حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ: رَجُلٌ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالُوا: ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ: ثُمَّ مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَتَّقِي رَبَّهُ، وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Abu Sa’id Al Khudri :
that the Messenger of Allah (ﷺ) was asked: Which of the people are most virtuous? He said: A man who take part in Jihad in Allah's cause. They said: Then whom? He said: Then a believer who stays in one of the mountains path out of Taqwa for his Lord, leaving the people secure from his evil.
[Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون آدمی افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ شخص جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے“، صحابہ نے پوچھا: پھر کون؟ آپ نے فرمایا: ”پھر وہ مومن جو کسی گھاٹی میں اکیلا ہو اور اپنے رب سے ڈرے اور لوگوں کو اپنے شر سے بچائے“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجہاد ۲ (۲۷۸۶)، والرقاق ۳۴ (۶۴۹۴)، صحیح مسلم/الإمارة ۳۴ (۱۸۸۸)، سنن ابی داود/ الجہاد ۵ (۲۴۸۵)، سنن النسائی/الجہاد ۷ (۳۱۰۷)، سنن ابن ماجہ/الفتن ۱۳ (۳۹۷۸)، (تحفة الأشراف : ۴۱۵۱)، و مسند احمد (۳/۱۶، ۳۷، ۵۶، ۸۸)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس سے قطعاً یہ نہ سمجھنا چاہیئے کہ اس حدیث میں رہبانیت کی دلیل ہے، کیونکہ بعض احادیث میں «ويؤتى الزكاة» کی بھی صراحت ہے، اور رہبانیت کی زندگی گزارنے والا جب مال کمائے گا ہی نہیں تو زکاۃ کہاں سے ادا کرے گا، علما کا کہنا ہے کہ گھاٹیوں میں جانے کا وقت وہ ہو گا جب دنیا فتنوں سے بھر جائے گی اور وہ دور شاید بہت قریب ہو۔
1660
Sahih