مسنداحمد

Musnad Ahmad

اجارہ کے مسائل

سینگی لگانے والے کی اجرت کا بیان

۔ (۶۱۳۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: اِحْتَجَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْأَخْدَعَیْنِ وَبَیْنَ الْکَتِفَیْنِ، حَجَمَہُ عَبْدٌ لِبَنِیْ بَیَاضَۃَ وَکَانَ أَجْرُہُ مُدًّا وَنِصْفًا فَکَلَّمَ أَھْلَہُ حَتّٰی وَضَعُوْا عَنْہُ نِصْفَ مُدٍّ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَعْطَاہُ أَجْرَہُ وَلَوْکَانَ حَرَامًا (وَفِیْ لَفْظٍ: سُحْتًا) مَا أَعْطَاہُ۔ (مسند احمد: ۳۰۷۸م)

۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گردن کی دو رگوں میں اور دوکندھوں کے درمیان سینگی لگوائی، بنو بیاضہ کے ایک غلام نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سینگی لگائی تھی، اس کی اجرت ڈیڑھ مد تھی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے مالکوں سے رعایت کی بات کی تو انھوں نے نصف مد کم کر دیا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس غلام کو سینگی لگانے کی اجرت دی تھی، اگریہ حرام ہوتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو نہیں دینی تھی۔

۔ (۶۱۳۸)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اِحْتَجَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ لِلْحَجَّامِ حِیْنَ فَرَغَ: ((کَمْ خَرَاجُکَ؟)) قَالَ: صَاعَانِ، فَوَضَعَ عَنْہُ صَاعًا وَأَمَرَنِیْ فَأَعْطَیْتُہُ صَاعًا۔ (مسند احمد: ۱۱۳۶)

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سینگی لگوائی اور پھر جب سینگی لگانے والا فارغ ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: تیری مزدوری کتنی ہے؟ اس نے کہا: جی دو صاع ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے ایک صاع کی رعایت کروا کر مجھے ادائیگی کے لیے حکم دیا، پس میں نے اس کو ایک صاع دیا۔

۔ (۶۱۳۹)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: حَجَمَ اَبُوْطَیْبَۃَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَعْطَاہُ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ وَکَلَّمَ أَھْلَہُ فَخَفَّفُوْا عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۱۱۹۸۸)

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے راویت ہے کہ ابوطیبہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سینگی لگائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اناج کا ایک صاع دیا اور اس کے مالک سے اس پر آسانی کرنے کی سفارش کی، پس انھوں نے اس سے تخفیف کر دی۔

۔ (۶۱۴۰)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: اِحْتَجَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَانَ لَا یَظْلِمُ أَحَدًا أَجْرًا۔ (مسند احمد: ۱۲۲۳۰)

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سینگی لگوائی اور آپ کسی کاحق نہیں مارتے تھے، (یعنی اس کو اس کی اجرت دی)۔