Chapter: What Has Been Related About Keeping Consistent Relations
باب: (شریک حیات کے ساتھ) اچھی طرح نباہ کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا غِرْتُ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ وَمَا بِي أَنْ أَكُونَ أَدْرَكْتُهَا، وَمَا ذَاكَ إِلَّا لِكَثْرَةِ ذِكْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا، وَإِنْ كَانَ لَيَذْبَحُ الشَّاةَ فَيَتَتَبَّعُ بِهَا صَدَائِقَ خَدِيجَةَ فَيُهْدِيهَا لَهُنَّ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.
Aishah narrated:
I was not jealous of any wife of the Prophet as I was jealous of Khadijah, and it was not because I saw her. It was only because the Messenger of Allah mentioned her so much, and because whenever he would slaughter a sheep, he would look for Khadijah's friends to gift them some of it.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے کسی پر میں اس طرح غیرت نہیں کھاتی تھی جس طرح خدیجہ پر غیرت کھاتی تھی جب کہ میں نے ان کا زمانہ بھی نہیں پایا تھا، اس غیرت کی کوئی وجہ نہیں تھی سوائے اس کے کہ آپ ان کو بہت یاد کرتے تھے، اور اگر آپ بکری ذبح کرتے تو ان کی سہیلیوں کو ڈھونڈتے اور گوشت ہدیہ بھیجتے تھے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/مناقب الأنصار ۲۰ (۳۸۱۶، ۳۸۱۷)، والنکاح ۱۰۸ (۵۲۲۹)، والأدب ۲۳ (۶۰۰۴)، والتوحید ۳۲ (۷۴۸۴)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ۱۲ (۲۴۳۵)، سنن ابن ماجہ/النکاح ۵۶ (۱۹۹۷) (تحفة الأشراف : ۱۶۸۷)، و مسند احمد (۶/۵۸، ۲۰۲، ۲۷۹)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : جب سہیلیوں کے ساتھ آپ کا برتاؤ اتنا اچھا تھا تو خود خدیجہ رضی الله عنہا کے ساتھ کیسا ہو گا ؟ نیز اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بیوی کی سہیلیوں کے ساتھ حسن سلوک کرتے رہنا چاہیئے، جیسے کہ باپ کے بارے میں حکم آیا ہے کہ باپ کے دوستوں کے ساتھ آدمی اچھا برتاؤ کرے۔
2017
Sahih