TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں - نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں - Book 27 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 27 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 39 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

39 Hadith · 1 Chapters
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عن عُمَر بن الْخَطَّابِ في قَوْلِهِ:وَ اِذَا الۡمَوۡءٗدَۃُ سُئِلَتۡ ۪ۙ﴿التکویر:۸﴾ ، قَالَ: جَاءَ قَيْسُ بن عَاصِمٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَالَ: يَا رَسُول اللهِ: إِنِّي وَأُدَتُّ ثَمَانِيَ بناتٍ لِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ فَقَالَ: أَعْتِقْ عَنْ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِّنْهن رَقَبَةً ، قَالَ: إِنِّي صَاحِبُ إِبِلٍ، قَالَ:فانحر [وفي رواية: فاهْدِ إِنْ شِئْتَ] عَنْ كُلِّ وَاحِدَةٍ بَدَنَةً
عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ كے اس قول كے بارے میں مروی ہے: وَ اِذَا الۡمَوۡءٗدَۃُ سُئِلَتۡ ۪ۙ﴿۸﴾ (التکویر) (اور جب زندہ در گور كی گئی لڑكی سے پوچھا جائے گا )كہا كہ:قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئے اور كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے زمانہ جاہلیت میں اپنی (آٹھ)بیٹیاں زندہ درگور كیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ان میں سے ہر ایك كی طرف سے ایك گردن آزاد كرو، اس نے كہا: میرے پاس اونٹ ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تب تم نحر كرو(اور ایك روایت میں ہے:اگر تم چاہو تو ہر ایك كی طرف سے قربانی كرو)ایك اونٹنی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3298 )، المعجم الكبير للطبراني رقم (15257)
3645
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الَّذِي يَطْعَنُ نَفْسَهُ إِنَّمَا يَطْعَنُهَا فِي النَّارِ وَالَّذِي يَتَقَحَّمُ فِيهَا يَتَقَحَّمُ فِي النَّارِ وَالَّذِي يَخْنُقُ نَفْسَهُ يَخْنُقُهَا فِي النَّارِ
) ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص خود كو نیزہ مار كر ہلاك كرتا ہے، وہ جہنم میں بھی خود كو نیزہ مارتا رہے گا، اور جو خود کو گر کر ہلاک کرتا ہے وہ جہنم میں بھی اپنے آپ کو گراتا رہے گا۔ اور جو شخص خود کو گلا گھونٹ كر (پھندا ڈال كر) ہلاك كرتا ہے، وہ جہنم میں بھی اپنا گلا گھونٹتا رہے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (3421)، مسند أحمد رقم (9618)
3646
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَظْلِمُ الْمُؤْمِنَ حَسَنَةً يُثَابُ عَلَيْهَا الرِّزْقَ فِي الدُّنْيَا وَيُجْزَى بِهَا فِي الْآخِرَةِ وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُعْطَى بِحَسَنَاتِهِ فِي الدُّنْيَا فَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَةٌ يُعْطَى بِهَا خَيْرًا
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مومن كی نیكی كے بارے میں ظلم نہیں كرتا ۔ دنیا میں بھی اس كے بدلے اسے رزق پہنچایا جاتا ہے اور آخرت میں بھی اس كا بدلہ دیا جائے گا۔ جب كہ كافر كو اس كی نیكیوں كے بدلے( جو اس نے اللہ كے لئے عمل كئے ہونگے)دنیا میں بدلہ دے دیا جاتا ہے، جب وہ اللہ سے ملاقات كرے گا تو اس كی ایسی كوئی نیكی نہیں ہوگی جس كے بدلے اسے اجر دیا جائے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2770)، مسند أحمد رقم (12264)
3647
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنْ أَبِى مُوسَى عَنِ النَّبِىِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ « إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْسُطُ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِيَتُوبَ مُسِىءُ النَّهَارِ وَيَبْسُطُ يَدَهُ بِالنَّهَارِ لِيَتُوبَ مُسِىءُ اللَّيْلِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَّغْرِبِهَا
ابو موسیٰ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ رات كے وقت اپنا ہاتھ كشادہ كرتا ہے تاكہ دن كاگناہ گار توبہ كر لے اور دن كو اپنا ہاتھ كھولتا ہے تاكہ رات كاگناہ گار توبہ كر لے( یہ اس وقت تك ہوتا رہے گا) جب تك سورج مغرب سے طلوع نہ ہو جائے
Takhreej
الصحيحة رقم (3513)، صحيح مسلم كتاب التوبة باب قَبُولِ التَّوْبَةِ مِنَ الذُّنُوبِ وَإِنْ تَكَرَّرَتِ الذُّنُوبُ وَالتَّوْبَةُ رقم (7165)
3648
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ مرفوعاً:إِنَّ اللَّهَ لاَ يَنْظُرُ إِلَى [ أَجْسَادِكُمْ وَلَا إِلَى] صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ وَلَكِنْ [إِنَّمَا] يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ [وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ إِلَى صَدْرِه] وَأَعْمَالِكُمْ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : یقینا اللہ تعالیٰ( تمہارے جسموں) اور تمہاری صورتوں اور اموال كی طرف نہیں دیكھتا، لیكن اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں كی طرف ( اور اپنی انگلیوں سے اپنے سینے كی طرف اشارہ كیا) اور تمہارے اعمال كی طرف دیكھتا ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2656)، صحيح مسلم كتاب البر والصلة والآدب باب تَحْرِيمِ ظُلْمِ الْمُسْلِمِ وَمَالِهِ ... رقم (6708 )
3649
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنْ عَامِر بْنِ سَعْدٍ قَالَ: كَانَ سَعْدُ بْنُ أَبِى وَقَّاصٍ فِى إِبِلِهِ فَجَاءَهُ ابْنُهُ عُمَرُ فَلَمَّا رَآهُ سَعْدٌ قَالَ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شَرِّ هَذَا الرَّاكِبِ فَنَزَلَ فَقَالَ لَهُ: أَنَزَلْتَ فِى إِبِلِكَ وَغَنَمِكَ وَتَرَكْتَ النَّاسَ يَتَنَازَعُونَ الْمُلْكَ بَيْنَهُمْ؟ فَضَرَبَ سَعْدٌ فِى صَدْرِهِ فَقَالَ: اسْكُتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ - صلی اللہ علیہ وسلم - يَقُولُ: « إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ التَّقِىَّ الْغَنِىَّ الْخَفِىَّ ». وَرَوَاهُ كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ الْأَسْلَمِيُّ عَنِ الْمُطَّلِبِ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: جَاءَهُ ابْنُهُ عَامِرٌ فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ! أَفِي الْفِتْنَةِ تَأْمُرُنِي أَنْ أَكُونَ رَأْسًا؟ لَا وَاللهِ! حَتَّى أُعْطَى سَيْفًا إِنْ ضَرَبْتُ مُسْلِماً نَبَا عَنْهُ، وَإِنْ ضَرَبْتُ بِهِ كَافِرًا قَتَلَهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ: ... فذكر الحديث.
عامر بن سعد رحمہ اللہ سے مروی ہے، انہوں نے كہا کہ: سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنے اونٹوں میں تھے۔ ان كا بیٹا عمر ان كے پاس آیا ۔ جب سعد رضی اللہ عنہ نے اسے دیكھا تو كہا: میں اس سوار كے شر سے اللہ كی پناہ میں آتا ہوں۔ وہ نیچے اتر آیااور ان سے كہنے لگا، آپ اپنے اونٹوں اور بكریوں میں مشغول ہیں اور لوگ آپس میں بادشاہت كے بارے میں جھگڑا كر رہے ہیں ۔ سعد رضی اللہ عنہ نے اس كے سینے پر تھپڑ مارا اور كہا: خاموش ہو جاؤ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: یقینا اللہ تعالیٰ متقی، غنی(بے پرواہ) اور گمنام بندے كو پسند كرتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (3514)، صحيح مسلم كتاب الزهد والرقائق رقم (7621 )
3650
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم سُئِلَ: أَيُّ الْعَمَل أَفْضَل؟ قَالَ: أَنْ تَدْخُل عَلَى أَخِيْكَ الْمُؤْمِن سُرُوْرًا أَوْ تَقْضِيَ عَنْه دَيْنًا أَوْ تُطْعِمَه خُبْزًا.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال كیا گیا کہ كون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا كہ: تم اپنے مومن بھائی كو خوشی پہنچاؤ یا اس كا قرض ادا كرو یا اسے كھانا كھلاؤ
Takhreej
الصحيحة رقم (2715)، الترغيب للأصبهاني رقم (214 / 1 )
3651
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ الرَّجُل لَيَكُونُ لَه عِنْدَ الله الْمَنْزِلَة فَمَا يَبْلُغُهَا بِعَمَل فَلَا يَزَال الله يَبْتَلِيه بِمَا يَكْرَه حَتَّى يُبَلِّغَه إِيَّاهَا.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مؤمن آدمی کا اللہ تعالیٰ كے ہاں ایك مرتبہ و درجہ ہوتا ہے جس پر وہ اپنے عمل کے ذریعے نہیں پہنچ سکتا۔ اللہ تعالیٰ اسے ایسی چیز كے ساتھ جسے وہ نا پسند كرتا ہے، آزماتا رہتا ہے ، حتی كہ اسے اس درجے تك پہنچا دیتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2599)، مسند أبي يعلى رقم (6095)
3652
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنِ النُّعْمَان بْن بَشِير قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُول: إِنَّ فِي ابْن آدَم مُضْغَة إِذاَ صَلُحَتْ صَلُح سَائِر جَسَدِه وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ سَائِر جَسَدِه أَلَا وَهِي الْقَلْب
نعمان بن بشرا رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے كہا كہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، فرما رہے تھے: ابن آدم كےاندر ایك ٹكڑا ہے ۔ اگر وہ درست رہے تو سارا جسم درست رہتا ہے اور جب وہ خراب ہوتا ہے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے خبردار وہ دل ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2708)، مسند الطيالسي رقم (788)
3653
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنْ عُقْبَة بْن عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ مَثَلَ الَّذِي يَعْمَلُ السَّيِّئَاتِ ثُمَّ يَعْمَلُ الْحَسَنَاتِ كَمَثَلِ رَجُلٍ كَانَتْ عَلَيْهِ دِرْعٌ ضَيِّقَةٌ قَدْ خَنَقَتْهُ ثُمَّ عَمِلَ حَسَنَةً فَانْفَكَّتْ حَلْقَةٌ ثُمَّ عَمِلَ حَسَنَةً أُخْرَى فَانْفَكَّتْ حَلْقَةٌ أُخْرَى حَتَّى يَخْرُجَ إِلَى الْأَرْضِ.
عقبہ بن عامر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص كی مثال جو برے عمل كرتا ہے، پھر نیك عمل كرتاہے، اس شخص كی طرح ہے جس پر تنگ زرہ ہو، جس نے اس كا سانس گھونٹ ركھا ہو۔ پھر اس نے ایك نیكی كی تو ایك كڑا كھل گیا، پھر دو سری نیكی كی تو دوسرا كڑا كھل گیا، حتی كہ وہ زرہ زمین پر گر گئی
Takhreej
الصحيحة رقم (2854)، مسند أحمد رقم (17307)
3654
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنْ عُقْبَة بْن عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ مَثَلَ الَّذِي يَعْمَلُ السَّيِّئَاتِ ثُمَّ يَعْمَلُ الْحَسَنَاتِ كَمَثَلِ رَجُلٍ كَانَتْ عَلَيْهِ دِرْعٌ ضَيِّقَةٌ قَدْ خَنَقَتْهُ ثُمَّ عَمِلَ حَسَنَةً فَانْفَكَّتْ حَلْقَةٌ ثُمَّ عَمِلَ حَسَنَةً أُخْرَى فَانْفَكَّتْ حَلْقَةٌ أُخْرَى حَتَّى يَخْرُجَ إِلَى الْأَرْضِ.
عقبہ بن عامر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص كی مثال جو برے عمل كرتا ہے، پھر نیك عمل كرتاہے، اس شخص كی طرح ہے جس پر تنگ زرہ ہو، جس نے اس كا سانس گھونٹ ركھا ہو۔ پھر اس نے ایك نیكی كی تو ایك كڑا كھل گیا، پھر دو سری نیكی كی تو دوسرا كڑا كھل گیا، حتی كہ وہ زرہ زمین پر گر گئی
Takhreej
الصحيحة رقم (2854)، مسند أحمد رقم (17307)
3655
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِّنَ الشَّعَرِ كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مِنَ الْمُوبِقَاتِ
ابو سعید‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے كہا: تم لوگ كچھ ایسے اعمال كرتے ہو جو تمہاری نظروں میں بال سے بھی زیادہ باریك ہیں (یعنی معمولی ہیں)۔ لیكن ہم ان اعمال كو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے دور میں ہلاكت خیز شمار كرتے تھے
Takhreej
الصحيحة رقم (3023)، مسند أحمد رقم (10995)
3656
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنْ عَائِشَةَ في قصة الْإِفْكِ قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : أَمَّا بَعْدُ! يَا عَائِشَةُ! فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي عَنْكِ كَذَا وَكَذَا[ إِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَات آدَم ] فَإِنْ كُنْتِ بَرِيئَةً فَسَيُبَرِّئُكِ اللهُ وَإِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا اعْتَرَفَ بِذَنْبِهِ ثُمَّ تَابَ إِلَى اللهِ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَة: فَإِنَّ التَّوْبَةَ مِنَ الذَّنْبِ النَّدَمُ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے بہتان( واقعہ افك)والے قصے كے بارے میں مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اما بعد ! اےعائشہ ! مجھے تمہارے بارے میں فلاں فلاں اطلاع ملی ہے، ( تم بھی آدم كی اولاد سے ہو) اگر تم بَری ہو تو اللہ تعالیٰ بھی تمہاری براءت كر دے گا اور اگر تم نے كوئی گناہ كیا ہے تو اللہ تعالیٰ سے استغفار كرو، اس سے توبہ كرو ، كیوں كہ بندہ جب گناہ كا اعتراف كر كے توبہ كرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس كی توبہ قبول كرتا ہے( )۔اور ایك روایت میں ہے: گناہ سے ندامت اختیار کرلینا ہی توبہ ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2507)، صحيح البخاري كتاب التفسير باب تفسير سورة النور رقم (4473)
3657
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنْ عَوْفِ بن مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِيَّاكَ وَالذُّنُوبَ الَّتِي لاَ تُغْفَرُ: (وَفِي رِوَايَة: وَمَا لاَ كَفَّارَة مِنَ الذُّنُوب) فَمَنْ غَلَّ شَيْئًا اَتٰى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَآكِلُ الرِّبَا فَمَنْ أَكَلَ الرِّبَا بُعِثَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَـةِ مَجْنُونًا يَّتَخَبَّـطُ ، ثُمَّ قَرَأَ: اَلَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوۡمُوۡنَ اِلَّا کَمَا یَقُوۡمُ الَّذِیۡ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطٰنُ مِنَ الۡمَسِّ (البقرة: ٢٧٥) .
عوف بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے گناہ سے بچو جس کی (توبہ کے بغیر) بخشش نہیں (اور ایک روایت میں ہے : اور جن گناہوں کا کفارہ نہیں ) جس شخص نے کوئی خیانت کی قیامت کے دن اسے لائے گا۔ اور سود کھا نے والا، جس شخص نے سود کھا یا اسے قیا مت کے دن پاگل خبطی کی صورت میں اٹھا یا جائے گا،پھر یہ آیت تلا وت کی : اَلَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوۡمُوۡنَ اِلَّا کَمَا یَقُوۡمُ الَّذِیۡ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطٰنُ مِنَ الۡمَسِّ(البقرة: ٢٧٥)ترجمہ:”سودخور لوگ نہ کھڑے ہوں گے مگر اسی طرح جس طرح وہ کھڑا ہوتا ہےجسے شیطان چھوکر خبطی بنادے“
Takhreej
الصحيحة رقم (3313)، المعجم الكبير للطبراني رقم (14537)
3658
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ (فَإِنَّمَا مَثَل مُحَقِّرَات الذُّنُوب) كَقَوْمٍ نَزَلُوا فِي بَطْنِ وَادٍ فَجَاءَ ذَا بِعُودٍ وَجَاءَ ذَا بِعُودٍ حَتَّى أَنْضَجُوا خُبْزَتَهُمْ وَإِنَّ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ مَتَى يُؤْخَذْ بِهَا صَاحِبُهَا تُهْلِكْهُ
سہل بن سعد‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا : (چھوٹے چھوٹے) معمولی اور حقیر سمجھنے جانے والے گناہوں سے بچو( كیوں كہ چھوٹےچھوٹے گناہوں كی مثال اس قوم كی طرح ہے جو ایك وادی میں ٹھہری ،ایك شخص ایك لكڑی لایا، دوسرا بھی ایك لكڑی لایا حتی كہ انہوں نے اپنی روٹیاں پكالیں۔ چھوٹے گناہ كرنے والے كو جب پكڑا جاتا ہے تو وہ گناہ اسے ہلاك كر دیتے ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3102)، مسند أحمد رقم (22808 )
3659
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنْ عَبْدِاللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : الْإِثْم حَوازُّ الْقُلُوب، وَمَا مِنْ نَّظْرَةٍ إِلَّا وَلِلشَّيْطَان فِيهَا مَطْمَعٌ .
عبداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گناہ دلوں پر غالب آنے والا ہے اور جو بھی نظر ہوتی ہے اس میں شیطان كے لئے بھی طمع(شہوت ) كا حصہ ہوتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2613)، شعب الإيمان للبيهقي رقم (2)
3660
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنْ عَطَاءِ بن يَسَارٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بَعَثَ مُعَاذاً إِلَي اليَمَن، فقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَوْصـِنِي، فَقَـالَ: عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللهِ مَا اسْتَطَعْتَ، وَاذْكُرِ اللهَ عِنْدَ كُلِّ حَجَرٍ وَّشَجَرٍ، وَإِذَا عَمِلْتَ سَيِّئَة فَأَحْدِثْ عِنْدَهاَ تَوْبَةً، السِّرُّ بِالسِّرِّ، وَالْعَلانِيَةُ بِالْعَلانِيَةِ .
عطاء بن یساررحمہ اللہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ‌رضی اللہ عنہ كو یمن كی طرف بھیجا تو معاذ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھےنصیحت كیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی استطاعت کے مطابق تقویٰ كو لازم كر لو، ہر پتھر اور درخت كے پاس اللہ كو یاد كرو، اور جب كوئی برا عمل كر لو تو اس كی جگہ توبہ كرو، پوشیدہ كے ساتھ پوشیدہ اعلانیہ كے ساتھ اعلانیہ
Takhreej
الصحيحة رقم (3320)، المعجم الكبير للطبراني رقم (16745 )
3661
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنْ سَهْم بْن المُعْتَمِرعَنِ الهُجَيمي: أَنَّه قَدِم المَدِيْنَة، فَلَقِي النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي بَعْضِ أَزْقَةِ المَدِيْنَة، فَوَافَقَه؛ فَإِذَا هَوَ مُؤْتَزِر بِإِزَارِ قُطْن قَد انْتَثَرَت حَاشِيَتُهُ، وَقَالَ: عَلَيْك السَّلَام يَا رَسُولَ الله! فَقَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : عَلَيْكَ السَّلاَم تَحيَّة الَمَوْتَى . فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَوْصِنِي؟ فَقَالَ: لاَ تَحْقِرنَّ شَيئاً مِّنَ الْمَعْرُوْفِ أَنْ تَأْتِيَه؛ وَلَوْ أَنْ تَهَبَ صِلَةَ الحَبْلِ، وَلَوْ أَنْ تُفْرِغَ مِنْ دلوكَ فِي إناءِ المُسْتَقِي، وَلَوْ أَنْ تَلقَى أَخَاكَ المُسْلِم وَوَجْهُكَ بَسْطٌ إِلَيْهِ، وَلَو أَنْ تُؤْنِس الوَحْشَان بِنَفْسِكَ، وَلَوْ أَنْ تَهَبَ الشِّسْعَ.
(٣٦٦٣) سہم بن معتمر سے مروی ہے، وہ ہجیمی‌رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں كہ وہ مدینے آئے تو مدینے كی كسی گلی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہو گئی۔ آمنا سامنا ہوا تو دیكھا كہ سہم نے قطنی تہہ بند باندھا ہوا ہے جس كا كنارہ پھیلا ہوا تھا اس نے كہا: اے اللہ كے رسول! آپ پر سلام ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ان الفاظ سے سلام تو مُردوں کا سلام ہے۔ کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے وصیت کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كسی نیكی كے كام كو حقیر مت سمجھو اگرچہ تم کسی کو رسوی جوڑنے کے لئے رسی کا ٹکڑا ھبہ کردو۔ یا پانی مانگنے والے کے برتن میں اپنے ڈول سے پانی ڈال دو۔ اگرچہ تم اپنے مسلمان بھائی سے كشادہ چہرے سے ملو، یا تم وحشت زدہ كو خود سے انس دلاؤ ، اور اگرچہ تم ایك تسمہ ہی دو
Takhreej
الصحيحة رقم (3422)، السنن الكبرى للنسائي رقم (9694)
3662
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنْ أَبِي طَوِيلٍ شَطَبٍ الْمَمْدُودِ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلا عَمِلَ الذُّنُوبَ كُلَّهَا، فَلَمْ يَتْرُكْ مِنْهَا شَيْئًا، وَهُوَ فِي ذَلِكَ لَمْ يَتْرُكْ حَاجَةً وَّلا دَاجَةً إِلا أَتَاهَا، فَهَلْ لَّهُ مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ: فَهَلْ أَسْلَمْتَ؟ قَالَ: أَمَّا أَنَا فَأَشْهَدُ أَنْ لا إِلٰهَ إِلا اللهُ، وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللهِ، قَالَ: نَعَمْ , تَفْعَلُ الْخَيْرَاتِ، وَتَتْرُكُ السَّيِّئَاتِ، فَيَجْعَلُهُنَّ اللهُ لَكَ خَيْرَاتٍ كُلَّهُنَّ ، قَالَ: وَغَدَرَاتِي وَفَجَرَاتِي؟ قَالَ: نَعَمْ ، قَالَ:اللهُ أَكْبَرُ، فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ حَتَّى تَوَارَى.
(٣٦٦٣) ابو طویل شطب الممدود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیا اور كہا: آپ كا كیا خیال ہے، اگر ایك آدمی نے تمام گناہ كئے ہوں اور كوئی گناہ نہ چھوڑا ہو، اور اس نے اپنی کوئی خواہش نہ چھوڑی ہو تو كیا اس كے لئے توبہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كیا تم مسلمان ہوگئے ہو؟ اس نے كہا:”اشہد ان لا الٰہ الا اللہ وحدہ لا شریك لہ وانك رسول اللہ“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں تم نیك كام كرو اور برے كام چھوڑ دو، اللہ تعالیٰ ان تمام گناہوں كو تمہارے لئے نیكی بنا دے گا۔ اس نے كہا: میرے دھوكے اور میری سر كشیاں اور بدکاریاں بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اس نے بے ساختہ كہا: اللہ اكبر اور اللہ اكبر كہتا ہوا نظروں سے اوجھل ہوگیا
Takhreej
الصحيحة رقم (3391)، المعجم الكبير للطبراني رقم (7085)
3663
Sahih
نصیحتیں اور دلوں کو نرم کرنےوالی باتیں
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : قَالَ اللهُ تَعَالَى: إِذَا أَحَبَّ عَبْدِي لِقَائِي أَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ وَإِذَا كَرِهَ لِقَائِي كَرِهْتُ لِقَاءَهُ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كہ اللہ تبارك وتعالیٰ نے فرمایا: جب بندہ میری ملاقات كو پسندكرتا ہے تو میں بھی اس كی ملاقات كو پسند كرتا ہوں ، اور جب وہ میری ملاقات نا پسند كرتا ہے تو میں بھی اس كی ملاقات كو نا پسند كرتا ہوں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3554)، سنن النسائي كِتَاب الْجَنَائِزِ باب فِيمَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ رقم (1812 )
3664
Sahih