حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْغُلَامُ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ، يُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ، وَيُسَمَّى وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ .
Narrated Samurah:
That the Messenger of Allah (ﷺ) said: The boy is mortgaged by his 'Aqiqah; slaughtering should be done for him on the seventh day, he should be given a name, and his head should be shaved.
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بچہ عقیقہ کے بدلے گروی رکھا ہوا ہے ۱؎، پیدائش کے ساتویں دن اس کا عقیقہ کیا جائے، اس کا نام رکھا جائے اور اس کے سر کے بال منڈائے جائیں“۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العقیقة ۲ (۵۴۷۲)، (اشارة بعد حدیث سلمان الضبي) سنن ابی داود/ الضحایا ۲۱ (۲۸۳۷)، سنن النسائی/العقیقة ۵ (۴۲۲۵)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ۱ (۳۱۶۵)، (تحفة الأشراف : ۴۵۸۱)، و مسند احمد (۵/۷، ۸، ۱۲، ۱۷، ۱۸، ۲۲) وسنن الدارمی/الأضاحي ۹ (۲۰۱۲)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : «مرتهن» کے مفہوم میں اختلاف ہے : سب سے عمدہ بات وہ ہے جو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمائی ہے کہ یہ شفاعت کے متعلق ہے، یعنی جب بچہ مر جائے اور اس کا عقیقہ نہ کیا گیا ہو تو قیامت کے دن وہ اپنے والدین کے حق میں شفاعت نہیں کر سکے گا، ایک قول یہ ہے کہ عقیقہ ضروری اور لازمی ہے اس کے بغیر چارہ کار نہیں، ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بالوں کی گندگی و ناپاکی میں مرہون ہے، اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ اس سے گندگی کو دور کرو۔ ۲؎ : اس سلسلہ میں صحیح حدیث تو درکنار کوئی ضعیف حدیث بھی نہیں ملتی جس سے اس شرط کے قائلین کی تائید ہوتی ہو۔
1522
Sahih