TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سینگی لگانے والے کی اجرت کا بیان - سینگی لگانے والے کی اجرت کا بیان - اجارہ کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of اجارہ کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 5 · 4 Hadith
۔ (۶۱۳۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: اِحْتَجَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْأَخْدَعَیْنِ وَبَیْنَ الْکَتِفَیْنِ، حَجَمَہُ عَبْدٌ لِبَنِیْ بَیَاضَۃَ وَکَانَ أَجْرُہُ مُدًّا وَنِصْفًا فَکَلَّمَ أَھْلَہُ حَتّٰی وَضَعُوْا عَنْہُ نِصْفَ مُدٍّ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَعْطَاہُ أَجْرَہُ وَلَوْکَانَ حَرَامًا (وَفِیْ لَفْظٍ: سُحْتًا) مَا أَعْطَاہُ۔ (مسند احمد: ۳۰۷۸م)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گردن کی دو رگوں میں اور دوکندھوں کے درمیان سینگی لگوائی، بنو بیاضہ کے ایک غلام نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سینگی لگائی تھی، اس کی اجرت ڈیڑھ مد تھی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے مالکوں سے رعایت کی بات کی تو انھوں نے نصف مد کم کر دیا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس غلام کو سینگی لگانے کی اجرت دی تھی، اگریہ حرام ہوتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو نہیں دینی تھی۔
Takhreej
(۶۱۳۷) صحیح۔ أخرجہ الطبرانی: ۱۲۵۸۶، وأخرجہ مختصرا ابو یعلی: ۲۳۶۲(انظر: ۳۰۷۸م)
6137
Sahih
۔ (۶۱۳۸)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اِحْتَجَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ لِلْحَجَّامِ حِیْنَ فَرَغَ: ((کَمْ خَرَاجُکَ؟)) قَالَ: صَاعَانِ، فَوَضَعَ عَنْہُ صَاعًا وَأَمَرَنِیْ فَأَعْطَیْتُہُ صَاعًا۔ (مسند احمد: ۱۱۳۶)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سینگی لگوائی اور پھر جب سینگی لگانے والا فارغ ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: تیری مزدوری کتنی ہے؟ اس نے کہا: جی دو صاع ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے ایک صاع کی رعایت کروا کر مجھے ادائیگی کے لیے حکم دیا، پس میں نے اس کو ایک صاع دیا۔
Takhreej
(۶۱۳۸) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۱۶۳ (انظر: ۱۱۳۶)
6138
Sahih
۔ (۶۱۳۹)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: حَجَمَ اَبُوْطَیْبَۃَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَعْطَاہُ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ وَکَلَّمَ أَھْلَہُ فَخَفَّفُوْا عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۱۱۹۸۸)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے راویت ہے کہ ابوطیبہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سینگی لگائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اناج کا ایک صاع دیا اور اس کے مالک سے اس پر آسانی کرنے کی سفارش کی، پس انھوں نے اس سے تخفیف کر دی۔
Takhreej
(۶۱۳۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۶۹۶، ومسلم: ۱۵۷۷(انظر: ۱۱۹۶۶)
6139
Sahih
۔ (۶۱۴۰)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: اِحْتَجَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَانَ لَا یَظْلِمُ أَحَدًا أَجْرًا۔ (مسند احمد: ۱۲۲۳۰)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سینگی لگوائی اور آپ کسی کاحق نہیں مارتے تھے، (یعنی اس کو اس کی اجرت دی)۔
Takhreej
(۶۱۴۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۲۸۰، ومسلم: ۱۵۷۷(انظر: ۱۲۲۰۶)
Explanation
فوائد:… ان تمام روایات سے معلوم ہوا کہ سینگی لگانے والے کو اجرت دینا درست ہے، لیکن مکروہ ہے، جن روایات میں اس کی کمائی کو خبیث کہا گیا ہے، اس سے مراد حرام نہیں ہے، مکروہ ہے، کیونکہیہ اچھا پیشہ نہیں ہے۔
6140
Sahih