مسنداحمد

Musnad Ahmad

اجارہ کے مسائل

اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیے جانے والے نیک اعمال کی اجرت کا بیان

۔ (۶۱۴۱)۔ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِقْرَئُ وْا الْقُرْآنَ وَلَا تَأْکُلُوْا بِہٖوَلَاتَسْتَکْثِرُوْابِہٖوَلَاتَجْفُوْاعَنْہُ،وَلَاتَغْلُوْافِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۲۰)

۔ سیدنا عبدالرحمن بن شبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن کی تلاوت کرو اور اس کوکھانے کا ذریعہ نہ بنائو اور نہ ہی اس کے ذریعہ مال کی کثرت طلب کرو، اس کی تلاوت سے نہ دوری اختیار کرواور نہ اس کے بارے میں غلوّ میں پڑو۔

۔ (۶۱۴۲)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ أَنَّہُ مَرَّ بِرَجُلٍ وَھُوَ یَقْرَأُ عَلٰی قَوْمٍ فَلَمَّا فَرَغَ سَأَلَ، فَقَالَ عِمْرَانُ: إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، إِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَلْیَسْأَلِ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی بِہٖفَاِنَّہُسَیَجِیْئُ قَوْمٌ یَقْرَؤُنَ الْقُرْآنَ یَسْأَلُوْنَ النَّاسَ بِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۱۲۶)

۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے، وہ ایک قوم پر قرآن مجید کی تلاوت کررہا تھا،جب وہ فارغ ہوا تو لوگوں سے مانگناشروع کردیا، سیدنا عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ منظر دیکھ کر کہا: إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھاـ: جوقرآن مجید کی تلاوت کرے، وہ اللہ تعالیٰ سے مانگے، عنقریب ایک ایسی قوم آئے گی کہ جوقرآن پاک کی تلاوت کرے گی اور پھر اس کے ذریعے سے لوگوں سے سوال کرے گی۔

۔ (۶۱۴۳)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: عَلَّمْتُ نَاسًا مِنْ أَھْلِ الصُّفَّۃِ الْکِتَابَۃَ وَالْقُرْآنَ فَأَھْدٰی إِلَیَّ رَجُلٌ مِنْہُمْ قَوْسًا، فَقُلْتُ: لَیْسَ لِیْ بِمَالٍ وَأَرْمِیْ عَنْہَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی، فَسَاَلْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((إِنْ سَرَّکَ أَنْ تُطَوَّقَ بِہَا طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْہَا۔)) (مسند احمد: ۲۳۰۶۵)

۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے اہل صفہ میں سے کچھ لوگوں کو کتابت اور قرآن پاک کی تعلیم دی، ان میں سے ایک آدمی نے مجھے بطور ہدیہ ایک کمان دی، میں نے بھی سوچا کہ یہ میرے لیے مال نہیں ہے، بلکہ میں اس کے ذریعے اللہ تعالی کے راستے میں تیر پھینکوں گا، پس میں نے اس بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تجھے یہ بات اچھی لگتی ہے کہ اس کے بدلے میں تجھے آگ کا طوق ڈالا جائے تو پھر اس کو قبول کرلے۔

۔ (۶۱۴۴)۔ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ اَبِی الْعَاصِ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اجْعَلْنِیْ إِمَامَ قَوْمِیْ، قَالَ: ((أَنْتَ إِمَامُہُمْ وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِہِمْ وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا یَأْخُذُ عَلٰی أَذَانِہِ أَجْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۸۰)

۔ سیدنا عثمان بن ابی عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میںنے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! مجھے میری قوم کا امام بنادیجئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی تو ان کا امام ہے، ان میں سے سب سے کمزور آدمی کا خیال رکھنا اور ایسا مؤذن مقرر کرنا، جو اپنی اذان پر اجرت لینے والا نہ ہو۔

۔ (۶۱۴۵)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ نَقْرَأُ، فِیْنَا الْعَرَبِیُّ وَالْعَجَمِیُّ وَالْأَسْوَدُ وَالْاَبْیَضُ، إِذْ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَنْتُمْ فِیْ خَیْرٍ، تَقْرَؤُوْنَ کِتَابَ اللّٰہِ وَفِیْکُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ، وَسَیَأْتِیْ عَلٰی النَّاسِ زَمَانٌ یُثَقِّفُوْنَہُ کَمَا یُثَقِّفُوْنَ الْقِدْحَ یَتَعَجَّلُوْنَ اُجُوْرَھُمْ وَلَا یَتَأَجَّلُوْنَہَا۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۱۲)

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ایک دفعہ ہم قرآن مجید پڑھ رہے تھے، ہم میںعرب اور عجم اور کالے اور سفید لوگ موجود تھے، اتنے میںاچانک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے اور فرمایا: تم خیر و بھلائی پر ہو، اللہ تعالی کی کتاب پڑھ رہے ہو اور اللہ کے رسول تمہارے اندر موجود ہیں، عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ وہ ادائیگی کے لحاظ سے تو قرآن مجید کے الفاظ کو اس طرح سیدھا ادا کریں گے، جیسے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے، لیکن وہ اس کے اجر کو جلدی حاصل کریں گے اور آخرت تک اس میں تاخیر نہیں کریں گے۔

۔ (۶۱۴۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَرِیَّۃٍ ثَلَاثِیْنَ رَاکِبًا، قَالَ: فَنَزَلْنَا بِقَوْمٍ مِنَ الْعَرَبِ، قَالَ: فَسَأَلْنَاھُمْ أَنْ یُضَیِّفُوْنَا فَأَبَوْا، قَالَ: فَلُدِغَ سَیِّدُھُمْ، قَالَ: فَاَتَوْنَا فَقَالُوْا: فِیْکُمْ أَحَدٌ یَرْقِیْ مِنَ الْعَقْرَبِ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، أَنَا وَلٰکِنْ لَا أَفْعَلُ حَتّٰی تُعْطُوْنَا شَیْئًا، قَالُوْا: فَإِنَّا نُعْطِیْکُمْ ثَلَاثِیْنَ شَاۃً، قَالَ: فَقَرَأْتُ عَلَیْہَا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ سَبْعَ مَرَّاتٍ، قَالَ: فَبَرَأَ (وَفِیْ لَفْظٍ: قَالَ: فَجَعَلَ یَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ وَیَجْمَعُ بُزَاقَہُ وَیَتْفِلُ فَبَرَأَ الرَّجُلُ فَأَتَوْھُمْ بِالشَّائِ، قَالَ: فَلَمَّا قَبَضْنَا الْغَنَمَ، قَالَ: عَرَضَ فِیْ أَنْفُسِنَا مِنْہَا، قَالَ: فَکَفَفْنَا حَتّٰی أَتَیْنَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ لَفْظٍ: فَقَالَ أَصْحَابِیْ: لَمْ یَعْہَدْ إِلَیْنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ ھٰذَا بِشَیْئٍ لَا نَاْخُذُ مِنْہُ شَیْئًا حَتّٰی نَاْتِیَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَذَکَرْنَا ذَالِکَ لَہُ فقَالَ: ((أَمَا عَلِمْتَ اَنَّھَا رُقْیَۃٌ، اِقْسِمُوْھَا وَاضْرِبُوْا لِیْ مَعَکُمْ بِسَہْمٍ، (وَفِیْ لَفْظٍ: فَقَالَ: کُلْ وَأَطْعِمْنَا مَعَکَ وَمَا یُدْرِیْکَ اَنَّھَا رُقْیَۃٌ؟)) قَالَ: قُلْتُ: أُلْقِیَ فِیْ رَوْعِیْ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۸۶)

۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم تیس سوار مجاہدین کو ایک سریّے میں بھیجا، ہم عرب کی ایک قوم کے پاس اترے اوران سے میزبانی کا اپنا حق طلب کیا، لیکن انہوں نے انکار کردیا، ہوا یوں کہ ان کے ایک سردار کو کسی زہریلی چیز نے ڈس لیا، وہ ہمارے پاس آئے اورکہنے لگے کہ کیا تم میں سے کوئی آدمی ڈسنے کا دم کر لیتا ہے، سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ہاں میں کرلیتا ہوں، لیکن میںاس وقت تک دم نہیں کروں گا، جب تک تم ہمیں کچھ عطا نہیں کروگے، انہوں نے کہا: ہم تمہیں تیس بکریاں دیں گے، سیدنا ابوسعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میںنے اس پر سورۂ فاتحہ پرھنی شروع کی اور سات مرتبہ پڑھی،اپنی تھوک جمع کرتا اور پھر اس پر تھوک دیتا، پس وہ تندرست ہوگیا اور انہوں نے تیس بکریاں دے دیں، جب ہم نے وہ بکریاں اپنے قبضے میں لے لیں، تو ہمیں شک ہو نے لگا (کہ پتہ نہیںیہ ہمارے لئے حلال بھی ہیںیا کہ نہیں)۔سو ہم ان پر کوئی کاروائی کرنے سے رک گئے، یہاں تک کہ ان کے بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت نہ کر لیں۔ جب ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور یہ بات بتلائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تونے کیسے جانا کہ یہ دم ہے! ان کو تقسیم کر لو اور میرا بھی حصہ مقرر کرو۔ ایک روایت میں ہے: تو خود بھی کھا اور ہمیں بھی اپنے ساتھ کھلا، بھلا تجھے کیسے پتہ چلا تھا کہ یہ دم ہے؟ میں نے کہا: جی بس میرے دل میںیہ بات ڈال دی گئی تھی۔