Chapter 0 of The book of al-fara' and al-'atirah in Sunnan Nisai. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
وضاحت: ۱؎ : فرع : زمانہ جاہلیت میں جانور کے پہلوٹے کو بتوں کے واسطے ذبح کرنے کو فرع کہتے ہیں، ابتدائے اسلام میں مسلمان بھی ایسا اللہ تعالیٰ کے واسطے کرتے تھے پھر کفار سے مشابہت کی بنا پر اسے منسوخ کر دیا گیا اور اس سے منع کر دیا گیا۔ اور عتیرہ : زمانہ جاہلیت میں رجب کے پہلے عشرہ میں تقرب حاصل کرنے کے لیے ذبح کرتے تھے، اور اسلام کی ابتداء میں مسلمان بھی ایسا کرتے تھے۔ کافر اپنے بتوں سے تقرب کے لیے اور مسلمان اللہ تعالیٰ سے تقرب کے لیے ذبح کرتے تھے، پھر یہ دونوں منسوخ ہو گئے اب نہ فرع ہے اور نہ عتیرہ بلکہ مسلمانوں کے لیے عید الاضحی کے روز قربانی ہے۔
It was narrated that Abu Hurairah that:
the Messenger of Allah forbade Fara' and 'Atirah.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرع اور عتیرہ سے منع فرمایا ( دوسری روایت میں ہے کہ ) آپ نے فرمایا: ”فرع اور عتیرہ واجب نہیں ہے“ ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: ۱۳۱۲۷، ۱۳۲۶۹)
Mikhnaf bin Sulaim said:
While we were standing with the Messenger of Allah at 'Arafat, he said: 'O people, it is upon each family to offer a sacrifice (Udhiyah) and an 'Atirah each year. (One of the narrators) Muadh said: Ibn 'Awn used to offer slaughter the 'Atirah, and I saw that with my own eyes during Rajab. (Daif)
مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم عرفہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران آپ نے فرمایا: ”لوگو! ہر گھر والے پر ہر سال قربانی اور عتیرہ ہے“ ۱؎۔ معاذ کہتے ہیں: ابن عون رجب میں عتیرہ کرتے تھے، ایسا میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الضحایا ۱(۲۷۸۸)، سنن الترمذی/الضحایا ۱۹ (۱۵۱۸)، سنن ابن ماجہ/الضحایا ۲ (۳۱۲۵)، (تحفة الأشراف: ۱۱۲۴۴)، مسند احمد (۴/۲۱۵، ۵/۷۶)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : فرع اور عتیرہ کے سلسلے میں مروی تمام احادیث کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ دونوں ایام جاہلیت میں جاہلی انداز میں انجام دیئے جاتے تھے جس میں شرک کی ملاوٹ ہوتی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام میں ان کو جائز قرار تو دیا، مگر وہ شرک و کفر سے خالی اور جاہلی عادات کی مشابہت سے دور ہو، اور اگر نہ انجام دیئے جائیں تو بہتر ہے، خاص طور پر فرع کو اگر چھوڑ رکھا جائے تو یہ جانور بڑا ہو کر زیادہ مفید ثابت ہو سکتا ہے، واللہ اعلم (دیکھئیے اگلی روایات)۔
Amr bin Shu'aib bin Muhammad bin 'Abdullah bin 'Amr (narrated) that his father and Zaid bin Aslam said:
O Messenger of Allah! (What about) the Fara'? He said: It is a duty, but if you leave it (the animal) until it becomes half-grown and you load upon it (in Jihad) in the cause of Allah or give it to a widow, that is better than if you slaughter it (when it is just born) and its flesh is difficult to separate from its skin, then you turn your vessel upside down (because you will no longer be able to get milk from the mother) and you cause your she-camel to grieve (at the loss of its young). They said: O Messenger of Allah, (what about) the 'Atirah? He said: The 'Atirah is a duty. (Hasan) Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasa'i) said: Abu 'Ali Al-Hanafi (one of the narrators); they are four brothers: One of them is Abu Bakr, and Bishr, and Sharik, and the other.
محمد بن عبداللہ بن عمرو اور زید بن اسلم سے روایت ہے لوگوں ( صحابہ ) نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فرع کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”حق ہے، البتہ اگر تم اسے چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ جوان ہو جائے اور تم اسے اللہ کی راہ میں دو، یا اسے کسی مسکین، بیوہ کو دے دو تو یہ بہتر ہے اس بات سے کہ تم اسے ( بچہ کی شکل میں ) ذبح کرو اور ( اس کے کاٹے جانے کی وجہ سے ) اس کا گوشت چمڑے سے لگ جائے“۔ ( یعنی دبلی ہو جائے گی ) پھر تم اپنا برتن اوندھا کر کے رکھو گے ( کہ وہ دودھ دینے کے لائق ہی نہ ہو گی ) اور تمہاری اونٹنی تکلیف میں رہے گی“۔ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اور عتیرہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”عتیرہ بھی حق ہے“ ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ابوعلی حنفی چار بھائی ہیں: ابوبکر، بشر، شریک اور ایک اور ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ۸۷۰۱)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأضحایا۲۱(۲۸۴۲)، مسند احمد ۲/۱۸۲ -۱۸۳
It was narrated that Yahya bin Zurarah bin Karim bin Al-Harith bin 'Amr Al-Bahili said:
I heard my father say, that he heard his grandfather Al-Harith bin 'Amr, that he met the Messenger of Allah during the Farewell Pilgrimage, when he was atop his slit-eared camel. (He said): 'I said: O Messenger of Allah, May my father and mother be ransomed for you; pray for forgiveness for me. He said: May Allah forgive you (plural). Then I came to him from the other side, hoping that he would supplicate just for me alone, and not them. I said: O Messenger of Allah, pray for forgiveness for me. He said: May Allah forgive you (plural). Then a man among the people said: O Messenger of Allah, (what about) the 'Atirah and Fara'? He said: Whoever wishes to offer and 'Atirah may do so, and whoever does not wish to, may not. Whoever wishes to offer a Fara' may do so, and whoever does not wish to, may not. And with regard to sheep, a sacrifice should be offered. And he clasped between his fingers except for one. '
حارث بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا، آپ اپنی اونٹنی عضباء، پر سوار تھے۔ میں آپ کی ایک جانب گیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میرے لیے مغفرت کی دعا کیجئے، آپ نے فرمایا: ”اللہ تم لوگوں کی مغفرت فرمائے“۔ پھر میں آپ کی دوسری جانب گیا، مجھے امید تھی کہ آپ خاص طور پر میرے لیے دعا کریں گے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے لیے مغفرت کی دعا کیجئے۔ آپ نے اپنے ہاتھوں ( کو اٹھا کر ) فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تم سب کو معاف کرے“۔ پھر لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! عتیرہ اور فرع کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جو چاہے عتیرہ ذبح کرے اور جو چاہے نہ کرے اور جو چاہے فرع کرے اور جو چاہے نہ کرے، بکریوں میں صرف قربانی ہے“، اور آپ نے اپنی سب انگلیاں بند کر لیں سوائے ایک کے ( یعنی: سالانہ صرف ایک قربانی ہے ) ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ۳۲۷۹)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/المناسک ۹ (۱۷۴۲)، مسند احمد (۳/۴۸۵)
Yahya bin Zurarah As-Sahmi said:
My father narrated to me from his grandfather, Al-Harith bin 'Amr that he met the Messenger of Allah during the Farewell Pilgrimage and said: 'May my father and mother be sacrificed for you! O Messenger of Allah; pray for forgiveness for me.' He said: 'May Allah forgive you (plural).' He was atop his slit-eared camel and I came around to the other side ' and he quoted the Hadith.
حارث بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہیں کہ میں حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا۔ اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میرے لیے مغفرت کی دعا کیجئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تم سب کو معاف فرمائے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی عضباء پر سوار تھے، پھر میں مڑا اور دوسری جانب گیا۔ اور پھر آگے پوری حدیث بیان کی۔