TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بیمار آدمی کا ایک تہائی مال یا اس سے کم سے صدقات و خیرات کرنے کے جواز اور اس سے زیادہ کرنے کی ممانعت کا بیان - بیمار آدمی کا ایک تہائی مال یا اس سے کم سے صدقات و خیرات کرنے کے جواز اور اس سے زیادہ کرنے کی ممانعت کا بیان - وصیتوں کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of وصیتوں کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 4 · 8 Hadith
۔ (۶۳۲۴)۔ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: کُنْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ فَمَرِضْتُ مَرَضًا أَشْفَیْتُ عَلٰی الْمَوْتِ فَعَادَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقُلْتُ: یَارَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! إِنَّ لِیْ مَالًا کَثِیْرًا وَلَیْسَیَرِثُنِیْ اِلَّا ابْنَۃٌ لِیْ، أَفَأُوْصِیْ بِثُلُثَیْ مَالِیْ؟ قَالَ: ((لَا۔)) قُلْتُ: بِشَطْرِ مَالِیْ؟ قَالَ: ((لَا۔)) قُلْتُ: بِثُلُثِ مَالِیْ؟ قَالَ: ((اَلثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَثِیْرٌ، إِنَّکَ یَا سَعْدُ! أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَکَ أَغْنِیَائَ خَیْرٌ لَکَ مِنْ أَنْ تَدَعَہُمْ عَالَۃًیَتَکَفَّفُوْنَ النَّاسَ، إِنَّکَ یَا سَعْدُ! لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَۃً تَبْتَغِیْ بِہَا وَجْہَ اللّٰہِ تَعَالٰی اِلَّا أُجِرْتَ عَلَیْہَا، حَتَّی اللُّقْمَۃَ تَجْعَلُہَا فِیْ فِیْ اِمْرَأَتِکَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِیْ؟ قَالَ: ((إِنَّکَ لَنْ تَتَخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلًا تَبْتَغِیْ بِہٖوَجْہَاللّٰہِتَعَالٰی اِلَّا ازْدَدْتَّ بِہٖدَرَجَۃً وَرِفْعَۃً، وَلَعَلَّ تُخَلَّفُ حَتّٰییَنْفَعَ اللّٰہُ بِکَ أَقْوَامًا وَیَضُرَّ بِکَ آخَرِیْنَ، اَللّٰہُمَّ اَمْضِ لِأَصْحَابِیْ ہِجْرَتَہُمْ وَلَا تَرُدَّھُمْ عَلٰی أَعْقَابِہِمْ۔)) لٰکِنَّ الْبَائِسَ سَعْدُ بْنُ خَوْلَۃَ رَثٰی لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَانَ مَاتَ بِمَکَّۃَ۔ (مسند احمد: ۱۵۲۴)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا، ہوا یوں کہ میں بیمار ہو گیا اور ایسے لگا کہ موت قریب آ گئی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری تیمار داری کرنے کے لیے تشریف لائے، میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں بہت زیادہ مال والا ہوں اور صرف میری ایک بیٹی میری وارث بننے والی ہے، تو کیا میں اپنے دو تہائی مال کی وصیت نہ کردوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: نصف مال کی وصیت کر دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: ایک تہائی مال کی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، تیسرے کی ٹھیک ہے اور یہ بھی زیادہ ہے، اے سعد! اگر تو اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑ جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تو انہیں ایسی فقیری کی حالت میں چھوڑے کہ وہ لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرتے پھریں، اے سعد! اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر جو بھی خرچ کرو گے، اس کا اجر پاؤ گے، حتیٰ کہ وہ لقمہ جو تم اپنی بیوی کو کھلاتے ہو، اس میں بھی اجر پاؤ گے۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں (اس بیماری کی وجہ سے) اپنے ساتھیوں کے بعد مکہ میں رہ جاؤں گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو باقی رہ بھی جائے اور اللہ تعالی کی رضامندیتلاش کرنے کے لیے جو عمل بھی کرے گا تو اس کے ذریعے تیرے درجے بلند ہوں گے، ممکن ہے کہ تو زندہ رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تیرے ذریعے بعض لوگوں کو فائدہ پہنچائے اور بعض کو نقصان۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ! میرے صحابہ کی ہجرت مکمل فرما دے اور ان کو ان کی ایڑیوں کے بل نہ لوٹا، لیکن بیچارہ سعد بن خولہ۔ دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر اس لیے ترس آتا تھا کہ وہ مکہ میں فوت ہو گئے تھے۔
Takhreej
(۶۳۲۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۶، ۳۹۳۶، ۵۶۶۸، ومسلم: ۱۶۲۸ (انظر: ۱۵۲۴)
Explanation
فوائد:… نبی کریمa کی پیشین گوئی پوری ہوئی اور سیدنا سعد b نے اس بیماری سے شفایاب ہوکر اتنی طویل زندگی پائی کہ وہ عراق وغیرہ کی فتح میں شریک ہوئے، ان کی وجہ سے کئی مسلمانوں کو دین و دنیا میں فائدہ ہوا اور کئی کافروں کو اسی قسم کا نقصان ہوا، اس وقت تو ان کیصرف ایک بیٹی تھی، لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان کو کثیر اولاد سے نوازا حافظ ابن حجرk نے ان کے نو بیٹوں اور بارہ بیٹیوں کا تذکرہ کیا ہے۔ بہرحال اس حدیث ِ مبارکہ سے مسئلہ یہ سمجھ آیا کہ آدمی کو ایک تہائی مال سے زائد وصیت کرنے کا اختیار نہیں ہے، آپa کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک تہائی کی مقدار بھی زیادہ ہے، اس سے بھی کم وصیت کرنی چاہیے۔
6324
Sahih
۔ (۶۳۲۵)۔ عَنْ اَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ السُّلَمِیِّ قَالَ: قَالَ سَعْدٌ: فِیَّ سَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الثُّلُثَ، أَتَانِیْیَعُوْدُنِیْ قَالَ: فَقَالَ لِیْ: ((أَوْصَیْتَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، جَعَلْتُ مَالِیْ کُلَّہُ فِی الْفُقُرَائِ وَالْمَسَاکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ، قَالَ: ((لَا تَفْعَلْ۔)) قُلْتُ: إِنَّ وَرَثَتِیْ أَغْنِیَائُ قُلْتُ: الثُّلُثَیْنِ؟ قَالَ: ((لا۔)) قُلْتُ: فَالشَّطْرُ؟ قَالَ: ((لَا۔))، قُلْتُ: الثُّلُثُ؟ قَالَ: ((الثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ کَثِیْرٌ۔)) (مسند احمد: ۱۵۰۱)
۔ ابو عبد الرحمن سلمی سے مروی ہے کہ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مال کے تیسرے حصے سے وصیت کا طریقہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے جاری فرمایا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیمار داری کے لئے میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تو نے وصیت کی ہے؟ میں نے عرض کی: جی کی ہے اورسارا مال فقیروں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے مقرر کر دیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس طرح نہ کر۔ میں نے کہا: میرے سارے وارث مال دار ہیں، تو پھر دو تہائی مال کی کر دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: نصف مال کی کر دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: ایک تہائی مال کی وصیت کر دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں، ایک تہائی کی کر سکتے ہیں، لیکنیہ بھی زیادہ ہے۔
Takhreej
(۶۳۲۵) تخریج: انظر الحدیث السابق
6325
Sahih
۔ (۶۳۲۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَوْ أَنَّ النَّاسَ غَضُّوْا مِنَ الثُّلُثِ إِلَی الرُّبُعِ فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الثُّلُثُ کَثِیْرٌ۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عبا س ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: کاش کہ لوگ ایک تہائی کی بجائے ایک چوتھائی مال کی وصیت کرنا اختیار کر لیتے، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نے فرمایا تھا: تیسرے حصے کی وصیت کرنا بھی زیادہ ہے۔
Takhreej
(۶۳۲۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۲۹(انظر: ۲۰۳۴)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے رشتہ داروں کے حقوق کا اندازہ کر لینا چاہیے، بعض بے اولاد سرمایہ دار لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنے سرمائے کے بارے میں اس وجہ سے بھی پریشان رہتے ہیں کہ ان کے بعد اس سرمائے کو فلاں فلاں آدمیوں میں تقسیم کر دیا جائے گا، ایسے افراد کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں کچھ مقدار اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کر دیں، کچھ مقدار کے بارے میں وصیت کر دیں اور باقی ترکہ کو اللہ تعالی کے حکم پر راضی ہو کر وارثوں میں تقسیم ہونے دیں، اس مقام پر ان کے دل میں کوئی تنگی نہیں ہونی چاہیے، وگرنہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ آدمی اللہ تعالی کے احکام کو ناپسند کر رہا ہے۔
6326
Sahih
۔ (۶۳۲۷)۔ عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ تَصَدَّقَ عَلَیْکُمْ بِثُلُتِ اَمْوَالِکُمْ عِنْدَ وَفَاتِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۳۰)
۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں وفات کے وقت اپنے مالوں میں سے ایک تہائی کا صدقہ کر دینے کی اجازت دے دی ہے۔
Takhreej
(۶۳۲۷) تخریج: حدیث محتمل للتحسین بشواہدہ۔ أخرجہ البزار: ۱۳۸۲ (انظر: ۲۷۴۸۲)
6327
Sahih
۔ (۶۳۲۸)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْتَقَ سِتَّۃَ مَمْلُوْکِیْنَ لَہُ عِنْدَ مَوْتِہِ وَلَیْسَ لَہُ مَالٌ غَیْرُھُمْ فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((لَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ لَا أُصَلِّیَ عَلَیْہِ۔)) قَالَ: ثُمَّ دَعَا بِالرَّقِیْقِ فَجَزَّأَھُمْ ثَلَاثَۃَ أَجْزَائٍ فَأَعْتَقَ اثْنَیْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَۃً۔ (مسند احمد: ۲۰۱۰۶)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری آدمی نے موت کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کر دئیے، جبکہ ان کے علاوہ اس کا کوئی اور مال بھی نہیں تھا، جب یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ اس کی نمازِ جنازہ ہی نہ پڑھائوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان غلاموں کو بلایا اور ان کے تین حصے کر کے (قرعہ کے ذریعے) دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی رہنے دیا۔
Takhreej
(۶۳۲۷) تخریج: حدیث محتمل للتحسین بشواہدہ۔ أخرجہ البزار: ۱۳۸۲ (انظر: ۲۷۴۸۲)
Explanation
فوائد:… قرعہ کا ذکر اگلی حدیث ِ مبارکہ میں ہے۔
6328
Sahih
۔ (۶۳۲۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ عِنْدَ مَوْتِہِ سِتَّۃَ رَجْلَۃٍ لَہُ، فَجَائَ وَرَثَتُہُ مِنَ الْأَعْرَابِ فَأَخْبَرُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَمَّا صَنَعَ، قَالَ: قَدْ فَعَلَ ذٰلِکَ؟ قَالَ: ((لَوْ عَلِمْنَا إِنْ شَائَ اللّٰہُ مَاصَلَیَّتُ عَلَیْہِ۔)) قَالَ: فَاَقْرَعَ بَیْنَہُمْ فَاَعْتَقَ مِنْہُمُ اثْنَیْنِ وَرَدَّ أَرْبَعَۃً فِی الرِّقِّ۔ (مسند احمد: ۲۰۲۵۳)
۔ (دوسری سند) ایک آدمی نے موت کے وقت چھ غلام آزاد کئے، اس کے وارث بدو لوگوں نے جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کے کیے سے آگاہ کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا واقعی اس نے ایسا کیا ہے؟ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا تو میں نے ان شاء اللہ اس کی نماز جنازہ ہی نہیں پڑھنی تھی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غلاموں کے درمیان قرعہ ڈالا اور ان میں سے دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی رہنے دیا۔
Takhreej
(۶۳۲۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… مرنے والے کی جو وصیت اور شرط شرعی احکام کے مخالف ہو گی، اس کو مردود اور بے اثر سمجھا جائے گا، اسی وجہ سے آپ a نے اس میت کے فیصلے کو ردّ کردیا اور ایک تہائی کی گنجائش کے مطابق دو غلاموں کو آزاد کر دیا اور چار کو ورثاء میں تقسیم کر دیا۔
6329
Sahih
۔ (۶۳۳۰)۔ عَنْ أَبِی زَیْدِ نِ الْأَنْصَارِیِّ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ۔ (مسند احمد:۲۳۲۸۰)
۔ سیدنا ابو زید انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۶۳۳۰) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ سعید بن منصور فی ’’سننہ‘‘: ۴۰۹، والطحاوی فی ’’شرح المشکل‘‘: ۷۴۰ (انظر: ۲۲۸۹۲)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ میںیہ بات بھی ہے کہ آپ a نے فرمایا: ’’اگر مجھے اس کے دفن سے پہلے پتہ چلتا تو میں اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ ہونے دیتا۔‘‘
6330
Sahih
۔ (۶۳۳۱)۔ عَنْ ذَیَّالِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ حَنْظَلَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ حَنْظَلَۃَ بْنَ حِذْیَمٍ جَدِّیْ أَنَّ جَدَّہُ حَنِیْفَۃَ قَالَ لِحِذْیَمٍ: اجْمَعْ لِیْ بَنِیَّ فَإِنِّیْ أُرِیْدُ أَنْ أُوْصِیَ، فَجَمَعَہُمْ فَقَالَ: إِنَّ أَوَّلَ مَا أُوْصِیْ أَنَّ لِیَتِیْمِیْ ھٰذَا الَّذِیْ فِیْ حِجْرِیْ مِائَۃً مِنَ الْإِبِلِ الَّتِیْ کُنَّا نُسَمِّیْہَا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ الْمُطَیَّبَۃَ، فَقَالَ حِذْیَمٌ: یَا أَبَتِ إِنِّیْ سَمِعْتُ بَنِیْکَیَقُوْلُوْنَ: إِنَّمَا نُقِرُّ بِہٰذَا عِنْدَ اَبِیْنَا فَاِذَا مَاتَ رَجَعْنَا فِیْہِ، قَالَ: بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ حِذْیَمٌ: رَضِیْنَا، فَارْتَفَعَ حِذْیَمٌ وَحَنِیْفَۃُ وَحَنْظَلَۃُ مَعَہُمْ غَلَامٌ وَھُوَ رَدِیْفٌ لِحِذْیَمٍ، فَلَمَّا أَتَوُا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَلَّمُوْا عَلَیْہِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَمَا رَفَعَکَ یَا أَبَا حِذْیَمٍ؟)) فَقَالَ: ھٰذَا وَضَرَبَ بِیَدِہِ عَلٰی فَخِذِ حِذْیَمٍ، فَقَالَ: إِنِّیْ خَشِیْتُ أَنْ یَفْجَأَنِی الْمَوْتُ فَأَرَدْتُّ أَنْ أُوْصِیَ وَأَنِّیْ قُلْتُ: إِنَّ أَوَّلَ مَا أُوْصِیْ أَنَّ لِیَتِیْمِیْ ھٰذَا الَّذِیْ فِیْ حِجْرِیْ مِائَۃً مِنَ الْاِبِلِ کُنَّا نُسَمِّیْہَا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ الْمُطَیَّبَۃَ، فَغَضِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی رَأَیْنَا الْغَضَبَ فِیْ وَجْہِہِ، وَکَانَ قَاعِدًا فَجَثٰی عَلٰی رُکْبَتَیْہِ وَقَالَ: ((لَا لَا لَا، الصَّدَقَۃُ خَمْسٌ وَاِلَّا فَعَشْرٌ واِلَّا فَخَمْسَ عَشَرَۃَ واِلَّا فَعِشْرُوْنَ وَاِلَّا فَخَمْسٌ وَعِشْرُوْنَ وَاِلَّا فَثَلَاثُوْنَ وَاِلَّا فَخَمْسٌ وَثَلَاثُوْنَ فَاِنْ کَثُرَتْ فَأَرْبَعُوْنَ۔)) قَالَ: فَوَدَّعُوْہُ وَ مَعَ الْیَتِیْمِ عَصًا وَ ھُوَ یَضْرِبُ جَمَلًا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَظُمَتْ ھٰذِہٖھِرَاوَۃُیَتِیْمٍ؟)) قَالَ حَنْظَلَۃُ: فَدَنَابِیْ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: إِنَّ لِیْ بَنِیْنَ ذَوِیْ لِحًی وَدُوْنَ ذٰلِکَ وَأَنَّ ذَا أَصْغَرُھُمْ فَادْعُ اللّٰہَ لَہُ، فَمَسَحَ رَأْسَہُ وَقَالَ: ((بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکَ، أَوْ بُوْرِکَ فِیْہِ۔)) قَالَ ذَیَّالٌ: فَلَقَدْ رَأَیْتُ حَنْظَلَۃَیُؤْتٰی بِالْاِنْسَانِ الْوَارِمِ وَجْہُہُ أَوِ الْبَہِیْمَۃِ الْوَارِمَۃِ الضَّرْعُ فَیَتْفُلُ عَلٰییَدَیْہِوَیَقُوْلُ: بِسْمِ اللّٰہِ وَیَضَعُیَدَہُ عَلٰی رَأْسِہِ وَیَقُوْلُ: عَلٰی مَوْضِعِ کَفِّ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیَمْسَحُہُ عَلَیْہِ وَقَالَ ذَیَّالٌ: فَیَذْھَبُ الْوَرَمُ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۴۱)
۔ حنظلہ بن حذیم کہتے ہیں میرے دادا سیدنا حنیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے بیٹے سیدنا حذیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے میرے بیٹے! میرے تمام بیٹوں کو ایک جگہ جمع کرو، میں انہیں وصیت کرنا چاہتا ہوں۔ اس نے انہیں اکٹھا کیا، پس سیدنا حنیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں سب سے پہلی وصیتیہ کرتا ہوں کہ جو یتیم میری کفالت میںہے، میں اسے سو اونٹ دیتا ہوں، ہم جاہلیت میں اس عطیہ کو مطیبہ کہتے تھے۔ سیدنا حذیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے ابا جان! میرے بھائی کہہ رہے ہیں کہ جب تک ہمارا باپ زندہ ہے ہم اس چیز پر برقار رہیں گے، لیکن جب وہ فوت ہو جائے گا تو ہم یہ عطیہ واپس لے لیں گے۔ سیدنا حنیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہنے لگے: تو پھر میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرنے والے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں۔سیدنا حذیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم اس پر راضی ہو گئے، پس سیدنا حذیم، سیدنا حنیفہ، سیدنا حنظلہ اور سیدنا حذیم کے پیچھے بیٹھنے والا ایک غلام روانہ ہو گئے، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے تو انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: اے ابو حذیم! کس لئے آئے ہو؟ سیدنا حنیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا حذیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ران پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا: یہ حذیم آنے کا سبب بنا ہے، تفصیلیہ ہے کہ مجھے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ اب موت اچانک بھی آ سکتی ہے، اس لئے میں نے وصیت کرنے کا ارادہ کیا اور کہا: میری پہلی وصیتیہ ہے کہ میں اپنے زیر کفالت بچے کو سو اونٹ دیتا ہوں، ہم دورِ جاہلیت میں اس عطیے کو مطیَّبہ کہتے تھے۔ یہ بات سنتے ہی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غضبناک ہو گئے اور غصے کے آثار چہرے پر دکھائے دینے لگے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پہلے تو بیٹھے ہوئے تھے، لیکن اب گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور فرمایا: نہیں ، نہیں، نہیں، ایسا ہرگز نہیں ہوگا، پانچ اونٹ صدقہ کر دے یا دس، نہیں تو پندرہ یا پھر بیس، وگرنہ پچیس، اگر مزید گنجائش نکالنی ہو تو تیس، وگرنہ پینتیس اور اگر بہت زیادہ کرنا ہو تو چالیس۔ پھر انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو الوداع کہا، یتیم بچے کے پاس ایک لاٹھی تھی، وہ اس کے ذریعے اونٹ کو ضرب لگاتا تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یتیم کی لاٹھی کتنی بڑی ہو گئی ہے۔ سیدنا حنظلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میرے باپ نے مجھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب بٹھایا اور کہا: میرے بعض بیٹے داڑھی والے ہیں اور اس کے بغیر ہیں اور یہ سب سے چھوٹا ہے، اس کے لئے دعا تو فرما دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا حنظلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھ میں برکت دے یا تجھ میں برکت کی جائے۔ ذیال کہتے ہیں: میں نے خود دیکھا کہ سیدنا حنظلہ کے پاس ایسے انسان لائے جاتے، جن کے چہر پر ورم ہوتا، اس طرح ایسے حیوان لائے جاتے، جن کے تھن سوجے ہوئے ہوتے تھے، لیکن جب وہ اپنے ہاتھ پر تھوکتے اور بسم اللہ کہتے اوراپنا ہاتھ اپنے سر کے اس مقام پر رکھتے، جس پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکھا تھا اور پھر وہ ہاتھ اس ورم والی جگہ پر پھیر دیتے۔ ذیال کہتے ہیں: پس وہ ورم ختم ہو جاتا تھا۔
Takhreej
(۶۳۳۱) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۳۴۷۷، ۳۵۰۰، وفی ’’الاوسط‘‘: ۲۹۱۷(انظر: ۲۰۶۶۵)
Explanation
فوائد:… آپa نے حقیقی ورثاء کے حق کو مقدم رکھا۔
6331
Sahih