TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

متفرقات - متفرقات - Book 28 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 28 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 21 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

21 Hadith · 1 Chapters
متفرقات
عَنِ ابن عمر مرفوعاً: إِذَا نَصَحَ الْعَبْدُ سَيِّدَهُ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ كَانَ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے: جب غلام اپنے مالك كی خیر خواہی كرے اور اپنے رب كی عمدہ طریقے سے عبادت كرے تو اس كے لئے دوہرا اجر ہے ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1416)، صحيح البخاري كتاب العتق باب كراهية التطاول على الرقيق وقوله عبدي وأمتي رقم (2412)
3684
Sahih
متفرقات
عَنْ أَنَس بن مَالِك مَرْفُوْعاً: أَقَلُّ أمتى الَّذِي يَبْلُغ السَّبعِين.
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے: میری امت کے کم ہی لوگ ستر سال کی عمر تك پہنچیں گے
Takhreej
الصحيحة رقم (1517)، ضعفاء العقيلي رقم (195)
3685
Sahih
متفرقات
عَنْ عَبْدِ اللهِ بن عَمْرو : قَالَ رَجُل: يَا رَسُوْلَ اللهِ! أَيّ الهِجْرَة أَفْضَل؟ قَالَ: أَنْ تَهجرُوا مَا كَرِهَ اللهُ وَالْهِجْرَةُ هِجْرَتَان: هِجّرْة الْحَاضِر و هِجْرة الْبَادِي أَمَا الْبَادِي فَإِنَّه يُطِيع إِذَا أُمر وَيُجِيب إِذًا دُعِي وأَمَا الْحَاضِر , فَهُو أَعْظَمُهُمَا بَلِيَّة وَأَفْضَلَهُمَا أَجْرًا.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ ایك آدمی نے كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! كونسی ہجرت افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: جسے اللہ تعالیٰ نا پسند كرے اسے چھوڑ دو، اور ہجرت دو قسم كی ہے، شہری كی ہجرت ، اور دیہاتی كی ہجرت ،دیہاتی كا معاملہ یہ ہے كہ جب اسے حكم دیا جاتا ہے تو اطاعت كرتا ہے ، اور بلایا جائے تو جواب دیتا ہے۔ جب كہ شہری آزمائش میں زیادہ ہوتا ہے اور اجر میں بھی افضل ہوتا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1262)، صحيح ابن حبان رقم (1580-1581)
3686
Sahih
متفرقات
عَنْ أَبِي مَسْعُود قَالَ: قِيْل لَہ: مَا سَمِعْتَ رَسُولَ الله صلی اللہ علیہ وسلم يَقول: فِي: ‘‘زَعَمُوا’’؟ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : بِئْس مَطِيَّة الرجل زَعَمُوا
مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے كہا كہ: ان سے پوچھا گیا: كیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے كہ وہ كہتے ہوں” لوگوں كا گمان ہے؟“ ابو مسعود نے كہا: (كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)آدمی كا برا تكیہ كلام یہ ہے كہ وہ كہے: لوگوں كا گمان ہے( لوگوں كا خیال ہے)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (866)، الزهد لابن المبارك رقم (377)
3687
Sahih
متفرقات
عَنِ ابن عَبَاس مَرْفُوعًا: تَسْمَعُون و يُسْمَعُ مِنْكُم، و يُسْمَعُ مِمَّن سَمِع مِنْكُم.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے: تم سنتے ہو اور تم سے سنا جائے گا اور جو تم سے سنیں گے ان سے سنا جائے گا۔ اور لوگوں سے دوسرے لوگ سنتے ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (1784)، العلم لأبي داود رقم (3659 )
3688
Sahih
متفرقات
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة مَرْفُوعًا : تَكْفِيْر كُل لِحَاء رَكْعَتَان
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے: ہر جھگڑے (یا گالی ) کاكفارہ دو ركعتیں ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1789)، الفوائد لتمام الرازي ( 141 / 1 )
3689
Sahih
متفرقات
عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: ثَلَاثٌ أَحْلِفُ عَلَيْهِنَّ لَا يَجْعَلُ اللهُ مَنْ لَّهُ سَهْمٌ فِي الْإِسْلَامِ كَمَنْ لَّا سَهْمَ لَهُ وسهامُ الْإِسْلَامِ ثَلَاثَةٌ: الصَّوْمُ والصَّلَاةُ وَالصدقة لَا يَتَوَلَّى اللهُ عَبْدًا فَيُوَلِّيهِ غَيْرَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُحِبُّ رَجُلٌ قَوْمًا إِلَّا جاء مَعَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالرَّابِعَةُ لَوْ حَلَفْتُ عَلَيْهَا لم أخفْ أَنْ آثَمَ لَا يَسْتُرُ اللهُ عَبْده فِي الدُّنْيَا إِلَّا سَتَرَ عليه في الآخرة .
عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان كرتی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین باتیں ایسی ہیں جن پر میں قسم كھاتا ہوں اللہ تعالیٰ اس شخص كو جس كا اسلام میں كوئی حصہ ہے، اس آدمی كی طرح نہیں بنائےگا جس كا اسلام میں كوئی حصہ نہیں۔ اور اسلام كے تین حصے ہیں روزہ، نماز، اور صدقہ۔اللہ تعالیٰ ایسا نہیں كہ ایك بندے كو (دنیا میں) دوست بنائےاور قیامت كے دن اس كو كسی اور كے حوالے كر دے، اور جو شخص جس قوم سے محبت كرے گا قیامت كے دن انہی كے ساتھ آئے گا، اور چوتھی بات اگر میں اس پر قسم اٹھالوں تو مجھے اس بات كا ڈر نہیں كہ میں گناہ گار ہو جاؤں گا۔ وہ یہ ہے كہ: اللہ تعالیٰ جس بندے پر دنیا میں پردہ ڈالے ركھتا ہے تو قیامت كے دن بھی اس پر پردہ ڈالے گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1387)، مسند أبي يعلى رقم (4566 )
3690
Sahih
متفرقات
عَنْ مُحَمَّد بن سَعْد عَنْ أَبِيه مَرْفُوْعاً: ثَلَاث مِّنَ السَّعَادَة و ثَلَاث مِّنَ الشَّقَاوَة فَمِن السَّعَادَة : الْمَرْأَة تَرَاهَا تُعْجِبُك و تَغِيب فتأمنها عَلَى نَفسِهَا ومَالِك , والدَّابَّة تَكُون وطيئة فتلحقك بِأَصْحَابِك, والدَّار تَكُون وَاسِعَة كَثِيرَة الْمَرَافِق . ومن الشَّقَاوَة الْمَرْأَة تَرَاهَا فتسوؤك وتَحْمِل لِسَانَهَا عَلَيْك وإِن غِبْت عَنْهَا لَم تأمنها عَلَى نَفْسِهَا , ومَالِك والدَّابَّة تَكُون قطوفا, فَإِن ضَرَبْتَهَا أتعبتك و إِن تَرَكْتَهَا لَم تلحقك بِأَصْحَابِك, وَالدَّار تَكُون ضَيِّقَة قَلِيلَة الْمَرَافِق.
محمد بن سعد رحمہ اللہ اپنے والد سے مرفوعا بیان كرتے ہیں : تین چیزیں خوش بختی سے ہیں، اور تین چیزیں بدبختی سے ہیں۔ جو چیزیں خوش بختی سے ہیں ان میں بیوی ہے کہ: تم بیوی كو دیكھو تو تمہیں خوش کردے، اور اگر تم كہیں جاؤ تو تمہاری عزت اور مال كی حفاظت كرے۔ وہ جانور جو تمہاری سواری ہو اور تمہیں تمہارے ساتھیوں سے ملا دے، اور وہ گھر جو كشادہ اور زیادہ گنجائش والا ہو۔ اور بد بختی یہ ہے كہ تم بیوی كو دیكھو تو وہ پریشان کردے، اور وہ اپنی زبان تمہارے سامنے لمبی كرے، اور اگر تم كہیں جاؤ تو نہ تمہاری عزت كی حفاظت كرے نہ مال كی، وہ جانور جوسست رفتارہواگر تم اسے مارو تو وہ تمہیں تھكا دے، اور اگر اسے چھوڑ دو تو وہ تمہیں تمہارے ساتھیوں كے ساتھ نہ ملائے، اور وہ گھر جو تنگ اور كم گنجائش والا ہو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1047)، المستدرك رقم (2684)
3691
Sahih
متفرقات
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة مرفوعا: الخَالُ وَارِثٌ .
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ : ماموں وارث ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1848)، الفوائد المنتقاة للقطيعي رقم (2 )
3692
Sahih
متفرقات
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ رضی اللہ عنہ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: الرُّؤْيَا ثَلَاثٌ مِنْهَا أَهَاوِيلُ مِنَ الشَّيْطَانِ لِيَحْزُنَ بِهَا ابْنَ آدَمَ وَمِنْهَا مَا يَهُمُّ بِهِ الرَّجُلُ فِي يَقَظَتِهِ فَيَرَاهُ فِي مَنَامِهِ وَمِنْهَا جُزْءٌ مِّنْ سِتَّةٍ وَّأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِّنَ النُّبُوَّةِ.
عوف بن مالك رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: خواب تین قسم كے ہیں، ان میں سے شیطان كےوسوسےہیں تاكہ ان كے ذریعے ابن آدم كو غمزدہ كر دے، ان خوابوں میں سے ایسے بھی ہیں جن كا خیال آدمی دن كے وقت لاتا ہے اور رات كو نیند میں انہیں دیكھتا ہے ، اور ان خوابوں میں سے وہ بھی ہے جو نبوت كا چھیالیسواں حصہ ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (1870)، سنن ابن ماجة كِتَاب تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا بَاب الرُّؤْيَا ثَلَاثٌ رقم (3897)
3693
Sahih
متفرقات
عَنْ عَلِيٍّ رضی اللہ عنہ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! إِذَا بَعَثْتَنِي أَكُونُ كَالسِّكَّةِ الْمُحْمَاةِ أَمِ الشَّاهِدُ يَرَى مَا لَا يَرَى الْغَائِبُ قَالَ: الشَّاهِدُ يَرَى مَا لَا يَرَى الْغَائِبُ.
علی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے كہا كہ میں نے كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جب آپ مجھے بھیجتے ہیں تو میری حیثیت ڈھالے ہوئے سکے کی ہوتی ہے یا شاہد کی جو وہ چیز دیکھتا ہے جو غائب نہیں دیکھ سکتا، یا سامنے والا ایسی چیز دیكھتا ہے جو غیر حاضر شخص نہیں دیكھ سكتا؟ آپ نے فرمایا: شاہد کی جو وہ چیز دیكھتا ہے جو غیر حاضر نہیں دیكھتا ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1191)، البزار ( 116/ 1)
3694
Sahih
متفرقات
عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرفوعاً: الْعَبْدُ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللهِ فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ: غلام جب اپنے مالك كی خیر خواہی كرے اور اللہ كی عبادت عمدہ طریقے سے كرے تو اس كے لئے دو اجر ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (1616)صحيح مسلم كِتَاب الْأَيْمَانِ بَاب ثَوَابِ الْعَبْدِ وَأَجْرِهِ إِذَا نَصَحَ... رقم (3143)
3695
Sahih
متفرقات
عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرفوعاً: الْعَبْدُ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللهِ فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ: غلام جب اپنے مالك كی خیر خواہی كرے اور اللہ كی عبادت عمدہ طریقے سے كرے تو اس كے لئے دو اجر ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (1616)صحيح مسلم كِتَاب الْأَيْمَانِ بَاب ثَوَابِ الْعَبْدِ وَأَجْرِهِ إِذَا نَصَحَ... رقم (3143)
3696
Sahih
متفرقات
عَنْ حَمَلِ بن النَّابِغَةِ أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ لِحْيَانِيَّةٌ وَّمُعَاوِيَّةٌ مِّنْ بني مُعَاوِيَةَ بن زَيْدٍ ، وَأَنَّهُمَا اجْتَمَعَتَا فَتَغَايَرَتَا ، فَرَفَعَتِ الْمُعَاوِيَّةُ حَجَرًا فَرَمَتْ بِهِ اللِّحْيَانِيَّةَ وَهِي حُبْلَى ، وَقَدْ بَلَغَتْ ، فَقَتَلَتْهَا فَأَلْقَتْ غُلامًا ، فَقَالَ حَمَلُ بن مَالِكٍ لِعِمْرَانَ بن عُوَيْمِرٍ : أَدِّ إِلَيَّ عَقْلَ امْرَأَتِي ، فَارْتَفَعَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَالَ: الْعَقْلُ عَلَى الْعَصَبَةِ وَفِي السّقْطِ غُرَّةُ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٌ .
حمل بن نابغہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اس كی دو بیویاں تھیں، لحیانہك اور معاویہ جس کا تعلق بنی معاویہ بن زید سے تھا۔ ایك مرتبہ دونوں اكھٹی ہوئیں تو جھگڑپڑیں۔ معاویہ نے ایك پتھر اٹھا كر لحیانہ كو مارا۔ وہ حاملہ تھی، پتھر بھر پور انداز میں لگا اور معاویہ نے لحیانہ كو قتل كر دیا۔ اس نے بچہ گرادیا (ضایع ہوگیا)حمل بن مالك نے عمران بن عویمر سے كہا: مجھے میری بیوی كی دیت ادا كرو، وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس مسئلہ لے كر گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیت ورثاء كے ذمے ہے۔ اور بچہ گرانے میں ‘‘غرۃ’’ یعنی دیت کا دسواں حصہ غلام یا لونڈی كا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1983) المعجم الكبير للطبراني رقم (3406)
3697
Sahih
متفرقات
عَنْ عَمْرِو بْنِ حَزم: العَمدُ قوَدٌ , وَالخَطَأ دِيَة.
عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: جان بوجھ كر قتل كرنے میں قصاص ہے جب كہ قتل خطاء صورت میں دیت ہے
Takhreej
الصحيحة برقم (1986) المجمع (6 /286) سنن الدارقطني (ص/ 328)
3698
Sahih
متفرقات
عَنْ عُمَر مَرْفُوعاً: فِي الْأَنْفِ الدِّيَةُ إِذَا اسْتَوْعَب جَدْعَهُ مِئَةٌ مِّنْ الْإِبِلِ, وَفِي الْيَدِ خَمْسُونَ وَفِي الرِّجْلِ خَمْسُون وَفِي الآمَّةِ ثُلُثُ النَّفْسِ وَفِي الْجَائِفَةِ ثُلُثُ النَّفْسِ وَفِي الْمُنَقِّلَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ وَفِي كُلِّ أُصْبُعٍ مِمَّا هُنَالِكَ عَشْرٌ. .
) عمر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے: ناك میں دیت ہے، جب اسے جڑ سے كاٹ دیا جائے تو سو اونٹ ہیں، ہاتھ میں بچاس اونٹ ہیں، ٹانگ میں بچاس اونٹ۔سر کی چوٹ میں ایک تہائی دیت ہے اور پیٹ کے زخم میں ایک تہائی دیت ہے ،ہڈی توڑنے میں پندرہ اونٹ ہیں ،گوشت اتار نے میں (کہ ہڈی نظر آئے ) پانچ اونٹ ہیں ،دانت توڑنے میں پانچ اونٹ اور ہر انگلی میں دس اونٹ ہیں
Takhreej
الصحيحة برقم (1997) مسند البزار رقم (1531) و البيهقي (8 / 86 )
3699
Sahih
متفرقات
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ مرفوعا: لِلْعَبْدِ الْمَمْلُوكِ الصَّالِحِ أَجْرَانِ وَالَّذِي نَفْس أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ! لَوْلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ وَالْحَجُّ وَبِرُّ أُمِّي لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَمُوتَ وَأَنَا مَمْلُوكٌ
) ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے: نیك صالح غلام كے لئے دوہرا اجر ہے۔ اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كی جان ہے! اگر جہاد فی سبیل اللہ، حج اور اپنی ماں سے حسن سلوك(خدمت)نہ ہوتا تو مجھے یہ بات پسند تھی كہ میں غلام ہو كر مروں
Takhreej
الصحيحة برقم (877) صحيح البخاري كِتَاب الْعِتْقِ بَاب الْعَبْدِ إِذَا أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ...رقم (2362)
3700
Sahih
متفرقات
عَنْ أَنسٍ رضی اللہ عنہ مَرْفُوعاً: مَنْ نَّصَرَ أَخَاهُ بِالْغَيْبِ نَصَرَهُ اللهُ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ.
) انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہےکہ: جس شخص نے اپنے بھائی كی مدداس كی غیر موجودگی(یا سفر) میں كی اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس كی مدد كرے گا
Takhreej
الصحيحة برقم (1217) السنن الكبرى للبيهقي (ص/ 168) مسند الشهاب القضاعي رقم (453)
3701
Sahih
متفرقات
عَنْ أَخْشَنِ السَّدُوسِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! أَوْ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَوْ أَخْطَأْتُمْ حَتَّى تَمْلَأَ خَطَايَاكُمْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ثُمَّ اسْتَغْفَرْتُمُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَغَفَرَ لَكُمْ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! أَوْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَوْ لَمْ تُخْطِئُوا لَجَاءَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِقَوْمٍ يُخْطِئُونَ ثُمَّ يَسْتَغْفِرُونَ اللهَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ.
) اخشن سدوسی رحمہ اللہ سے مروی ہے، انہوں نے كہا: میں انس بن مالك رضی اللہ عنہ كے پاس آیا ۔ انہوں نے كہا كہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے! یا فرمایا: اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم كی جان ہے! اگر تم اتنی خطائیں كرو كہ زمین و آسمان كا خلا پر ہو جائے، پھر تم اللہ عزوجل سے استغفار كرو تو وہ تمہیں بخش دے گا۔ اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں محمد كی جان ہے! یا فرمایا: اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم خطائیں نہ كروتو اللہ عزوجل ایسی قوم كو لے آئے گا جو خطائیں كرے گی، پھر اللہ سے استغفار كریں گی، اور اللہ تعالیٰ انہیں بخش دے گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1951) مسند أحمد رقم (13006)
3702
Sahih
متفرقات
عَنْ نَافِع أَنّ عُمرَ بَعَث سرِيَة فَاسْتَعْمَل عَلَيْهِم رَجُلًا يُّقَال لَه سَارِيَة , فَبَيْنَمَا عُمر يَخْطُب يَوم الْجُمْعَة فَقَال: يَا سَارِيَة! الْجَبَل , يَا سَارِيَة! الْجَبَل فَوَجَدُوا سَارِيَة قَد أَغَار إلى الْجَبَل في تِلْك السَّاعَة يَوم الْجُمْعَة و بَيْنَهُمَا مَسِيرَة شَهَر
نافع سے مروی ہے كہ: عمر‌رضی اللہ عنہ نے ایک فوجی مہم بھیجی، جن کا سپہ سالار ساریہ نامی آدمی کو بنایا اسی دوران عمر‌رضی اللہ عنہ خطبٔہ جمعہ ارشاد فرما رہے تھے، دوران خطبہ كہا: اے ساریہ! پیاڑ۔ اے ساریہ! پہاڑ۔ انہوں نے اس وقت ساریہ کو پہاڑ کی طرف سے حملہ کرتا ہوا پایا۔ حالانکہ ان کے درمیان ایک مہینے کی مسافت تھی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1110) الفوائد (1/215 /2)
3703
Sahih

Chapters

1
01
متفرقات
21 Hadith
No chapter matched that.