْرُہُ وَعَنِ النَّجْشِ وَاللَّمْسِ وَإِلْقَائِ الْحَجَرِ۔ (مسند احمد: ۱۱۵۸۶)
۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزدوری کا تعین کرنے سے پہلے مزدور کو کام پر لگانے سے، بیع نجش سے، بیع لمس سے اور پتھر پھینکنے سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۶۱۳۲) صحیح لغیرہ دون قولہ ’’نھی عن استئجار الأجیر حتییبین لہ اجرہ‘‘ وھذا اسناد ضعیف لانقطاعہ، ابراہیم بن یزید النخعی لم یسمع من ابی سعید۔ أخرجہ النسائی موقوفا: ۷/۳۱ (انظر: ۱۱۵۶۵)
Explanation
فوائد:… بیع نجش اور بیع لمس کی وضاحت پہلے ہو چکی ہے، پتھر پھینکنے سے مراد کنکریوں کی بیع ہے، اس کی وضاحت بھی پہلے ہو چکی ہے۔
6132
Sahih
اجارہ کی مشروعیت کا بیان
۔ (۶۱۳۳)۔ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکِ نِ الْأَشْجَعِیِّ قَالَ: غَزَوْنَا وَعَلَیْنَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَأَصَابَتْنَا مَخْمَصَۃٌ فَمَرُّوْا عَلٰی قَوْمٍ قَدْ نَحَرُوْا جَزُوْرًا، فَقُلْتُ: أُعَالِجُہَا لَکُمْ عَلٰی أَنْ تُطْعِمُوْنِیْ مِنْہَا شَیْئًا؟ فَعَالَجْتُہَا ثُمَّ أَخَذْتُ الَّذِیْ أَعْطَوْنِیْ فَأَتَیْتُ بِہٖعُمَرَبْنَ الْخَطَّابِ فَاَبٰی أَنْ یَأْکُلَہُ، ثُمَّ اَتَیْتُ بِہٖاَبَاعُبَیْدَۃَ بْنَ الْجَرَّاحِ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَاَبٰی أَنْ یَاْکُلَ، ثُمَّ إِنِّیْ بُعِثْتُ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ ذٰلِکَ فِیْ فَتْحِ مَکَّۃَ فَقَالَ: ((أَنْتَ صَاحِبُ الْجَزُوْرِ؟)) فَقُلْتُ: نَعَمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَمْ یَزِدْنِیْ عَلٰی ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۷۸)
۔ سیدنا عوف بن مالک اشجعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے ایک غزوہ کیا، اس میں ہمارے امیر سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، ہوا یوں کہ ہم سخت بھوک میں مبتلا ہوگئے، ہم ایک قوم کے پاس سے گزرے، انھوں نے اونٹ ذبح کئے ہوئے تھے۔ میں (عوف) نے ان سے کہا: اگر تم مجھے بھی ان میں سے کھلاؤ تو میں تمہیں ان کا گوشت وغیرہ بنا کر دے سکتا ہوں؟انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، چنانچہ میںنے ان کاکام کیا اورانہوں نے مجھے کھانے کے لیے کچھ دیا، میں وہ لے کر سیدنا عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا، لیکن انہوں نے تو کھانے سے انکار کردیا، پھر میں سیدنا ابوعبیدہ بن جراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا، لیکن انہوں نے بھی کھانے سے انکارکردیا، پھر جب فتح مکہ کے موقع پر مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف بھیجا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: وہ اونٹوں والے تم ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! ۔اس سے زائد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچھ نہیں فرمایا۔
Takhreej
(۶۱۳۳) اسنادہ جید۔ أخرجہ الطبرانی: ۱۸/ ۱۳۱، والبیھقی فی ’’الدلائل‘‘: ۶/ ۳۰۸ (انظر: ۲۳۹۷۸)
Explanation
فوائد:… ممکن ہے کہ سیدنا عمر اور سیدنا ابو عیبدہdکے نہ کھانے کی وجہ یہ ہو کہ سیدنا عوف bنے بھوک برداشت کرنے پر صبر نہیں کیا، ایک روایت میں ہے کہ انھوں نے سیدنا عمر bکو ساری تفصیل بتائی تو انھوں نے کہا: اسمعک قد تعجلت اجرتک۔ … ’’میں تیرے بارے میں سن رہا ہوں کہ تو نے جلدی جلدی اپنا اجر لے لیا ہے۔ پھر جب سیدنا عوف b،رسول اللہa کو فتح اور کامیابی کی خوشخبری دینے کے لیے گئے تو آپa نے ان کے کیے پر انکار نہیں کیا، بہرحال سیدنا عوفbنے جائز کام کیا تھا۔
6133
Sahih
اجارہ کی مشروعیت کا بیان
۔ (۶۱۳۴)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جُعْتُ مَرَّۃً بِالْمَدِیْنَۃِ جُوْعًا شَدِیْدًا فَخَرَجْتُ أَطْلُبُ الْعَمَلَ فِیْ عَوَالِی الْمَدِیْنَۃِ فَاِذَا أَنَا بِاِمْرَأَۃٍ قَدْ جَمَعَتْ مَدَرًا فَظَنَنْتُہَا تُرِیْدُ بَلَّہَ فَأَتَیْتُہَا فَقَاطَعْتُہَا کُلَّ ذَنُوْبٍ عَلٰی تَمْرَۃٍ فَمَدَدْتُ سِتَّۃَ عَشَرَ ذَنُوْبًا حَتّٰی مَجَلَتْ یَدَایَ ثُمَّ أَتَیْتُ الْمَائَ فَأَصَبْتُ مِنْہُ ثُمَّ أَتَیْتُہَا فَقُلْتُ: بِکَفَّیَّ ھٰکَذَا بَیْنَیَدَیْہَا وَبَسَطَ اِسْمَاعِیْلُ (یَعْنِیْ ابْنَ اِبْرَاہِیْمَ أَحَدَ الرُّوَاۃِ) یَدَیْہِ وَجَمَعَہُمَا فَعَدَّتْ لِیْ سِتَّ عَشَرَۃَ تَمْرَۃً فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرْتُہُ فَأَکَلَ مَعِیَ مِنْہَا۔ (مسند احمد: ۱۱۳۵)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ جب میں مدینہ میں تھا، مجھے بہت سخت بھوک لگی، پس میں کسی کام کی تلاش میں مدینہ منورہ کے بالائی حصہ کی جانب نکلا، اچانک میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ وہ مٹی جمع کر چکی تھی اور اب اس کو گارا بنانا چاہتی تھی، میں اس کے پاس آیا اور اس سے ایک ایک ڈول کے بدلے ایک ایک کھجور لینے کا طے کیا، پس میں نے کنوئیں سے پانی کے سولہ ڈول کھینچے ، ان کی وجہ سے میرے ہاتھوں پر چھالے پڑ گئے، پھر میں نے وہ پانی لا کر مٹی پر ڈالا اور پھر اس خاتون کے پاس آیا مزدوری لینے کے لیے اس کے سامنے اپنی ہتھیلیاں پھیلادیں، اسماعیل راوی نے کیفیت بیان کرنے کے لیے اپنے ہاتھوں کو پھیلایا اور جمع کیا، پس اس عورت نے گن کر سولہ کھجوریں مجھے دیں، پس میں وہ کھجوریں لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ساری بات بتلائی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے ساتھ وہ کھجوریں کھائیں۔
Takhreej
(۶۱۳۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، مجاھد بن جبر لم یسمع علیا۔ أخرجہ (انظر: ۱۱۳۵)
6134
Zaeef
مزدور اپنی مزدوری کا مستحب کب ٹھہرتا ہے، اس چیز کا اور اس کو پورا حق نہ دینے والے کی وعید کا بیان
۔ (۶۱۳۵)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَالَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ: ثَلَاثَۃٌ أَنَا خَصْمُہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَمَنْ کُنْتُ خَصْمَہُ خَصَمْتُہُ، رَجُلٌ أَعْطٰی بِیْ ثُمَّ غَدَرَ وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَاَکَلَ ثَمَنَہُ، وَرَجُلٌ اِسْتَأْجَرَ أَجِیْرًا فَاسْتَوْفٰی مِنْہُ وَلَمْ یُوَفِّہِ أَجْرَہُ۔)) (مسند احمد: ۸۶۷۷)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے فرمایا: روزِ قیامت تین آدمیوں کا مقابل میں ہوںگا اور جس کا مقابل میں ہوں گا، میں اس پر غالب آ جاؤں گا: (۱) وہ آدمی جس نے میرے نام پر عہد کیا، لیکن پھر اسے توڑ ڈالا، (۲) وہ آدمی جو آزاد آدمی کو فروخت کرکے اس کی قیمت کھاگیا، اور(۳) وہ آدمی جس نے مزدور رکھا اور اس سے کام پورالیا، مگر اس کی مزدوری پوری طرح ادانہ کی۔
Takhreej
(۶۱۳۵) تخریج: َأخرجہ البخاری: ۲۲۲۷، ۲۲۷۰(انظر: ۸۶۹۲)
6135
Sahih
مزدور اپنی مزدوری کا مستحب کب ٹھہرتا ہے، اس چیز کا اور اس کو پورا حق نہ دینے والے کی وعید کا بیان
۔ (۶۱۳۶)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا فِیْ حَدَیْثٍ لَہُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَنَّہُ یُغْفَرُ لِأُمَّتِہِ فِیْ آخِرِ لَیْلَۃٍ مِنْ رَمَضَانَ۔)) قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَ ھِیَ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ؟ قَالَ: ((لَا، وَلَکِنَّ الْعَامِلَ إِنَّمَا یُوَفَّی أَجْرَہُ اِذَا قَضٰی عَمَلَہُ۔)) (مسند احمد: ۷۹۰۴)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ایک اور حدیث مروی ہے، اس میں ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رمضان المبارک کی آخری رات میںمیری امت کے لوگوں کو بخش دیا جاتا ہے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ شب قدر ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی نہیں، بات یہ ہے کہ جب عامل کام پورا کرتا ہے تو اس کو پوری پوری مزدوری دی جاتی ہے۔
Takhreej
(۶۱۳۶) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، ہشام بن ابی ہشام القرشی متفق علی ضعفہ، ومحمد بن محمد بن الاسود مجھول الحال۔ أخرجہ البزار: ۹۶۳، والبیھقی فی ’’الشعب‘‘: ۳۶۰۲ (انظر: ۷۹۱۷)
6136
Zaeef
سینگی لگانے والے کی اجرت کا بیان
۔ (۶۱۳۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: اِحْتَجَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْأَخْدَعَیْنِ وَبَیْنَ الْکَتِفَیْنِ، حَجَمَہُ عَبْدٌ لِبَنِیْ بَیَاضَۃَ وَکَانَ أَجْرُہُ مُدًّا وَنِصْفًا فَکَلَّمَ أَھْلَہُ حَتّٰی وَضَعُوْا عَنْہُ نِصْفَ مُدٍّ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَعْطَاہُ أَجْرَہُ وَلَوْکَانَ حَرَامًا (وَفِیْ لَفْظٍ: سُحْتًا) مَا أَعْطَاہُ۔ (مسند احمد: ۳۰۷۸م)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گردن کی دو رگوں میں اور دوکندھوں کے درمیان سینگی لگوائی، بنو بیاضہ کے ایک غلام نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سینگی لگائی تھی، اس کی اجرت ڈیڑھ مد تھی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے مالکوں سے رعایت کی بات کی تو انھوں نے نصف مد کم کر دیا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس غلام کو سینگی لگانے کی اجرت دی تھی، اگریہ حرام ہوتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو نہیں دینی تھی۔
Takhreej
(۶۱۳۷) صحیح۔ أخرجہ الطبرانی: ۱۲۵۸۶، وأخرجہ مختصرا ابو یعلی: ۲۳۶۲(انظر: ۳۰۷۸م)
6137
Sahih
سینگی لگانے والے کی اجرت کا بیان
۔ (۶۱۳۸)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اِحْتَجَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ لِلْحَجَّامِ حِیْنَ فَرَغَ: ((کَمْ خَرَاجُکَ؟)) قَالَ: صَاعَانِ، فَوَضَعَ عَنْہُ صَاعًا وَأَمَرَنِیْ فَأَعْطَیْتُہُ صَاعًا۔ (مسند احمد: ۱۱۳۶)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سینگی لگوائی اور پھر جب سینگی لگانے والا فارغ ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: تیری مزدوری کتنی ہے؟ اس نے کہا: جی دو صاع ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے ایک صاع کی رعایت کروا کر مجھے ادائیگی کے لیے حکم دیا، پس میں نے اس کو ایک صاع دیا۔
Takhreej
(۶۱۳۸) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۱۶۳ (انظر: ۱۱۳۶)
6138
Sahih
سینگی لگانے والے کی اجرت کا بیان
۔ (۶۱۳۹)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: حَجَمَ اَبُوْطَیْبَۃَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَعْطَاہُ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ وَکَلَّمَ أَھْلَہُ فَخَفَّفُوْا عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۱۱۹۸۸)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے راویت ہے کہ ابوطیبہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سینگی لگائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اناج کا ایک صاع دیا اور اس کے مالک سے اس پر آسانی کرنے کی سفارش کی، پس انھوں نے اس سے تخفیف کر دی۔
Takhreej
(۶۱۳۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۶۹۶، ومسلم: ۱۵۷۷(انظر: ۱۱۹۶۶)
6139
Sahih
سینگی لگانے والے کی اجرت کا بیان
۔ (۶۱۴۰)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: اِحْتَجَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَانَ لَا یَظْلِمُ أَحَدًا أَجْرًا۔ (مسند احمد: ۱۲۲۳۰)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سینگی لگوائی اور آپ کسی کاحق نہیں مارتے تھے، (یعنی اس کو اس کی اجرت دی)۔
Takhreej
(۶۱۴۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۲۸۰، ومسلم: ۱۵۷۷(انظر: ۱۲۲۰۶)
Explanation
فوائد:… ان تمام روایات سے معلوم ہوا کہ سینگی لگانے والے کو اجرت دینا درست ہے، لیکن مکروہ ہے، جن روایات میں اس کی کمائی کو خبیث کہا گیا ہے، اس سے مراد حرام نہیں ہے، مکروہ ہے، کیونکہیہ اچھا پیشہ نہیں ہے۔
6140
Sahih
اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیے جانے والے نیک اعمال کی اجرت کا بیان
۔ (۶۱۴۱)۔ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِقْرَئُ وْا الْقُرْآنَ وَلَا تَأْکُلُوْا بِہٖوَلَاتَسْتَکْثِرُوْابِہٖوَلَاتَجْفُوْاعَنْہُ،وَلَاتَغْلُوْافِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۲۰)
۔ سیدنا عبدالرحمن بن شبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن کی تلاوت کرو اور اس کوکھانے کا ذریعہ نہ بنائو اور نہ ہی اس کے ذریعہ مال کی کثرت طلب کرو، اس کی تلاوت سے نہ دوری اختیار کرواور نہ اس کے بارے میں غلوّ میں پڑو۔
Takhreej
(۶۱۴۱) حدیث صحیح۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۲۵۹۵،و البزار: ۲۳۲۰ (انظر: ۱۵۵۳۵)
Explanation
فوائد:… آخری دو جملوں کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن مجید کے سلسلے میں اعتدال اختیار کیا جائے اور افراط و تفریط سے بچا جائے، نہ اس طرح ہونے پائے کہ آدمی اس کی تلاوت سے دور ہو جائے اور نہ یہ صورت صحیح ہے کہ آدمی غلوّ کرتے ہوئے اس کی حدود سے تجاوز شروع کر دے۔
6141
Sahih
اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیے جانے والے نیک اعمال کی اجرت کا بیان
۔ (۶۱۴۲)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ أَنَّہُ مَرَّ بِرَجُلٍ وَھُوَ یَقْرَأُ عَلٰی قَوْمٍ فَلَمَّا فَرَغَ سَأَلَ، فَقَالَ عِمْرَانُ: إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، إِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَلْیَسْأَلِ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی بِہٖفَاِنَّہُسَیَجِیْئُ قَوْمٌ یَقْرَؤُنَ الْقُرْآنَ یَسْأَلُوْنَ النَّاسَ بِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۱۲۶)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے، وہ ایک قوم پر قرآن مجید کی تلاوت کررہا تھا،جب وہ فارغ ہوا تو لوگوں سے مانگناشروع کردیا، سیدنا عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ منظر دیکھ کر کہا: إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھاـ: جوقرآن مجید کی تلاوت کرے، وہ اللہ تعالیٰ سے مانگے، عنقریب ایک ایسی قوم آئے گی کہ جوقرآن پاک کی تلاوت کرے گی اور پھر اس کے ذریعے سے لوگوں سے سوال کرے گی۔
Takhreej
(۶۱۴۲) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ الترمذی: ۲۹۱۷(انظر: ۱۹۸۸۵)
6142
Sahih
اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیے جانے والے نیک اعمال کی اجرت کا بیان
۔ (۶۱۴۳)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: عَلَّمْتُ نَاسًا مِنْ أَھْلِ الصُّفَّۃِ الْکِتَابَۃَ وَالْقُرْآنَ فَأَھْدٰی إِلَیَّ رَجُلٌ مِنْہُمْ قَوْسًا، فَقُلْتُ: لَیْسَ لِیْ بِمَالٍ وَأَرْمِیْ عَنْہَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی، فَسَاَلْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((إِنْ سَرَّکَ أَنْ تُطَوَّقَ بِہَا طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْہَا۔)) (مسند احمد: ۲۳۰۶۵)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے اہل صفہ میں سے کچھ لوگوں کو کتابت اور قرآن پاک کی تعلیم دی، ان میں سے ایک آدمی نے مجھے بطور ہدیہ ایک کمان دی، میں نے بھی سوچا کہ یہ میرے لیے مال نہیں ہے، بلکہ میں اس کے ذریعے اللہ تعالی کے راستے میں تیر پھینکوں گا، پس میں نے اس بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تجھے یہ بات اچھی لگتی ہے کہ اس کے بدلے میں تجھے آگ کا طوق ڈالا جائے تو پھر اس کو قبول کرلے۔
Takhreej
(۶۱۴۳) تخریج: حدیث حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۳۴۱۶، وابن ماجہ: ۲۱۵۷(انظر: ۲۲۶۸۹)
6143
Sahih
اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیے جانے والے نیک اعمال کی اجرت کا بیان
۔ (۶۱۴۴)۔ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ اَبِی الْعَاصِ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اجْعَلْنِیْ إِمَامَ قَوْمِیْ، قَالَ: ((أَنْتَ إِمَامُہُمْ وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِہِمْ وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا یَأْخُذُ عَلٰی أَذَانِہِ أَجْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۸۰)
۔ سیدنا عثمان بن ابی عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میںنے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! مجھے میری قوم کا امام بنادیجئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی تو ان کا امام ہے، ان میں سے سب سے کمزور آدمی کا خیال رکھنا اور ایسا مؤذن مقرر کرنا، جو اپنی اذان پر اجرت لینے والا نہ ہو۔
Takhreej
(۶۱۴۴) تخریج: أخرجہ بنحوہ مسلم: ۴۶۸ (انظر: ۱۶۲۷۲)
6144
Sahih
اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیے جانے والے نیک اعمال کی اجرت کا بیان
۔ (۶۱۴۵)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ نَقْرَأُ، فِیْنَا الْعَرَبِیُّ وَالْعَجَمِیُّ وَالْأَسْوَدُ وَالْاَبْیَضُ، إِذْ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَنْتُمْ فِیْ خَیْرٍ، تَقْرَؤُوْنَ کِتَابَ اللّٰہِ وَفِیْکُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ، وَسَیَأْتِیْ عَلٰی النَّاسِ زَمَانٌ یُثَقِّفُوْنَہُ کَمَا یُثَقِّفُوْنَ الْقِدْحَ یَتَعَجَّلُوْنَ اُجُوْرَھُمْ وَلَا یَتَأَجَّلُوْنَہَا۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۱۲)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ایک دفعہ ہم قرآن مجید پڑھ رہے تھے، ہم میںعرب اور عجم اور کالے اور سفید لوگ موجود تھے، اتنے میںاچانک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے اور فرمایا: تم خیر و بھلائی پر ہو، اللہ تعالی کی کتاب پڑھ رہے ہو اور اللہ کے رسول تمہارے اندر موجود ہیں، عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ وہ ادائیگی کے لحاظ سے تو قرآن مجید کے الفاظ کو اس طرح سیدھا ادا کریں گے، جیسے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے، لیکن وہ اس کے اجر کو جلدی حاصل کریں گے اور آخرت تک اس میں تاخیر نہیں کریں گے۔
Takhreej
(۶۱۴۵) اسنادہ ضعیف، وفاء الخولانی فی عداد المجھولین، وابن لھیعۃ سییء الحفظ۔ أخرجہ (انظر: ۱۲۴۸۴)
Explanation
فوائد:… یہ روایت مندرجہ ذیل الفاظ کے ساتھ صحیح ہے: سیدنا سہل بن سعد bسے مروی ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا: ((فِیکُمْ کِتَابُ اللَّہِ، یَتَعَلَّمُہُ الْأَسْوَدُ وَالْأَحْمَرُ وَالْأَبْیَضُ تَعَلَّمُوہُ قَبْلَ أَنْ یَأْتِیَ زَمَانٌ یَتَعَلَّمُہُ نَاسٌ وَلَا یُجَاوِزُ تَرَاقِیَہُمْ وَیُقَوِّمُونَہُ کَمَا یُقَوَّمُ السَّہْمُ فَیَتَعَجَّلُونَ أَجْرَہُ وَلَا یَتَأَجَّلُونَہُ۔)) … ’’تمہارے اندر اللہ تعالی کی کتاب موجود ہے، کالے، سرخ اور سفید، غرضیکہ ہر کوئی اس کو سیکھ رہا ہے، تم اس کو اس زمانے کی آمد سے پہلے پہلے سیکھ لو کہ جس میں لوگ اس کی تعلیم تو حاصل کریں گے، لیکنیہ کتاب ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی، وہ ادائیگی کے لحاظ اس کے الفاظ کو اس طرح سیدھا کریں گے، جیسے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے، لیکن وہ اس کے اجر کو جلدی طلب کریں گے اور آخرت تک اس میں تاخیر نہیں کریں گے۔‘‘ (ابوداود: ۸۳۱، مسند احمد: ۵/۳۳۸واللفظ لہ)
6145
Zaeef
اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیے جانے والے نیک اعمال کی اجرت کا بیان
۔ (۶۱۴۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَرِیَّۃٍ ثَلَاثِیْنَ رَاکِبًا، قَالَ: فَنَزَلْنَا بِقَوْمٍ مِنَ الْعَرَبِ، قَالَ: فَسَأَلْنَاھُمْ أَنْ یُضَیِّفُوْنَا فَأَبَوْا، قَالَ: فَلُدِغَ سَیِّدُھُمْ، قَالَ: فَاَتَوْنَا فَقَالُوْا: فِیْکُمْ أَحَدٌ یَرْقِیْ مِنَ الْعَقْرَبِ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، أَنَا وَلٰکِنْ لَا أَفْعَلُ حَتّٰی تُعْطُوْنَا شَیْئًا، قَالُوْا: فَإِنَّا نُعْطِیْکُمْ ثَلَاثِیْنَ شَاۃً، قَالَ: فَقَرَأْتُ عَلَیْہَا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ سَبْعَ مَرَّاتٍ، قَالَ: فَبَرَأَ (وَفِیْ لَفْظٍ: قَالَ: فَجَعَلَ یَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ وَیَجْمَعُ بُزَاقَہُ وَیَتْفِلُ فَبَرَأَ الرَّجُلُ فَأَتَوْھُمْ بِالشَّائِ، قَالَ: فَلَمَّا قَبَضْنَا الْغَنَمَ، قَالَ: عَرَضَ فِیْ أَنْفُسِنَا مِنْہَا، قَالَ: فَکَفَفْنَا حَتّٰی أَتَیْنَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ لَفْظٍ: فَقَالَ أَصْحَابِیْ: لَمْ یَعْہَدْ إِلَیْنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ ھٰذَا بِشَیْئٍ لَا نَاْخُذُ مِنْہُ شَیْئًا حَتّٰی نَاْتِیَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَذَکَرْنَا ذَالِکَ لَہُ فقَالَ: ((أَمَا عَلِمْتَ اَنَّھَا رُقْیَۃٌ، اِقْسِمُوْھَا وَاضْرِبُوْا لِیْ مَعَکُمْ بِسَہْمٍ، (وَفِیْ لَفْظٍ: فَقَالَ: کُلْ وَأَطْعِمْنَا مَعَکَ وَمَا یُدْرِیْکَ اَنَّھَا رُقْیَۃٌ؟)) قَالَ: قُلْتُ: أُلْقِیَ فِیْ رَوْعِیْ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۸۶)
۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم تیس سوار مجاہدین کو ایک سریّے میں بھیجا، ہم عرب کی ایک قوم کے پاس اترے اوران سے میزبانی کا اپنا حق طلب کیا، لیکن انہوں نے انکار کردیا، ہوا یوں کہ ان کے ایک سردار کو کسی زہریلی چیز نے ڈس لیا، وہ ہمارے پاس آئے اورکہنے لگے کہ کیا تم میں سے کوئی آدمی ڈسنے کا دم کر لیتا ہے، سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ہاں میں کرلیتا ہوں، لیکن میںاس وقت تک دم نہیں کروں گا، جب تک تم ہمیں کچھ عطا نہیں کروگے، انہوں نے کہا: ہم تمہیں تیس بکریاں دیں گے، سیدنا ابوسعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میںنے اس پر سورۂ فاتحہ پرھنی شروع کی اور سات مرتبہ پڑھی،اپنی تھوک جمع کرتا اور پھر اس پر تھوک دیتا، پس وہ تندرست ہوگیا اور انہوں نے تیس بکریاں دے دیں، جب ہم نے وہ بکریاں اپنے قبضے میں لے لیں، تو ہمیں شک ہو نے لگا (کہ پتہ نہیںیہ ہمارے لئے حلال بھی ہیںیا کہ نہیں)۔سو ہم ان پر کوئی کاروائی کرنے سے رک گئے، یہاں تک کہ ان کے بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت نہ کر لیں۔ جب ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور یہ بات بتلائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تونے کیسے جانا کہ یہ دم ہے! ان کو تقسیم کر لو اور میرا بھی حصہ مقرر کرو۔ ایک روایت میں ہے: تو خود بھی کھا اور ہمیں بھی اپنے ساتھ کھلا، بھلا تجھے کیسے پتہ چلا تھا کہ یہ دم ہے؟ میں نے کہا: جی بس میرے دل میںیہ بات ڈال دی گئی تھی۔
Takhreej
(۶۱۴۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۲۷۶، ۵۷۴۹، ومسلم: ۲۲۰۱ (انظر: ۱۱۰۷۰)
Explanation
فوائد:… قرآن مجید کی تعلیم پر اجرت لینا کیسا ہے؟ اس مسئلہ میں مختلف احادیث مروی ہیں، بعض یہ ہیں: (۱) سیدنا عبدا للہ بن عباس b بیان کرتے ہیں کہ ایک صحابی نے ایک بستی کے سردار کوسورۂ فاتحہ پڑھ کر دم کیا اور اس کے عوض بکریوں کا ایک ریوڑ لیا۔ دوسرے صحابہ کرام نے ناپسند کیا اور اسے ڈانٹتے ہوئے کہا: اَخَذْتَ عَلٰی کِتَابِ اللّٰہِ اَجْرًا۔ … تو نے اللہ تعالی کی کتاب پراجرت لی۔ جب وہ نبی کریمa کے پاس پہنچے تو انھوں نے اس کی شکایت کی۔ جواباً رسول اللہ a نے فرمایا: ((اِنَّ اَحَقَّ مَا اَخَذْتُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا کِتَابُ اللّٰہِ۔)) ’’سب سے زیادہ جس چیز پر تم اجرت لینے کاحق رکھتے ہو وہ اللہ کی کتاب ہے۔‘‘ (صحیحبخاری: ۲۲۷۶) یہ واقعہ تو خاص ہے، لیکن شارع g کے الفاظ عام ہیں، جو تعلیم القرآن کی اجرت کے جواز پر دلالت کرتے ہیں۔ فقہی قاعدہ ہے کہ ’’العبرۃ بعموم اللفظ لا بخصوص اللفظ‘‘ (لفظ کے عموم کا اعتبار ہوتا ہے، نہ کہ سبب کے خاص ہونے کا)۔ حافظ ابن حجر ؒنےکہا: واستدلمنہللجمھور فی جواز الاجرۃ علی تعلیم القرآن۔ (فتح الباری) اس حدیث سے جمہور کے لیے استدلال کیا گیاجو تعلم القرآن پر اجرت کے جواز کے قائل ہیں۔ (۲) بیوی کا حق مہر خاوند پر فرض ہے ، اس کی تفصیلیوں ہے کہ سیدنا سہل بن سعد b بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہa نے ایک شخص کا نکاح قرآن مجید کی تعلیم کو حق مہر ٹھہرا کر کر دیا، آپ a کے الفاظ یہ تھے: (اِذْھَبْ فَقَدْ اَنْکَحْتُھَا بِمَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ۔) (بخاری، مسلم) … ’’جا، میں نے اس قرآن کے بدلے جو تیرے پاس ہے تیرا اس عورت کے ساتھ نکاح کر دیا ہے۔ معلوم ہوا کہ اللہ کے رسول a نے خود قرآن مجید کی تعلیم کی اجرت دلوائی ہے۔ امام مالک نے کہا: یہ تعلیم قرآن پر اجرت ہی تھی، اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی تعلیم پر اجرت لینا جائز ہے۔ (فتح الباری) لیکن درج ذ یل اور اس باب میں مذکورہ احادیث میں اجرت لینے والوں کے حق میں بڑی سخت وعید بیان کی گئی ہے: (۳) سیدنا ابودردائb کہتے ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا: ((مَنْ اَخَذَ عَلٰی تَعْلِیْمِ الْقُرْآنِ قَوْسًا، قَلَّدَہُ اللّٰہُ قَوْسًا مِنْ نَارِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (صحیحہ: ۲۵۶)… جس نے قرآن مجید کی تعلیم دے کر کمان لی، اللہ تعالی قیامت کے روز اس کے گلے میں آگ کی کمان ڈالے گا۔ حدیث نمبر (۶۱۴۳) میں سیدنا عبادہ بن صامت b کی اس سے واضح روایت گزری، اسی قسم کی حدیث سیدنا ابی بن کعب b سے بھی مروی ہے۔ مذکورہ بالا تین احادیث میں دو موضوعات بیان کئے گئے، جن میں تناقض او ر تعارض پایا جارہا ہے۔ ان میں جمع تطبیق کییہ صورت ہے کہ قرآن مجید کی تعلیم کا اصل مقصود دین حنیف کی نشرواشاعت اور لوگوں کی اصلاح ہو اور معلم خود بھی قرآنی احکام پر عمل پیرا ہو، اگر ایسی صورت میں لو گ کفالت کر دیں تو اس کو قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں،یہی صورت پہلے والی احادیث کا مصداق ہے۔ وعید والی احادیث کے بارے میں مختلف اہل علم کے تین نظریے پائے جاتے ہیں: (ا)… جمہور اہل علم سیدنا ابی بن کعب (اور سیدنا ابودردائ) dکی احادیث کے بارے میں کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ نبی کریمa نے ان کا خلوص دیکھتے ہوئے ان کے لیے کمان لینا ناپسند کیا ہو۔ (ب)… اگر کسی آدمی کا قرآن کریم کی تعلیم سے اصل مقصود دنیا کی دولت اکٹھا کرنا ہو، لوگوں کی اصلاح سے اسے کوئی سروکار نہ ہو اور وہ خود قرآنی فرائض و واجبات کے وعظ سے اثر قبول نہ کرنے والا اور ان کی ادائیگی سے غافل ہو تو ایسے شخص کو وعید والی حدیث ِ مبارکہ کا مصداق بنایا جائے گا۔ (۳) ان احادیث کا مصداق وہ شخص ہے، جو غریب طلبہ کو قرآن مجید پڑھا کر ان سے اجرت وصول کرتاہے۔ واللہ اعلم بالصواب اس کے بارے میں احناف کا نظریہیہ ہے کہ اجرت لینے اور دینے والے دونوں گنہگار ہیں اور اذان، حج، امامت اور تعلیم القرآن پر اجرت لینا جائز نہیں ہے۔ (ملاحظہ ہورد المختار اور الھدایۃ) اگرچہ احناف عملی طور پر اس نظریے پر قائم نہ رہ سکے، لیکنیہ رائے اس قابل ہے کہ سنجیدگی کے ساتھ اس پر توجہ کی جائے۔ اس باب میں جو رائے ہمیں اقرب الی الصواب نظر معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ امامت، خطابت، تعلیم القرآن اور تدریس احادیث جیسے پاکیزہ شعبوں سے متعلقہ لوگوں کا مقصد قطعی طور پر دنیوی مال و دولت کا حصول نہ ہو، بلکہ ان کی نیت اور ارادہ یہ ہو کہ وہ اسلامی تعلیمات کیتبلیغ کی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں،یہ شعبہ جات اس سے بالا تر ہیں کہ ان کی اجرت یا معاوضہ لیا جائے، خلیفۂ اول سیدنا ابو بکر b نے اپنے دورِ خلافت میں امامت، خطابت، افتائ، قضائ، جہاد اور خلافت و امارت سے متعلقہ تمام امور سر انجام دیئے، سوال یہ ہے کہ کیا وہ ان خدمات کی اجرت میں بیت المال سے وظیفہ لیتے تھے؟ نہیں، قطعاً نہیں،خلیفۂ اول کییہ تمام خدمات اسلام کی تبلیغ اور سربلندی کے لیے تھیں، ہاں جب وہ امت ِ مسلمہ کے امور میں مصروف ہو جانے کی وجہ سے اپنے دنیوی معاملات پر توجہ نہ دے سکے تو انھوں نے اپنی کفالت کے لیے بیت المال سے معمولی مقدار میں وظیفہ لیا۔ یہاںیہ تنبیہ کرنا ضروری ہے کہ دوسرے لوگوں کو اور خاص طور پر اداروں کے منتظمین کو چاہیے کہ وہ ان ائمہ، مبلغین اور مدرسین اور ان کے بیوی بچوں کی اس وجہ سے کفالت کریں کہ یہ لوگ دینِ حنیف کی خدمت میں مصروف ہیں اور ان شخصیتوں کے عزت و احترام کا خیال رکھیں، کیونکہ نیلے آسمان کے نیچے سب سے زیادہ معزز لوگ یہی ہیں۔ مساجد و مدارس سے متعلقہ ائمہ و مدرسین سے انتہائی درد مندانہ اپیل ہے کہ وہ اجرت اور کفالت میں فرق کریں اور اپنے ارادے اور نیت میں پاکیزگی پیدا کریں، اپنے شعبے کی عظمت کو سمجھیں،یہ وہ عظیم لوگ ہیں کہ اللہ تعالی نے جن کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کر لیا ہے، ان کی جتنی کفالت کی جا رہی ہے، اس میں گزارا کرنے کی کوشش کریں، عبادات کی روٹین کو بہتر بنائیں، اپنے اندر ذکرِ الہی کا اتنا شغف پیدا کریں کہ اس سے ان کی بھوک اور پیاس میں کمی آ جائے، کسی کی خوشامد سے مکمل گریز کریں، ہر شخص پر اور بالخصوص انتظامیہ پر ناقدانہ تبصرہ کرنے سے بچیں، اس شعبہ سے متعلقہ پہلے گزر جانے والے لوگوں کے طرزِ حیات کا مطالعہ کریں، خاص طور پر اس چیز کا کہ اگر وہ لوگ خود کفیل تھے تو انھوں نے خدمت ِ اسلام کا فریضہ کیسے سرانجام دیا اور اگر وہ محتاج تھے توانھوں نے اپنی حاجت کو دور کرنے کے لیے کون سا طریقہ اختیار کیا اور اپنی حاجات و ضروریات اللہ تعالی کے دربار میں پیش کریں۔ صورتِ حال یہ ہے کہ ہم لوگ دنیا اور اہل دنیا سے متأثر ہو گئے ہیں، ہم نے بڑوں اور سیاسیوں کے قریب ہونے کو اپنی عظمت کی دلیل سمجھ لیا، باطن کی اصلاح کی بجائے ظاہر کو خوبصورت بنانے کی طرف توجہ دی، نیک مزاج کی بجائے جسم کی ظاہری ٹیپ ٹاپ کو زیادہ اہمیت دی اور اپنے آپ کو تنخواہ دار طبقے کا ایسا فرد سمجھ لیا کہ جس نے ہمیشہ تنخواہ میں اضافے کی بات کییا اس کے تھوڑا ہونے کا شکوہ کیا۔ اس میدان والوں کا سب سے اہم مسئلہ نفس کا غِنٰی ہے، جبکہ غنائے نفس دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے، دوسروں کے مال و دولت پر نگاہ رکھنا اور اس کا حریص رہنا، اس سے بندے کی حق گوئی بھی متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی، اگر کسی انسان کے دنیا کے وسائل و اسباب نہ ہوں، لیکن وہ نفس کے غِنٰی سے مالا مال ہو تو اس کے لیے پرلطف اور لذتوں سے بھری ہوئی زندگی کے لیےیہی نعمت کافی ہے، باتونی بن جانا اور ہر بندے کے سامنے اپنے مسائل بیان کرتے رہنا، اس سے لوگوں کے ہاں وقار تو کم ہو سکتا ہے، کبھی بھی کوئی مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ اگر اس پاک فیلڈ سے متعلقہ لوگ عبادات کی روٹین مرتّب کرنے کے بعد معاشرے سے متعلقہ چند قوانین کا پاس و لحاظ کریں، امامت و خطابت و تدریس کو تبلیغِ اسلام کا ذریعہ سمجھ کر پر خلوص انداز میں ان عہدوں کے تقاضے پورے کریں اور اپنے نصیب پر راضی ہو جائیں تو چند ایامکے اندر اندر ہی دلی سکون نصیب ہو گا اور حمیت و غیرت والی زندگی سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملے گا۔
6146
Sahih
اجرت پر مباح نفع کمانے کے جواز کا بیان
۔ (۶۱۴۷)۔ عَنْ رَافِعِ بْنِ رِفَاعَۃَ قَالَ: نَہَانَا نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ کَسْبِ الْإِمَائِ اِلَّا مَا عَمِلَتْ بِیَدِھَا وَقَالَ: ھٰکَذَا بِاَصَابِعِہِ نَحْوَ الْخُبْزِ وَالْغَزْلِ والنَّفْشِ۔ (مسند احمد: ۱۹۲۰۷)
۔ رافع بن رفاعہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں لونڈیوں کی کمائی سے منع فرمایا، مگر وہ جو وہ اپنے ہاتھ سے اس طرح کی کمائی کر لیتی ہو،پھر راوی نے اپنی انگلیوں کی مدد سے روٹی پکانے، سوتر کاتنے اور روئی دھنسنے کی طرف اشارہ کیا۔
Takhreej
(۶۱۴۷) تخریج: اسناد لایصح، رافع لایعرف ولم تثبت صحبتہ ولا تابعیتہ، طارق بن عبد الرحمن القرشی لایکادیعرف۔ أخرجہ ابوداود: ۴۳۲۷ (انظر: ۱۸۹۹۸)
Explanation
فوائد:… لونڈیوں کی کمائی سے مراد زنا اور بدکاری کی کمائی ہے۔
6147
Sahih
اجرت پر مباح نفع کمانے کے جواز کا بیان
۔ (۶۱۴۸)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَجْتَنِی الْکَبَاثَ فقَالَ: ((عَلَیْکُمْ بِالْأَسْوَدِ مِنْہُ فَاِنَّہُ أَطْیَبُ۔)) قَالَ: قُلْنَا: وَکُنْتَ تَرَعَی الْغَنَمَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، وَھَلْ مِنْ نَبِیٍّ اِلَّا قَدْ رَعَاھَا۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۵۱)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ پیلو چن رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سیاہ رنگ والے چنو، کیونکہیہ بہت عمدہ ہوتے ہیں۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ بکریاں چراتے رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں، بلکہ ہر نبی بکریاں چراتارہاہے۔
Takhreej
(۶۱۴۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۴۵۳، ومسلم: ۲۰۵۰۔ (انظر: ۱۴۴۹۷)
6148
Sahih
اجرت پر مباح نفع کمانے کے جواز کا بیان
۔ (۶۱۴۹)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بُعِثَ مُوْسٰی وَھُوَ یَرْعٰی غَنَمًا عَلٰی أَھْلِہِ وَبُعِثْتُ وَأَنَا أَرْعٰی غَنَمًا لِأَھْلِیْ بِجَیَادٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۴۰)
۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو اس حال میں مبعوث کیا کہ وہ اپنے گھر والوں کی بکریاں چرایا کرتے تھے اور جب مجھے مبعوث کیا گیا تو میں بھی جیاد میں اپنے اہل خانہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔
Takhreej
(۶۱۴۹) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ۔ أخرجہ البزار: ۲۳۷۰ (انظر: ۱۱۹۱۸)
6149
Sahih
اجرت پر مباح نفع کمانے کے جواز کا بیان
۔ (۶۱۵۰)۔ عَنْ سُوَیْدِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ: جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَمَۃُ الْعَبَدِیُّ ثِیَابًا مِنْ ھَجَرَ، قَالَ: فَاَتَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَاوَمَنَا فِیْ سَرَاوِیْلَ وَعِنْدَنَا وَزَّانُوْنَ یَزِنُوْنَ بِالْأُجْرَۃِ، فَقَالَ لِلْوَزَّانِ: ((زِنْ وَأَرْجِحْ۔)) (مسند احمد: ۱۹۳۰۸)
۔ سیدنا سوید بن قیس کہتے ہیں، میں اور مخرمہ عبدی ہجر کے علاقہ سے کپڑا لائے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم سے شلوار کا سودا کیا، جبکہ ہمارے پاس اجرت پر وزن کرنے والے لوگ بھی موجود تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک وزن کرنے والے سے فرمایا: اس کا وزن کرو اور ترازو کا یہ والا پلڑا جھکاؤ۔
Takhreej
(۶۱۵۰) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۳۳۳۶، ابن ماجہ: ۲۲۲۰، ۳۵۷۹، والترمذی: ۱۳۰۵(انظر: ۱۹۰۹۸)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جائز کاموں کی اجرت لینا درست ہے۔
6150
Sahih