TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4261 سنن نسائ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
باب: مردار کی چربی سے فائدہ اٹھانے کی ممانعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ:‏‏‏‏ بَيْعَ الْخَمْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمَيْتَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْخِنْزِيرِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْأَصْنَامِ ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ يُطْلَى بِهَا السُّفُنُ وَيُدَّهَنُ بِهَا الْجُلُودُ وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ ؟، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا،‏‏‏‏ هُوَ حَرَامٌ ،‏‏‏‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ:‏‏‏‏ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِم الشُّحُومَ جَمَّلُوهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ .
It was narraterd from Jabir bin 'Abdullah that, during the year of the Conquest, while he was in Makkah, he heard the Messenger of Allah say: Allah, the Mighty and Sublime, and His Messenger have forbidden the sale of alcohol, dead meat, pigs and idols. It was said to him: O Messenger of Allah, what do you think of their fat of dead animals, for it is used to caulk ships, it is daubed on animal skins, and people use it to light their lamps? He said: No, it is unlawful. Then the Messenger of Allah said: May Allah, the Mighty and Sublime, curse the Jews, for Allah forbade them the fat (of dead animals) but they rendered it, sold it, and consumed its price.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فتح مکہ کے سال مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی خرید و فروخت حرام کر دی ہے۔ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے سلسلے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ اسے کشتیوں پر لگایا جاتا اور کھالوں پر ملا جاتا ہے اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”نہیں، وہ حرام ہے“، پھر آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ یہودیوں کو تباہ کرے، اللہ تعالیٰ نے جب ان پر چربی حرام کر دی تو انہوں نے اسے گلایا، پھر بیچا، پھر اس کی قیمت کھائی“ ۱؎۔
4261
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 4256 In-book reference : Book 41, Hadith 35 English translation : Vol. 5, Book 41, Hadith 4261
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4256
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع ۱۱۲ (۲۲۳۶)، المغازي ۵۱ (۴۲۹۶)، تفسیرسورة الأنعام ۶ (۴۶۳۳)، صحیح مسلم/المساقاة ۱۳ (البیوع۳۴) (۱۵۸۱)، سنن ابی داود/البیوع ۶۶ (۳۴۸۶)، سنن الترمذی/البیوع ۶۱ (۱۲۹۷)، سنن ابن ماجہ/التجارات ۱۱ (۲۱۶۷)، (تحفة الأشراف: ۲۴۹۴)، مسند احمد (۳/۳۲۴، ۳۲۶، ۳۷۰)، ویأتي عند المؤلف في البیوع ۹۳ (برقم: ۴۶۷۳)
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎ : اس حدیث سے حیلہ کی ممانعت ثابت ہوتی ہے، یہ ایسی ہی ہے جیسے یہودیوں نے سنیچر کے دن شکار کی ممانعت پر حیلہ کیا تھا کہ جمعہ کے دن پانی میں جال پھیلا دیتے تاکہ مچھلیاں پھنس جائیں اور سنیچر کی مدت ختم ہونے کے بعد آسانی سے شکار ہاتھ میں آ جائے، کسی بھی حرام چیز سے کسی طرح بھی فائدہ اٹھانا حرام ہے۔

Related Chapters

468
1
مردار کی کھال اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھانے کے قائلین کی دلیل کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
2
باب: دباغت کی ہوئی مردار جانور کی کھال سے فائدہ اٹھانے کی رخصت کا بیان۔
Sunnan Nisai
3
باب: درندوں کی کھال سے فائدہ اٹھانے کی ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
4
باب: اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے ان سے فائدہ اٹھانے کی ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
5
Chapter: What Has Been Related About Using What Is Pawned
باب: رہن سے فائدہ اٹھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
صرف اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھانے اور آباء کی قسم اٹھانے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
7
تجارت میں شرطوں کے ابواب فروخت شدہ چیز سے فائدہ اٹھانے اور مزید اس قسم کی شرط لگانے کا بیان
Musnad Ahmad
8
(103) CHAPTER. The fat of the dead animal should not be melted, nor should it be sold.
مردار کی چربی گلانا اور اس کا بیچنا جائز نہیں
Sahih Bukhari
9
Chapter: The Prohibition On Lifting Ones Gaze To The Heavens When in Salat
نماز میں آسمان کی طرف نظر اٹھانے کی ممانعت
Sahih Muslim
10
Chapter: The Command To Be Calm During The Prayer And The Prohibition Of Gesturing With One's Hand And Raising It When Saying The Salam; And Completing The First Rows, Aligning In Them, And The Command To Come Together
نماز میں سکون اختیار کرنے کا حکم اور سلام پھیرتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ کرنے اور ہاتھ اٹھانے کی ممانعت، نیز پہلی صفوں کو مکمل کرنے اور ان میں جڑنے اور مل کر کھڑے ہونے کا حکم
Sahih Muslim
11
Chapter: The prohibition of carrying weapons in Makkah when there is no need for that
بلاضرورت مکہ میں اسلحہ اٹھانے کی ممانعت
Sahih Muslim
12
Chapter: The prohibition of swearing oaths when selling
بیع میں قسم اٹھانے کی ممانعت
Sahih Muslim
13
نماز میں آسمان کی طرف نظر اٹھانے سے ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
14
نماز میں دعا کے وقت آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے سے ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
15
6)Chapter: Regarding The Prohibition Of Facing The Qiblah When Defecating And Urinating.
باب: پیشاب یا پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے کی ممانعت​
Jam e Tirmazi
16
7)Chapter: What Has Been Related About The Permission for That
باب: کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی ممانعت​
Jam e Tirmazi
17
Chapter: Raising The Hands For the Bowing Position
باب: رکوع کے وقت دونوں ہاتھ اٹھانے (رفع یدین) کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About Prohibiting Recitations While Bowing and Prostrating
باب: رکوع اور سجدے میں قرأت کی ممانعت
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Al-Ikhtisar (Holding The Hip) In Salat
باب: نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What has been related about the severe warning regarding the one who raises his head before the Imam
باب: اپنا سر امام سے پہلے سجدے سے اٹھانے پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Begging
باب: دوسروں سے مانگنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About: Do Not Precede The Month With Fasting
باب: رمضان کے استقبال کی نیت سے ایک دو روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About It's Being Disliked To Raise The Hand When One Sees the House (Ka'bah)
باب: بیت اللہ (کعبہ) کو دیکھنے کے وقت ہاتھ اٹھانے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About the Prohibition Against Wishing For Death
باب: موت کی تمنا کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About the Prohibition Of Slapping The Cheeks And Tearing The Clothes During A Calamity
باب: مصیبت کے وقت چہرہ پیٹنے اور گریبان پھاڑنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Plaster Graves And Write On Them
باب: قبریں پختہ کرنے اور ان پر لکھنے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What has been related about it being disliked for women to visit the graves
باب: عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Celibacy
باب: بے شادی زندگی گزارنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About Coercing A Female Orphan To Marry
باب: یتیم لڑکی کو شادی کرنے پر مجبور کرنے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Muhaqalah and Muzabanah
باب: محاقلہ اور مزابنہ کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Two Sales In One
باب: ایک بیع میں دو بیع کرنے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition From Making Exceptions
باب: بیع میں استثناء کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About The Sale Of Wine And The Prohibition Of That
باب: شراب کی بیع اور اس کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About Selling Skins Of Dead Animals And Idols
باب: مردار کی کھالوں اور بتوں کے بیچنے کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: The Prohibition Of Selling In The Masjid
باب: مسجد میں خرید و فروخت کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition of Mutilation
باب: مردہ کے مثلے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About One Who Brandishes A Weapon
باب: مسلمان کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About: Whatever Is Cut From Something Living, Then It Is Dead Flesh
باب: زندہ جانور سے کاٹا ہوا گوشت مردار کے حکم میں ہے
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Killing Women And Children
باب: عورتوں اور بچوں کے قتل کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About The Skins Of Dead Animals When They Are Tanned
باب: دباغت کے بعد مردار جانوروں کی کھال کے استعمال کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Combing Except Every Other Day
باب: ہر روز گنگھی کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About The Riding Mayathir
باب: ریشمی زین پر سوار ہونے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Predator Skins
باب: درندے کی کھال استعمال کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Eating And Drinking With The Left Hand
باب: بائیں ہاتھ سے کھانے پینے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About It Is Disliked To Prepare Nabidh In Ad-Dubba', An-Naqir, And An-Hantam
باب: تونبی، مٹکا (سبز رنگ کے برتن) اور لکڑی کے برتن میں نبیذ بنانے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Drinking While Standing
باب: کھڑے ہو کر پینے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
47
باب: نشہ آور چیزوں سے دوا کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What has been Related About The Prohibition From Selling The Wala' And From Conferring it
باب: ولاء کے بیچنے اور اسے ہبہ کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What has been Related About The Prohibition of Passing an Unsheathed Sword
باب: ننگی تلوار لینے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
50
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر ان کی عورتوں کے پاس جانے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

3
Jam e Tirmazi
1297
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمَيْتَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْخِنْزِيرِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْأَصْنَامِ ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ ؟ فَإِنَّهُ يُطْلَى بِهَا السُّفُنُ، ‏‏‏‏‏‏وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ، ‏‏‏‏‏‏وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏هُوَ حَرَامٌ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ:‏‏‏‏ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْهِمُ الشُّحُومَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَجْمَلُوهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ بَاعُوهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.
Narrated Jabir bin ‘Abdullah : That during the Year of the Conquest, while he was in Makkah, he heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: Indeed Allah and His Messenger unlawful the sale of wine, dead carcasses, the pig, and idols. They said: O Messenger of Allah! What about the fat of carcasses? For indeed it is used to coat the ships, skins are oiled with it, and people use it for lamps? He said: No. It is unlawful. Then, with that, the Messenger of Allah (ﷺ) said: May Allah fight (curse) the Jews! Indeed Allah made the fat unlawful for them, they melted it, sold it, and consumed its price. [He said:] There are narrations of this topic from 'Umar and Ibn 'Abbas. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Jabir is Hasan Sahih Hadith. This is acted upon according to the people of knowledge.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے فتح مکہ کے سال مکہ کے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی بیع کو حرام قرار دیا ہے“، عرض کیا گیا، اللہ کے رسول! مجھے مردار کی چربی کے بارے میں بتائیے، اسے کشتیوں پہ ملا جاتا ہے، چمڑوں پہ لگایا جاتا ہے، اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، یہ جائز نہیں، یہ حرام ہے“، پھر آپ نے اسی وقت فرمایا: ”یہود پر اللہ کی مار ہو، اللہ نے ان کے لیے چربی حرام قرار دے دی، تو انہوں نے اس کو پگھلایا پھر اسے بیچا اور اس کی قیمت کھائی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
Sahih Muslim
4048
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ: «إِنَّ اللهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ، وَالْمَيْتَةِ، وَالْخِنْزِيرِ، وَالْأَصْنَامِ»، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ، فَإِنَّهُ يُطْلَى بِهَا السُّفُنُ، وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ، وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ، فَقَالَ: «لَا، هُوَ حَرَامٌ»، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: «قَاتَلَ اللهُ الْيَهُودَ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِمْ شُحُومَهَا أَجْمَلُوهُ، ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ»،
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying in the Year of Victory while he was in Mecca: Verily Allah and His Messenger have forbidden the sale of wine, carcass, swine and idols, It was said: Allah's Messenger, you see that the fat of the carcass is used for coating the boats and varnishing the hides and people use it for lighting purposes, whereupon he said: No, it is forbidden, Then Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: May Allah the Exalted and Majestic destroy the Jews; when Allah forbade the use of fat of the carcass for them, they melted it, and then sold it and made use of its price (received from it).
لیث نے ہمیں یزید بن ابی حبیب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عطاء بن ابی رباح سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے سال ، جب آپ مکہ ہی میں تھے ، فرماتے ہوئے سنا : " بلاشبہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب ، مردار ، خنزیر اور بتوں کی بیع حرام قرار دی ہے ۔ " کہا گیا : اے اللہ کے رسول! مردار جانور کی چربی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ، اس سے کشتیوں ( کے تختے ) کو روغن کیا جاتا ہے اور چمڑوں کو نرم کیا جاتا ہے اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نہیں ، وہ حرام ہے ۔ " پھر اسی وقت ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ یہود کو ہلاک کرے! اللہ نے جب ان لے لیے ان جانوروں کی چربی حرام کی تو انہوں نے اسے پھگلایا ، پھر اسے فروخت کیا اور اس کی قیمت لے کر کھائی ۔ "
Sunnan Nisai
4673
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ،‏‏‏‏ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ،‏‏‏‏ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ،‏‏‏‏ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ يَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ،‏‏‏‏ وَهُوَ بِمَكَّةَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ،‏‏‏‏ وَالْمَيْتَةِ،‏‏‏‏ وَالْخِنْزِيرِ،‏‏‏‏ وَالْأَصْنَامِ ،‏‏‏‏ فَقِيلَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ،‏‏‏‏ فَإِنَّهُ يُطْلَى بِهَا السُّفُنُ،‏‏‏‏ وَيُدَّهَنُ بِهَا الْجُلُودُ،‏‏‏‏ وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ ؟،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا،‏‏‏‏ هُوَ حَرَامٌ ،‏‏‏‏ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ:‏‏‏‏ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ،‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِمْ شُحُومَهَا جَمَّلُوهُ،‏‏‏‏ ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ .
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that he heard the Messenger of Allah say, when he was in Makkah during the Year of the Conquest: Allah and His Messenger have forbidden the sale of wine, dead animals, pigs and idols. It was said: O messenger of Allah, what do you thing about the fat of the dead animal, for ships are caulked with it, skins are daubed with it and people use it in their lamps. He said: No, it is Haram. And the Messenger of Allah then said: My Allah curse the Jews, for when Allah, the Mighty and Sublime, forbade the meat (of dead animals) to them, they melted it down and sold it, and consumed its price.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا اور آپ مکہ میں تھے: اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کے بیچنے سے منع فرمایا۔ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! مردے کی چربی کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اس سے تو کشتیاں چکنی کی جاتی ہیں، کھالوں میں استعمال ہوتا ہے اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”نہیں، وہ حرام ہے“، اس وقت آپ نے یہ بھی فرمایا: ”اللہ تعالیٰ یہودیوں کو ہلاک و برباد کرے، اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی حرام کی تھی، انہوں نے اسے پگھلایا، پھر بیچا اور اس کی قیمت کھائی“۔