مسنداحمد

Musnad Ahmad

اجارہ کے مسائل

مزدور اپنی مزدوری کا مستحب کب ٹھہرتا ہے، اس چیز کا اور اس کو پورا حق نہ دینے والے کی وعید کا بیان

۔ (۶۱۳۵)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَالَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ: ثَلَاثَۃٌ أَنَا خَصْمُہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَمَنْ کُنْتُ خَصْمَہُ خَصَمْتُہُ، رَجُلٌ أَعْطٰی بِیْ ثُمَّ غَدَرَ وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَاَکَلَ ثَمَنَہُ، وَرَجُلٌ اِسْتَأْجَرَ أَجِیْرًا فَاسْتَوْفٰی مِنْہُ وَلَمْ یُوَفِّہِ أَجْرَہُ۔)) (مسند احمد: ۸۶۷۷)

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے فرمایا: روزِ قیامت تین آدمیوں کا مقابل میں ہوںگا اور جس کا مقابل میں ہوں گا، میں اس پر غالب آ جاؤں گا: (۱) وہ آدمی جس نے میرے نام پر عہد کیا، لیکن پھر اسے توڑ ڈالا، (۲) وہ آدمی جو آزاد آدمی کو فروخت کرکے اس کی قیمت کھاگیا، اور(۳) وہ آدمی جس نے مزدور رکھا اور اس سے کام پورالیا، مگر اس کی مزدوری پوری طرح ادانہ کی۔

۔ (۶۱۳۶)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا فِیْ حَدَیْثٍ لَہُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَنَّہُ یُغْفَرُ لِأُمَّتِہِ فِیْ آخِرِ لَیْلَۃٍ مِنْ رَمَضَانَ۔)) قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَ ھِیَ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ؟ قَالَ: ((لَا، وَلَکِنَّ الْعَامِلَ إِنَّمَا یُوَفَّی أَجْرَہُ اِذَا قَضٰی عَمَلَہُ۔)) (مسند احمد: ۷۹۰۴)

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ایک اور حدیث مروی ہے، اس میں ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رمضان المبارک کی آخری رات میںمیری امت کے لوگوں کو بخش دیا جاتا ہے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ شب قدر ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی نہیں، بات یہ ہے کہ جب عامل کام پورا کرتا ہے تو اس کو پوری پوری مزدوری دی جاتی ہے۔