ابتدائی ایام ،انبیاء اور عجیب مخلوقات کا بیان - ابتدائی ایام ،انبیاء اور عجیب مخلوقات کا بیان - Book 24 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation
Book 24 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 128 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
عَنِ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَتَانِي جِبْرِيلُ فِي خُضْرٍ مُعَلَّقٍ بِهِ الدُّرُّ.
عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام میرے پاس سبز چادر میں آئے جس میں موتی جڑے ہوئے تھے۔
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ میں بیٹھے ہوئے تھے، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےان سے کہا: کیا تم سن رہے ہو جو میں سن رہا ہوں؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ہم تو کوئی آواز نہیں سن رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں آسمان کے چرچرانے کی آواز سن رہا ہوں، اور اس کے چرچرانے پر اسے ملامت نہیں کی جا سکتی ،آسمان میں بالشت بھر بھی جگہ خالی نہیں جہاں کوئی فرشتہ سجدے کی حالت میں یا قیام کی حالت میں نہ ہو
Takhreej
الصحيحة رقم (852) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (3051)
حذیفہ بن یمانرضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس براق لایا گیا یہ ایک لمبا سفید جانور ہے، انتہائے نظر پر اس کا قدم پڑتا ہے۔ میں اور جبریل علیہ السلام اس کی پیٹھ پر بیٹھے رہے حتی کہ ہم بیت المقدس آگئے۔ ہمارے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے۔ میں نے جنت اور جہنم دیکھی۔ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس میں نماز نہیں پڑھی، زر بن بن حبیشرضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے حذیفہرضی اللہ عنہ سے کہا: کیوں نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی ،حذیفہ نے کہا: تمہارا کیا نام ہے؟گنجے انسان! میں تمہارا چہرہ پہچانتا ہوں ، لیکن نام نہیں جانتا۔میں نے کہا: میں زر بن جیش ہوں۔ انہوں نے کہا: تمہیں کس طرح معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہے؟ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (الاسراء:۱)کہنے لگے: کیا تمہیں اس میں نماز کا ذکر ملتا ہے؟ اگر وہ نماز پڑھتے تو تم بھی اس میں اسی طرح نماز پڑھتے جس طرح مسجد حرام میں پڑھتے ہو ۔ زررضی اللہ عنہ نے کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کڑے کے ساتھ اپنی سواری باندھی جس کڑے کے ساتھ دوسرے انبیاء علیہما السلام اپنی سواریاں باندھا کرتے تھے۔ حذیفہرضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا خوف تھا کہ وہ بھاگ جائے گی حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اسے بھیجا تھا؟
انسرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ جندب یا ان کے علاوہ کسی دوسرےصحابی سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدم اور موسیٰ علیہم السلام میں جھگڑا ہوا تو آدم علیہ السلام ،موسیٰ علیہ السلام سے جیت گئے
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہےکہ حارث بن ہشام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: آپ کے پاس وحی کس طرح آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کبھی میرے پاس گھنٹیوں کی آواز کی صورت میں آتی ہے ،اور یہ مجھ پر سب سے سخت مرحلہ ہوتا ہے، جب یہ کیفیت مجھ سے ختم کی جاتی ہے تو مجھے یاد ہو جاتا ہے اور کبھی فرشتہ آدمی کی صورت میں آتا ہے ،جو وہ کہتا ہے میں یاد کر لیتا ہوں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (395) ، صحيح البخاري بَاب بَدْءُ الْوَحْيِ رقم (2، 2976)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام سے (نعمان) یعنی عرفہ میں عہد لیا، اللہ تعالیٰ نے ان کی پشت سے ہر انسان کو نکالا جو پیدا ہونے والا تھا، اور گرد و غبار کے ذرات کی طرح ان کے سامنے بکھیر دیا، پھر ان سے متوجہ ہو کر بات کی فرمایا: (الاعراف:۱۷۲،۱۷۳)کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ وہ کہنے لگے :کیوں نہیں، ہم گواہی دیتے ہیں(یہ اس وجہ سے) کہ کہیں تم قیامت کے دن یہ نہ کہو کہ ہم اس بارے میں لاعلم تھے یا تم کہو کہ ہمارے باپ دادا نے اس سے پہلے شرک کیا اور ہم تو ان کے بعد ان کی اولاد تھے کیا تو ہمیں باطل لوگوں کے فعل کی وجہ سے ہلاک کر ے گا؟
جابررضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: مجھے اجازت دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھانے والےفرشتوں میں سے ایک فرشتے کے بارے میں بتاؤں ،اس کے کان سے لے کر کاندھے تک کا فاصلہ سات سو سال کی مسافت کا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (151) ، سنن أبي داؤد كِتَاب السُّنَّةِ بَاب فِي الْجَهْمِيَّةِ رقم (4102)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ (اسی آیت کہ) جنت کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے۔ تو جہنم کہاں ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہارا اس رات کے بارے میں کیا خیال ہے جس نے تم سے ہر چیز کو چھپا دیا کہ وہ کہاں رکھی ہوئی ہے؟ اس نے کہا: اللہ بہتر جانتا ہے۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔( )
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم نے اپنے رب سے شکایت کی اور کہنے لگی: میرے بعض حصے نے دوسرے کو کھا لیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی، ایک سانس سردی میں اور دوسرا گرمی میں، اس کا سردی کا سانس سردی کی شدت اور گرمی کا سانس گرمی شدت ہے۔
عبیداللہ بن انس سے(مرسلا) مروی ہے کہ: دو میں سے پہلا بد بخت وہ شخص ہے جس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں اوربعد والے لوگوں میں دوسرا بد بخت وہ شخص ہے جو تجھے نیزہ مارے گا اے علی !اور آپ نے نیزا مارے جانے والی جگہ کی طرف اشارہ کیا۔
ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی کے پاس آئے ،اس نے آپ کی مہمانی کی آپ نے اس سے کہا: ہمارے پاس آنا، وہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اور ایک روایت میں ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی کے مکان پر اترے تو اس نے آپ کی مہمانی کی) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ہم سے وعدہ کرو کہ ہمارے پاس آؤ گے ،وہ اعرابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: اپنی ضرورت بیان کرو، اس نے کہا: ایک اونٹنی کجاوے کے ساتھ اورکچھ بکریاں جن کا میری گھر والے دودھ نکالیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات سے عاجز آگئے ہو کہ تم بنی اسرائیل کی بڑھیا جیسے بن جاؤ؟( آپ کے صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! بنی اسرائیل کی بڑھیا کون تھی؟)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام جب بنی اسرائیل کو کرلے کر مصر سے نکلے تو راستہ بھٹک گئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا:یہ کیا ہے؟ ان کے علماء نے کہا:( ہم آپ کو بتاتے ہیں) جب یوسف علیہ السلام کی موت کا وقت آیا تو انہوں نے اللہ کی طرف سے ہم سے پختہ عہد لیا تھا کہ جب تک ہم ان کی ہڈیوں کو اپنے ساتھ منتقل نہیں کریں گے مصر سے نہیں نکلیں گے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ان کی قبر کی جگہ کے بارے میں کون جانتاہے؟ کہنے لگے:(ہمیں نہیں معلوم کہ یوسف علیہ السلام کی قبر کہاں ہے؟) ہاں، بنی اسرائیل کی ایک بڑھیا ہے، موسیٰ علیہ السلام نے اس کی طرف پیغام بھیجا وہ آئی تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ہمیں یوسف علیہ السلام کی قبر بتاؤ۔ اس نے کہا:(نہیں ،واللہ میں ایسا نہیں کروں گی)جب تک تم میرا فیصلہ قبول نہیں کرو گے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: تمہارا فیصلہ کیا ہے؟ وہ کہنے لگی: میں آپ کے ساتھ جنت میں رہوں گی، موسیٰ علیہ السلام کو یہ بات نا گوار لگی کہ اس کا فیصلہ قبول کریں ۔اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ اس کا فیصلہ قبول کر لو، وہ انہیں لے کر ایک تالاب کی طرف گئی جو پانی سے بھرا ہوا تھا لیکن نکاس نہ تھا، کہنے لگی: یہ پانی نکالو، تو انہوں نے پانی نکالا تو بڑھیا کہنے لگی: گڑھا کھودو اور یوسف علیہ السلام کی ہڈیاں نکال لو۔ جب انہوں نے گڑھا کھودواتو راستہ دن کی روشنی کی طرف واضح ہوگیا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (313) ، صحيح ابن حبان رقم (724) مسند أبي يعلى رقم (7096) مستدرك الحاكم رقم (4051)
عوف بن مالکرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: یہودی اکہتر(۷۱) فرقوں میں تقسیم ہوئے، ایک جنت میں اور ستر جہنم میں، عیسائی بہتر(۷۲) فرقوں میں تقسیم ہوئے ایک جنت میں اور اکہتر(۷۱) جہنم میں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میری امت تہتر(۷۳) فرقوں میں تقسیم ہوگی، ایک جنت میں اور بہتر(۷۲) جہنم میں جائیں گے۔ پوچھا گیا کہ: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کون لوگ ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جماعت والے ہوں گے
Takhreej
الصحيحة رقم (1492) ، سنن ابن ماجة كِتَاب الْفِتَنِ بَاب افْتِرَاقِ الْأُمَمِ رقم (3982)
مجاہد سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے تھے ۔لوگوں نے دجال کا ذکر چھیڑاتو کسی نے کہا: اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کا فر لکھا ہوگا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ لیکن آپ نے فرمایا: رہی بات ابراہیم علیہ السلام کی تو اپنے ساتھی کی طرف دیکھ لو، اور موسیٰ علیہ السلام تو وہ سخت گھنگھریالے بالوں والے گندمی رنگ کے کھجور کے درخت کی چھال سے بٹی ہوئی رسی کی نکیل ڈالے ہوئے سرخ اونٹ پر سوار ہیں۔ گویا کہ میں انہیں دیکھ رہا ہوں جب وہ تلبیہ پڑھتے ہوئے وادی میں اترے
Takhreej
الصحيحة رقم (3492) ، صحيح البخاري كِتَاب اللِّبَاسِ بَاب الْجَعْدِ رقم (5458)
عن عبدالرحمن بن حسنۃ قال: کنت مع رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم في سفر فأصبنا ضبانا، فکانت القدور تغلي، فقال رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : إن أمۃ من بني إسرائیل مسخت وأنا أخشی أن تکون ھذہ یعني الضباب۔ قال: فأکفاناھا وإنا لجیاع۔
عبدالرحمن بن حسنہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ہمیں کئی سانڈے (گوہ) ملے، ہانڈیاں جوش مار رہی تھیں، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل کی ایک امت کے چہرے تبدیل کردیے گئے تھے مجھے ڈر ہے کہ کہیں یہ ہی نہ ہو۔ یعنی سانڈہ۔ عبدالرحمن رضی اﷲ عنہ نے کہا: ہم نے بھوکے ہونے کے باوجود وہ ہانڈیاں الٹ دیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1492) ، سنن ابن ماجة كِتَاب الْفِتَنِ بَاب افْتِرَاقِ الْأُمَمِ رقم (3982)
عن نافع عن سائبۃ مولاۃ الفاکہ بن المغیرۃ: أنھا دخلت علی عائشۃ فرأت في بیتھا رمحا موضوعا فقالت: یا أم المؤمنین! ما تصنعین بھذا الرمح؟ قالت نقتل بہ الأوزاغ فإن نبي اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أخبرنا: أن إبراھیم علیہ السلام حین نلقي في النار لم تکن دابۃ إلا تظفي عنہ غیر الوزغ فإنّہ کانت ینفخ علیہ۔ فأمر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقتلہ۔
نافع، سائبہ (فاکہ بن مغیرہ کی آزاد کردہ لونڈی) سے بیان کرتے ہیں کہ وہ عائشہ رضی اﷲ عنہا کے پاس آئی تو ان کے گھر میں ایک نیزہ رکھا ہوا دیکھا۔ کہنے لگی: ام المومنین! آپ اس نیزے کا کیا کرتی ہیں؟ عائشہ رضی اﷲ عنہا نے کہا: ہم اس کے ساتھ چھپکلیوں کو قتل کرتے ہیں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ: ابراہیم علیہ السلام کو جب آگ میں ڈالا گیا تو زمین کا ہر جانور ان کی آگ بجھا رہا تھا سوائے چھپکلی کے۔ یہ اس آگ میں پھونک مار رہی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قتل کا حکم دیا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (150) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (915)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: اللہ تعالیٰ نے مجھے اجازت دی ہے کہ میں ایسے مرغ کے بارے میں بتاؤں جس کے پاؤں زمین میں ہیں اور اس کی گردن عرش کے نیچےجھکی ہوئی ہے اور وہ کہہ رہا ہے: تو پاک ہے اے ہمارے رب! تو کتنا عظیم ہے۔ تو اسے جواب دیا جاتا ہے یہ بات وہ شخص نہیں جانتا جو میری جھوٹی قسم کھاتا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (150) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (915)
ابو نضرہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک صحابی بیمار ہوگیا ،اس کے ساتھی اس کے پاس اس کی عیادت کرنے کے لئے آئے ،وہ رونے لگا۔کسی نے اس سے کہا: اے اللہ کے بندے! کیوں رو رہے ہو؟ کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات نہیں کہی کہ اپنی مونچھیں کاٹتے رہو حتی کہ مجھ سےملاقات کرلو؟ اس نے کہا: کیوں نہیں، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: اللہ تعالیٰ نے اپنے دائیں ہاتھ میں ایک مٹھی بھری اور فرمایا: یہ اس (جنت)کے لئے ہے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ، اور دوسری مٹھی بھری ، یعنی دوسرے ہاتھ میں۔ اور فرمایا: یہ اس(جہنم) کے لئے ہے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں کونسی مٹھی میں ہوں
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق پیدا فرمائی تو اپنے ہاتھ سے اپنے بارے میں لکھا کہ: میری رحمت میرے غصے پر غالب رہے گی
Takhreej
الصحيحة رقم (1629) ، صحيح البخاري كِتَاب التَّوْحِيدِ بَاب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى {وَيُحَذِّرُكُمْ اللَّهُ نَفْسَهُ} رقم (6855)