TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3955 سنن نسائ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 63 of 66 in this chapter
باب: زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَتَانَاظُهَيْرُ بْنُ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا رَافِقًا، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَقٌّ،‏‏‏‏ سَأَلَنِي:‏‏‏‏ كَيْفَ تَصْنَعُونَ فِي مَحَاقِلِكُمْ ؟ . قُلْتُ:‏‏‏‏ نُؤَاجِرُهَا عَلَى الرُّبُعِ وَالْأَوْسَاقِ مِنَ التَّمْرِ أَوِ الشَّعِيرِ. قَالَ:‏‏‏‏ فَلَا تَفْعَلُوا ازْرَعُوهَا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ أَزْرِعُوهَا، ‏‏‏‏‏‏أَوِ امْسِكُوهَا . رَوَاهُ بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُسَيْدِ بْنِ رَافِعٍ فَجَعَلَ الرِّوَايَةَ لِأَخِي رَافِعٍ.
It was narrated that Rafi' said: Zuhair bin Rafi' came to us and said: 'The Messenger of Allah forbade me to do something that was convenient for us.' I said: 'What was that?' He said: 'The command of the Messenger of Allah is true. He asked me: What do you do with your land? I said: We rent it out in return for one-quarter (of the yield) and a number of Wasqs of dates or barley. He said: Do not do that. Cultivate it, give it to someone else to cultivate, or keep it.'
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس  ( ہمارے چچا )  ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ نے آ کر کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی چیز سے روکا ہے جو ہمارے لیے مفید و مناسب تھی۔ میں نے کہا: وہ کیا ہے؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم اور وہ سچا  ( برحق )  ہے، آپ نے مجھ سے پوچھا:  تم اپنے کھیتوں کا کیا کرتے ہو؟  میں نے عرض کیا: ہم انہیں چوتھائی پیداوار اور کچھ وسق کھجور یا جو کے بدلے کرائے پر اٹھا دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا:  تم ایسا نہ کرو، یا تو ان میں خود کھیتی کرو یا پھر دوسروں کو کرنے کے لیے دے دو، یا انہیں یوں ہی روکے رکھو ۔ بکیر بن عبداللہ بن اشج نے اسے اسید بن رافع سے روایت کیا ہے، اور اسے رافع کے بھائی سے روایت کیا ہے۔
3955
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 3923 In-book reference : Book 35b, Hadith 68 English translation : Vol. 4, Book 35, Hadith 3955
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3923
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحرث۱۸(۲۳۳۹)، صحیح مسلم/البیوع۱۸(۱۵۴۸)، سنن ابن ماجہ/الرہون۱۰(۲۴۵۹)، (تحفة الأشراف: ۵۰۲۹)، مسند احمد (۱/۱۶۸) (صحیح)

Related Chapters

562
1
تہائی یا چوتھائی پیداوار پر کھیت کو بٹائی پر دینے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
2
تہائی یا چوتھائی پیداوار پر بٹائی کی رخصت کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
3
تہائی یا چوتھائی پیداوار پر بٹائی کی رخصت کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
4
Chapter: What Has Been Related About A Will For Third And A Fourth
باب: تہائی یا چوتھائی مال کی وصیت کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
5
بیمار آدمی کا ایک تہائی مال یا اس سے کم سے صدقات و خیرات کرنے کے جواز اور اس سے زیادہ کرنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
6
پرورش میں والدین کے تنازعہ اور اختلاف کے وقت بچے کے سلسلے میں قرعہ اندازی کرنے اور سن تمیز تک پہنچنے کی صورت میں اس کا اختیار دینے کا بیان
Musnad Ahmad
7
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
Musnad Ahmad
8
اس سلسلے میں سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
Musnad Ahmad
9
اس سلسلے میں دیگر صحابہ سے مروی احادیث
Musnad Ahmad
10
فوائد:… یہ سارا کچھ مال کو اکٹھا کرنے کی لالچ میں ہو گا۔ اس موقع پر قتل ہونے والوں کی مختلف تعداد بیان کی گئی ہے، حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: دس میں سے نو افراد کا قتل ہونا، یہ روایت شاذ ہے، محفوظ روایت سو میں ننانوے کا قتل ہونا ہے، جس کو مسلم نے روایت کیا، اس کا ایک شاہد بھی ہے، جس کو سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے روایت کیا، اور جمع تطبیق کی صورت بھی ہو سکتی ہے کہ دونوں احادیث کو لوگوں کی دو قسموں پر محمول کیا جائے (ایک قسم میں سو میں ننانوے قتل ہوں گے اور ایک قسم میں دس میں سے نو)۔ (فتح الباری: ۱۳/۸۱)
Musnad Ahmad
11
Chapter: The Prohibition Of, And Warning Against Seeking Out Verses Of The Quran Whose Meanings Are Not Decisive; The Prohibition Of Arguing About The Qur'an
متشابہاتِ قرآن کے پیچھے لگنے کی ممانعت، ان (متشابہات قرآن) کا اتباع کرنے والوں سے دور رہنے کا حکم اور قرآن مجید میں اختلاف کی ممانعت
Sahih Muslim
12
CHAPTER: Regarding The Stern Warning Concerning That.
باب: بٹائی کی ممانعت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
13
نماز کی فرضیت اور اس سلسلے میں انس بن مالک کی حدیث کی سند میں راویوں کے اختلاف اور اس (کے متن) میں ان کے لفظی اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
14
عصر کے پہلے سنت پڑھنے کا بیان اور اس سلسلے میں ابواسحاق سبیعی سے رواۃ حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
15
شب بیداری کے سلسلے میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت میں راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
16
وتر کے سلسلے میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
17
وتر کے سلسلے میں سعید بن جبیر کی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی حدیث میں ابواسحاق سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
18
وتر کے سلسلے میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کی حدیث میں حبیب بن ابی ثابت پر اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
19
وتر کے سلسلے میں ابوایوب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں زہری سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
20
پانچ رکعت وتر کیسے پڑھی جائے ؟ اور وتر کی حدیث کے سلسلے میں حکم سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
21
جو فرض کے علاوہ دن رات میں بارہ رکعتیں پڑھے اس کے ثواب کا بیان اور اس سلسلے میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر، اور عطا پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
22
باب: روزے کی فضیلت اور اس سلسلے میں علی رضی الله عنہ کی حدیث کے بارے میں ابواسحاق سبیعی پر راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
23
باب: روزہ دار کی فضیلت کے سلسلے میں ابوامامہ رضی الله عنہ والی حدیث میں محمد بن ابی یعقوب پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
24
باب: صیام الدھر (ہمیشہ روزہ رکھنے) کی ممانعت، اور اس سلسلہ کی حدیث میں مطرف بن عبداللہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
25
باب: ہر مہینے تین روزے کس طرح رکھے؟ اس سلسلے کی حدیث کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
26
باب: ہجرت کے ختم ہو جانے کے سلسلے میں اختلاف روایات کا بیان۔
Sunnan Nisai
27
باب: سونے کے بدلے چاندی اور چاندی کے بدلے سونا لینے کا بیان اور اس سلسلے میں ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ میں اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
28
باب: اس سلسلے میں سہل کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ میں اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
29
باب: دیت کے سلسلے میں عمرو بن حزم کی حدیث کا ذکر اور اس کے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
30
باب: شراب پینے کے سلسلے میں سخت قسم کی احادیث کا ذکر۔
Sunnan Nisai
31
باب: نبیذ کے سلسلے میں ابراہیم نخعی کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
32
6)Chapter: Regarding The Prohibition Of Facing The Qiblah When Defecating And Urinating.
باب: پیشاب یا پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے کی ممانعت​
Jam e Tirmazi
33
7)Chapter: What Has Been Related About The Permission for That
باب: کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی ممانعت​
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About Prohibiting Recitations While Bowing and Prostrating
باب: رکوع اور سجدے میں قرأت کی ممانعت
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Al-Ikhtisar (Holding The Hip) In Salat
باب: نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Begging
باب: دوسروں سے مانگنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About: Do Not Precede The Month With Fasting
باب: رمضان کے استقبال کی نیت سے ایک دو روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About the Prohibition Against Wishing For Death
باب: موت کی تمنا کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About the Prohibition Of Slapping The Cheeks And Tearing The Clothes During A Calamity
باب: مصیبت کے وقت چہرہ پیٹنے اور گریبان پھاڑنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Plaster Graves And Write On Them
باب: قبریں پختہ کرنے اور ان پر لکھنے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What has been related about it being disliked for women to visit the graves
باب: عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Celibacy
باب: بے شادی زندگی گزارنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About Coercing A Female Orphan To Marry
باب: یتیم لڑکی کو شادی کرنے پر مجبور کرنے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Muhaqalah and Muzabanah
باب: محاقلہ اور مزابنہ کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Two Sales In One
باب: ایک بیع میں دو بیع کرنے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About When The Buyer And Seller Disagree
باب: بائع (بیچنے والے) اور مشتری (خریدنے والے) کے اختلاف کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition From Making Exceptions
باب: بیع میں استثناء کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About The Sale Of Wine And The Prohibition Of That
باب: شراب کی بیع اور اس کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: The Prohibition Of Selling In The Masjid
باب: مسجد میں خرید و فروخت کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About The Road: When There Is A Disagreement About It, How Should It Be Made?
باب: راستے کے سلسلہ میں جب اختلاف ہو تو اسے کتنا چھوڑا جائے؟
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

197
Sahih Muslim
3949
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ، مَوْلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ رَافِعٍ، أَنَّ ظُهَيْرَ بْنَ رَافِعٍ - وَهُوَ عَمُّهُ - قَالَ: أَتَانِي ظُهَيْرٌ، فَقَالَ: لَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ بِنَا رَافِقًا، فَقُلْتُ: وَمَا ذَاكَ؟ مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ حَقٌّ، قَالَ: سَأَلَنِي: «كَيْفَ تَصْنَعُونَ بِمَحَاقِلِكُمْ؟» فَقُلْتُ: نُؤَاجِرُهَا يَا رَسُولَ اللهِ عَلَى الرَّبِيعِ، أَوِ الْأَوْسُقِ مِنَ التَّمْرِ أَوِ الشَّعِيرِ، قَالَ: «فَلَا تَفْعَلُوا، ازْرَعُوهَا، أَوْ أَزْرِعُوهَا، أَوْ أَمْسِكُوهَا
Rafi (Allah be pleased with him) reported that Zuhair b. Rafi (who was his uncle) came to me and said: Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) forbade a practice which was useful for us. I said: What is this? (I believe) that whatrver Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) says is absolutely true. He (Zuhair) said that he (the Holy Prophet) asked me: What do you do with your cultivable lands? I said: Allah's Messenger, we rent those irrigated by canals for dry dates or barley. He said: Don't do that. Cultivate them or let them be cultivated (by others) or retain them yourself.
ابوعمرو اوزاعی نے مجھے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابونجاشی سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کی ظُہیر بن رافع ان کے چچا تھے ، کہا : ظہیر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے کام سے منع فرمایا ہے جو ہمیں سہولت دینے والا تھا ۔ میں نے پوچھا : وہ کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا وہ برحق ہے ۔ کہا : آپ نے مجھ سے پوچھا : " تم اپنے کھیتوں کا کیا معاملہ کرتے ہو؟ " میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہم انہیں چھوٹی نہر ( کے کناروں کی پیداوار ) پر یا کھجور یا جو کے ( متعینہ ) وسقوں پر اجرت پر دیتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : " تو ایسا نہ کرو ، اسے خود کاشت کرو یا کاشت کے لیے کسی کو دے دو یا ویسے ہی اپنے ہاتھ میں رکھو
Sunnan Nisai
3954
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل الطَّبَرَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَحْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَافِعٍ:‏‏‏‏ أَتُؤَاجِرُونَ مَحَاقِلَكُمْ ؟ ،‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ نَعَمْ،‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ نُؤَاجِرُهَا عَلَى الرُّبُعِ وَعَلَى الْأَوْسَاقِ مِنَ الشَّعِيرِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تَفْعَلُوا ازْرَعُوهَا،‏‏‏‏ أَوْ أَعِيرُوهَا،‏‏‏‏ أَوِ امْسِكُوهَا . خَالَفَهُ الْأَوْزَاعِيُّ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ عَنْ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ.
Rafi' bin Khadij narrated that the Messenger of Allah said to Rafi': Do you rent out your arable land? I said: Yes, O Messenger of Allah. We rent it out in return for one-quarter, and in return for (a number of) Wasqs of barley. The Messenger of Allah said: Do not do that. Cultivate it (yourselves), or lend it, or keep it.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:  کیا تم اپنے کھیتوں کو اجرت پر دیتے ہو؟  میں نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! ہم انہیں چوتھائی اور کچھ وسق جو پر بٹائی دیتے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  ایسا نہ کرو، ان میں کھیتی کرو یا عاریتاً کسی کو دے دو، یا اپنے پاس رکھو ۔ اوزاعی نے یحییٰ بن ابی کثیر کی مخالفت کی ہے اور «عن رافع عن ظہیر بن رافع» کہا ہے۔
Sahih Muslim
1415
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، يَقُولُ: «كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ تُنْحَرُ الْجَزُورُ، فَتُقْسَمُ عَشَرَ قِسَمٍ، ثُمَّ تُطْبَخُ، فَنَأْكُلُ لَحْمًا نَضِيجًا قَبْلَ مَغِيبِ الشَّمْسِ»
Rafi' b. Khadij reported: We used to say the afternoon prayer with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), and then the camel was slaughtered and ten parts of it were distributed; then it was cooked and then we ate this cooked meat before the sinking of the sun.
ہمیں ولید بن مسلم نےحدیث سنائی ، کہا : اوزاعی نےہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو نجاشی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نےحضرت رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، کہہ رہے تھے : ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز عصر پڑھتے ، پھر اونٹ ذبح کیا جاتا ، اس کے دس حصے کیے جاتے ، پھر ہم اسے پکاتے اور سورج کےغروب ہونے سے پہلے ہم اچھی طرح پکا ہوا گوشت کھا لیتے ۔
Sahih Muslim
1441
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، يَقُولُ: «كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا، وَإِنَّهُ لَيُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِ
Rafi' b. Khadij reported: We used to observe the evening prayer with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and then one of us would go away and he could see the (distant) place where his arrow would fall.
ولید بن مسلم نے کہا : ہم سے اوزاعی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم سے ابو نجاشی نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، کہہ رہے تھے : ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تو ہم میں سے کوئی شخص لوٹتا اور وہ اپنے تیر کے گرنے کی جگہیں دیکھ سکتا تھا ۔
Sahih Muslim
1442
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ بِنَحْوِهِ
A hadith like this, i. e. We used to observe evening prayer.... so on and so forth, has been narrated by Rafi' b. Khadij by another chain of transmitters.
شعیب بن اسحاق دمشقی نے اوزاعی سے سابقہ سند کےساتھ رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےحدیث بیان کی ، کہا : ہم مغرب کی نماز ادا کر تے ۔ ۔ ۔ ( آگے ) پچھلی حدیث کی طرح ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
3394
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدِّي اللَّيْثِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِيسَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏كَانَ يَكْرِي أَرْضَهُ حَتَّى بَلَغَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَ، ‏‏‏‏‏‏ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا ابْنَ خَدِيجٍ، ‏‏‏‏‏‏مَاذَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ ؟ قَالَ رَافِعٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَمَّيَّ وَكَانَا قَدْ شَهِدَا بَدْرًا حَدِّثَانِ أَهْلَ الدَّارِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْأَرْضَ تُكْرَى، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ خَشِيَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يَكُنْ عَلِمَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَتَرَكَ كِرَاءَ الْأَرْضِ. قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ رَوَاهُ أَيُّوبُ، ‏‏‏‏‏‏وَ عُبَيْدُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَ كَثِيرُ بْنُ فَرْقَدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَ مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَفْصِ بْنِ عِنَانٍ الْحَنَفِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَذَلِكَ رَوَاهُ زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ أَتَى رَافِعًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏وَكَذَا. قَالَ عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ:‏‏‏‏ عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمِّهِ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ أَبُو النَّجَاشِيِّ:‏‏‏‏ عَطَاءُ بْنُ صُهَيْبٍ.
Narrated Salim bin Abdullah bin Umar: Ibn Umar used to let out his land till it reached him that Rafi bin Khadij al-Ansari narrated that the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم forbade let out land. So Abdullah (bin Umar) said: Ibn Khadij, what do you narrate from the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم about leasing the land? Rafi replied to Abdullah bin Umar: I heard both of my uncles were present in the battle of Badr say, and they narrated it to the members of the family, that the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم forbade leasing land. Abdullah said: I swear by Allah, I knew that land was leased in the time of the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. Abdullah then feared that the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم might have created something new in that matter, so he gave up leasing land. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Ayyub, Ubaid Allah, Kathir bin Farqad, Malik from Nafi on the authority of Rafi from the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. It has also been transmitted by al-Auzai' from Hafs bin 'Inan al-Hanafi from Nafi from Rafi who said: I heard the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم say: Similarly, it has been transmitted by Zaid bin Abi Unaisah from al-Hakkam from Nafi from Ibn Umar that he went to Rafi and asked: Have you heard the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم say? He replied: Yes. Similarly, it has also been transmitted by Ikrimah bin Ammar from Abu al-Najashi, from Rafi bin Khadij who said: I heard the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم say. It has also been transmitted by al-Auzai from Abu al-Najashi from Rafi bin Khadij from his uncle Zuhair bin Rafi from the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. Abu Dawud said: The name of Abu al-Najashi is Ata bin Suhaib.
سالم بن عبداللہ بن عمر نے خبر دی کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمین بٹائی پر دیا کرتے تھے، پھر جب انہیں یہ خبر پہنچی کہ رافع بن خدیج انصاری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کو بٹائی پر دینے سے روکتے تھے، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان سے ملے، اور کہنے لگے: ابن خدیج! زمین کو بٹائی پر دینے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کیا حدیث بیان کرتے ہیں؟ رافع رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر سے کہا: میں نے اپنے دونوں چچاؤں سے سنا ہے اور وہ دونوں جنگ بدر میں شریک تھے، وہ گھر والوں سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو بٹائی پر دینے سے منع فرمایا ہے، عبداللہ بن عمر نے کہا: قسم اللہ کی! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہی جانتا تھا کہ زمین بٹائی پر دی جاتی تھی، پھر عبداللہ کو خدشہ ہوا کہ اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باب میں کوئی نیا حکم نہ صادر فرما دیا ہو اور ان کو پتہ نہ چل پایا ہو، تو انہوں نے زمین کو بٹائی پر دینا چھوڑ دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ اسے ایوب، عبیداللہ، کثیر بن فرقد اور مالک نے نافع سے انہوں نے رافع رضی اللہ عنہ سے اور رافع نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ اور اسے اوزاعی نے حفص بن عنان حنفی سے اور انہوں نے نافع سے اور نافع نے رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، رافع کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ اور اسی طرح اسے زید بن ابی انیسہ نے حکم سے انہوں نے نافع سے اور نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ وہ رافع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں۔ ایسے ہی عکرمہ بن عمار نے ابونجاشی سے اور انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ اور اسے اوزاعی نے ابونجاشی سے، انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے، رافع نے اپنے چچا ظہیر بن رافع سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابونجاشی سے مراد عطاء بن صہیب ہیں۔
Sunnan Ibn e Maja
687
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو النَّجَاشِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّهُ لَيَنْظُرُ إِلَى مَوَاقِعِ نَبْلِهِ .
Abu Najashi said: I heard Rafi' bin Khadij say: 'We used to perform the Maghrib at the time of the Messenger of Allah, and one of us would be able to see the places where his arrows would land when shot from his bow.' (Sahih)Another chain with similar wording.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مغرب کی نماز پڑھتے، پھر ہم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ کر واپس ہوتا، اور وہ اپنے تیر گرنے کے مقام کو دیکھ لیتا ۱؎۔
Sunnan Ibn e Maja
2459
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمِّهِ ظُهَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا رَافِقًا، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ حَقٌّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا تَصْنَعُونَ بِمَحَاقِلِكُمْ ، ‏‏‏‏‏‏قُلْنَا نُؤَاجِرُهَا عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالْأَوْسُقِ مِنَ الْبُرِّ وَالشَّعِيرِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ فَلَا تَفْعَلُوا ازْرَعُوهَا أَوْ أَزْرِعُوهَا .
Rafi'bin Khadi'j narrated that his paternal uncle Zuhair said: “The Messenger of Allah (ﷺ) forbade us from doing something that was convenient for us.” I said: “What the Messenger of Allah (ﷺ) said is true.” He said that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “What do you with your farms?” We said: “We rent them out for one third or one quarter of their yield, and a certain amount of wheat and barley.” He said: “Do not do that; cultivate them or let others cultivate them.”
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے چچا ظہیر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے جو ہمارے لیے مفید تھا منع فرمایا، رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ، تو میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا ہے وہی حق ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم اپنے کھیتوں کو کیا کرتے ہو ؟ تو ہم نے عرض کیا: ہم اسے تہائی اور چوتھائی پیداوار پر اور گیہوں یا جو کے چند وسق پر کرائے پر دیتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کرو، تم یا تو خود اس میں کھیتی کرو یا دوسرے کو کھیتی کرنے دو ۔
Jam e Tirmazi
84
وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ أَبُو الزِّنَادِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ،‏‏‏‏ عَنْ بُسْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ بُسْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ وَأَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ بُسْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ أَبُو زُرْعَةَ:‏‏‏‏ حَدِيثُ أُمِّ حَبِيبَةَ فِي هَذَا الْبَابِ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ حَدِيثُ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَكْحُولٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ لَمْ يَسْمَعْ مَكْحُولٌ مِنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى مَكْحُولٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَجُلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَنْبَسَةَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَأَنَّهُ لَمْ يَرَ هَذَا الْحَدِيثَ صَحِيحًا.
Busrah narrated that : the Prophet said a similar Hadith
نیز اسے ابوالزناد نے «بسند عروہ عن النبی صلی الله علیہ وسلم» اسی طرح روایت کیا ہے۔ ۱- یہی صحابہ اور تابعین میں سے کئی لوگوں کا قول ہے اور اسی کے قائل اوزاعی، شافعی، احمد، اور اسحاق بن راہویہ ہیں، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ بسرہ کی حدیث اس باب میں سب سے صحیح ہے، ۳- ابوزرعہ کہتے ہیں کہ ام حبیبہ رضی الله عنہا کی حدیث ۱؎ ( بھی ) اس باب میں صحیح ہے، ۴- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ مکحول کا سماع عنبسہ بن ابی سفیان سے نہیں ہے ۲؎، اور مکحول نے ایک آدمی سے اور اس آدمی نے عنبسہ سے ان کی حدیث کے علاوہ ایک دوسری حدیث روایت کی ہے، گویا امام بخاری اس حدیث کو صحیح نہیں مانتے۔