It was narrated that Ya'la bin Umayyah said: I said to 'Umar bin Al-Khattab: 'There is no sin on you if you shorten salah and if you fear that the disbelievers may put you in trial (attack you). But now the people are safe.' 'Umar said: 'I wondered the same thing, so I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about that and he said: This is a favor from Allah (SWT) to you, so accept His favor.
یعلیٰ بن امیہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے آیت کریمہ: «ليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة إن خفتم أن يفتنكم الذين كفروا» تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں، اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے ( النساء: ۱۰۱ ) ، کے متعلق عرض کیا کہ اب تو لوگ مامون اور بےخوف ہو گئے ہیں؟ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے بھی اس سے تعجب ہوا تھا جس سے تم کو تعجب ہے، تو میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: یہ ایک صدقہ ہے ۱؎ جسے اللہ تعالیٰ نے تم پر کیا ہے، تو تم اس کے صدقہ کو قبول کرو ۔
It was narrated from Umayyah bin 'Abdullah bin Khalid that: He said to 'Abdullah bin 'Umar: We find (mention of) prayer when one is at home (i.e., not traveling) and prayer at times of fear in the Qur'an, but we do not find any mention in the Qur'an of prayer when traveling. Ibn Umar said to him: 'O son of my brother, Allah (SWT) send Muhammad (ﷺ) to us when we did not know anything, and all we should do is to do that which we saw Muhammad (ﷺ) doing.'
امیہ بن عبداللہ بن خالد سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے کہا کہ ہم قرآن میں حضر کی صلاۃ ۱؎ اور خوف کی صلاۃ کے احکام ۲؎ تو پاتے ہیں، مگر سفر کی صلاۃ کو قرآن میں نہیں پاتے؟ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: بھتیجے! اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم میں بھیجا، اور ہم اس وقت کچھ نہیں جانتے تھے، ہم تو ویسے ہی کریں گے جیسے ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے ۳؎۔
It was narrated from Ibn 'Abbas that: The Messenger of Allah (ﷺ) set out from Makkah to Al-Madinah, fearing nothing but the Lord of the worlds, and praying two rak'ahs.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ کے لیے نکلے، آپ صرف رب العالمین سے ہی ڈر رہے تھے ۱؎ ( اس کے باوجود ) آپ ( راستہ بھر ) دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said: We used to travel with the Messenger of Allah (ﷺ) between Makkah and Al-Madinah, fearing nothing but Allah, the Mighty and Sublime, and praying two rak'ahs.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان سفر کرتے تھے، ہمیں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا ڈر نہیں ہوتا تھا، پھر بھی ہم دو رکعتیں ہی پڑھتے تھے۔
It was narrated that Ibn Al-Simt said: I saw 'Umar bin Al-Khattab praying two rak'ahs in Dhul-Hulaifah and I asked him about that. He said: 'I am simply doing that which I saw the Messenger of Allah (ﷺ) doing.'
ابن سمط کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ذوالحلیفہ ۱؎ میں دو رکعت نماز پڑھتے دیکھا، تو میں نے ان سے اس سلسلہ میں سوال کیا، تو انہوں نے کہا: میں تو ویسے ہی کر رہا ہوں جیسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے۔
It was narrated that Anas said: I went out with the Messenger of Allah (ﷺ) from Al-Madinah to Mekkah, and he continued to shorten his prayers, and he stayed there for ten days.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ جانے کے لیے نکلا تو آپ برابر قصر کرتے رہے یہاں تک کہ آپ واپس لوٹ آئے، آپ نے وہاں دس دن تک قیام کیا تھا۔
It was narrated that 'Abdullah said: I prayed two rak'ahs with the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey, and two rak'ahs with Abu Bakr, and two rak'ahs with 'Umar, may Allah (SWT) be pleased with them both.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں دو رکعتیں پڑھیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعتیں پڑھیں، اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعتیں ہی پڑھیں۔
It was narrated that 'Umar said: The prayer for jumu'ah is two rak'ahs, and for Al-Fitr is two rak'ahs, and for An-Nahr is two rak'ahs, and for traveling is two rak'ahs, complete and not shortened, on the tongue of the Prophet (ﷺ).
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جمعہ کی نماز دو رکعت ہے، عید الفطر کی نماز دو رکعت ہے، عید الاضحی کی نماز دو رکعت ہے، اور سفر کی نماز دو رکعت ہے، اور بزبان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب پوری ہیں، ان میں کوئی کمی نہیں ہے۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said: The prayer of the resident was enjoined on the tongue of your Prophet (ﷺ), four (rak'ahs), and the prayer of the traveler is two rak'ahs, and the prayer of fear is one rak'ah.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ حضر ( اقامت ) کی نماز تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر چار رکعتیں فرض ہوئیں، اور سفر کی نماز دو رکعت، اور خوف کی نماز ایک رکعت ۱؎۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said: Allah, the Mighty and Sublime, enjoined the prayer on the tongue of your Prophet (ﷺ): While a resident four (rak'ahs), while traveling two, and at times of fear one.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر حضر ( اقامت ) میں چار رکعتیں، اور سفر میں دو رکعتیں، اور خوف میں ایک رکعت نماز فرض کی ہے۔