TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

لباس، زیب و زینت اختیار کرنے، کھیل اور تصویروں کا بیان - لباس، زیب و زینت اختیار کرنے، کھیل اور تصویروں کا بیان - Book 23 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 23 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 80 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

80 Hadith · 1 Chapters
لباس، زیب و زینت اختیار کرنے، کھیل اور تصویروں کا بیان
)عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ، وَمَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَشْرَبْهُ فِي الْآخِرَةِ،وَمَنْ شَرِبَ فِي آنِيَةِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ فِي الدُّنْيَا،لَمْ يَشْرَبْ بِهَا فِي الأَخِرَة،ثُمَّ قَالَ:لِبَاسُ أَهْل الْجَنَّة وَشَرَاب أَهْل الْجَنَّة وَآنِيَة أَهْل الْجَنَّة »
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں ریشم نہیں پہن سکے گا۔ جس شخص نے دنیا میں شراب پی وہ آخرت میں شراب نہیں پی سکے گا۔ جس شخص نے دنیا میں سونے چاندی کے برتنوں میں پیا، وہ آخرت میں ان برتنوں میں پی نہیں سکے گا۔ پھر فرمایا: یہ اہل جنت کا لباس، اہل جنت کا مشروب اور اہل جنت کے برتن ہیں۔
Takhreej
حيحة رقم (384) ، المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (7324) .
3064
Sahih
لباس، زیب و زینت اختیار کرنے، کھیل اور تصویروں کا بیان
عَنْ مُحَمَّد بْن كعب، عَنْ عَبْدِ الله بن أُنَيْس الجُهَنِي: أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: «مَنْ لِي بِخَالِدِ بن نَبِيْح ؟ » رَجُلٌ مْنْ هَذيْل ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ قِبَلَ (عَرْفَة) بِـ(عَرْنَة) قَالَ عَبْد الله بْنِ أُنَيْسؓ : أَنَا يَا رَسُوْلَ اللهِ، اَنْعِتْه لِي قَالَ: إِذَا رَأَيْتَه هَبته. قَالَ: يَارَسُوْلَ اللهِ وَالذِّي بَعَثَك بِالْحَقّ، مَا هِبْتُ شَيْئاً قَطٌ. قَالَ: فَخَرَجَ عَبْد اللهِ بن أُنَيْس رضی اللہ عنہ حَتَّى أَتَى جِبَال (عَرْفَة)، قَبْلَ أَنْ تَغِيْبُ الشَّمْس قَالَ عَبْد الله: فَلَقَيْتُ رَجُلاً فَرُعِبْتُ مِنْهُ حِيْنَ رَأَيْتُه، فَعَرَفْتُه حِيْنَ رُعِبْتُ مِنْهُ أَنَّهُ مَا قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَالَ لِي: مَنِ الرَّجُل؟ فَقُلْتُ: بَاغِي حَاجَة، هَلْ مِنْ مُبِيْت؟ قَالَ: نَعَمْ ، فَالْحِقْ. قَالَ: فَرُحْتُ فِي أَثَرِهِ فَصَلّيْتُ العَصْرَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيْفَتَيْنِ وَأَشْفَقْتُ أَنْ يَّرَانِي، ثُمَّ لَحِقْتُهُ فَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْف، ثُمَّ خَرَجْتُ فَأَتَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَأَخْبَرْتُه قَالَ مُحَمَّد بْن كَعْب: فَأَعْطَاهُ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مُخْصَرَّة، فَقَالَ: تَخَصَّر بِهَذِهِ حَتَّى تَلْقَانِي، وَأَقَلَّ النَّاسُ المُتَخَصِّرُوْن «. قَالَ مُحَمَّد بْن كَعْب: فَلَمَّا تُوُفِيَّ عَبْدُ اللِه بْن أُنَيْسؓ أَمَرَ بَهَا فَوُضِعَتْ عَلَى بَطْنِهِ وَكَفَنِهِ وَدُفِنَ وَدُفِنَتْ مَعَه
محمد بن کعب ، عبداللہ بن انیس جہنی‌رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو مجھے خالد بن نبیح سے راحت پہنچا ئے؟خالد بن نبیح قبیلہ ھذیل کا ایک شخص تھا، اور اس دن وہ(عرفہ) سے پہلے (عرنہ) کی جانب تھا۔ عبداللہ بن انیس نے کہا: اے اللہ کے رسول!میں ایسا کروں گا۔ مجھے اس کا وصف بیان کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اسے دیکھو گے تو ڈر جاؤ گے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں کبھی کسی چیز سے نہیں ڈرا۔ عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نکلے اور سورج کے غروب ہونے سے پہلے(عرفہ) کے پہاڑ پر آگئے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں ایک آدمی سے ملا، جب میں نے اسے دیکھا تو مجھ پر رعب طاری ہو گیا، جب مجھ پر رعب طاری ہوا تو میں نے اسے پہچان لیا کہ یہ وہی ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ اس نے مجھ سے کہا: کون ہو؟ میں نے کہا: ایک کام کے سلسلے میں آیا ہوں، کیا رات گزارنے کے لئے کوئی جگہ ہے؟ اس نے کہا: ہاں، آؤ، میں اس کے پیچھے ہو لیا، اور عصر کی دو ہلکی رکعتیں ادا کیں اس ڈر سے کہ کہیں وہ مجھے دیکھ نہ لے۔ پھر میں اس سے جا ملا اور تلوار سے اسے مار دیا۔ پھر میں باہر نکل آیا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور انہیں اطلاع دی۔ محمد بن کعب کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک لاٹھی دی، اور فرمایا: اسے اپنے ساتھ رکھنا جب تک تم مجھ سے ملو، اور کم ہی لوگ قیامت کے دن لاٹھی کا سہارا لئے ہونگے ۔محمد بن کعب نے کہا: جب عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ فوت ہونے لگے تو اس لاٹھی کے متعلق حکم دیا۔ وہ لاٹھی ان کے پیٹ اور کفن پر رکھ دی گئی، انہیں دفن کیا گیا تو اسے بھی ان کے ساتھ دفن کردیا گیا ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2981) ، أخبار مكة للفاكهي رقم (2674) .
3065
Sahih
لباس، زیب و زینت اختیار کرنے، کھیل اور تصویروں کا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم وَعَلَيَّ إِزَارٌ يَتَقَعْقَعُ فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ إِنْ كُنْتَ عَبْدَ اللهِ فَارْفَعْ إِزَارَكَ فَرَفَعْتُ إِزَارِي إِلَى نِصْفِ السَّاقَيْنِ فَلَمْ تَزَلْ إِزْرَتَهُ حَتَّى مَاتَ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میری چادر اوپر نیچے حرکت کر رہی تھی، آپ نے پوچھا :یہ کون ہے۔ میں نے کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ آپ نے فرمایا: اگر تم واقعی عبداللہ(اللہ کے بندے) ہوتو اپنی چادر اوپر کر لو، میں نے اپنی چادر نصف پنڈلیوں تک کر لی۔ پھر مرنے تک ان کی چادر نصف پنڈلی تک رہی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1568) ، مسند أحمد رقم (5981) .
3066
Sahih
لباس، زیب و زینت اختیار کرنے، کھیل اور تصویروں کا بیان
عَنْ حُذَيْفَةَ مَرْفُوْعًا: مَوْضِعُ الْإِزَارِ إِلَى أَنْصَافِ السَّاقَيْنِ وَالْعَضَلَةِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَمِنْ وَرَاءِ السَّاقِ وَلَا حَقَّ لِلْكَعْبَيْنِ فِي الْإِزَارِ
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ:چادر کی جگہ نصف پنڈلی تک ہے۔ اگر تم اتنا نہ کر سکو تو پنڈلی سے نیچے اور چادر میں ٹخنوں کا کوئی حق نہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2366) ، سنن النسائي ،كِتَاب الزِّينَةِ ، بَابُ مَوْضِعُ الْإِزَارِ ، رقم (5234) .
3067
Sahih
لباس، زیب و زینت اختیار کرنے، کھیل اور تصویروں کا بیان
عَنْ عَلِي بْن الحُسَيْن مُرْسَلاً، « نَهَى ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنْ تُسْتَرَ الجُدُرُ » . ( )
علی بن حسین رحمۃ اللہ علیہ سے مرسلا کو مروی ہے کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیواروں کو ڈھانپنے سے منع فرمایا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2384) ، معرفة السنن والأثار للبيهقي رقم (4589) .
3068
Sahih
لباس، زیب و زینت اختیار کرنے، کھیل اور تصویروں کا بیان
) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: نَهَى ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ قَائِمًا . ( )
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاس بات سے منع فرمایا کہ آدمی کھڑے ہو کر جوتا پہنے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (719) ، سنن ابن ماجه ،كِتَاب اللِّبَاسِ ، بَاب الِانْتِعَالِ قَائِمًا ، برقم (3608)
3069
Sahih
لباس، زیب و زینت اختیار کرنے، کھیل اور تصویروں کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنِ التَّرَجُّلِ إِلَّا غِبًّا
عبداللہ بن مغفل‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناغے کے ساتھ کنگھی کرنے کا حکم دیا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (501) ، سنن أبي داؤد ، كِتَاب التَّرَجُّلِ ، رقم (3628) ، مسند أحمد رقم (16191) .
3070
Sahih
لباس، زیب و زینت اختیار کرنے، کھیل اور تصویروں کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرو قَالَ: نَهَى ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنْ خَاتَمِ الْحَدِيْد
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی اور لوہے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1242) ، سنن ابن ماجه ،كِتَاب اللِّبَاسِ ، بَاب النَّهْيِ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ ، رقم (3633) .
3071
Sahih
لباس، زیب و زینت اختیار کرنے، کھیل اور تصویروں کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْن بُرَيْدَة، عَنْ أَبِيْه، رضی اللہ عنہ قَالَ: « نَهَى صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ مَجْلِسَيْنِ وَمَلْبَسَيْنِ : فَأَمَّا الْمجْلِسَانِ فَجُلُوس بَيْنَ الظِّلِ وَالشَّمْس وَالْمَجْلِسُ الآخَر أَنْ تَحْتَبِي فِي ثَوْب يُفْضي إِلَى عَوْرَتِك، وَالْمَلْبَسَانِ أَحَدُهُمَا أَنْ تُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَلَا تُوَشِّحُ بِهِ وَالآخَر أَنْ تُصَلِّي فِي سَراوِيْل لَيْسَ عَلَيْكَ رِدَاءٌ » .
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد بریدہ‌رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ :آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مجلسوں اور دولباسوں سے منع فرمایا: دو مجلسیں یہ ہیں۔۱۔ سائے اور دوھوپ میں بیٹھنا۔۲۔ تم اپنے کپڑے میں اس طرح بیٹھو کہ تمہاری شرمگاہ نظر آئے، اور دو لباس یہ ہیں، تم ایسے کپڑے میں نماز پڑھو جسے تم کاندھوں پر نہ ڈالو (یعنی بغل سے نکال کر کاندھوں پر ڈالنا) ۔۲۔ تم شلوار میں نماز پڑھو اور تم پر کوئی چادر نہ ہو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2395) ، سنن ابن ماجه ،كِتَاب اللِّبَاسِ ، بَاب كَرَاهِيَةِ الْمُعَصْفَرِ لِلرِّجَالِ ، رقم (3591)
3072
Sahih
لباس، زیب و زینت اختیار کرنے، کھیل اور تصویروں کا بیان
) عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنِ الْمُفَدَّمِ
عبداللہ بن عمر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گہرے سرخ رنگ میں رنگے ہوئے کپڑے سے منع فرمایا
Takhreej
الصحيحة رقم (2395) ، سنن ابن ماجه ،كِتَاب اللِّبَاسِ ، بَاب كَرَاهِيَةِ الْمُعَصْفَرِ لِلرِّجَالِ ، رقم (3591)
3073
Sahih
لباس، زیب و زینت اختیار کرنے، کھیل اور تصویروں کا بیان
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ مَرْفُوْعًا: نَهَى عَنْ مِيثَرَةِ الْأُرْجُوَانِ
عمران بن حصین‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ:آپ نے سرخ رنگ کے کپڑے سے بنے ہوئے نمدے (وہ اونی کپڑا جو گھوڑے کی زین کے نیچے ڈالتے ہیں )سے منع فرمایا ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2396) ، سنن الترمذي ،كِتَاب الْأَدَبِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، بَاب مَا جَاءَ فِي طِيبِ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ ،رقم (2712) .
3074
Sahih
لباس، زیب و زینت اختیار کرنے، کھیل اور تصویروں کا بیان
عَنِ ابْن عَبَّاسٍ مَرْفُوْعاً: نُهِيْتُ عَنِ التَّعَرِّي . وَذَاكَ قَبْلَ أَنْ يُّنَزَّلَ عَلَيْهِ النُّبُوَة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: مجھے برہنہ ہونے سے منع کیا گیا، اور یہ بات نبوت نازل ہونے سے پہلے کی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2378) ، .
3075
Sahih
لباس، زیب و زینت اختیار کرنے، کھیل اور تصویروں کا بیان
عَنْ خَالِدٍ بن مَعْدَان قَالَ: وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِي كَربَ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَقَالَ لَهُ: أَنْشُدُكَ بِاللهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نَهَى عَنْ لُبُوسِ جُلُودِ السِّبَاعِ وَالرُّكُوبِ عَلَيْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ .
خالد بن معدان کہتے ہیں کہ مقدام بن معدیکرب‌رضی اللہ عنہ ،معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا: مین تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھالیں پہننے اور ان پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں
Takhreej
الصحيحة رقم (1011) ، سنن الترمذي ،كِتَاب الْفَرَعِ وَالْعَتِيرَةِ ، باب النَّهْيُ عَنْ الِانْتِفَاعِ بِجُلُودِ السِّبَاعِ ، رقم (4182) .
3076
Sahih
لباس، زیب و زینت اختیار کرنے، کھیل اور تصویروں کا بیان
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى قَوْمٍ مِّنَ الْأَنْصَارٍ بِيضٌ لِحَاهُمْ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ حَمِّرُوا وَصَفِّرُوا وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ، فَقَالوُا: يَا رَسُولَ اللهِ! إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يَقُصُّونَ عَثَانِينَهُمْ وَيُوَفِّرُونَ سِبَالَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : وَفِّرُوا عَثَانِينَكُمْ وَقَصِّرُوا سِبَالَكُمْ وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ. فَقَالوُا:يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يَتَخَفَّفُونَ وَلَا يَنْتَعِلُونَ ، فَقَالَ: وَانْتَعِلُوا وَتَخَفَّفُوا، وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے کچھ لوگوں کے پاس آئے جن کی داڑھیاں سفید تھیں فرمانے لگے: اے انصار کی جماعت: سرخ اور زرد رنگ میں رنگو اور اہل کتاب کی مخالفت کرو، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول!وہ اپنی داڑھیاں کاٹتے ہیں اور مونچھیں بڑھاتے ہیں ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنی داڑھیاں بڑھاؤ اور اپنی مونچھیں کاٹو اور اہل کتاب کی مخالفت کرو ۔صحابہ نے کہا اے اللہ کے رسول !اہل کتاب موزے پہنتے ہیں جوتے نہیں پہنتے ؟آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا :جوتے اور موزے پہنو اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1249) ، مسند أحمد رقم (21252) .
3077
Sahih
لباس، زیب و زینت اختیار کرنے، کھیل اور تصویروں کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَتَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَوَجَدَ عَلَى بَابِهَا سِتْرًا فَلَمْ يَدْخُلْ قَالَ: وَقَلَّمَا كَانَ يَدْخُلُ إِلَّا بَدَأَ بِهَا فَجَاءَ عَلِيٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَرَآهَا مُهْتَمَّةً فَقَالَ: مَا لَكِ؟ قَالَتْ: جَاءَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِلَيَّ فَلَمْ يَدْخُلْ فَأَتَاهُ عَلِيٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! إِنَّ فَاطِمَةَ اشْتَدَّ عَلَيْهَا أَنَّكَ جِئْتَهَا فَلَمْ تَدْخُلْ عَلَيْهَا قَالَ: وَمَا أَنَا وَالدُّنْيَا؟ وَمَا أَنَا وَالرَّقْمَ؟ فَذَهَبَ إِلَى فَاطِمَةَ فَأَخْبَرَهَا بِقَوْلِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَتْ: قُلْ لِرَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا يَأْمُرُنِي بِهِ؟ قَالَ: قُلْ لَهَا: فَلْتُرْسِلْ بِهِ إِلَى بَنِي فُلَانٍ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو ان کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا ہوا دیکھا ۔آپ اندر داخل نہیں ہوئے، کم ہی تھا کہ آپ آئیں اور سب سے پہلے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس نہ آئیں۔ علی رضی اللہ عنہ آئے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پریشان دیکھا، کہنے لگے:تمہیں کیا ہوا؟ کہنے لگیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف آئے تھے لیکن اندر داخل نہیں ہوئے۔ علی‌رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! فاطمہ پر یہ بات گراں گزری ہے کہ آپ اس کے پاس آئے لیکن اندر داخل نہیں ہوئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مجھے دنیا سے کیا غرض؟ مجھے نقش ونگارسے کیا مطلب؟علی ‌رضی اللہ عنہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طرف گئے اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بتائی۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھئے وہ اس (پردے) کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:فاطمہ سے کہو: وہ اسے بنی فلاں کی طرف بھیج دے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2421) ، سنن أبي داؤد ،كِتَاب اللِّبَاسِ ، بَاب فِي اتِّخَاذِ السُّتُورِ ، رقم (3620) ، مسند أحمد رقم (4497) .
3078
Sahih
لباس، زیب و زینت اختیار کرنے، کھیل اور تصویروں کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة: عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ : « وَيْلٌ لِلنِّساءِ مِن الأَحْمَرَيْن: الذَّهَبِ وَالمُعَصْفَرِ »
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو سرخ چیزوں میں عورتوں کے لئے ہلاکت ہے، سونے اور عصفر(زردرنگ) سے رنگے ہوئے کپڑے میں
Takhreej
الصحيحة رقم (339) ، شعب الإيمان للبيهقي رقم (5920) .
3079
Sahih
لباس، زیب و زینت اختیار کرنے، کھیل اور تصویروں کا بیان
عَنْ أَنَس بْن مَالِك:أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي يَدِهِ يَوْمًا خَاتَمًا مِنْ ذَهَب فَاضْطَربَ النَّاس الخَوَاتِيْم، فَرَمَى بِهِ، وَقَالَ: « لاَ أَلْبَسُهُ أَبَداً »
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں سونے کی ایک انگوٹھی دیکھی لوگوں نے بھی جلدی جلدی انگوٹھیاں بنوا لیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی پھینک دی، اور فرمایا: میں اسے کبھی بھی نہیں پہنوں گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2975) ، صحيح ابن حبان رقم (5584) ، موارد الظمآن .
3080
Sahih
لباس، زیب و زینت اختیار کرنے، کھیل اور تصویروں کا بیان
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ مَرْفُوْعًا: يَا سُفْيَانَ بْنَ سَهْلٍ لَا تُسْبِلْ، فَإِنَّ الله لَا يُحِبُّ الْمُسْبِلِينَ
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سےمرفوعا مروی ہے کہ:اے سفیان بن سہل، چادر مت لٹکاؤ،کیوں کہ اللہ تعالیٰ چادرلٹکانےوالوں کوپسندنہیں فرماتا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (4004) ، سنن ابن ماجه ،كِتَاب اللِّبَاسِ، بَاب مَوْضِعِ الْإِزَارِ أَيْنَ هُوَ ، رقم (3564) ، مسند أحمد رقم (17505) .
3081
Sahih
لباس، زیب و زینت اختیار کرنے، کھیل اور تصویروں کا بیان
عَنْ عَمْرِو بْنِ فُلَانٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ بَيْنَا هُوَ يَمْشِي قَدْ أَسْبَلَ إِزَارَهُ إِذْ لَحِقَهُ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَقَدْ أَخَذَ بِنَاصِيَةِ نَفْسِهِ وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ عَبْدُكَ، ابْنُ عَبْدِكَ، ابْنُ أَمَتِكَ قَالَ عَمْرٌو: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! إِنِّي رَجُلٌ حَمْشُ السَّاقَيْنِ فَقَالَ: يَا عَمْرُو! إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ يَا عَمْرُو! وَضَرَبَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِأَرْبَعِ أَصَابِعَ مِنْ كَفِّهِ الْيُمْنَى تَحْتَ رُكْبَةِ عَمْرٍو فَقَالَ: يَا عَمْرُو! هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ ثُمَّ رَفَعَهَا ثُمَّ وَضَعَهَا تَحْتَ الثَّانِيَةِ فَقَالَ: يَا عَمْرُو! هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ
عمرو بن فلاں انصاری سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ وہ اپنی چادر لٹکائے جا رہے تھے۔ اچانک سامنے سے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اس سے ملے آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اپنی پیشانی پکڑی اور کہنے لگے: اے اللہ تیرا بندہ ،تیرے بندے کا بیٹا، اور تیری باندی کا بیٹا، عمرو نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں پتلی(کمزور) پنڈلیوں والا ہوں۔ آپ نے فرمایا: اے عمرو! اللہ عزوجل نے ہر چیز خوب صورت انداز میں تخلیق کی ہے، اے عمرو! اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کی چار انگلیاں عمرو کے گھٹنے کے نیچےرکھ کر فرمایا: چادر کی جگہ یہ ہے۔ پھر انگلیاں اٹھالیں(پھر پہلی چار انگلیوں کے نیچے چار انگلیاں رکھ کر فرمایا: اے عمر! چادر کی جگہ یہ ہے) پھر انگلیاں اٹھالیں اور دوسری چار انگلیوں کے نیچے چار انگلیاں رکھ کر فرمایا: اے عمرو! چادر کی جگہ یہ ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2682) ، مسند أحمد رقم (17114) .
3082
Sahih
لباس، زیب و زینت اختیار کرنے، کھیل اور تصویروں کا بیان
عَنْ ثَوْباَن، قَالَ : جَاءَتْ بِنَت هُبَيْرَةَ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَفِي يَدِهَا الْفَتَخُ مِنْ ذَهَبٍ خَوَاتِيمُ ضَخَام فَجَعَلَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَضْرِبُ يَدَهَا فَأَتَتْ فَاطِمَةَ تَشْكُو إِلَيْهَا . قَالَ ثَوْبَان : فَدَخَلَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى فَاطِمَة وَأَنَا مَعَهُ وَقَدْ أَخَذَتْ مِنْ عُنْقِهَا سِلْسِلَة مِنْ ذَهَب، فَقَالَتْ: هَذاَ أهدى لِي أَبُو حَسَنٍ، وَفِي يَدِهَا سِلْسِلَةٌ فَقَالَ النًّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : يَا فَاطِمَةُ أَيَسُرُّكِ أَنْ يَقُولَ النَّاسُ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ فِي يَدِها سِلْسِلَةٌ مِنْ نَارٍ؟ فَخَــــرَجَ وَلَمْ يَقْعُدْ فَعَمَدَتْ فَاطِمَة إِلَى السِّلْسِلَةِ فَبَاعَتْهَا فَاشْتَرَتْ بِهَا نَسْمَة فَأَعْتَقَتْها فَبَلَغَ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي نَجَّى فَاطِمَةَ مِنْ النَّارِ
ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ بنت ہبیرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اس کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھیاں تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ہاتھ پر ضرب لگانے لگے، وہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس شکایت کرنے آئی۔ ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے گلے سے سونے کی زنجیر اتاری اور، کہنے لگی: یہ مجھے ابو حسن نے تحفے میں دی ہے۔ اور فاطمہ رضی اللہ عنہا نے وہ زنجیر اپنے ہاتھ میں لے رکھی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ! کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ لوگ کہیں فاطمہ بنت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )کے ہاتھ میں آگ کی ایک زنجیر ہے؟ آپ باہر نکل گئے، بیٹھے نہیں۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے زنجیر بیچ کر ایک غلام خریدا اور اسے آزاد کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الحمدللہ! جس نے فاطمہ کو آگ سے نجات دی
Takhreej
الصحيحة رقم (411) ، مسند أحمد رقم (21364) .
3083
Sahih